Powered By Blogger

вторник, 14 ноября 2017 г.

خان میر محراب خان ( انقلابی ورثہ سلسلہ)


خان میر محراب خان
(1817-1839)
آزادی۔۔۔ہر انسان کی انفرادی اور بحیثیت ایک معاشرتی اجتماع یعنی ایک قوم کے اس کی اجتماعی خوشی اور عزیز ترین نعمت ہے۔ اپنی مرضی کا مالک ہونا کسی فرد کے لئے سب سے بڑی خوشی ہوسکتی ہے اور ایک فرد ایسی مرضی کا مالک اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ بحیثیت ایک قوم کے اپنی قسمت و مرضی کا مالک اور خودمختار نہ ہو۔ صرف آزاد قوم کے افراد ہی اپنی مرضی کے خود ہی مالک ہوتے ہیں۔
آزادی کے حصول‘ تحفظ و بقا کے لیے قوموں کی زندگی میں بعض اوقات ایسے مرحلے بھی آتے ہیں۔ جب اس عزیز نعمت کے لیے اپنے وجود یا عدم وجود کے احساس تک مٹانا پڑتا ہے۔ اس وقت وجود محض آزادی کا نام بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر اس قوم کی رہنمائی کرنے والے بھی اسی منزل کو مراد سمجھ لیں اور اسی کو حیات اور مقصود حیات قرار دے ڈالیں جو اس کی قوم نے اپنے لئے معین کی ہو تو اس قوم کی تاریخ میں ایسے افراد دائمی اور لازوال نقوش چھوڑ جاتے ہیں اور خود ایک تاریخ بن جاتے ہیں۔
خان میر محراب خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلوچوں کی تاریخ کا ایک ایسا ہی کردار ہے۔ اگر برطانوی نوآبادیاتی سامراجی دور کی جدوجہد آزادی کی تاریخ کے حوالے سے آزادی کے لئے لڑی جانے والے جنگوں کا مطالعہ کیا جائے تو خان محراب خان جنوب مغربی ایشیا کے ایک عظیم وطن پرست اور آزادی پسند اور وطن اور اس کی آزادی کی حرمت کے پاسبان اور جان نثار نظر آتے ہیں۔
اس دور میں جبکہ برصغیر میں برطانوی استعمار ایست انڈیا کمپنی کی صورت میں اپنی گرفت مکمل کرچکا تھا۔ اس کا رُخ شمال مغرب کی جانب ہوگیا تھاتاکہ افغانستان پر قابض ہوجانے کے بعد مزید آگے بڑھنے کا اہتمام ہوسکے تو بلوچستان کے خان محراب خان ہی اس منصوبے کی راہ میں ایک ایسی رکاوٹ بن گئے کہ اس میں ان کی اپنی جان تو گئی لیکن برطانوی حکومت کے منصوبے بہرحال تشنہ تکمیل رہ گئے۔
خان محراب خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلوچی ریاست کے قومی حکمران تھے جس کے ہمسایہ افغان ریاست کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات تھے۔ اسی دوران افغانستان کے شاہ شجاع کو اندرون ملک حکمرانی چپقلش میں شکست کھانے کے بعد اپنا ملک چھوڑنا پڑا اور وہ وہاں سے بھاگ کرخان محراب خان کے پاس قلات آگیا۔ خان محراب خان اگر چاہتا تو قلات اور کابل کے مابین طے شدہ معاہدوں کے بموجب اسے افغانستان کے نئے حکمران کے حوالے کرسکتا تھا لیکن اس نے روایتی بلوچی باہوٹی کا احترام کرتے ہوئے(جس کا مظاہرہ دوسوسال قبل اس کا ایک پیشروبلوچ ملک خطی نے ہندوستان کے شکست خوردہ‘ معزول اور بے سروسامان شہنشاہ‘ ہمایوں کو اپنی پناہ میں آجانے کے بعد اس کو بحفاظت ایران پہنچانے کی صورت میں کیا تھا) امیر شجاع کو بحفاظت اپنی سرحدوں سے باہر پہنچادیا۔ جس نے بعد ازاں پنجاب میں مہاراجہ زنجیت سنگھ کی سکھ حکومت کے توسط سے ہندوستان کے انگریزی حکومت کی حمایت حاصل کی اور ان کی قوت کے بل بوتے پر دوبارہ افغانستان کا تخت حاصل کرنے کا تہہ کرلیا۔ یہ تخت گویا اسے افغانستان کی آزادی کا سودا کردینے کے عوض حاصل ہورہا تھا۔ چونکہ انگریزیتلوار کے سائے میں کابل پر حکمرانی کرنا گویا اپنے ملک کی آزادی کی قیمت پر اپنے لئے حکمرانی حاصل کرنا تھا جسے بہر حال شاہ شجاع نے بخوشی قبول کرلیا۔
یہ معاملہ طے ہوجانے کے بعد شاہ شجاع نے انگریزی افواج کی معیت میں افغانستان کا رُخ کیا۔ افغانستان میں داخلے کے لئے قندہار کے راستے کو منتخب کیا گیا جہاں جانے کے لئے بلوچستان سے درئے ءِ بولان کے راستے سفر اختیار کرنا پڑتا تھالیکن اس سے پہلے سندھ کی ریاست واقع تھی جس پر اس وقت تک وہ ہندوستان کی برطانوی سلطنت کا حصہ نہیں بنی تھی۔ لیکن سندھ کے ان حکمرانوں نے اپنی حاکمیت اور باگ دوڑ عملاً انگریز حاکموں کے ہاتھ میں دے رکھی تھی اس لیے انگریزوں کو ان کی حمایت و اجازت حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ وہاں سے گزر کر انگریزی افواج بلوچستان سے گزرتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوسکتی تھیں جس کے لئے انہیں بلوچستان کے حاکم‘ خان محراب خان کی اجازت و اعانت کی ضرورت تھی۔
اس سلسلے کی واقعات کے تذکرے سے قبل بلوچستان کے اس وقت کے حالات اور خان کے دربار کی کیفیت کا ایک جائزہ ضروری ہے تاکہ اس دور کی سیاسی صورتحال کی روشنی میں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی صحیح تصویر دیکھی جاسکے۔
خان محراب خان کے دربار میں اس کے چند درباریوں کا مکمل غلبہ تھا۔ ان میں سے داؤد محمد غلزئی‘ آخوند فتح محمد‘ اس کا بیٹا آخوند محمد صدیق‘ ملا محمد حسن اور سید شریف محمد خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہیں بلوچ سرزمین اور بلوچی حکومت کے ساتھ کوئی دلچسپی اور وابستگی نہیں تھی۔
انہیں محض اپنی وزارت اور ذاتی مفادات سے غرض تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مذکورہ درباری حصول مال وزارت کی خاطر ایک دوسرے سے بھی پرخاش رکھتے تھے اور آپس میں مستقل چپقلش کی سی کیفیت میں رہتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے حریف کا خاتمہ کرکے خود اس کی جگہ قلات کا وزیر بننے کا خواہشمند تھا۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کرانے تک سے گریز نہیں کیا۔ آخوند فتح محمد اور داؤد محمد غلزئی اسی چپقلش کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ اسی چپقلش اور ذاتی مفادات کے لالچ نے انہیں انگریزی حکومت کا ایجنٹ بن جانے پر مائل کیا۔ مذکورہ درباریوں کی باہمی چپقلش محض ان تک محدود نہ رہی۔ اس کی لپیٹ میں پیشتر دیگر بلوچ سردار آگئے چونکہ انہوں نے مختلف قبائلی سرداروں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کی شادی کرکے ان سے قرابت داری پیداکرلی تھی۔ خان کے سرداران ساراوان اور سردار جھالاوان دونوں آخوند فتح محمد کے داماد تھے۔ اس طرح متذکرہ درباریوں کی چپقلش اور سازشیں بالواسطہ طور پر بلوچ قبائلی معاشرے پر اثر انداز ہوکر ان کے اندر بھی نفاق و گروہ بندی پیدا کردیتی تھی۔ جس کے باعث بلوچ کفیڈریسی میں رخنے پڑتا شروع ہوگئے۔
ان حالات میں جب خان محراب خان نے بلوچ سرداروں کی سرکشی کو ختم کرکے مرکزی قوت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی تو سردار حضرات خود مرکز کے مٹانے کے درپے ہوگئے اور اس ضمن میں انہوں نے کسی قومی ننگ و ناموس کا لحاظ رکھے بغیر غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار بن کر اپنی قوتغیرت‘ آن اور وطن کی آزادی و ناموس کا سودا کر ڈالا۔
یہی تھے وہ حالات جب انگریزی افواج کے کماندار جنرل میکناٹن نے 1830میں میجر لیچ کو اپنے نمائندے کی حیثیت میں
قلات بھیجا تاکہ خان محراب خان کے ساتھ انگریزی افواج کے بلوچستان کے راستے بہ حفاظت گزرنے کے سلسلے میں کوئی معاہدہ ہوسکے۔
خان محراب خان اپنی سرزمین میں انگریزی افواج کی آمد اور اس راستے ہمسایہ مسلم افغانستان پر حملے کو برداشت نہیں کرسکتا تھا لیکن وہ اپنے ملک داخلی کیفیت سے بخوبی آگاہ تھا۔ اس لئے اس صورت حال اور وقت کے پیش نظر وہ انگریزی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی باقاعدہ محاذ آرائی یا مخالفت سے باز رہے۔ البتہ انہوں نے انگریزی افواج کی کسی قسم کی معاونت نہیں کی اس دوران انگریزی افواج شاہ شجاع کو اپنے ساتھ لئے کچھی اور درہ ءِ بولان سے ہوتے ہوئے شال کوٹ (کوئٹہ) پہنچ گئیں جو افغانستان کی سرحدوں کے قریب خان کی ایک سرحدی چوکی تھی۔
چند سرداروں کے باغی اور دشمن ہوجانے کے باوجود خان کو عمومی طورپر تمام بلوچوں کی حمایت حاصل تھی۔ چند ایسے بلوچ سرکردہ لوگ موجود تھے جو انگریزی افواج اپنی سرزمین پر سے گزرنے کو اپنے وطن کی حرمت و آزادی کے خلاف سمجھتے تھے۔ انہوں نے انگریزی افواج کی پیش قدمی میں رکاوٹیں ڈالیں اور درہ ءِ بولان سے گزرنے اور موجودگی کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اور خان کے اسی رویے کو محسوس کرتے ہوئے مختلف بلوچ قبائلی لشکر ان کی افواج کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
انگریزوں نے ان حالات سے پریشان ہوکر خان محراب خان سے وفادار رہنے کا قول و قرار حاصل کرنے کی خاطر اسے قلات سے کوئٹہ پہنچ کر شاہ شجاع کے سامنے حاضری دے کر اس کا وفادار و فرمانبردار رہنے کا حلف و اعلان کرنے کی ہدایت کی ۔ خان محراب خان جو اپنے آپ کو ایک آزاد ملک و قوم کا آزاد خودمختار حکمران خیال کرتا تھا۔ اس کے لیے یہ تصور بھی اذیت ناک تھا کہ وہ کسی دوسرے غیر ملکی حاکم کے سامنے اپنی ماتحتی کا اظہار و اعلان کرکے اپنی آزادی سے دست بردار ہوجائے لہٰذا اس نے حکومت کے اس توہین آمیز مطالبے کو یکسر رد کردیا۔ اس کا اظہار اس دور کے ایک بلوچ شاعر محمد حسن خان نے اپنے اشعار میں اس طرح کیا ہے۔ترجمہ:
جب وہ شال کوٹ (کوئٹہ) پہنچ کر قیام پذیر ہوئے تو انہوں نے خان کو خط بھیجا کہ تم ابھی اور اسی وقت اُٹھ کر بادشاہ کے حضور حاضر ہوجاؤ۔
شیرنر (خان) نے اس کے جواب میں یوں کہا:
اے برنس (انگریز نمائندہ) تم ہوش کے ناخن لو
اور مجھ پر یوں رعب مت جماؤ
جس دن سے میں تخت پر
اپنے ہی بخت و ہمت سے بٹھا ہوں
اللہ کا رسول ﷺ گواہ ہے
میری دشمنوں کے ساتھ لڑائی ہے۔
دریں اثنا شاہ شجاع انگریزی لشکر کے ساتھ عازم افغانستان ہوا اور قندھار فتح کرنے کے بعد وہ کابل کی جانب روانہ ہوا۔ کابل بغیر کسی لڑائی کے ان کے ہاتھ آگیا اور امیر دوست محمد خان لڑے بغیر وہاں سے فرار ہوگیا اور اس نے بعد میں خود کو انگریزوں کے حوالے کردیا جنہوں نے اسے جلاوطن کرکے کلکتہ میں نظر بند کردیا۔ افغانستان پر مسلط ہوجانے کے بعد انگریزی فوج کا ایک حصہ قندھار سے واپس کوئٹہ پہنچا۔ اسی دوران انگریزی افواج کو گورنر جنرل ہند لارڑاک لنپڈ کی جانب سے قلات پر حملہ کرنے اور خان محراب خان کو اس کی آزادانہ روش پر سزادینے کے احکامات جاری کئے جاچکے تھے۔
انگریزی فوج کا ایک دستہ بریگیڈیئر ولشائر کے زیرکمان قلات کی جانب روانہ ہوا۔ ساتھ ہی اس نے خان محراب خان کو اپنی شرائط کے تحت حکومت برطانیہ و افغانستان کا مطیع و فرمانبردار بننے کی تنبیہ کی۔ وہ دربار قلات کی اندرونی صورت حال سے بخوبی آگاہ تھا۔ اسے یقین تھا کہ خان کے سامنے اس کی ہر شرط پر انگریزوں کی اطاعت گزاری قبول کرنے کے سواکوئی راستہ نہیں ہے لیکن جب خان محراب خان کو انگریز حملے کی اطلاع اور دھمکی ملی تو اس نے کسی توقف کے بغیر انگریز قوت کا میدان جنگ میں جواب دینے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ لالہ ہتورام اپنی کتاب ’’تاریخ بلوچستان‘‘ کے صفحہ 320پر لکھتا ہے:
’’ہر چند کوشش ہوئی کہ میر محراب خان سلام کرے یا قلات چھوڑ دے مگر محراب خان مقدمہ کرنے پر اور اپنی جان دینے پر مستعد رہا‘‘۔
خان کے ایک درباری آخوند محمد صدیق نے فارسی زبان میں خوانین قلات کی تاریخ لکھی جس میں اس نے تحریر کیا کہ انہوں نے خان کو مشورہ دیا کہ انگریزی قوت و سپاہ کا مقابلہ ہم نہیں کرسکیں گے لہٰذا مصلحت اسی میں ہے کہ وقتی طور پر پسپائی اختیار کی جائے اس پر محراب خان نے یہ جواب دیا:
’’جانتا ہوں کہ انگریز لندن اور پورے ہندوستان کے بادشاہ ہیں اب انہوں نے کابل و قندھار کو بھی تسخیر کرلیا ہے۔ ان کو جو قوت و غلبہ حاصل ہے میں اس سے آگاہ ہوں اور ان کا مقابلہ سخت مشکل ہے لیکن میں اس ملک کو چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ میرے آباؤ اجداد نے اس سرزمین کو اپنالہودے کر حاصل کیا ہے۔ اللہ گواہ ہے کہ بغیر کسی ریاکے خالصتاً اللہ کے لئے اپنا سر دے رہاہوں۔ آئندہ جو ہو‘ سوہو خُدا کا شکر ہے کہ اپنی زندگی میں کسی غیر کے سامنے اپنا سر نہیں جُھکایا‘ اپنی قوت پر حکمران رہا۔ کسی کی اطاعت نہیں کی۔ آج اپنا سرکیوں قربان نہ کردوں، اللہ کی ذات سے اُمید ہے کہ وہ ضروراس گناہ گار کو جام شہادت نصیب کرے گا‘‘۔
یہ عبارت لالہ ہتورام نے اپنی کتاب ’’تاریخ بلوچستان‘‘ میں آخوند محمد صدیق کی فارسی کتاب کے متن میں صفحہ 258-259 پر اور خان احمد یارخان نے اپنی کتاب ’’قوم بلوچ و خوانین بلوچ‘‘ کے صفحہ 55پر تحریر کی ہے۔ خان محراب خان نے انگریزی حملے کی اطلاع پاکراپنے تمام سرداروں کو اسلامی جہاد‘ قومی غیرت اور بلوچی ننگ کا واسطہ دے کر اپنی سرزمین اور اس کی آزادی و ان کے تحفظ کی خاطر پکارا۔ مگر وہ تو ان کے تحفظ کی بجائے ان کو پائمال کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔ میر گل خان نصیر اپنی کتاب ’’تاریخ بلوچستان‘‘ کے صفحہ 129پر اس المیے کا اظہار یوں کرتا ہے:
’’انگریزی فوج بلوچوں کے ننگ و ناموس پر ڈاکہ ڈالنے میجر ولشائر کی قیادت میں قلات کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ساراوان کے سرداروں نے مستونگ میں میجر ولشائر کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور اس کی امداد کی۔ راشن اور بھوسہ بہم پہنچانے کے لئے‘ اپنے آدمی‘ اونٹ اور گھوڑے ساتھ کردیئے اور خود عورتوں کی طرح چادر اوڑھ کر اور گھروں میں بیٹھ کر بلوچی ننگ و ناموس پر اغیار کی بد مستیوں اور درازدستیوں کا تماشا دیکھتے رہے‘‘۔
انگریزی افواج میجر ولشائر کی کمان میں تیرہ نومبر 1839کو قلات کے قریب پہنچ گئیں۔ اس وقت خان کے پاس ایک محدود سالشکر موجود تھا۔ جو انگریزی حملے کی اطلاع پاکر قلات اور اس کے گردونواح سے اپنی سرزمین کو غیر ملکی تسلط سے محفوظ رکھنے کی خاطر قلات میں جمع ہوچکا تھا۔ یہ سب مختلف علاقوں کے عام بلوچ سرفروش تھے۔
لڑائی علی الصبح شروع ہوئی جو شام تک جاری رہی۔ اس تمام عرصے ہتھیار اور حوصلوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ بلوچی لشکر نے اس وقت تک انگریز لشکر کو قلعے سے باہر روکے رکھا جب تک کہ انگریزی توپوں کی گولہ باری کے سبب قلعے کا ایک دروازہ گرگیا۔ انگریزی قبضہ مکمل نہیں ہوا۔ ایک ایسی ہی مزاحمت کا سامنا ان کو قلعے کے اندر بھی کرنا پڑا۔ انگریزی لشکر قلعہ کے اندر پہنچ کر فوری طور پر خان کے محل (میری) پر قابض ہوجانا چاہتا تھا۔ تاکہ مرکز مزاحمت ہی ختم ہوجائے اور خان کو گرفتار کیا جاسکے لیکن جب انگریزی لشکر میری کے قریب پہنچا تو بلوچی ناموس و وقارکا محافظ خان محراب خان۔۔۔۔۔۔بہ نفس نفیس ان کے ساتھ نبردآزما ہونے کے لیے موجود تھا یہاں ایک شدید جھڑپ ہوئی جس میں خان محراب خان نے اپنے کئی جان نثاروں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔ جس کے ساتھ ہی اس پورے خطے میں انگریزی توسیع پسندی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہوگئی اس لڑائی کا ذکر خود انگریز کماندار میجر ولشائر نے تسخیر قلات کے بعد گورنر جنرل کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں اس طرح کیا:
دشمن قدم قدم پر نہایت بہادری‘ استقامت اور جوش کے ساتھ لڑتا رہا۔ دشمن نے قلعہ کے اندرونی حصہ تک اسی طرح مقابلہ کیا اور انچ انچ زمین کے لئے لڑتا رہا‘‘۔
تھوڑے وقفے کے بعد فوج کے اس حصے نے جس نے شہر پر قبضہ حاصل کیا تھا میری میں داخل ہونے کے لئے ایک دروازے پر رسائی حاصل کی۔ جہاں میر محراب خان نے اپنے آدمیوں کی سرکردگی کرتے ہوئے ایک دیرانہ مدافعت پیش کی۔ خان محراب خان اپنے کئی معتبرین کے ساتھ تلوار ہاتھ میں لئے مارا گیا۔
شہر کے کئی ملحقہ مکانوں سے ہم پر گولیوں کی بدستور جاری رہی یہاں تک کہ جان بخشی کا عام وعدہ دے کر بھی ظہر سے قبل ہم ان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہ کرسکے۔ قلعہ کی حفاظت غزنی کے مقابلہ میں زیادہ مضبوط طریقے پر کی گئی تھی۔میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری طرفسے مرے ہوئے اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے‘‘۔
قلات کا سقوط نہ صرف بلوچستان کی آزاد حاکمیت کا اختتام تھا بلکہ اس پورے خطے میں انگریزی استعمار کے خلاف مضبوط مزاحمت کا ایک مرکز ختم ہوگیا۔ بعد میں اگرچہ خان محراب خان کے نوجوان فرزند میر نصیرخان دوئم نے بلوچ عسکری قوت کو منظم و متحرک کرکے انگریزوں کے نامزد کردہ خان شاہ نواز خان کو اس کے انگریز محافظ فوج کے ساتھ شکست دے کر بلوچوں کی حاکمیت اپنے ہاتھ میں لے لی مگر بعد میں ایک برتر حیثیت رکھنے کے باوجود انہوں نے انگریزی حکومت سے اپنی حاکمیت کی سند حاصل کرنے کی غرض سے ان کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرلیا جس کے ذریعے ان کی حیثیت انگریزی راج کے ایک ماتحت و فرمانبردار امیر کی سی ہوگئی۔
خان محراب خان کے ذکر کے بغیر بلوچستان کی تاریخ رقم ہی نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خان محراب خان ہی بلوچوں کا اولین و آخری آزاد اور خودمختار حکمران تھا۔ جس نے اپنے تمام دور حکومت میں نہ افغانستان کی بالادستی کو قبول کرلیا نہ انگریزی قوت کے سامنے جھکنا گوارا کیا۔ شاہ شجاع کو اپنے ہاں پناہ دیتے وقت جب افغانستان کے نئے حکمران نے اس کا تعاقت کرتے ہوئے اس کی حوالگی کا مطابلہ کیا تو خان نے جواب دیا کہ ’’شاہ شجاع اب میری باہوٹی میں آچکا ہے اسے گزند پہنچانے کے لئے اگر افغان فوجیں آگے آگئیں تو مجھے مقابلے پر پائیں گی‘‘۔ اس پر افغان فوج منگوچر سے ہی واپس ہوگئی تھی۔
ایک دوسرے موقع پر اس کے دربار کا ایک وزیر آخوند فتح محمد جب حاکم قندھار کے پاس اپنے بیٹے کے قتل کے سلسلے میں فریادی بن کر گیا اور اس نے محراب خان سے مطلوبہ قاتلوں کو پکڑ کر اپنے دربار میں بھیجنے کی ہدایت کی تو وہ بپھر گیا اور جواب دیا کہ یہ میری ریاست کا اندرونی معاملہ ہے تم اس میں دخل اندازی کرنے کے مجاز نہیں ہو اور حاکم قندھار کو یہ تلخ جواب سن کر خاموش ہونا پڑا اسی طرح خان محراب خان نے انگریزی حاکموں کی کسی بات کو بھی ‘ کبھی بھی اپنی حاکمیت سے بالاتر نہیں سمجھا۔
’’اس نے ایک غلام بلوچستان میں ذلت کی زندگی گزارنے کی بجائے اس کی آزاد فضاؤں میں مرجانے کو ترجیح دی‘‘۔
حوالہ: بگٹی۔ عزیز محمد۔ بلوچستان، شخصیات کے آئینہ میں۔ صفحہ 89-97
پبلشرز: فکشن ہاؤس

понедельник, 6 ноября 2017 г.

ھیربیار سعودی تعریف ایک پراکسی بیانیہ


قاضی داد محمد ریحان

قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ خواتین کا اغوا اور انہیں لاپتہ کرکے ٹارچرسیلز میں ڈالنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں روابط کی کمزورویوں اور میڈیا کی غیرموجودگی میں ایسے واقعات کو بآسانی دبایا جاتا تھا۔لیکن موجودہ تحریک کے ابھار اور متحرک قوم دوست جماعتوں کی وجہ سے اب ایسے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ جس سے نا صرف بین الاقوامی برداری ان پاکستانی مظالم سے آگاہ ہورہی ہے بلکہ بندوبست پاکستان کی عوام بھی بتدریج بلوچستان پرقابض فورسز کی زیادتیوں کے بارے میں جان کر بلوچ تحریک کی حقانیت کو تسلیم کررہی ہے۔ اس لیے ڈاکٹراللہ نزر بلوچ کی اہلیہ ، بچی اور ان کے ساتھ دیگر خواتین کا اغوا وسیع پیمانے پر پاکستانی فورسز کی سبکی کا باعث بنا۔یہاں تک کہ پاکستان کے ٹاؤٹ بھی اس کے دفاع کرنے میں ناکام رہے اور پاکستانی سینٹ کے اجلاس میں بھی بعض سینٹرز نے اس پر اپنی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔
واقعے کی نزاکت اور اس کے ابلاغی طاقت کا تقاضا تھا کہ بھرپور طریقے سے دنیا تک اپنی آواز پہنچائی جائے یہ صرف چند رہنماؤں کے گھر کی خواتین کے تحفظ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس طاقتور چیخ کے ساتھ بلوچ قومی مسئلہ بھی مختلف میڈیم سے سفر کرتا ہوا دنیا کے کونے کونے میں پہنچا۔ھیربیارسے تمام تر اختلافات کے باوجود جناب ایک طاقتور سردار اور جدیدبلوچ نیشنل ازم کے بانی باباخیربخش مری کے بیٹے اور بلوچ تحریک کے حوالے سے اپنی پہچان رکھنے والے لیڈر ہیں۔ان سے یہ توقع ہے کہ وہ اس طرح کی حالات میں مذمتی بیان سے ہٹ کر ایسے اقدام بھی کریں گے جس سے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جاسکے لیکن غیرمتوقع طور پر ھیربیار نے فوری ردعمل دینے سے گریز کیا یہاں تک کہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے بھی اس بات کو محسوس کیا اور ایک بلوچ فلم کے ڈائیلاگ ’’ سنگت گپ نہ جنت ‘‘ (دوست بات نہیں کرتا) کو پوسٹ کرکے ان کی اس خاموشی پر تنقید کی گئی حسب معمول ھیربیار کے ہمنواؤں نے ناصرف اس بات کا برا منایا بلکہ اس سوشل میڈیا ئی تنقید کو بھی کھینچ کر’سنگت‘ کی ذات تک لے جانے کی کوشش کی گئی البتہ یہ یکطرفہ تماشاسوشل میڈیا میں بھی عمومی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بالآخر سنگت کا بیان بھی آگیا۔ ھیربیار کے ہمنوابیان کے مندرجات پر غور کی بجائے خوشی خوشی ’سنگت‘ کے بیان کو تنقید کرنے والوں کی منہ پر مارتے رہے ، تاثرتھا: ’’لو ھیربیار نے تم لوگوں کا منہ بند کردیا‘‘۔
موصوف کے بیان میں بلوچ خواتین کے اغوا کا تذکرہ تو تھا لیکن حالیہ واقعہ پر توجہ مرکوزکرنے کی بجائے ایک ہی بیان میں عالمی اور علاقائی سیاست کی مکسچر کی گئی جس سے بیان باہمی اعتماد کی فضا جس کی اس مشکل گھڑی میں ضرورت تھی ، پیدا کرنے میں ناکام رہا بلکہ اس سے ایک اور تنازعے نے جنم لیا۔ ڈاکٹراللہ نزر بلوچ نے ھیربیار کے بیان کے سامنے آنے کے فور اّ بعد اپنے ٹیوٹ میں ھیربیار کے بیان کی مذمت کی بعدازاں ایک اورسرخیل رہنما ء کامریڈ نبی (عبدالنبی بنگلزئی )نے بھی ھیربیار کے موقف پر اپنے تشویش کا اظہار کیا۔
ھیربیار بلوچستان فری موومنٹ نام کے ایک سرکل کو لیڈ کرتے ہیں ، بین الاقوامی بندشوں کی وجہ سے جناب خود کو اعلانیہ طور پر بی ایل اے سے الگ رکھتے ہیں لیکن ان کی وابستگی ایک کھلا راز ہے۔اس تناظر میں مذکورہ بلوچ رہنماؤں کی طرف سے دو مختلف نکتہ نظر کا ہونا دو جداگانہ سوچ کی نشاندہی کرتا ہے ایسا نہیں ہے کہ اس سوچ کا حالیہ واقعات یا سعودی عرب میں رونما ہونے والے سیاسی یا خانگی تبدیلیوں سے تعلق ہے یاتازہ واقعات کے بعد ہی دو مختلف سوچ پیداہوئیں مگر ماضی میں مشرقی بلوچستان میں سیاسی جماعتوں اور طلبا ء تنظیموں کے درمیان شدیدترین اختلاف کے باوجود اس ایک نکتے پر اختلاف کی مثال نہیں کہ:’’ بلوچ تحریک مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرئے گی اور نہ ہی معاشرے میں ملائیت قبول کی جائے گی۔‘‘ ھیربیار کے حالیہ بیان میں سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام نہاد اصلاحی اقدامات کا سراہا کہا گیا ہے ، یہی اس بیان کا مقصد تھا مگر کسی ممکنہ طعنہ سے بچنے کے لیے جناب نے بلوچ رہنماؤں کے نام لینے سے گریز کرتے ہوئے بلوچ خواتین کے اغوا بھی حوالہ دیا جو کہ ان کی ایک سیاسی مجبوری تھی۔
حیرت ہے کہ ایک محکوم قوم کے ایسے رہنما کی حیثیت سے جو اب تک اپنے گھر میں سدھار پیدا کرنے میں ناکام اور اپنی جماعت کی تقسیم در تقسیم جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے سے قاصر نظر آتے ہیں وہ سعودی بادشاہ کا دفاع کررہے ہیں۔ سعودی عرب جو وہابیت کا علم بردار ہے ، جس نے اسلام میں ’ لکمدینکم ولی دین ‘ کے فلسفے کو ’ جہاد ی ‘ فلسفے میں بدل دیا اور اب کے وہاں ایک بادشاہ اپنے اقتدار اور علاقائی اثر ورسوخ بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔انہوں نے احتساب کے نام پر اپنے ممکنہ مخالفین کے خلاف ایسے اقدامات کا آغاز کیا ہے جن کی عرب ملوکیت اور دنیا کی بادشاہتوں میں ایک طویل تاریخ ہے۔گزشتہ دنوں کے اقدامات سے جس میں درجنوں شہزادوں اور حکومتی اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے ،صاف نظر آرہا ہے بادشاہ اپنے محلاتی سازشوں سے خوفزدہ ہوکر یہ سب کررہا ہے،تجزیہ نگار اس اکھاڑ پچھاڑ میں استحکام نہیں دیکھ رہے۔
اوراچھے سے اچھا دوربین لگانے پر بھی ہمیں ھیربیار کے لائے گئے اس دور کی کوڑی میں بلوچ مفاد ات کا شائبہ تک نظر نہیں آتا یہ الگ بات ہے کہ ھیربیار ہی ’ایران‘ کے خلاف بطور پراکسی اپنے خدمات پیش کرنے کا خواہاں ہو جو یقیناّ وہ نہیں چاہئیں گے۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ھیربیارمری کے ان کے اپنے والدگرامی باباخیربخش مری سے تعلقات میں بگاڑپیدا ہونے کے بعدوہ ان افراد کے قریب ہوگئے جن کا تعلق ایران کے زیرانتظام مغر بی بلوچستان سے ہے جو وہاں زمین پر موجود نہیں لیکن یورپی ممالک میں ایرانیوں کے ساتھ مل کر ایرانی رجیم کے خلاف محض پروپیگنڈہ سے دل بہلا رہے ہیں۔ان افراد نے ماضی میں بلوچ نیشنل فرنٹ میں بھی درانداز ی کی اور کچھ لوگوں کو ماورائے ادارہ فنڈنگ کرکے ان سے ایران کے خلاف نعرے لگوائے۔ ان کے اپنے پاس موثر قیادت اور عوامی حمایت نہ ہونے سے ھیربیار جیسے قدآؤر شخصیت کا ان کے دام میں آنا ان کی بڑی کامیابیہے ، جسے وہ استعمال کررہے ہیں۔ ان میں سے کئی ھیربیار کے خصوصی مشیر اور سفیر کا درجہ بھی رکھتے ہیں جنہوں نے ھیربیار کے چارٹرآف لبریشن کی تیاری اور تقسیم میں بھی کلیدی کردار ادا کیا لیکن دوسری طرف ان کا مذہبی انتہا پسند تنظیم جنداللہ ، جیش العدل اور انصارالفرقان سے بھی یارانہ ہے جن کے موقف کی یہ ببانگ دہل تشہیر اور دفاع کرتے ہیں۔
جب کہ مذہب کے نام پر لوگوں کے تقسیم کرنے والے ان گروہوں کو بلوچ قوم دوست جماعتیں ہمیشہ سختی کے ساتھ مسترد کرتے رہی ہیں اور اس کا ھیربیار کے اختلافی بیان سے نسبت اتنا ہے ہے کہ موصوف کا بیان بلوچستان کی ان سیکولر سوچ رکھنے والی جماعتوں کے موقف کے برخلاف ہے۔
بلوچستان کی سب سے بڑی قوم دوست اور آزادی پسند سیاسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ جو کہ ایک’ سیکولرڈیموکریٹک آزاد بلوچستان ‘کی پرامن تحریک چلا رہی ہے روز اول سے بلوچستان میں قبائلیت ، رجعت پسندی اور ملاہیت کے خلاف نظریہ ساز کردار اداکررہی ہے۔مذکورہ جماعت نے بلوچ نیشنل فرنٹ کی طرف سے ۰۲ جون ۰۱۰۲ کو مالک ریگی کی پھانسی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاج سے بھی لاتعلقی کا اعلان کیاتھا۔ بی این ایم کا موقف تھا مالک ریگی ایک مذہبی انتہاء پسند گروہ کا سرغنہ تھا جن کے ایجنڈے میں بلوچستان کی آزادی کی بجائے ، ایرانی سنی حقوق کی بحالی تھی اور وہ مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہا تھا۔۔ بی این ایم کے اس موقف پر اس وقت بھی ان عناصر نے ناراضگی کا اظہار کیا لیکن بی این ایم اپنے موقف پر قائم رہی اوراس احتجاج کے لیے ’ بلوچ نیشنل فرنٹ ‘ کے نام کو استعمال کرنے والوں سے ایک غیررسمی نشت میں اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا۔ 
یہ ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ بی این ایم اور اس کی اتحادی تنظیمیں ماضی میں بھی اسی موقف پر قائم تھی جس کا ھیربیار کے بیان کے ردعمل میں اعادہ کیا گیا ہے۔مگر ھیربیار مری کا سعودی عرب کے پراکسی کرداروں کی طرف جھکاؤ اور ان کی خوشنودی کے لیے ان کے آقا’آل سعود ‘کی تعریف پاکستان کی طرف سے بدترین نسل کشیکی شکار بلوچ قوم کے مصائب میں اضافہ کرئے گا کیوں کہ پاکستانی دہشت گردی سے بچنے کے لیے اندازاً پچاس ہزار سے زائد آئی ڈی پیز مغربی بلوچستان ہجرت کرچکے ہیں جہاں وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ جن میں نوئے فیصدایسے ہیں جو غیریقینی صورتحال میں وہاں پناہ گزین ہیں۔ ایران کے خلاف ھیربیار کا پراکسی بیانیہ (جو بلوچ مفادات اور زمینی حالات سے میل نہیں کھاتا) ان مہاجرین کی زندگیوں کو برائے راست خطرے میں ڈالنے کا سبب بھی بن سکتا ہے جب کہ اصل خطرہ بلوچ تحریک کے سیکولر نظریے کو ہے جسے مغربی بلوچستان میں شیعہ سنی شکل دے کر مسخ کیا جاچکا ہے جہاں ان ہزاروں بلوچوں کو بھی نفرت اور بیگانگی کی نظر سے دیکھاجاتا ہے جو سنی نہیں۔اس لیے ھیربیار کے بیان پر فوری ردعمل دینا ایک دور اندیشانہ فیصلہ تھا جس کے مستقبل میں بلوچ معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے

воскресенье, 5 ноября 2017 г.

چادر چھِین کر سر پر سجانے والے

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ: حیدر مِیر
تیس اکتوبر کو کوئٹہ میں سریاب روڈ کے علاقے سے اغواء کیئے گئے خواتین چوتھے روز منظر عام پر آگئے۔ اغواء ہونے والے خواتین میں بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ، اور بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک سینئر کمانڈر اسلم بلوچ کی ہمشیرہ سمیت دیگر خواتین شامل تھیں۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ علاج کی غرض سے کوئٹہ گئی تھی، انہیں مشکے کے علاقے میں فوجی بمباری کے دوران کمر میں چوٹ آئی تھی، اور تاحال ریڑ کی ہڈی میں تکلیف کی وجہ سے انہیں کوئٹہ پھر سے علاج کے لیئے آنا پڑا تھا، اسی دوران انہیں اور دیگر خواتین کو فورسز نے گھر سے اٹھا کر لاپتہ کردیا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان و وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی اول اس بات سے انکاری رہے کہ فورسز نے ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ یا پھر اسلم بلوچ کی ہمشیرہ کو حراست میں لیا ہے، مگر بعد میں اپنی باتوں سے مکر کر انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ خواتین انکی تحویل میں ہیں، مگر کسی کا نام ظاہر کیئے بغیر بتایا کہ ان خواتین کو افغان سرحد پار کرتے ہوئے چمن سے پکڑا گیا ہے۔
بلوچ تحریک کے سرکردہ بلوچ رہنماوں کے خاندان کی خواتین کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل کراچی میں بلوچ ری پبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی کی ہمشیرہ کو خفیہ اداروں کے کارندوں نے فائرنگ کرکے بیٹی سمیت جانبحق کیا تھا۔
کوئٹہ سے اللہ نذر کی اہلیہ و اسلم بلوچ کےہمشیرہ کے اغواء کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور مختلف طبقہ فکر کی جانب سے پاکستانی فورسز کے اس عمل کی بھر پور مذمت کی گئی۔ سب سے زیادہ غم و غصہ بلوچ عوام میں پایا گیا کیونکہ بلوچ معاشرے میں عورت کا مقام نہایت بلند مانا جاتا ہے، حالات چاہے جس نہج پر پہنچ جائیں خواتین و بچوں کو فریق نہیں بنایا جاتا، بلکہ خواتین کی مداخلت پر انکی احترام کی خاطر جنگیں روک دی جاتی ہیں۔
اس دلخراش واقع کو بلوچستان کی عوام اور سیاسی و عسکری لیڈران اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ انکے چادرو چار دیواری اور ننگ و ناموس کو پاکستانی فورسز نے پامال کیا ہے۔ جبکہ اسی دوران دونوں عسکریت پسند رہنماوں ڈاکٹر اللہ نذر اور اسلم بلوچ نے بھی سوشل میڈیا پر بیانات جاری کیئے۔ اسلم بلوچ نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ، “آزاد وطن ہی ہمارے عورتوں بچوں کی بہتر و محفوظ زندگی کا ضامن ہوگا”۔
گذشتہ روز حکومت کی جانب سے ڈرامائی انداز میں انہی خواتین کو برآمد کیا گیا، اور انہیں میڈیا کے سامنے چادریں اوڑھ کر یہ کہا گیا کہ ہم بلوچی روایات کا احترام کرتے ہیں اور اسی لیئے ان خواتین کو چادریں پہنا کر رہا کر رہے ہیں۔ گو کہ پاکستانی فورسز کی تاریخ رہی ہے کہ انہوں نے کبھی بلوچ خواتین کے سر کی چادروں کی پرواہ نہیں کی، فوجی کاروائیوں میں خواتین کو ہمیشہ فریق بنایا گیا ہے۔ اس وقت بھی سہنڑا بگٹی کے خاندان کی عورتوں سمیت کوہلو کاہان اور ڈیرہ بگٹی سے درجنوں کی تعداد میں خواتین لاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ خواتین میں زرینہ مری جیسے ایسی کئی خواتین بھی شامل ہیں جو دس سال سے زائد عرسے سے لاپتہ ہے۔
ستر کی دہائی میں بھٹو حکومت کے دوران بلوچستان کے علاقے کوہلو و کاہان میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن ہوئے، جہاں سینکڑوں بلوچ مردوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، وہیں انکے گھر کی خواتین کو ٹرکوں میں بھر کر قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ شیرمحمد مری نے ان دنوں بی بی سی کو دیئے گیئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ” ہماری بچیوں کو منڈیوں میں فروخت کیا گیا، میں میڈیا میں بتاتا رہا مگر کسی نے نہیں سنا، بہت سی بچیوں کو میں نے اپنی جیب سے پیسے دیکر خرید کر واپس انکو انکے ماں باپ کے حوالے کیا ہے”۔
ماضی قریب میں بھی ایسے دلخراش واقعات کا حوالہ ملتا ہے، جہاں حکومتی فورسز نے بلوچی اقدار کی پرواہ کی نا چادر و چار دیواری کی۔ رواں سال ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں ایک ہی خاندان کے 7 خواتین کی تب موت واقع ہوئی جب فوجی ہیلی کاپٹر سے ایک گھر پر گولہ داغا گیا، اس حملے میں ایک نوزائدہ بچہ بھی لقمہ اجل بنا جو اس وقت اپنی ماں کے ساتھ اس گھر میں تھا۔
ہرنائی کے علاقے میں یہ واحد واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل سن 2015 میں فوجی آپریشن کے دوران 50 سے زائد بلوچ خواتین کو ایک ماہ تک زیرِ حراست رکھا گیا اور بعد ازاں بین القوامی سطح تک پہنچنے والی احتجاجوں کی پریشر کی وجہ سے انھیں بازیاب کیا گیا۔
اسکے علاوہ رواں سال ستمبر میں آواران آپریشن کے دوران فوجیوں کا خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کرنے کی بھی اطلاعت ملیں، اس حوالے سے بلوچ نیشنل مومنٹ سمیت دیگر جماعتوں نے مذمتی بیانات بھی جاری کیئے ہیں۔ جبکہ تازہ واقعے میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے 9 بلوچ طلباء کو اغواء کیا گیا، جن میں بلوچ ہیومن رائٹس سے منسلک نواز عطاء بھی شامل ہیں۔ اغواء کے اس واقع کے دوران فرح بلوچ نامی خاتوں کو بلڈنگ کے تیسری منزل سے گرا کر بری طرح زخمی کیا گیا، فرح بلوچ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیئے آج بھی کراچی پریس کلب کے سامنے سٹریچر پر لیٹی احتجاج کر رہی ہیں، وہ اب چل نہیں سکتی۔
خیال رہے 30 اکتوبر کو سریاب روڈ میں واقع گھر سے اغواء کیئے گیئے ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ و دیگر خواتین کو حکومت منظر عام پر لے آیا مگر ان خواتین کے ساتھ اغواء ہونے والے تین مرد سمیع اللہ، شاہ میر اور بیبرگ بلوچ تاحال لاپتہ ہیں۔
سر پر چادر رکھ کر حکومتی وزراء جس بلوچیت کا مظاھرہ کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں، وہ اب تک یہ جواب دینے سے قاصر ہیں کہ ابتک درجنوں لاپتہ خواتین کو کب بازیاب کیا جائے گا اور ان تمام خواتین کے اغواء اور انکے سروں سے چادر چھیننا کونسی بلوچیت ہے؟

среда, 1 ноября 2017 г.

عسکری اتحاد اور دشمن کی نئی چالیں:تحریر: جیئند بلوچ

کل کا دن بلوچ تحریک کے حوالے سے بڑی اہم دن ثابت ہوئی۔ کل جو دو خبریں اس حوالے سے آئیں وہ بھی اہمیت کی حامل تھیں، پہلی خبر جس نے تحریک سے جڑے ہمدردوں اور بہی خوابوں کو مسرور و شاد کردیا۔
بی ایل ایف کے ترجمان کی خبر تھی جس میں بلوچ قومی تحریک کے ایک اہم جز بی ایل اے کے ساتھ اشتراک عمل کی بابت پالیسی تھی۔
کل ہی کی دوسری افسردہ اور فسوں ذدہ خبر پاکستانی حمیت سے عاری فوج کا قومی رہبر ڈاکٹر اللہ نظر کے بیوی اور ان کے بچوں کی اغواء کی تھی جس نے اندوہ مچادی، بلوچوں کو غم ذدہ اور ہیجاں میں مبتلا کردیا یہ بلا شبہ ایک صدمہ تھا جس کا سہنا انتہائی مشکل تھا دشمن کو معلوم تھا کہ وار کہاں کرنا ہے سو اس نے وہاں وار کردیا یہ کسی حمیت سے عاری دشمن کی جنگی پلان تھا جسے سوچ کر ترتیب دیا گیا تھا ہماری سوچ اپنی جگہ مگر وہ کامیاب رہا۔
اگر دیکھا جائے تو بی ایل ایف اور بی ایل اے کی جانب سے اشتراک عمل کا اعلان ناصرف قومی خواہشات کی تکمیل ہے جس کے لئے تحریک سے جڑے عناصر اور ہمدرد کافی عرصے سے جدوجہد کررہے تھے بلکہ وقت و حالات کی ضرورت بھی تھا کیوںکہ ایک ہی مقصد کے لئے جاری جدوجہد میں الگ الگ محاذ بنانا، ایک دوجے کا جدا راستے پہ چلنا، ایک دوسرے کو اس کے باوجود کہ مقصد ایک ہے برداشت نا کرنا تکلیف دہ تھا اس سے مایوسی کی شدت محسوس کی جاسکتی تھی جدا جدوجہد کو لے کر دشمن اور اس کے عناصر عوام میں بھڑک بازیاں بھی کرتے رہتے تھے۔
مگر اشتراک عمل کے اعلان کے بعد بھی چند ایک ایسے لوگ ایک ایک کر کے نظر آنے شروع ہوگئے ہیں جو بظاہر ہمدرد رہے ہیں لیکن باہمی اختلافات کو ہمیشہ ہوا دیتے رہے تھے۔ ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر اتحاد کی خواہش کے برعکس ان کا طرز بیان اور طریقہ واردات جداگانہ رہا تھا وہ  بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والے فارمولے پر عمل پیرا تھے۔
تنظیموں کے طریقہ کار بالخصوص بی ایل ایف پر ان کی نکتہ چینیاں، تنقید اور الزام تراشیاں سب سے بڑھ کر تھیں۔ وہ اتحاد کے بخار میں مبتلا تو تھے لیکن اب جبکہ اتحاد ایک عملی شکل میں سامنے آگئی ہے یہی لوگ اس کی مخالفت میں کمر بستہ ہوگئے ہیں جس سے ان کا ظاہری طرز عمل اور اندرونی نیت آشکار ہوتی ہے یہ لوگ کون ہیں کس کے کہنے پہ ایسا کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں یہ لمحہ ایسا ہے کہ اب کسی کو رعایت نہیں دینا چاہیے جتنے مکروہ چہرے ہیں جن پر خوداری کا پلاسٹک چڑھا ہوا ہے انہیں بے نقاب کرنا چاہیے تاکہ ان کی نحوست دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ بن پائے۔
اتحاد مخالف عمل کے خلاف جتنے عناصر سرگرم ہیں انہیں بلاشبہ نواب زادہ حیر بیار مری کی تائید حاصل ہے کیوں کہ زبانی جمع خرچ کے برخلاف  حیر بیار بی ایل اے کی بی ایل ایف کے ساتھ اتحاد کے عملی شکل میں سامنے آنے سے کترا رہے تھے وہ محض الفاظ کی چابک دستی کے سہارے اتحاد اور یکجاہی کی راگ الاپتے رہے ہیں اب جب بی ایل اے کے برسر زمین قیادت نے محسوس کیا ہے کہ الگ الگ جدوجہد قبولیت کا حامل نہیں ہوسکتا اور اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں آرہے ہیں تو وہ اتحاد کی راہ پہ آگئے جو بلا شبہ ایک مقبول فیصلہ ہے البتہ اسے  حیر بیار کی رضا و رغبت حاصل نہیں ہے اس لیئے ان کے جتنے قصیدہ خواں ہیں وہ اپنی نحوست کے ساتھ ایک ایک کر کے سامنے آرہے ہیں  حیر بیار کا کردار اتحاد مخالفت یا ٹوٹ پھوٹ میں کسی تعریف کا محتاج نہیں اس پہ پھر بات ہوگی۔
بی ایل اے اور بی ایل ایف کے اشتراک عمل کے ساتھ بی آر اے اور یو بی اے جو عسکری محاذ پر منظم اور سرگرم ہیں ان کا امتحان شروع ہوگیا ہے وہ کس طرح کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں یہ ان پر منحصر ہے البتہ عوامی خواہش ضرور یہ ہے کہ بی آر اے اور یو بی اے وقت کا ادراک رکھتے ہوئے اس اشتراک عمل کو اپنی شراکت سے مذید بہتر منظم بناسکتے ہیں۔
بی آر اے کے سرکردہ کمانڈر واجہ گلزار امام اور یو بی اے میں محترم بنگلزئی و قادر مری مجنھے ہوئے رہنما ہیں ان کے سیاسی سوچ اور حکمت کسی سے پنہاں نہیں ہیں ان سے بڑی توقعات ہیں کہ حالات کی نزاکات کا بھرم رکھیں گے۔
بی آر اے اور یو بی اے کی قیادت جن کا عسکری کردار بلاشبہ بلند ہے اور وہ زمین میں رہ کر تمام تر حالات و واقعات کا بچشم خود گواہ ہیں کس طرح اکیلے جدوجہد برقرار رکھ سکتے ہیں یہ ان پہ منحصر ہے لیکن مجموعی قومی مفادات کا یہ تقاضا ان سے بھی ہے کہ وہ اتحاد کے لئے عوامی خواشہات کا لحاظ رکھیں۔


اگر دشمن کی چالاکیاں دیکھی جائیں تو وہ روز نت نئے گر آزما کر جنگ کو نئی سمت لیجانے کی کوشش کررہی ہے۔ کل ڈاکٹر اللہ نظر اور استاد اسلم کے خاندان سے عورتوں اور بچوں کے اغواء کا عمل دشمن کی نئی چالاکیاں ہیں وہ اس طرز عمل کو یہاں سے بطور ٹیسٹ کیس شروع کر کے اس کا دائرہ آہستہ آہستہ ہر اس فرد تک لیجا ئے گا جو تحریک کا ہمدرد ہے۔ اس عمل کے خلاف اکھٹے رہنا، بلوچ مائوں اور بہنوں کی حفاظت کے لیئے نئی حکمت عملیاں تشکیل دینا، دشمن کی چالوں کو سمجھ کر جنگ کو مزید پھیلانا اور وسعت دینا اور اسے دشمن کے ہر کونے تک لے جانا مشترکہ عمل سے ممکن ہے۔
یہ ہمارا محض خیال ہوسکتا ہے کہ دشمن بزدل ہے جو عورتوں کو اغواء اور زیر زندان کررہی ہے مگر ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس دشمن سے ہمارا پالا پڑا ہے اس میں اخلاقی ا اقدار کا شروع دن سے فقدان ہے۔اس بے حمیت اور گری ہوئی دشمن سے بدتر سلوک کی توقع کرنا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں ہم کیا کررہے ہیں، ایک اخلاق باختہ دشمن کے ساتھ دوران جنگ ہاتھ ہلکا کرنا انہیں اس کے موافق جواب دینے سے گریز کرنا کس طرح سودمند ثابت ہوسکتا ہے اس پہ سوچنا اور نئی حکمت عملیاں ترتیب دینا بڑی ضرورت بن گئی ہے۔ دشمن کے جتنے دوست ہیں انہیں نقصان پہنچا کر یا انہیں اسی زبان میں جواب دے کر جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ گوکہ دشمن کو اپنے بلوچ ہمدردوں اور دلالوں کا نقصان اتنا غم ذدہ نہیں کرتا مگر ان کی راہیں ضرور مسدود ہوسکتی ہیں کم از کم اپنا غم اس سے بانٹا جا سکتا ہے۔ دوران جنگ دشمن کے ساتھ اس حد تک چلے جانا کہ انہیں درد سہنا پڑے حکمت اور باہمی اشتراک عمل کا تقاضا ہے

вторник, 31 октября 2017 г.


Teaching Nazar a Lesson Backfired , Ali Kambar
The war in Balochistan has taken a new turn as Pakistani military establishment has started abduction of women and family members of Baloch political activists. I am not a fan of morality in politics and war but such an immoral actions do reflects some realities that Pakistani state has deeply frustrated and seems to be psychologically losing the war in Balochistan.
The abduction of family members is a part of grand design of pressuring Baloch freedom fighters in the name of honour and shame to cave in to increasing state atrocities. But falling such a low as abduction of females will always fireback in Balochistan where the women are considered as the most sacred being enshrined in honour and respect. Therefore, if the purpose of this psychological war is gaining positive result of winning the war in Balochistan, Pakistan army and its military intelligentsia are extremely going in the wrong direction. Such a strategy will only prove it to be more of an evil in the eyes of Baloch who are always ready to fight in the name of honour and civility.
Perhaps, Pakistan army has repeated the mistakes of 2006 when it killed octogenarian Nawab Akbar Khan Bugti in a military raid that ignited a fire in Balochistan and lit the fire of liberation movement that it could neither swallow nor throw out yet. Abduction of women in Balochistan is considered as the lowest of all lows one can fall. Therefore, these recent events must be noted as start of another wave of uprising in Balochitsan freedom movement where the Baloch youth would consider that now there female members are also not safe in Balochistan. It can also force Baloch females to arm themselves and fight along with their brothers in the mountains. Such a scenario could be a nightmare for Pakistani army.
Dr Allah Nazar is known as a man of steel nerves in Balochistan. Even a child knows that he could never be bowed down by such shameful acts by state. He is considered as a leader who has inspired thousands of Baloch youth to fight against injustice and occupation of Pakistan army in Balochistan. The majority of people in Balochistan consider him as de facto leader of Balochistan. He is the undisputed leader of Baloch movement in Balochitsan and symbol of resistance. Only Balach Marri was his calibre in the eyes of people of Balochistan. After Balach he is the leader of the armed as well as political leader in Balochistan’s war against Pakistani occupation. Abduction of his family members by Pakistan army will only strengthen his image a leader who is ready to sacrifice his everything for his nation. Therefore, if Pakistan army thinks that abduction of Allah Nazar’s family members is a psychological tool to win the war in Balochistan, they are extremely mistaken and misled by whoever has designed such a plan.
In the face of increasing atrocities in Pakistan such as action of abduction of women and children, Baloch Liberation Army and Balochitsan Liberation Front have announced to enter an alliance to end  Pakistani occupation. The killing of thousands of innocent Baloch civilian in the hand of Pakistan army has forced Baloch youth to join armed groups as they view Pakistan as an evil force bent upon ethnic cleansing of Baloch and a force engaged in genocide of Baloch people.
In reaction to Pakistan army abduction of Dr Allah Nazr family, hundreds of thousands Baloch have changed their facebook and twitter DPs to Allah Nazar photos to show their solidarity with their leader. A simple search on twitter shows that Dr Allah Nazar popularity has almost quadrupled as his name was used in thousands of tweet and hashtags on twitter. Almost all the leaders in Balochistan and Pakistani intellectual and human right activists have condemned this action of Pakistan military as shameless act. It seems that the move has greatly backfired.
It is high time that Baloch activists must come into actions to highlight and resist such a shameless acts of Pakistan army. Baloch political parties and human right organizations must extend their outreach and be more exclusive to involve and engage all the stakeholders across the globe to highlight barbarity of Pakistani state’s genocide of Baloch people.
It is responsibility of Amnesty International, Human Rights Watch to give Pakistan an immediate notice to release Dr Allah Nazar’s family. UNHRC must hold Pakistan accountable as a member engaged in genocide of Baloch people. Baloch activists should force UN to discipline Pakistan by highlighting reporting human rights violation more aggressively.
And the last but not least, all the human loving beings should play their roles to stop Pakistan to torture Baloch political activists and stop genocide in Balochistan.  

воскресенье, 29 октября 2017 г.

میڈیا کی کور چشمی اور اس کا حل ؛تحریر :جیئند بلوچ


اپنی بات رکھنے سے قبل اسے مزید واضح کرنے کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں تاکہ بات صحیح طرح سےسمجھ میں آسکے۔
ایک کسان کو کسی فصل کے بارے بتایاگیا کہ وہ انتہائی کارآمد اور فائندہ مند ہے۔کسان نے اس کی کاشت کے لئے الگ زمین لی، اس یہ ہل چلایا ، کھاد ڑالی اور تیار کیا پھر بازار سے اس فصل کا بیج خرید کر کر اپنی تیار شدہ زمین میں اس نیت پہ اگالیا کہ اس کا فائدہ بہت زیادہ ملے گا مگر مدت گزرگئی اور کسان کو اس کا کوئی ثمر نا ملا زمین نے فصل نہیں اگائی۔
اگلے سیزن مین کسان نے زیادہ فائدے کی لالچ میں ایک بار پھر وہی کچھ کیا محنت کی زمین بنایا، بیج لایا اور کاشت کی مگر اس دفعہ بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کسان تکنے والا نہیں تھا اس نے فائدے کی لالچ میں تیسری بار بھی وہی سب کچھ کیا جو وہ مسلسل دو مرتبہ کرتا آرہا تھا لیکن قسمت کے مارے کسان کی تیسری کوشش بھی کارآمد ثابت نہ ہوسکی اس نے مگر اپنا ارادہ ترک نا کیا وہ ہر سیزن میں ایک ناکام کوشش کرتا رہا اب آپ سے کوئی پوچھے کسان کیسا شخص ہے ؟تو یقینا آپ کہیں گے کہ اس سے بڑا پاگل کوئی نہیں ہوگا۔
میرے خیال میں اس سے آپ میری بات کا مطلب سمجھ گئے ہونگے۔ اگر نہیں تو چلیں ایک اور مثال لیتے ہیں کسی شہر کے والی نے ایک فیکرٹری لگائی شہر والے خوش ہوئیں کہ یہ فیکٹری ان کے روزگار کا زریعہ ہوگا اس سے ان کے معاشی مسائل اور مشکلات کم ہونگے لیکن والی شہر نے باہر سے لا کر لوگوں کو فیکٹری میں جمع کیا ان سے کام کرایا جتنی کمائی تھی وہ صرف والی شہر اور ان کے باہر سے آئے ملازمین نے سمیٹ لی شہر والوں کے حصے میں روزگار اور معاشی خوشحالی کے بجائے دھواں، زہریلی گیس اور فیکٹری کی آواز سے آرام اور نیند میں خلل آیا۔
اب اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ شہر والے اس پہ ہی قناعت کر کے خوش ہولیں کہ روزگار اور خوشحالی نا سہی کم ازکم ان کے شہر میں ایک عدد فیکٹری تو لگ چکی اس پہ آپ کیا جواب دینگے کہ ہاں یہ بھی خوشی کی بات ہے اگر آپ کا جواب ایسا ہی ہوگا تو آپ کو اپنے عقل کے لئے کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس جانا چاہیے۔ اب تو آپ یقیناا سمجھ چکے ہونگے کہ میں کہنا دراصل کیا چاہتا ہوں اگر نہیں سمجھ رہے تو آیئے ایک اور مثال سے بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں آپ کو اپنے کمرے میں آئینہ لگانے کا خیال سوجھا تاکہ اس سے اپنے آپ کو دیکھ کر اپنا وضع قطع اور حلیہ درست کرسکیں آپ نے بازار جا کر ایک قیمتی آئینہ خریدا شہر سے ایک ماہر کاریگر لا کر اسے آئینہ دیا اور وہ مقررہ جگہ جہاں پہ آپ نے آئینہ لگانا تھا اسے دکھایا آپ مطئمن ہو کر کاریگر کو کام کے لئے اکیلے چھوڑ کر انتظار کرنے کے لگے کہ وہ آئینہ لگادے اور آپ اس سے استفادہ کرسکیں۔ جب آئینہ لگ چکا تو حیرت اور اضطراب سے آپ کی چیخیں نکلتے رہ گئیں کہ کاریگر نے آئینہ آپ کی قامت سے اوپر لگا دیا ہے جس سے آپ کسی طور اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتے آپ کی محنت، پیپسے وقت اور خواہش غارت گئیں یقینا آپ کو اس کا دکھ ہوگا لیکن پھر بھی کوئی شخص کہہ دے کہ نہیں کوئی پرواہ نہیں کم از کم آئینہ لگ تو گیا ہے تو میرے نزدیک اس کی عقل پہ تف ہے۔
اب آپ کو سمجھ آگیا ہوگا کہ میں اصل میں کہنا کیا چاہتا ہوں آپ اسی پیمانے پر پاکستانی کنترولڈ میڈیا کو سامنے رکھ کر بلوچستان کا جائزہ لیں۔ جو میڈیا بلوچستان میں رہ کر ہمارے وسائل پہ پلا بڑھا اور ہمارا کھا رہا ہے لیکن ہم سے نظریں بچھا کر بات کسی اور کی کررہی ہے۔ ہمارے جتنے دکھ، درد، مصائن، مشکلات اور آلام ہیں وہ میڈیا کو نظر نہیں آرہے لیکن ہمارے خلاف جو بات ہوتی ہے اسے چیخ اور چلا کر کہہ ڈالتا ہے۔
میڈیا گوکہ بہت اہمیت کا حامل ہے، اس کا ایک یقینا ایک مسلمہ حیثیت اور حقیقت ہے، دنیا گوکہ آزادی اظہار کا متمنی ہے، اقوام متحدہ یقینا میڈیا کی آزادی کو مقدم سمجھتی ہے لیکن آپ سے سوال ہے کہ جو میڈیا آپ کے پاس رہتے ہوئے آپ کے کسی کام کا نہیں ہے بلکہ الٹا آپ کے خلاف بکواس، پروپیگنڈہ، جھوٹ اور زہر افشانی کا مرتکب ہورہی ہے اور آپ ان سب سے واقف ہیں دیکھ رہے ہیں جانتے ہیں پھر بھی آپ خاموش رہیں یہ ہماری سمجھ سے بالا ہے۔
کچھ دن قبل ہمارے ایک محترم دانش ور نے میڈیائی قوت اور بلوچ تنظیموں کی حکمت عملی پر طویل مضمون قلم بند کر کے کہاں کہاں سے مثالیں لا کر میڈیا کی قوت جتانے اور اس سے ڈرانے کی کوشش کی تھی کہ اس کا اثر یہ ہوگا، اس کے نقصانات یوں نکلیں گے مگر محترم دانش ور صاحب کو یہ زمینی حقیقت نظر نہیں آئی تھی کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران میڈیا نے بلوچ مسلے پر کتنا مثبت رول ادا کیا ہے۔ اور بلوچ تحریک آزادی کے متعلق میڈیا کا بازاری زبان، سرکاری بیانیہ، تہمت بازی، بچگانہ پن اور زہریلے نشتر کس قدر پریشان کن رہے ہیں۔
پاکستانی کنٹرولڈ میڈیا جو بلوچستان میں موجود ہے اس کے خلاف بلوچ تنظیموں نے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے کر ایک احسن قدم اٹھایا ہے گوکہ ہم جیسے کچھ جاہل اور بے عمل افراد اس کی مخالفت کرینگے لیکن سوال یہ ہے کہ اس میڈیا جس کا ہم رونا روتے یا اس کی طاقت سے ڈراتے ہیں نے بلوچستان کو دیاکیا ہے۔اس کی بلوچ دشمنی تو اس قدر آگے جاچکی ہے کہ بلوچستان اور اس کے معاملات ایک طرف اسلام آباد کے جناح یونیورسٹی میں بلوچ طلباء کے احتجاج اور پولیس گردی کو چھپانے کے لیئے اس نے بلوچ طلباء کے خلاف کس قدر یکطرفہ اور منفی کرداد کشی کی۔ حالانکہ بلوچ مسلح تنظیموں نے ابتدائی بیانات میں محض میڈیا کو اپنا رویہ مثبت اور غیر جانبدار بنانے کے لیئے الٹی میٹم دینے پر اکتفا کیا ہے اسے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اپنا اصولی طریقہ کار طے کر کے عالمی قوانین کا لحاظ رکھیں جو میڈیا کا حق ہے ابھی تک باقاعدہ میڈیا کے خلاف طاقت آزمائی سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی ہے ماسوائے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے تنبیہی حملوں کے۔
اگر میڈیا واقعی بلوچستان میں رہنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ سرکاری زبان بولنے کے بجائے میڈیائی زبان اپنائے، میڈیائی اصول و ضوابط کا پاس رکھے ورنہ اسے یہاں رہنے ہمارے وسائل پہ پلنے اور کھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ قومی رہبر ڈاکٹر اللہ نظر نے پہلی بار میڈیا کے دوہرے کردار پر سخت موقف اپنا کر اسے درست سمت اختیار کرنے کی تنبیہ کی ہے بصورت دیگر ان کے ساتھ وہی زبان مین بات کرنے کا عندیہ دیا جو پاکستان اور اس کی آرمی بلوچوں کے ساتھ کر کے میڈیا اس کو حق بجانب قرار دینے کی سعی کرتی آرہی ہے امید ہوچلا ہے کہ اب کی بار بلوچ تنظیمیں اور بلوچ قیادت میڈیا کے نام پر بلوچستان میں مچائی گئی گند اور سرکاری فضلے پر مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہونگے۔

пятница, 27 октября 2017 г.

بی ایس او آزاد کے سیکرٹری جنرل عزت بلوچ کا انٹرویو

’’عزت بلوچ بی ایس او آزاد کے موجودہ سیکرٹری جنرل ہیں۔ انہوں نے 2009 میں تنظیم میں شموولیت اختیار کی۔ 2010 سے 2012 تک زونل صدر کے عہدے پر رہے۔2012سے جون 2015 تک مرکزی کمیٹی کے رکن رہے۔ جون 2015 سے نومبر 2015 تک تنظیم کے مرکزی انفارمیش سیکٹری رہے۔ 2015کو ہونے والے کونسل سیشن میں بی ایس او آزاد کے سیکٹری جنرل  منتخب ہوئے۔‘‘ ان سے یہ انٹرویوسگار کمیٹی کی جانب سے لیا گیا ہے۔
سوال*بحیثیت ایک طلباء لیڈر آپ بلوچ قومی تحریک کی موجودہ صورتحال سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
جواب*مطمئن ہونا بزات خود ایک ایسا احساس ہے کو یہ عام طور پر کسی کو کچھ نیا کرنے کے لئے متحرک کرنے کے بجائے موجودہ حالات پر خوش کرتا ہے۔ موجودہ تحریک میں کمزوریاں اگرچہ ہیں، یہ کمزوریاں پارٹی منیجمنٹ کے حوالے سے ہوں، بعض معاملات میں سیاسی ناپختگی یا عدم برداشت جیسی کمزوریاں، لیکن ان سب کے باوجود حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ قومی تحریک کی تمام اکائیوں کی طریقہ جدوجہد میں کوئی اختلاف نہیں، ان کے مقاصد میں بھی کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ مجموعی حوالے سے اگر دیکھا جائے تو قومی تحریک کی مجموعی صورت حال اطمینان کن ہے۔ لیکن مجھے یہ وضاحت کرنے دیجیے کہ جہاں تک میراخیال ہے تحریک کی اکائیوں میں، بشمول بی ایس او آزاد، بہتری کی گنجائش موجود ہیں۔
سوال*پچھلے کئی سالوں سے ریاست کی جانب سے تعلیمی اداروں پر بندش اور منشیات کے پھیلاؤ جیسے مختلف حربے بلوچ نوجوانوں کے خلاف استعمال کیے جارہے ہیں ، آپ کے نزدیک ان حالات میں نوجوانوں کی مجموعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟ 
جواب* یہ حقیقت ہے کہ ریاست مختلف حربوں کا بیک وقت استعمال کرکے نوجوانوں کو تحریک سے دور کرنے کی کوشش کررہی ہے، چونکہ یہ نوجوان ہی ہیں جو کہ کسی تحریک کا، یا قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ریاست کی ان پالیسیوں کے اثرات ’اگر ریاست کامیاب ہوئی تو‘ آئندہ سالوں میں منفی حوالے سے تحریک اور بلوچ معاشرے پر پڑیں گے۔ جہاں تک سوال کے دوسرے حصے کا تعلق ہے کہ نوجوانوں کی زمہ داری کیا بنتی ہے تو میرے خیال میں ان حالات کا مقابلہ صرف نوجوانوں کو نہیں بلکہ معاشرے کے تمام باشعور طبقوں کواس صورت حال کے خلاف مزاحم ہوکر ہی ان حربوں کا ناکام بنا نے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ریاست میڈیا اور پروپگنڈہ کے دوسرے ذرائع کا استعمال کرکے ایسی تمام سازشوں کو چھپا رہی ہے جو کہ بتدریج بلوچ معاشرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ بلوچ سیاسی پارٹیوں اور معاشرے کے باشعور طبقے کی زمہ داری ہے کہ وہ ان حربوں کو بے نقاب کریں۔ جب عام لوگ ان حربوں اور ان سے پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ ہوجائیں گے تو وہ ان کے خلاف جاری مذاحمت میں شامل ہوجائیں گے۔
سوال*بعض لوگوں کے نزدیک ان حالات میں بی ایس او آزاد وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جو وہ ماضی میں ادا کرتا رہا ہے، مثلاً جلسہ جلوس ، سیمینار، مظاہرے وغیرہ۔ آپ کی نظر میں یہ تنظیم کی ناکامی ہے یا موجودہ حالات کے تقاضے ؟
جواب* میں نہیں سجھتا کہ بی ایس او آزاد جلسہ جلوس یا سیمینارز منعقد نہیں کرسکتا۔ بی ایس او آزاد کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایک سو سے زائد لیڈرز اور کارکنوں کی شہادت کے باوجود بی ایس او آزاد نوجوانوں کی ایک ایسی قوت ہے جو کہ گراؤنڈ میں موجود ہے۔ جلسوں یا سیمنارز کے انعقاد ہونے یا نہ ہونے سے کسی تنظیم کو کامیاب یا ناکام نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بی ایس او آزاد نے پالیسی کے تحت جلسے اور سیمینار منعقد کرنے کی سرگرمیوں کو محدود کررکھا ہے ۔ اگر آپ کو یاد ہو تو چند مہینوں پہلے تک بی ایس او آزاد نے کوئٹہ اور کراچی میں مظاہرے کیے ہیں، سیمینار بھی منعقد کیا ہے۔ چونکہ یہ سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہیں ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن آج کے زمانے میں بہتر ذرائع موجود ہیں جو کہ جلسوں یا دوسرے روایتی ذرائع کے استعمال سے زیادہ پراَثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگر روایتی طریقے کی سرگرمیاں محدود ہیں تو ان کی بنیادی وجہ حالات کے نئے تقاضے اور نئی ضروریات ہیں۔
سوال*لیکن کچھ حلقوں کے نزدیک بی ایس او آزاد موجودہ سیاسی منظر نامے سے یکسر غائب ہے ، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ 
جواب* اگر کسی کا یہ خیال ہے تو میرے خیال میں وہ بلوچستان کی موجودہ صورت حال سے ناواقف ہے۔ بی ایس او آزاد کسی بھی زاویے سے منظر عام سے غائب نہیں ہے، تنظیم کے جتنے ذیلی اور مرکزی ادارے ہیں سب متحرک ہیں، تنظیم کا لٹریچر اور سیاسی حالات کے حوالے سے موقف وقتاََ فوقتا میڈیا میں شائع ہورہا ہے۔ جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں، میں نے زکر کیا کہ بی ایس او آزاد نے جلسوں اور سیمنارز کے انعقاد کو شعوری طور پر محدود کررکھا ہے، اگر کسی کے نزدیک جلسہ منعقد نہ کرنے یا سیمنار منعقد نہ کرنے کا مطلب سیاسی منظر نامے سے غائب ہونا ہے تو میرے خیال میں وہ شخص بالکل غلط ہے۔
سوال* بلوچ قومی تحریک میں ماس پارٹی کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ 
جواب* صرف ہماری تحریک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام ملکوں یا تحریکوں میں منظم پارٹیوں کی موجودگیوں کے فوائد اُن قوموں یا تحریکوں کے لئے مسلمہ ہیں۔ لیکن بلوچ جیسی کمزور قوموں کی طاقت کویکجا کرنے کے لئے پارٹی کی ضرورت و اہمیت دوگنی ہوجاتی ہے۔ اگر ہم تاریخی حوالے سے دیکھیں تو بھی یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ ماضی میں تحریکوں کی ناکامی، یا خاموشی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک پارٹی کی عدم موجودگی بھی تھی۔ میرے خیال میں بلوچ قومی تحریک میں اب تک کوئی ایسی پارٹی موجود نہیں جسے ہم صحیح معنوں میں ماس پارٹی کہہ سکیں یا اس حوالے سے اس کے کردار پر بحث کریں۔ البتہ بی این ایم موجود ہے جو کہ ابھی تک ایک ڈھانچہ ہے، اس ڈھانچے میں گوشت بھرنے اور اسے صحت مند پارٹی بننے میں ابھی تک محنت درکار ہے،بی این ایم کے بانی چیئرمین، مرکزی سیکرٹری جنرل اور دوسرے کئی اہم رہنماء شہید کردئیے گئے ہیں، پارٹی کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن خود اس بات کا اظہار ہے کہ ریاست پارٹی کو عوام سے دور رکھنے کی تمام ممکن کوشش کرے گی۔ جیسا کہ میں نے اپنے ایک کالم میں کہا تھا اور اب بھی وہ بات دہراتا ہوں کہ بی این ایم کی قیادت کو یہ چیلنج قبول کرکے پارٹی کی تنظیم کو وسعت دینے کے لئے جدوجہد تیز کرنا ہوگا۔ کیوں کہ بغیر منظم پارٹی کی موجودگی کے ہم شاید ہی دشمن کو شکست دے سکیں اور شاید ہی اپنی ایک منظم ریاست تعمیر کرسکیں۔
سوال*سیاسی حلقوں میں ایک نقطہ نظر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بی ایس اوآزاد اپنے تنظیمی دائرہ حدود سے تجاویز کرکے سیاسی جماعت کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟
جواب* اگر وہ سیاسی حلقے حدود سے تجاوز کرجانے والی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں تو اُن کی مہربانی ہوگی۔ میں نہیں سمجھتا کہ بی ایس او آزاد نے ایسی سرگرمیاں کی ہیں کہ انہیں بی ایس او آزاد کی حدود سے تجاوز کہا جا ئے۔ بلوچستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے ، یا ماضی میں جو بھی پالیسی بی ایس او آزاد نے تشکیل دی ہے، اُن پالیسیوں کی طریقہ کار یا وقت کے انتخاب کے حوالے سے بحث تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بی ایس او آزاد نے اپنے حدود سے تجاوز کیا ہے۔
سوال* ریاست کی جانب سے مارو اور پھینک دو جیسی پالیسیوں میں شدت آنے کے بعد ماس موبلائزیشن کا عمل ایک حد تک جمود کا شکار ہوتا دیکھائی دے رہا ہے، کیا یہ سیاسی جماعتوں کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ نہیں؟
جواب* مارو اور پھینکو پالیسی کے تحت ریاست نے عام لوگ نہیں مارے ہیں بلکہ سارے ریاست کے Selectedٹارگٹ تھے۔ بی این ایم، بی آر پی اور بی ایس او آزاد سمیت دوسری پارٹیوں کے چنیدہ لوگ ریاست نے اس پالیسی کے تحت مارے ہیں، صرف بی ایس او آزاد کے ایک سو سے زائد لیڈر اور کارکنان اسی پالیسی کے تحت مارے گئے ہیں ۔ یہ نقصان کسی مخصوص پارٹی کے لئے نہیں بلکہ بطور مجموعی بلوچ قوم کے لئے ایک بھاری نقصان ہے۔ کئی انجینئرز، پولیٹیکل سائنٹسٹ، ڈاکٹرز اور وکلاء مارے گئے ہیں، کئی انتہائی سنجیدہ سیاسی لیڈر سالوں سے خفیہ اذیت گاہوں میں بند ہیں۔ اسی وجہ سے پارٹیوں کی موبلائزیشن کے عمل میں بھی کمی آئی ہے۔ پاکستان ایک ملٹری اسٹیٹ ہے، لیکن بلوچستان میں ملٹری کی ذہنیت کسی دوسرے خطے کی نسبت بہت ہی زیادہ عیاں ہے۔ریاست کبھی یہ نہیں چاہتی کہ بلوچستان میں کوئی ایسی سیاسی قوت موجود ہو جو کہ عوام کے ساتھ رابطے میں رہے، ایسی قوت نام نہاد پاکستانی پارلیمانی سیاست پر ہی کیوں نہ بھروسہ کرے، لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ اسی لئے ریاست نے سیاسی تنظیموں کی مقامی قیادت کو یا تو قتل کردیا یا پھر انہیں مجبور کردیا کہ وہ عوام سے اپنی تعلقات محدود کردیں۔ میرے خیال میں ماس موبلائزیشن میں کمی کے عمل کو ہم ناقص حکمت عملیوں کا سبب نہیں کہہ سکتے کیوں کہ ریاست کی جب پوری کوشش یہ ہو کہ سیاسی کارکن قتل کردئیے جائیں تو اس پالیسی کا مقابلہ حکمت عملی میں تبدیلی لائے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ماس موبلائزیشن کے عمل میں موجودہ وقت میں کچھ کمی آئی ہے تو میرے خیال میں یہ تعطل وقتی ہے۔ جو سیاسی پارٹیاں گراؤنڈ میں موجود ہیں وہ نئی حکمت عملیوں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے کیوں کہ عوام سے رابطہ رکھے بغیر کوئی پارٹی یا تحریک طاقت حاصل نہیں کرسکتا۔
سوال*تاریخ کے مطابق دنیا کے تمام تر عظیم انقلابات اور قومی تحریکوں میں سیاسی لٹریچر کا ایک اہم کردار رہا ہے ، لیکن بلوچ قومی تحریک میں برسرپیکار سیاسی اداروں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خاص پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملتی۔ آپ کی نظر میں یہ بلوچ قومی تحریک میں متحرک اداروں کی کمزوری نہیں؟
جواب* یہ بات درست ہے کہ تمام عظیم انقلابات میں لٹریچر نے اہم کردار ادا کیا لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ لٹریچر یا پروپگنڈے کے محاز نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے۔ Renaissance period
میں پرنٹر کی ایجاد نے پروپگنڈے کے ذرائع کو مخصوص ہاتھوں سے نکال کر عام کردیا، اس کے بعد انقلاب فرانس میں پرنٹر کی استعمال نے پروپگنڈے کے محاز کی ہیئت ہی بدل دی تھی ، یا اس کے بعد سویت یونین کے زمانے میں پرنٹر کے ساتھ ساتھ وژیول پروپگنڈہ نے خیالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن آج ہم ایک ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں، سوشل میڈیا کی ایجاد نے پروپگنڈہ کے ذرائع کو ناقابل کنٹرول بنادیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مڈل ایسٹ کے کئی ممالک میں وہاں کے باغیوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کرکے لوگوں کو اپنی جدوجہد میں شامل کیا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ لٹریچر کی تقسیم کے روایتی طریقے غیر اہم ہوچکے ہیں، لیکن جتنے نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں وہ کم وقت اور کم انرجی استعمال کرنے پر بھی زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ بلوچ آزادی پسند پروپگنڈہ کے محاز پر اگرچہ کمزور نہیں ہیں لیکن حالیہ پروپگنڈے کا محور عالمی اداروں یا ممالک کی توجہ حاصل کرنا ہے جو کہ غلط نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی میرے خیال میں بلوچ سیاسی پارٹیوں کو بلوچ عوام کو موٹی ویٹ کرنے اور ریاست اور اس کے مقامی نمائندوں کو بے نقاب کرنے کی جانب بھی توجہ دینا چاہیے ۔ میری ذاتی رائے میں ہماری تحریک کے پروپگنڈہ کا فوکس اپنی عوام کو متحرک کرنا ہونا چاہیے کیوں کہ جب تک عوام متحرک نہ ہوں یا عوام غلامی کے نقصانات اور آزادی کے معاشی، سیاسی و دیگر فوائد سے آگاہ نہ ہوں تو وہ تحریک کا حصہ بننے کی کوشش نہیں کریں گے۔
سوال*کسی بھی قومی تحریک میں دانشوروں کا مثبت اور اہم کردار دیکھنے کو ملتا ہے ۔ کیا آپ موجودہ حالات میں بلوچ دانشوروں کے کردار سے مطمین ہیں؟
جواب* میں مطمئین نہیں ہوں، اور یہی خیال کرتا ہوں کہ سیاسی کارکن’ صورت خان مری جیسے دانشوروں کے علاوہ‘ باقی دانشوروں کی موجودہ کردار سے مطمئین نہیں ہوں گے۔ ہمارے وہ دانشور جنہیں سیاسی صورت حال پر لکھنے کا ہنر آتا ہے، یا وہ ادیب و لکھاری جو حالات کو اپنے ناول یا افسانوں میں لکھ سکتے ہیں، وہ ایساکچھ بھی تخلیق نہیں کررہے ہیں۔صورت خان مری جیسے دانشور بہت ہی کم ہیں جو صورت حال کا تنقیدی نقطہ نظر سے تجزیہ کرتے ہیں۔ ہمارے بہت سے دانشور ’خاص کر ادبی دانشور‘ خود کو آفاقی مخلوق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کہ زمینی حالات انہیں متاثر نہیں کرتے ، جب ان سے کہا جائے کہ وہ موجودہ حالات کو اپنے افسانوں میں، یا ناولوں میں ، آرٹ میں جگہ دیں تو وہ یہ جواب دیں گے کہ ادب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ تو کیا ٹالسٹائی کی جنگ اور امن ایک سیاسی دستاویز نہیں ہے؟ میکسم گورکی کی ناول ’ماں‘ اپنے دور کے سیاسی حالات کی تاریخ نہیں ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ جب کوئی قوم تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہو تو اُس قوم کے ہر فرد کی یہ اخلاقی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے انفرادی ہنر کو اجتماعی عمل سے مربوط کرے۔ اس کے برعکس جو کچھ تخلیق ہوتا ہے اگرچہ وہ تخلیقی اعتبار سے اہم ہے، لیکن حقیقت میں وہ وقت کی مناسبت سے غیر ضروری ہے۔ بلوچ کے لئے موجودہ دوراہم ہے، وہ لوگ جو ادب و سیاست کے شعبے سے وابستہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ لکھیں، تنقید کریں، عوام کی رائے اور حالات کا تجزیہ کریں۔ ایک ادیب یا دانشور جب اپنے اردگرد کے حالات سے متاثر نہ ہو تو میں نہیں سمجھتا کہ ایسے سوڈو دانشور
Pseudo-intellectual
ادیب یا سیاسی دانشور جیسے حساس طبقے کے لوگوں میں شمار ہوسکتے ہیں۔
سوال * بلوچ نوجوانوں کیلئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب*میرے خیال میں گزارش کو پیغام کہنا مناسب نہیں ہے۔ میں نوجوانوں سے یہی گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس بات کا ادراک کریں کہ اُن کے ہرعمل کا نقصان اور فائدہ قوم کے لئے ہے۔ بحیثیت ایک غلام قوم کے نوجوان کے، بلوچ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی زندگیوں سے زیادہ قوم کی مستقبل اور آزادی کے لئے جدوجہد کریں۔ پاکستان کے نصاب شعوری طور پر کامیابی کے معیار کو گھٹا کر دھوکہ بازوں اور کرپٹ لوگوں کو اور پیسے کی فراوانی کو کامیابی کی علامت قرار دیتے ہیں، لیکن بلوچ نوجوانوں کو ایسی سطحی سوچ سے بڑھ کر اجتماعی مفادات کے لئے کام کرنا چاہیے اور نوجوانوں سے میرا یہی مطالبہ ہے کہ وہ سیاست کا باقاعدہ طور پر حصہ بنیں کیوں کہ سیاست کا حصہ بن کر وہ بہتر طور پر اپنے ہنر قومی آزادی کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔

четверг, 12 октября 2017 г.

شیہک جان کی شہادت پر
ایک بہن کے تاثرات
زینت بلوچ
میں اپنے سہیلی کے گھر جا رہی تھی کہ فو ن آیا کہ آج مشکے میں پا کستانی فو ج کا ایک خو نی آپر یشن جا ری ہے دعا کر یں کہ آپر یشن میں بلو چ فرزند محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہاکہ سلیمان عرف شیہک جان کی شہادت کی خبر بھی چل رہی ہے۔ شیہک جان ایک مہربان بھائی اور بہادر سرمچار تھا، شیہک جان سے میری ملاقات عرصہ پہلے ہو ئی تھی۔ یہ خبر سن کر مجھ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ گویا میری حواس نے کام چھوڑدیاہو، ایک بہادر اور محبت کر نے والے بھا ئی ہم سے جد ا ہو ا ۔کٹھن راستہ، جنگ زدہ علاقہ ہونے کے باوجود میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے بھا ئی کے گھر ضرور جاؤں گا۔اگلے روز میں اپنی کچھ سہیلیو ں کے ہمراہ مشکے کیلئے روانہ ہوئی ۔ راستے میں ہر جگہ دشمن فوج کی چوکیاں تھیں جن کا کام بلوچوں کی تذلیل کرنا تھامگر کسی نہ کسی طرح ہم شہید شیہک جان کے گھر پہنچے۔میں سوچ میں تھی کہ میں ایک ملاقات میں شیہک جان کو بھول نہیں سکتی اور اس کے غم میں اس طرح نڈھال ہوں تو ان کی ماں اور بہن کا کیا حال ہوگا؟ کیا میں انہیں دیکھ کر اپنے آپ کو سنبھل پاؤں گی کہ نہیں ؟ مگر پہنچ کر اس عظیم ماں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ایک بہادر بیٹا ان جیسے عظیم مائیں پیدا کرتی ہیں۔ منہ میں مسکراہٹ اور شیہک جان کی بہادری کی تعریفیں کرتے ہوئے ماں نے ہمارے حوصلے بلند کئے ۔ ماں ہمیں تسلی دیتی رہی کہ شہیک جان جسمانی طو ر پر ہما رے ساتھ مو جو د نہیں مگر ان کا حو صلہ اور عظیم مقصد زندہ ہے ۔ ایسا محسوس ہوا کہ اس جنگ اور شیہک جان کی بہادری نے ناخواندہ ماں کو ایک فلسفہ سکھایا ہوا تھا۔ وہ عظیم مقصد کیلئے امر ہو گئے، ہر خوشی قربان کی مگر وطن کا سودا نہ کیا۔
چند دن بعد شیہک جان کی موت سے لمحہ پہلے کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس نے شیہک جان کو بلوچ قوم کے دل میں ایک درجہ اور بلند کر دیا، کیونکہ جس حالت میں لوگ ڈاکٹر ، علاج اور دوا کی مانگ کرتے ہیں شیہک جان نے اپنا پیغام ریکارڈ کرنے کی مانگ کی اور دشمن کا مقابلہ اور اتفاق پیدا کرنے کی تلقین کی۔اس ویڈیو کو کیمرے میں بند کرنے والا بھی کوئی اور نہیں شیہک جان کا بھائی ہے جو اپنے بہادر بھائی کو فخر سے الوداع کر رہا ہے ۔دو بھائی وطن کی دفاع میں شہید مگر تیسرے بھائی کے حوصلے نہیں ڈگمگا رہے تھے ۔ یہی حوصلہ پوری قوم کو حوصلہ دیتا ہے ۔
ہر مظلوم قوم میں ایسے فر زند ہو تے ہیں
جو قوم کی عزت و علامت بن جاتے ہیں
شیہک جان کا نام تاریخ میں امر ہے، اس حوصلے نے دشمن کے حوصلوں کو پست کردیا اور دشمن نے ایک سوشل ویب سائٹ کا اکاؤنٹ ہیک کرکے شیہک جان کی ویڈیو اور اکاؤنٹ بلاک کردی۔شیہک جان کی دشمن سے جوانمردانہ لڑائی بلوچوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔
آج ہماری ماؤں نے ہمیں سکھا دیا کہ وطن کی دفاع میں سرمچار کی شہادت پر کسی کو غمگین نہیں بلکہ فخر ہونا چاہیے ۔ مجھے اپنے بہادر بھائی شیہک جان اور دوسرے شہیدوں پر فخر ہے
 

суббота, 23 сентября 2017 г.


پاکستان داعش کی مدد کیوں کررہی ہے ؟ .....اسماعیل بلوچ


پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے نہ چاہتے ہوئے بھی ،اْس کے منہ سے یہ بات نکل گئی کہ کوئٹہ جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں !! اگر سرتاج عزیز کے بیان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضع طور پر عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے عالمی دہشتگردی کا مرکز و دہشتگردوں کا محفوظ پناہ گاہ رہا ہے اور ہمیشہ سے پاکستان اس پالیسی پر گامزن ہے کہ عالمی دہشت گردی کی کفالت کی جائے اس لیے پاکستانی وزیر خارجہ کے نگاہ میں ایسے ’’چھوٹے موٹے واقعات‘‘کا ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان داعش کی مدد کیوں کررہی ہے ؟
اس سے پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے یا ہو رہا ہے ؟
اور داعش کے لیے پاکستان میں متحرک رہنا یا اپنے اڈے قائم کرنا کیوں اہم ہے ؟
تو میری ناقص رائے کے مطابق پاکستان میں اپنے اڈے قائم کرنا داعش کے لیے اس لیے اہم ہے کہ عراق اور سوریا میں داعش کوبْری طرح سے شکست ہوچکا ہے، اور اس کی پرانی ساکھ بے حد متاثر ہوئی ہے اس لیے داعش اب دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے لیے نئے محفوظ مقامات اور وہاں نئی پناہ گائیں بنانے کی تلاش میں سر گرداں ہے اور داعش وہاں اپنی نئی پناگاہیں بناکر اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے جس کی تازہ مثال افغانستان میں تورہ بورہ کے مقام پر تاریخی زیر زمین غاروں پر قبضہ اور امریکہ کی داعش کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی بم کا گرانا ہے اور مزید حال ہی میں طالبان اور داعش کی پاکستان کی مدد سے افغانستان میں مفاہمت ( واضع رہے کہ افغانستان میں طالبان اور داعش ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے)افغان ضلع سرپل پر قبضہ ہے ۔دوئم پاکستان داعش کے لیے اس لیے ایک بہترین ملک ہے کہ پاکستان میں داعش کے لیے تمام سہولیات دستیاب ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی قومی تحریکوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے بطور پراکسی داعش کی ضرورت ہے اور داعش بھی پاکستان کی ہر شے کو استعمال کرکے اپنے اہداف تک بہ آسانی پہنچ سکتی ہے ، داعش کے دہشتگرد پاکستانی پاسپورٹ سے کسی بھی ملک میں بہ آسانی سفر کر سکتے ہیں ،پاکستانی الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنے پراپیگنڈہ اور برتی مہم کے لیے آزادانہ استعمال کرسکتی ہے ،یہاں آزادانہ طور پر اپنے جنگی و تربیتی کیمپس قائم کر سکتی ہے ۔گزشتہ سال یہ انکشاف ہوا تھا کہ پنجاب سے بڑی تعداد میں خواتین نے داعش میں شامل ہوکر داعش کی شدت پسندوں سے شادی کی ہے اور اْن عورتوں کا کہنا تھا کہ ہم ’’مجاہدین ‘‘ کی محض جنسی خواہشات پوری کرکے ’’جہاد ‘‘میں حصہ ڑال رہے ہیں۔
یہ تو تھے داعش کے فائدے مگر پر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ داعش کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہوگا ؟
جب پاکستان نے اپنی زمین سرکاری مشینری اپنے لوگ اپنے محفوظ پناگاہ داعش کے لیے وقف کیے ہیں۔ تو اس کے عوض پاکستان داعش سے لازماً اچھی خاصی رقوم وصول کرتی ہے اور داعش کے ذریعے بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے کی کوشش تو یقیناً کررہا ہے ۔
بلوچستان میں داعش کے لیے عسکری کیمپ اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے لوگوں کو داعش میں بھرتی کرنا بلوچستان میں بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنا اور پاکستان کی سب سے اہم مقصد عالمی دنیا میں بلوچ مسئلے کو مذہبی و فرقہ وارانہ رنگ دیکر اصل مسئلے کودباکر غلط فہمیاں پیدا کرنا اور دنیا کو یہ باور کرنے کی کوشش ہے کہ بلوچستان میں کوئی قومی آزادی کی تحریک نہیں چل رہی ہے بلکہ یہ تو محض ایک فرقہ وارانہ مسئلہ ہے کہ اس کے پیچھے بہت سے ملک سی پیک کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔
داعش جیسے دنیا کی امیر ترین دہشتگرد تنظیم سے پیسہ وصول کرنا اور پھر عالمی دنیا سے داعش کے خلاف لڑنے کے لیے بھی ڈالر اور فوجی امداد حاصل کرنے کی کوشش اور سب سے بڑی کوشش یہی ہے کہ امریکہ اور اْن ممالک کے دباؤ کو اپنے اوپرکم کرنا اور اْن کو یہ باور کرانا کہ پاکستان کسی اسلامی شددت پسند تنظیم کی مدد نہیں کررہی ہے بلکہ وہ خود دہشتگردی کا شکار ہے۔
صاف ظاہر ہے ایسے بڑے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے پہلے اپنے لوگوں اور فوجیوں کے اوپر اور اْن مقامات پر حملہ کرانا کہ جو پاکستان کے دفاعی اساس ہوں جس سے دنیا باور کرسکے کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے۔جس سے دنیا پاکستان کی ہر طرح کی مدد کرے اور اس کے بعد پاکستان کا بلوچوں کے خلاف اور ہر اس قوم کے خلاف داعش کو استعمال کرنے کا منصوبہ ہے جو پاکستان میں آزادی یا حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں یا پاکستان کے غلیظ حرکتوں پر تنقید کررہے ہیں۔
داعش کو ہندوستان کے خلاف بھی بہ آسانی استعمال کیا جاسکتاہے افغانستان کے خلاف تو داعش اور طالبان استعمال ہو ہی رہے ہیں۔ مگر یہ بات قابل غور ہے کہ اکثر ایسے غلیظ پالیسیوں کے نتائج برعکس ہوتے ہیں ،جس طرح ترکی نے کرد تحریک کے خلاف داعش کو استعمال کیا۔داعش کو آزادانہ نقل و عمل کی اجازت دی اور داعش کے زخمیوں کو اپنے ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں فراہم کیں اور داعش سے بلیک مارکیٹ میں کئی ہزار بیرل تیل سستے دام خریدا ۔اس سے ترکی عالمی دنیا میں تنقید کا نشانہ بھی بنا اور ہر فورم میں ترکی کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک قلیل عرصے کے بعد یہی داعش ترکی ہی پر حملہ آور ہوتا ہے ۔
اسی طرح پاکستان کی داعش پالیسی بھی پاکستان کے لیے ایک دن درد سر بن جائیگی۔ پاکستان یہ بھول چکاہے کہ امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک اتنے بے وقوف نہیں ہیں جو اس طرح کے غلیظ پالیسیوں کو پہچاننے سے قاصر ہونگے اور اپنی امداد اور رقوم جاری کرکے پاکستان پر بھروسہ کرینگے اور نہ ہی ایسے ہتھکڑوں سے پاکستان بلوچ تحریک کو ختم کرسکے گی ۔
آج پاکستان کی وجود نہ صرف بلوچ ، پشتون اور سندھیوں کے وجود کے لیے خطرہ ہے بلکے پاکستان پورے دنیا کے لیے ایک خطرناک دہشتگرد ریاست بن چکا ہے۔
بلوچ لیڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے 2016 میں اپنے ایک ٹویٹر پیغام کے ذریعے واضع کیا تھا کہ کس طرح پاکستان اپنے جوہری ہتھیار بلوچستان کے علاقوں میں ذخیرہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ خضدار کے علاقے ساسول میں پاکستانی افواج علاقہ مکینوں کو وہاں سے نکال رہا ہے، تاکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ان علاقوں میں محفوظ رکھ سکے۔
اور گذشتہ دنوں ایک امریکی تھنک ٹینک نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپناایک محفوظ اور مضبوط زیرزمین اسلحہ خانہ بلوچستان میں تعمیر کرچکا ہے جس کا مقصد بیلسٹک میزائلز اور کیمیائی ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنا ہے ۔اور غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں القاعدہ لشکر جنگوی طالبان شفیق مینگل جیسے اسلامی شددت پسندوں کے محفوظ پناگاہیں جو پاکستانی فوج اْس کی آئی ایس آئی اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ثنا زہری کی سربراہی میں قائم ہیں اور حرکت میں ہیں وہاں اسی ہی علاقے خضدار میں پاکستان نے اسلحہ خانہ بنا رکھا ہے اور جوہری وکیمیائی ہتھیاروں کو ذخیرہ کیا ہوا ہے، اگر یہ جوہری اور کیمیائی ہتھیار داعش ، القائدہ کے ہاتھ آئیں تو کس طرح سے یہ دنیا میں تبائی مچاسکتے ہیں دنیا کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا ۔