Powered By Blogger

воскресенье, 19 августа 2018 г.

معدوم کی ہوس ہے، زائل کو ڈھونڈتے ہیں – برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ
میں نے گذشتہ دنوں اپنے ایک کالم میں واضح طور پر کہا تھا کہ جب شہید نواب اکبر خان بگٹی شہید ہوا، تو اس وقت بلوچ قوم اور خاص کر بلوچ نوجوانوں کے دل و دماغ میں وطن و قوم کے حصول کے خاطر جو جذبہ و حوصلہ اور امید کی کرن پیدا ہوا، اسے زائل کرنے کیلئے ریاست پاکستان، ایک طویل المعیاد منصوبے کے تحت اپنے ریاستی مہروں خان آف قلات سیلمان خان، ثناء اللہ زہری، اسلم رئیسانی، نوب شاہوانی، نواب مگسی، اختر مینگل وغیرہ کے ذریعے قلات میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد کروایا۔ جرگے میں ایک ڈرامہ پیش کیا کہ بلوچ قومی مسئلے اور بلوچستان اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے کیس کو ہم عالمی عدالت لے جاکر بلوچستان کا مسئلہ حل کردینگے، یعنی بحثیت بلوچ قوم اور بلوچ نوجوان آپ لوگ فی الحال خاموش رہیں اور انتظار کریں۔
اس وقت بھی بی ایس او آزاد نے جرگے کے اندر سخت احتجاج کیا اور یہ موقف ظاہر کیا کہ یہ نوجوانوں کے جذبات سے کھیل کر ان کی جہدوجہد قومی آزادی سے دور کرنے اور توجہ ہٹانے کی ایک ریاستی سازش ہے اور توجہ عالمی عدالت کی طرف کررہے ہیں نہ کہ بلوچ قومی جنگ کی طرف۔ آج وہ حقیقت ثابت ہوگیا، کہاں گیا وہ بلوچ قومی مسئلہ، عالمی عدالت، خود خان آف قلات، نواب مگسی، نواب رئیسانی، نواب شاہوانی، نواب زہری؟ سارے کے سارے اقتدار میں آکر وہی کام بلوچوں کے ساتھ کر رہے ہیں، جو مشرف جام اور گورنر اویس غنی کررہے تھے۔
اس کے بعد قومی آزادی کی سیاسی اور مزاحمتی جہدوجہد کی شدت مسلح کاروائیوں اور دشمن کے خلاف ہنرمندانہ اور مثالی کارنامے ہزاروں بلوچوں کی شہادت و قربانی خاص کر شہید غلام محمد، بالاچ خان، صباء دشتیاری، آغا محمود خان، شہید درویش، شہید امیربخش، غفار لانگو، مجید شہید، ڈاکٹر خالد، سدو مری اور دیگر ہزاروں شہداء کی قربانیوں نے قومی تحریک کو ایک منظم اور موثر رخ دیا اور بلوچ نوجوان، مرد و خواتین پورے خاندان جوق در جوق تحریک میں شامل ہوگئے۔ بلوچ سماج میں تحریک کے حوالے سے ایک نیا جوش و جذبہ اور حوصلہ پیدا ہوگیا۔
لیکن بدقسمتی سے اس وقت یعنی 2012 میں بلوچ قومی تحریک میں باقاعدہ اور منصوبے کے تحت اختلاف، مخالفت اور نفرت پیدا کیا گیا اور اختلافات اور نفرت کو سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعے اچھالا گیا، حتیٰ کہ نواب خیر بخش مری کی تشکیل کردہ آذادی پسند مسلح تنظیم یوبی اے کے ساتھ باقاعدہ لڑائی کا فیصلہ بھی ہوگیا اور اس آپسی جنگ میں سینکڑوں بے گناہ مری بلوچ، خواتین معصوم بچے اور بزرگ بھی لاپتہ اور شہید ہوگئے اور ان کے گھر بار جلاکر مال مویشیاں چوری ہوگئے۔ خاص طور پر اس آپسی جنگ کے زد میں نواب خیر بخش مری کی قریبی دوست اور بی ایل ایف کے بانی اور سرکردہ 80 سالہ رہنما واجہ رحمدل مری بھی آئے، جو آج تک لاپتہ ہیں یا شہید ہوچکا ہے کچھ پتہ نہیں۔ یعنی قومی تحریک اور قوم کو فائدہ ایک فیصد نہیں ہوا بلکہ نقصان 100 فیصد ہوا اور تمام یعنی 100 فیصد نقصانات کا فائدہ پھر دشمن نے اٹھایا، دشمن نے خوب سے خوب تر فائدہ حاصل کیا، بلوچ سماج اور خاص طور پر بلوچ نواجوانوں میں یعنی وہ نوجوان تحریک کے ساتھ وابستہ ہوتے ہوئے بھی مایوسی، ناامیدی، الجھن اور تذذب کے شکار نظر آرہے تھے۔ باقی مجموعی بلوچ قوم ویسے ہی تحریک سے بدظنی و بددلی کا شکار ہوئے۔
گذشتہ دوسالوں کے دوران اسلم بلوچ کی سربراہی میں مخلص، باعلم اور باشعور دوستوں کی محنت اور خلوص کے بدولت بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر جی کا اشراک عمل، بی ایل اے اور یوبی اے کے آپسی جنگ کا فیصلہ اور مکمل خاتمہ اور بی ایل اے و دیگر آزادی پسند تنظیموں بی ار اے، یوبی اے اور لشکر بلوچستان کے ساتھ تعلقات اور ماحول کی بہتری اور اعتماد کی بحالی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و کمک، ایک بار پھر بلوچ قوم خاص طور پر بلوچ نوجوانوں میں امید اور حوصلے کی ایک کرن پیدا ہوئی۔ وگرنہ باقاعدہ طور تحریک میں بیوروکریٹک سوچ، پیداگیری، موقع پرستی، ویزہ پرستی، خود غرضی اور خوف و لالچ عام ہوتی جارہی تھی اور قومی تحریک سے بس اپنے ذاتی، گھریلو، خاندانی کام اور مفاد نکالو، کھاؤ، پیو، سوجاؤ والے رجحانات اور سوچ کافی حدتک پروان چڑھتے جارہے تھے، جو ایک تاریخی اور قومی المیے سے کم نہیں تھا۔
لیکن 11 اگست کو بی ایل اے مجید فدائین بیرگیڈ کے جانثار فدائی ریحان بلوچ نے دالبندین میں چینی سامراجوں پر حملہ کرکے بلوچ قومی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی، اپنے لہو، فیصلے، عمل اور تاریخی کردار سے پوری بلوچ قوم، خاص طور پر نوجوانوں میں ایک بڑا جوش و جذبہ، امید اور حوصلہ پیدا ہوگیا، جو مجموعی قومی تحریک کے حوالے سے ایک اہم اور بہت بڑا پیش رفت ہے۔
میں نے پہلے کہا تھا کہ مجھے خوف ہے کہ اس ماحول کو پراگندہ اور ریحان کی قربانی اور فیصلے کو زائل اور متنازعہ کرنے کی باقاعدہ کوشش ہوگی تاکہ ایک بار پھر دوبارہ بلوچ قوم خاص طور پر بلوچ نوجوانوں میں مایوسی، الجھن، ناامیدی اور دشمن کو دوبارہ موقع اور فائدہ حاصل ہو۔
ایک ایسی سعی لاحاصل ہوئی بھی، یعنی ریحان کے شہادت کے فوراً بعد دو تین مسلسل فیک اور جانے پہچانے آئی ڈیز کے ذریعے سوشل میڈیا میں الزام تراشی اور پروپگنڈے کے ذریعے ریاستی بیانیئے کو تقویت دینے کی کوشش شروع ہوئی اور 5 دن بعدوہی تمام پروپگینڈے، ریاستی بیانیئے کی نقل اور تحریک مخالف لب و لہجہ ترجمان آزاد بلوچ کے نام سے ہوبہو شائع ہوجاتا ہے، قابلِ غور بات یہ ہے کہ ریحان کی قربانی اور اس بڑے کارنامے کو متنازعہ کرنے کی ناکام کوشش کرنا آخر کس لیئے؟ انا، ضد، عدم برداشت، ہضم نہ ہونا، کسی اور کو خوش کرنا، کسی کو یقین دہانی کرانا، صفائی پیش کرنا، اپنے آپ کو کسی کے سامنے چینیوں کے قتل میں بیگناہ ثابت کرنا یا کوئی اور ایجنڈہ؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام نہاد معطل معطل والے ڈرامہ کو ابھی میرے خیال میں پورا ایک سال ہونے والا ہے، اس پورے ایک سال میں بی ایل اے جئیند بلوچ کے نام سے مکران، جھالاوان، رخشان، بولان، کاہان میں مختلف کاروائی کرکے قبول کرتا آرہا ہے، ان کے وڈیو اور بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ دوسری طرف یوبی اے کے ساتھ آپسی جنگ کا خاتمہ جئیند بلوچ اور یوبی اے کا مشترکہ بیان بھی سامنے آیا، اس دوران بی ایل اے کے اعلیٰ کمانڈر اسلم بلوچ کے مختلف وڈیو پیغام و انٹرویو بھی سامنے آئے لیکن خود ساختہ ہائی کمان یعنی حیربیار مری کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن 11 اگست کو ریحان بلوچ کا چینیوں پر فدائی حملہ کیوں ناقابل برداشت اور سیخ ہونے والی عمل ثابت ہوا؟ لندن میں لگژری گاڑی سے اتر کر خوشگوار اور سہانے موسم و ماحول میں چینی سفارت خانے کے سامنے آکر جھنڈا اٹھانے کو بہادری، قابل فخر اور بڑا کارنامہ قرار دینا اور ریحان جان کی ماں کے دل پر اس وقت کیا گذر رہی ہوگی، جب وہ اپنے لختِ جگر پر وہی قومی بیرک لپیٹ کر اس کو شہادت کے لیئے روانہ کرتی ہے اور خود ریحان وہی بیرک پھر اپنے جسم پر لپیٹ کر بارود سے بھری گاڑی میں سوار ہوکر چینیوں پر حملہ کرنے کے لیئے روانہ ہوتا ہے اور حملہ کرتا ہے، اس عمل سے برملا لاتعلقی اور بیرک کو لندن کے خوشگوار ماحول میں 5 منٹ لہرانا بہادری، قابل فخر اور بغلیں بجانا کس سوچ و ذہنیت کی سطح کی عکاسی کرتا ہے؟
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، آج بھی کہوں گا یہ تمام اختلافات و تضادات ضرور کسی نہ کسی حد تک مجموعی تحریک میں کسی نا کسی سطح پرموجود تھے اور ہیں، یہ تو تحاریک کا حصہ ہوتے ہیں، یہ کبھی ختم نہیں ہونگے بلکہ کم ہوسکتے ہیں، لیکن ان کو سوشل میڈیا اور اخبارات میں اٹھانا، اچھالنا وہ بھی پروپگنڈہ اور کردار کشی کی شکل میں اور خاص طور پر یوبی اے کے ساتھ آپسی لڑائی کی حد تک لیجانا، اس کا پس منظر اور اصل حقیقت اتنا سیدھا سادہ نہیں، جتنا کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ سب کچھ نادانی، بے وقوفی و احمقی میں نہیں ہورہے ہیں بلکہ باقاعدہ ایک تسلسل اور پلاننگ کے ساتھ ہورہے ہیں اور جو لوگ اوپر سے نیچے تک اس عمل کا حصہ ہیں، وہ بھی بالکل ناسمجھی، لاشعوری، نادانی، مجبوری، بے بسی اور لاچاری کے تحت استعمال نہیں ہورہے ہیں بلکہ ہر ایک کا اپنا ایجنڈہ ہوتے ہوئے ایک مشترکہ ایجنڈے پر متفق سب کے سب اس عمل کا حصہ ہیں۔
میں نے ہر وقت کہا تھا کہ وقت خود ثابت کریگا، تو اعتراض ہورہا تھا کونسا وقت اور کس وقت؟ کیا ابھی بھی وقت نے ثابت نہیں کیا اور نہیں کررہا ہے؟ آج تمام آزادی پسند جہدکاروں کی اکثریت کی رائے کیا ہے؟ حمایت اور ہمدردی کہاں پر ہیں؟ بلوچ قوم میں آراء کیا ہیں؟ یہ ہے وقت جو سب کچھ ثابت کررہا ہے اور مزید بھی ثابت کرتا رہے گا۔ ہاں وہ لوگ جو شعوری ایجنڈے کا حصہ ہیں، پھر ان کے لیئے،کوئی بھی آیا وقت، وقت نہیں ہوگا، بس ان کے لیے سب برابر ہے۔
ریحان بلوچ کی قربانی تاریخ میں کسی کے حمایت، مخالفت، لاتعلقی یا عدم برداشت سے نہ کم ہوگی اور نہ گم ہوگی اور نہ ہی متنازعہ ہوسکتی ہے، البتہ یہ اپنے ایجنڈے کے تحت ریحان کی قربانی کے بعد ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرکے وقتی طور پر نوجوانوں میں مایوسی اور الجھن پیدا کرنا چاہتے ہیں، تاکہ بلوچ نوجوانوں کا رخ قومی جنگ، قومی ذمہ داریوں اور ریحان کے عمل کی طرف نہ ہو اور مزید اور ریحان پیدا نہ ہوں۔
میرے خیال میں ریحان جان وہ پہلا فدائی ہے، جس کے بارے میں ابتک دشمن پاکستان نے اب تک یہ نہیں کہا ہے کہ وہ نوجوان غیر شعوری طور پر استعمال ہوا، اسکے ساتھ ساتھ پاکستانی پارٹیاں بی این پی و نیشل پارٹی، جمیعت، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی وغیرہ تک بھی یہ نہیں کہہ چکے ہیں کہ یہ نوجوانوں کو استعمال کررہے ہیں بلکہ خود ساختہ ہائی کمان حیربیار مری نے علی الاعلان یہ کہا کہ اسلم بلوچ نے اپنے لختِ جگر کو ذاتئ مفاد کے لیئے استعمال کیا، یعنی استعمال لفظ ہی فدائی کے کردار و عمل کو متنازع اور مشکوک کرنے کی ناکام کوشش ہے، تاکہ بلوچ نوجوان اس رستے پر جانے سے گریز کریں۔
کیا کوئی اپنے لختِ جگر کو بلا وجہ ایک تھپڑ تک مار سکتا ہے؟ برداشت کرسکتا ہے لیکن ایک ماں اور باپ اپنے لختِ جگر کو بارود سے بھری گاڑی میں بٹھا کر کہتے ہیں، ہم آپ کو وطن کے لیئے قربان کرتے ہیں، پھر اس تاریخی عمل کو استعمال کا نام دینا، وہ بھی ذاتی مفاد کے لیئے، کیا یہ صاف ظاہر دشمن کا موقف اور بیانیہ نہیں ہے؟
آج اگر کوئی اپنے آنکھوں اور کانوں کو بند کرکے کچھ نہیں سمجھتا اور محسوس نہیں کرتا، پھر وہ کبھی بھی نہ سمجھے گا نہ ہی محسوس کریگا بلکہ اس کا اپنا شعور اور سوچ یہی ہے، وہ دانستہ اور شعوری طور پر سب کچھ جان کر اور سوچ سمجھ کر ایسے لوگوں کے ساتھ ہیں اور آخر تک ساتھ رہینگے تو ایسے لوگوں سے تبدیلی اور بہتری کی توقع کرنا یا گلہ کرنا احمقی اور بے وقوفی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
میرے کہنا کا مقصدِ محض یہ ہے کہ خدارا! ریحان جان کی قربانی کو کج بحثی، غیر ضروری بحث در بحث کے نظر کرنے سے گریز کریں بلکہ تمام تر توجہ اپنے کام اور مقصد پر لگائیں، شب و روز سوشل میڈیا کا کیڑا بن جانا اصل کام اور مقصد سے توجہ ہٹانے کی ایک موذی مرض ہے، جب ہم اس مرض کا شکار ہونگے جس طریقے سے ہمیں ریحان اور دیگر شہداء کی قربانیوں سے مجموعی طور پر تحریک کے لیئے فاہدہ حاصل کرنا ہوگا، وہ کبھی حاصل نہیں ہونگے، شاید کم سطح پر ہی ہو لیکن زیادہ اور مکمل نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا کا ایک حد اور مثبت طریقے سے استعمال صحیح اور فائدہ مند ہے لیکن انتہاء اور کج بحثی کی حد تک جانا تحریک کے لیئے سودمند نہیں، بلکہ انتہائی نقصاندہ ہے، جس سے گریز کرنا ہر جہدکار کا فرض ہے اگر کسی کو ریحان کے لہو کا احساس ہے۔
دی بلوچستاں پوسٹ : اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

пятница, 17 августа 2018 г.

خودساختہ ہائی کمان کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ بی ایل اے


بی ایل اے کےترجمان جئیند بلوچ نے بی ایل اے کے سینئرکمانڈ کونسل اورآپریشنل کور کمیٹی کیجانب سے جاری کردہ اپنے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ کل آزاد بلوچ نامی ترجمان کی طرف سے جاری بیان انتہائی شرمناک اور قابل افسوس ہے، یہ امر آج پوشیدہ نہیں رہا کہ شہید ریحان اور شہید درویش جیسے حملوں کی صلاحیت اور حکمت خودساختہ ہائی کمان کے دسترس میں نہیں، لیکن انکی طرف سے شہید ریحان جان کے حملے کی مخالفت اور اس سے لاتعلقی سرکاری بیانیئے کی تصدیق ہے، گو کہ خودساختہ ہائی کمان اور اسکے ٹولے کا ہمیشہ سے سرکاری بیانیئے کی تصدیق کرنا وطیرہ رہا ہے۔ مجید بریگیڈ کے بانی اوراسکے ذمہ داران تنظیم کے اندر تنظیمی پالیسوں کے تحت اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، چینی انجئنیروں پر حملہ اس بات کی تصدیق ہے اور مستقبل میں بھی بیرونی سرمایہ کاراور ریاستی ادارے مجید بیرگیڈ کے جان نثاروں کےاہداف ہونگے۔ مجید بیرگیڈ کےلیئے آزاد نامی شخص کے دعوے مضحکہ خیز ہیں۔
ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ خودساختہ ہائی کمان اور ترجمان آزاد کے نام سے پچھلے کچھ عرصے سے تسلسل کے ساتھ جو شرمناک بیانات جاری کیئے جارہے ہیں، انکا ایک پس منظر ہے ماضی میں تنظیم کو قیادت کے حوالے سے بحران کا شکار کرکے دولخت کیا گیا، یو بی اے کا تنازعہ پیدا کرکے جنگ کی گئی، دیگر آزادی پسند تنظیموں سے اختلافات کےلیئے جواز پیدا کرکے تنظیموں کی سیکورٹی اور انکے قیادت پر کردار کشی کے حوالے سےغیر اخلاقی اور غیر سیاسی و غیر انقلابی طریقوں سے حملے کیئے گئے، تنظیم کے اندر اداراجاتی ساخت کی راہیں مسدود کرکے، تنظیم پر شخصی اجارہ داری قائم کرنے کی سعی کی گئی، اور اسی شخصی اجارے کو تنظیم و تحریک پر حاوی کرنے کیلئے، یکطرفہ متنازعہ فیصلے تنظیمی ساتھیوں پر مسلط کرکے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرایا گیا اور بدقسمتی سے اس وقت بھی ایسا کرنے کےلئے تنظیمی اثر رسوخ کا بے دریغ غلط استعمال کیا گیا۔
بداعتمادی کی ایک ایسی فضاء پیدا کی گئی، جو تحریک کےلیئے کسی صورت سود مند ثابت نہیں ہوا۔ دشمن نے بھرپور فائدہ اُٹھاکر بلوچ عوام میں تحریک کے حوالے سے بدظنی اور مایوسی کو ہوا دی اور دوسری طرف ریاستی ظلم و جبر میں اضافہ کردیا گیا۔ بدترین نتائج سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ تنقید، اصلاح اور اصول و ڈسپلن کے نام پر ہونے والے تمام اقدامات کا مقصد سیدھی طرح سے خودساختہ قیادت کےلیئے نواب خیربخش مری سمیت دیگر تمام آزادی پسند ساتھیوں کوبلیک میل کرکے ان پردباؤ ڈالنا تھا، تنظیم کے اکثریتی ساتھیوں نے ایسے تمام اقدامات کی مخالفت کی اور معاملات کو بہتر کرنےاور اعتماد کی بحالی کےلئےعملی طور پر کام کرنے پر زور دیا اور ادارہ سازی اور تنظیم کی تشکیل نو پر زور دیا۔ تنظیمی ساتھیوں کی اکثریت اس بات پر قائل تھے کہ اب تنظیم کو شخصی بالادستی اور غیر تحریری فردی مزاج جسے اصولوں کا نام دیا جانے لگا، کے ساتھ آگے نہیں چل سکتا اور حقیقی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، لیکن خودساختہ ہائی کمان نے اکثریتی ساتھیوں کو نظرانداز کرنا شروع کیا اور شخصی وفردی اجارہ داری قائم رکھنے کےلئے، بدقسمتی سے وہی غیر اخلاقی حربے تنظیمی ساتھیوں پر بھی استعمال کرنا شروع کردیا اور تنظیم کے اندر کچھ نااہل اور باہر کے کچھ غیر متعلقہ افراد کا ذاتی ٹولہ تشکیل دے کر تنظیمی معاملات میں بغیر کسی جواز کےمداخلت کرنا شروع کردیا اور ذمہ داران کو دیوار سے لگانے کی کوششیں تیز کرکے تنظیم کو ایک اور بحران کا شکار کردیا۔
ضد ،انااور ہٹ دھرمی کی حدیں پار کی گئیں، اتنا سب کچھ سہنے کے باوجود ساتھیوں نے مسائل کو حل کرنے کےلئے تنظیم کے اندر تنظیمی و دستیاب طریقہ کار پر زور دیا، لیکن بدقسمتی سے ضد و ہٹ دھرمی میں تنظیمی راز اور سیکورٹی کو بالا طاق رکھتے ہوئے تنظیمی ترجمان کے نام پر مسائل کو اخبارات کی زینت بنا کر دروغ گوئی کا سہارا لیا گیا اور بلوچ عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی گئی اور دشمن کا کام آسان بنایا گیا۔
درپیش حالات اور مسائل کو مدنظر رکھ کر تنظیمی ساتھیوں کی اکثریت نے اداروں کے تشکیل پر کام شروع کرکے، جنگ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ خودساختہ ہائی کمان اور اسکے ٹولے کو تنظیم کے اندر مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا مکمل راستہ و اختیاردیا اور دیگر آزادی پسند بزرگ راہنماؤں کے ذریعے بھی مسائل حل کرنے کی بھرپور کوششیں کئیں، جن میں قابل ذکر استاد واحد قمبر، میرعبدالنبی بنگلزئی اور استاد گلزار امام شامل ہیں اور ساتھ ہی ساتھ سندھی آزادی پسند ساتھیوں کے ذریعے بھی ہر ممکن کوششیں کیئے گئے، لیکن تمام نتائج ضد انا و ہٹ دھرمی پر منتج ہوئیں۔
اس دوران ساتھیوں نے دیگر آزادی پسند تنظمیوں سے حالات کو سازگار بنا کر اعتماد کے بحالی کےلئے بھرپور کوششیں کئیں، اعتماد بحال کرکے یو بی اے سے جنگ بندی کرکے جنگ کا خاتمہ کردیا اور نقصانات کا ازالہ کرکے بلوچ آزادی پسندوں ساتھیوں کو شیر وشکر کردیا گیا، بی ایل ایف سے اشتراک عمل کو ممکن بناکے، بی آر جی سے اشتراک عمل کیا گیا اور تمام آزادی پسند تنظیموں کےساتھ دشمن کے خلاف غیرمشروط تعاون کےلیئے حالات کو سازگار بنایا گیا۔
ان تمام حالات میں بی ایل ایف، یو بی اے اور بی آر جی کا مکمل اور دیگر آزادی پسند تنظیموں میں موجود ہم خیال ساتھیوں کا ہمیں بھرپورکمک و تعاون حاصل رہا، اس دوران بھی خودساختہ ہائی کمان اور اسکا ٹولہ ہمارے کام میں رخنہ اندازی کے پالیسی پر عمل پیرا رہا، ایک سال کا طویل عرصہ ہم نے پورے بلوچستان میں مکران سے لیکر کاہان تک دشمن کے خلاف مسلح کاروائیاں سرانجام دیئے، لیکن گیارہ اگست کو چینی انجنیئروں پر ہونے والے کامیاب کاروائی پر اس طرح کا شرمناک ردعمل بہت بڑاسوالیہ نشان ہے۔
تمام تجربات کے بعد تنظیمی اکثریتی ساتھی اور قیادت اس بات پر متفق رہے ہیں کہ بلوچ لبریشن آرمی سینکڑوں شہیدوں کے قربانیوں اور ساتھیوں کی محنت سے بنی ایک تنظیم ہے، جو شخصی اجارہ داری و انفرادی فیصلوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہٰذا معروضی حالات و تنظیمی تجربات کی روشنی میں ارتقائی مراحل طے کرنے کے بعد تنظیم میں حقیقی اجتماعی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اور اس رو سے تنظیمی ساتھیوں کے اکثریتی فیصلے سے تنظیم کا سینیئر کمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمیٹی تشکیل دے دیا گیا۔ تنظیم کے تمام کارکنان و کمانڈران ان اداروں کے پابند ہیں۔ کوئی خود ساختہ ہائی کمان کا دعویدار ہو یا ایک سپاہی تنظیمی اداروں کے ماتحت آئے اور ان اداروں کو تسلیم کیئے بغیر، اسکا بی ایل اے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کل رات سے چلنے والی ہمارے سینیئرکمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمیٹی کےاجلاس میں تمام کمانڈروں نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ بی ایل اے کے اندر اس قسم کے سطحی گروہی اور روایتی سوچ کی مزید کوئی گنجائش نہیں رہا ہے، تمام مواقع فراہم کرنے کے باوجود خود ساختہ ہائی کمان اور اُسکے ٹولے کی سوچ و رویوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے اپنا روش نہیں بدلہ، بلکہ مزید مسائل پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی، لہٰذا تمام حالات کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلہ لیاگیا کہ آج کے بعد بی ایل اے سے اس ضدی و انا پرست شخص اور اسکے ٹولے کا کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہونگے۔
بی ایل اے کے دو ترجمان میرک بلوچ اور جئیند بلوچ ہونگے، تنظیم کا ویب سائٹ www.Balochliberationvoice.net ہے اور Hakkal اشاعتی ادارہ ہے BLA_Online@ ہمارا ٹویٹر اکاونٹ ہے، تنظیم کے جنگی مسائل سمیت تمام معاملات کی نگرانی سینئیرکمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمیٹی کرینگے۔ تنظیم کا اس وقت لندن سمیت یورپ و امریکہ میں کوئی بھی نمائیندہ مقرر نہیں ہے۔ بیرون ممالک تنظیم سے جڑے کاموں اور فرائض کی ادائیگی کےلئے سینئر کمانڈ کونسل ساتھیوں کا انتخاب جلد عمل میں لائے گا۔
ہم اس عزم کا دوبارہ اعادہ کرتے ہیں کہ بلوچ سرزمین کی آزادی تک چین سمیت کسی بھی بیرونی قوت یا سرمایہ کاروں سے بلوچ وسائل کی لوٹ مار کےلیئے کسی کو بھی کسی بھی قسم کے معاہدے کی اجازت نہیں دینگے اور ان کے خلاف مزاحمتی عمل میں تیزی اور جدت لائیں گے۔

вторник, 14 августа 2018 г.

مادرِ وطن اور قربانی – علی کچکول

لٰہیاتی فلسفی کہتے ہیں کہ ” اگر مذہب کو زندگی سے خارج کی جائے، تو قومی ریاست خدا کی جگہ لے لیگی۔”
جس طرح کے بلوچ شاعر جی ۔ آر ملا کہتا ہے: ” مبارک ہو تمہیں ملا، تمہارا حج اور کعبہ۔۔۔ لیکن مجھے اپنے وطن سے، اپنی بینائی سے زیادہ محبت ہے۔” ( مبارک بیت ترا ملا تئی حج تئی کعبہ۔۔۔ منا چو دیدگا دوست ءِ منی ماتیں وطن ملا)۔
مزید سمجھنے کیلئے، ہمیں قربانی کا تصور “اسخلیئرماخیر” کی تحریروں میں بھی ملتا ہے، جو لکھتا ہے: “میں چاہتا ہوں کے میرے آزادی کا مقصد، مجھے ضرورت سے قریب تر کردے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا مقصدِ عظیم، مرنے کی چاہت کرنے کے قابل ہونا ہو۔”
ایک ازبک شاعر ازبکستان کے بارے میں کہتا ہے: “میری نسل اس سرزمین کی قدر سمجھیں، ظاھراً، لوگ ہمیشہ خاک میں بدلتے ہیں۔ یہ سرزمین ہمارے آباء کی باقیات ہیں، ہم اس قیمتی مٹی کیلئے خاک میں بدلتے رہے ہیں۔”
ریحان اور اسکے والد اسلم بلوچ کی قربانی، ابراہیم اور اسماعیل کی قربانی کی نشاطِ ثانیہ ہے۔ لیکن ابراہیم اور اسکے بیٹے اور اسلم بلوچ و اسکے بیٹے میں ایک بنیادی فرق ہے، ابراہیم اور اسماعیل مذہب کے نام پر قربانی پر تیار تھے لیکن اسلم اور اسکے بیٹے نے قربانی ایک عظیم مقصد اپنے مادر وطن کی خاطر دی۔
بلوچ اپنے پہاڑی جغرافیہ اور اپنے خون میں اس سرزمین کے حفاظت کیلئے مزاحمت کو لیئے، ایک نادرالوجود قوم ہے، جس کی وجہ سے بلوچوں میں قربانی کی ایک شدید روایت ابھر رہی ہے۔
قوم پرستی کبھی کبھار ہم سے یہ تقاضہ کرتی ہے کہ ہم اجتماعی مفادات کیلئے خود کو قربان کردیں، یہ قربانی عموماً رضاکارانہ طور پر اپنے وطن کی آزادی یا اپنے قوم کے دفاع کیلئے دی جاتی ہے۔ ریحان یا دوسرے تمام شہیدوں کی قربانی جنہوں نے اپنی جانیں قربان کردیں اور ان عورتوں و بچوں کی قربانی جو اذیت گاہوں میں تشدد سہہ رہے ہیں، بلوچوں کے پختہ عزم کا اظہار کرتی ہے۔ یہ ظاھر کرتی ہے کہ بلوچ کس حد تک اپنی قوم کیلئے جانے کو تیار ہیں۔
میری ذاتی رائے میں، مزاحمت کا چاہے جو بھی طریقہ کار ہو، بلوچ کو کسی صورت مزاحمت کے اس تسلسل کو آزادی تک ٹوٹنے نہیں دینا چاہیئے۔ بدقسمتی سے ہماری سینئر بلوچ قیادت نے ناکام پاکستانی پارلیمانی سیاست کو چن کر ہمیں بے تحاشہ نقصانات سے دوچار کیا۔ گذشتہ دن غوث بخش بزنجو کے برسی کے دن ریحان کے قربانی کے بعد، میں نے سوچا کاش کہ محترم بزنجو صاحب اور دوسرے سینئر رہنما قوم پرستی کو اس کے حقیقی روح کے مطابق جاری رکھتے، جو کہ خالص مزاحمت ہے۔ لیکن نواب خیربخش مری کے علاوہ ہماری اعلیٰ قیادت مزاحمتی تحریک سے دستبردار ہوگئی۔
میں قوم کے سامنے یہ واضح الفظ میں رکھنا چاہتا ہوں کہ ایک قومی ریاست کیلئے جدوجہد کے بنا کوئی قوم پرستی نہیں، باقی نام نہاد قوم پرست حقیقی معنوں میں قوم پرست نہیں کہلاتے، کیونکہ قوم پرستی کا معنی ہی قومی ریاست کیلئے قربانی دینا ہے۔ یہ بنیادی اصول ان تمام جماعتوں میں غائب ہے، جو خود کو قوم پرست کہتے ہیں لیکن پاکستان کی پارلیمانی سیاست کرتے ہیں، جو خود ہی فوجی تھانہ شاہی اور بدعنوانی کی وجہ سے ناکام ہوچکا ہے۔
ہمارے مادر وطن کو پاکستان اور چین اسکے وسائل اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بلوچوں کے منشاء و مرضی کے بغیر لوٹ رہے ہیں۔ بلوچوں کے قیمتی وسائل جیسے کے قدرتی گیس، کوئلہ اور سونا لوٹا جارہا ہے، حتیٰ کہ اب عام بلوچوں کی ملکیتیں تک سی پیک کی تعمیر کیلئے قبضہ کی جارہی ہیں۔ بلوچوں کو انکے آبائی گھروں سے نکالا جارہا ہے۔
بلوچ ان مظالم کے خلاف اپنی آواز ہمیشہ سے بلند کرتا رہا ہے اور مغربی قوتوں کو کئی سالوں سے ان نا انصافیوں سے آگاہ کرتا رہا ہے، لیکن اب تک ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ عالمی برداری کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے 1960 کے اعلامیے کے رو سے ہماری مدد کرے، جو تمام مقبوضہ قوموں کی آزادی تسلیم کرتی ہے۔
اس اعلامیے کے ایک شق کے مطابق ” لوگوں پر بیرونی جارحیت، محکومیت، استحصال بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے اور یہ امنِ عالم اور عالمی تعاون کے سامنے ایک رکاوٹ ہے۔”
ہماری تحریک اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے لیکن پاکستان اس چارٹر کی خلاف ورزی کرتا رہاہے۔ پاکستان اور چین قومی سلامتی اور اور انسدادِ دہشتگردی کے نام پر ” لمبرگ پرنسپل” کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ لمبرگ پرنسپل کی آرٹیکل 64 اور 65 کا یہاں واضح طور پر خلاف ورزی ہورہا ہے۔
بلوچ تواتر کے ساتھ تمام عالمی اور علاقائی اداروں بشمولِ اقوام متحدہ کو بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے، جسے سی پیک کے مد میں چین کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ اور یہ تمام جرائم قومی سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی کے نام پر کیئے جارہے ہیں۔
اسی مد میں ایک ممتاز عالمی قانون دان ہیوگو گریوٹز کہتا ہے کہ ” اگر ظلم اس قدر نا قابلِ برداشت ہوجائے کہ ایک قوم اسکے خلاف اٹھ کھڑا ہوجائے، پھر کسی بھی عالمی قوت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس مظلوم قوم کا مدد کرے، جو مدد کیلئے پکار رہا ہے” عالمی برداری تک رسائی حاصل کرنے کی ہماری ساری جدوجہد کا مقصد انہیں بلوچستان سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ ان مظالم کے سامنے بند باندھ سکیں لیکن اب تک مغرب کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے بلکہ وہ اپنے اس ذمہ داری سے نظریں چراتے رہے ہیں۔
اب جبکہ عالمی ادارے ہماری فریاد نہیں سن رہے ہیں، پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ بلوچ قربانی کا راستہ اختیار کریں۔
( کچکول علی ایڈوکیٹ انسانی حقوق کے ایک وکیل ہیں، وہ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور وزیر بھی رہ چکے ہیں، اب ان کا تعلق بلوچ نیشنل موومنٹ سے ہے)

понедельник, 13 августа 2018 г.

شہید ریحان جان کا عظیم کام – کمال بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ
کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان کا ذہن کچھ مدت کیلئے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، اگر یہ کہیں انسان ہکا بکا رہ جاتا ہے یا ایک کیفیت سی طاری ہو جاتی ہے اور چند ساعت کیلئے خاموش رہ جاتا ہے، شاید کچھ سوچ سکیں یا کچھ اور شہید ریحان جان ایک ایسے وقت میں وہ کام کرگئے جو سب کو حیر ان کر گیا۔ بہت سے سوالات بھی باقی چھوڑ گیا، اب ہر ایک اسی سوچ میں گم ہے کہ کیا ہو گیا؟ کیسے ہو گیا؟ لیکن جو ہوا، وہ حوصلہ مند کام کرگئے، وطن کا قرض اتار کر خو د امر ہو گئے، میں ذاتی طور پر ایسے کاموں کو حوصلہ مند سمجھتا ہوں، جس سے بہروں کو سنائی دے، یہ حقیقت ہے جنگ میں نقصانات اور فائدے کے بارے میں زیادہ سوچا جاتا ہے، جنگ اس لئے لڑی جاتی ہے تاکہ دشمن کو کمزور کرکے فتح حاصل کی جاسکے، لیکن کبھی جنگ میں زیر بھی ہو سکتے ہیں، لیکن اسے ناکامی نہیں سمجھتے ہیں، ناکامی اُسے مانا جاتا جہاں مایوسی پھیل جائے، کسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے لانگ ٹرم پالیسی کا ہونا لا زمی ہے۔ کیفیتی بنیادوں پر سیاست کرنے والے سیاسی ورکر اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتے ہیں، امید سے جنگ جیتی نہیں جاتی بلکہ امید کے ساتھ جنگی لڑی جاتی ہے، مضبوط پالیسی اور مضبوط حکمت عملی کے بنیا د پر اپنے مقصد کو حاصل کی جاتی ہے۔
بلوچ قومی تحر یک آزادی اس وقت کو نسے مقام پر ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں۔ یہاں سمجھتا ہوں، یہی کہنا مناسب ہوگا اس جد وجہد میں انا کو قتل کرنا ہوگا اور اصولی سیا ست کے بارے میں پرچار کرنا چاہیئے کیو نکہ اصول ہی لوگوں کو راہ راست پر لا نے کا بہتریں ذریعہ ہے، لیکن اپنے اور غیر دونوں سوال کرتے ہیں، انکی نو عیت کیا ہے؟ یہ اپنی جگہ، مگر عمل کے بعد ضر ور یہ سوال کیا جاتاہے، کیو ں اس طر ح کیا گیا؟ خود کو نقصان دے رہے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ اب جو کارنامہ شہید ریحان جان نے ادا کی ہے، وہ قابل داد ہے لیکن مجھے یقین ہے سوالات کی کمی آج بھی نہیں اور کچھ اس طرح کے سوال کر رہے کہ کم عمر ی میں کیو ں یہ کر گئے؟ زندہ رہتا مزید کچھ کرسکتا تھا۔ یہ کارنامہ کسی بڑے کام سے کم نہیں، انہوں نے ایک عظیم رتبہ حاصل کیا اور میر ے خیال میں انقلا ب لانے میں عمر کا نہیں شعور کا پیمانہ لیا جاتا ہے، جو حقیقی اور علمی بنیادوں پر پو را اترتا ہے، جب کو ئی کم عمری میں کو ئی اور کام کرے تو قابل داد، لیکن اگر کو ئی ریڈیکل انقلابی فیصلہ کرے تو سوال؟
جس طر ح 22سال کے انڈین نو جوان ہیرو بھگت سنگھ اپنے ساتھو ں کے ہمراہ انڈین پا رلیمنٹ میں بم گراتا ہے، تاکہ ہم انقلا ب زند ہ باد کے نعرے کو اپنے عوام تک پہنچا سکیں، اُسے بھی یہی کہا گیا کہ جذباتی تھا، یہ کام کم عمری میں کیا گیا، لیکن انہوں نے یہی کہا تھا کہ میں شعوری طور پر یہ سب کچھ کر رہاہوں، اس سے پیشماں نہیں ہوں، بھری عدالت میں ایک دفعہ پھر انقلاب زندہ باد کا صدا بلند کیا، یہی صدا قومی بقا ہو گئی، وہی کامیابی کی طرف گامزن ہو ئے تھے۔
کچھ ایسے سوال ہما رے سامنے مختلف سرکلوں کی جانب سے سننے کو ملتےہیں، وہی سب کچھ، وہی سوالات جو بھگت سنگھ اور انکے ساتھیوں پر کئے جاتے ر ہے، یہاں بھی وہی سوال جنم لے رہے ہیں کہ ہر نئے واقعے کے ساتھ سوال پیدا کیئے جاتے ہیں، اس سے مراد نہیں وہ حقیقت پر مبنی رہے لیکن ہمیں اپنے سوچوں کو وسیع کر نا ہو گا کہ دشمن کو بھا گنے کیلئے سب سے پہلے تو اپنے اندر انقلابی اور شعوری سوچ پیدا کرنا چاہیئے، پیدا کردہ سوال کے بدلے میں کام نوعیت اور اہمیت کو سمجھیں تاکہ حل کی طرف گامزن رہیں۔
11اگست کو چینی انجنیئروں پر نو جوان، با شعور ریحان جان وہ کام کرگئے کہ ہر طر ف صرف اُسی کا چرچہ ہو رہا ہے، خود کو قربان کرگئے ایک عظیم مقصد کو سر انجام دینے کیلئے، لیکن دوسری طر ف بھی سوالات کی کمی نہیں کہ کیو ں بلوچ خود کش کررہےہیں، دنیا بلوچ تنظیموں کو دہشت گر دکہیں گے، ایک بات ہمیں ذہن نیشن کرنا چاہیئے، جب تک ہم کمزور ہیں، ہمیں جو بھی نام دیں کچھ فرق نہیں پڑتا، مگر طاقت کے سر چشمے کو کو ئی کچھ نہیں کرسکتا ہے، اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ انسانی حقوق کے تنظیم ہمارے لیئے کچھ الفاظ بول سکتے ہیں، لیکن آزادی دلا نہیں سکتے، جب ہم طاقتور ہونگے، عوامی حمایت کے ساتھ اپنے دشمن کو اپنے سر زمین سے بے دخل کریں گے، تو یہ تما م انسانی حقوق کے ادارے کام دیتے ہیں۔
یہ قطعاً میر ا مقصد نہیں کہ انسانی حقو ق کے ادارے کچھ نہیں کہیں، مگر حقیقت یہی ہے دشمن کو اپنی سر زمین میں کمزرور کر یں تو ہر طاقت متو جہ ہو گا، دنیا مجبور ہوگا کہ وہ اس سرزمین میں بسنے والے مظلوم عوام کے لیئے کچھ بولیں، لیکن اس حقیقت کوبھولنا نہیں چاہیئے کہ دنیا کے اپنے مفادات ہیں، اُس وقت تک مفادات نہیں رہے، تو وہ متو جہ نہیں رہے گا، انسانیت کے دعویدار تو بہت ہیں، یہ انسانی حقو ق کے تنظیم دراصل ریاست کے کیئے ہوئے بہت سے چیزوں کو چھپانے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔
1948، 2000,1973 کے بعد بلوچستان میں کیا کچھ نہیں ہوا ہے، پاکستانی فو ج کی درندگی کی کمی نہیں رہی ہے، انسانی حقوق کے خلاف ورزی سرعام ہورہی ہے، اِس حوالے سے کسی انسانی حقوق کے تنظیم کو کچھ فرق پڑا ہے، ضرور انکے دفتری ریکارڈ میں ہو نگے، اس لیئے یہ کہنا منا سب ہوگا یہ ادارے گناہوں کو چھپانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں، حقیقت اسی پر مبنی ہے، ہمیں اپنے جدو جہد میں مزید تیزی لانا ہوگا، ورنہ یہ استحصالی ممالک ہمارا خوں چوسنے میں پیش پیش رہینگے۔
چائنا کا مثال ہما رے سامنے ہے، بلوچستان میں جس طرح سرمایہ کاری کر رہا ہے اور پا کستانی فو ج کو ہر طرح کی جنگی مدد کر رہا ہے، اوربلوچ انسرجنسی کو کاونٹر کرنے کیلئے چائنا ہرطر ح کی مدد پا کستا ن کو دے رہا ہے، اور مشتر کہ بلوچ نسل کشی میں ایک ساتھ ہیں، لیکن کسی انسانی حقو ق کے تنظیم نے کچھ کہا ہے؟ پاکستان اور چائنا انسانی حقوق کے خلاف ورزی کر رہے ہیں، سی پیک بنانے کےلیئے لاکھو ں لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جو درپدری کی زندگی بسر کر نے پر مجبور ہیں، کیا کسی کو معلوم نہیں ہے کہ بلوچ کس طرح بدحالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ میرے خیال میں سب کچھ جان کر بھی سب انجان ہیں۔
ریحان جان وہ کا م کرگئے جو وقت کی ضرورت تھی، جو ہر اس ماں کا صدا ہے، جس کے لخت جگر، انکی سرمایہ کاری کی وجہ سے دشمن کے بلیک ہول میں غائب ہوئے ہیں، انکی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔
اب بحث پر چلے جائیں اور دیکھیں کہ دنیا میں کتنے ایسے خود کش ہو ئے ہیں، جو قومی جدوجہد کے لئے ہو ئے ہیں؟ معلومات کے لئے اچھی بات ہے، تاملوں نے کتنے خود کش کیئے اور کرد جنگجوؤں نے کتنے خود کش کیں ہیں، لیکن میں اپنے بامساروں کا ذکر کرتا ہوں جو اس وقت اپنے وطن کیلئے عظیم کام کرگئے ہر جوان جو اپنی سر زمین کے دفاع میں مثبت کر دار ادا کرتا ہے، ہر نوجوان پر فرض ہوگا، جو یہ سمجھتے ہیں، ہم اپنی سرزمین کے مالک خود ہیں، تو اپنی سوچوں میں تبدیلی لائیں، جد وجہد کے حقیقی مقصد کو سمجھیں، شہید مجید بلوچ، شہیدحمید بلوچ، شہید درویش جان اورشہید ریحان جان کا انتحاب کیا ہوا راستہ دشمن کے استحصالی ٹو لی کو کمزور کرسکتا ہے، موت کو ایک نام دیں، اپنے نام کو تاریخ کے سنہری الفاظ میں لکھ ڈالیں، اس کیلئے کوئی بڑے فلسفے کی ضرورت نہیں، اپنے اندر کا احساس اور شعورکو بیدار کریں اور یہ بھی کہ ہمارے تنظیموں میں جو کچھ ہو رہا ہے، اُس پر مزید غور کریں کہ ہمیں کامیابی کا سہرا کس طرح نصیب ہوگا۔ قومی جد وجہد برائے قومی آزادی کا کامیا ب ہونا انسانیت کی سر بلندی ہو گی۔


Motherland and sacrifice
Kachkol Ali Human rights lawyer
Metaphysics philosophers say that if religion is removed from their lives, national state will be their God. A Baloch poet G. R. Mola says “I congratulate you mola on your pilgrimage, but I love my motherland as much as my eyesight” (Mobarak bet tra mola tai haj tai kaba. Mana cho dedaga doste mani mate watan mola). For the purpose of elaboration, the concept of sacrifice can also be seen in the words of Schleiermacher who writes “may it be the mission of my freedom, to bring me nearer to this necessity. May it be my highest goal to be able to wish to die”. An Uzbek poet referring to Uzbekistan says: “So that my generation would comprehend the Homelands worth, Men were always transferred to dust, it seems. The homeland is the remain of our forefathers, we turn into dust for this precious soil”. The sacrifice of Rehan and his father renaissance the sacrifice of Ibrahim and Ismael, but there is a distinction between Ibrahim and his son and Aslam Baloch and his son; Ibrahim and Ismael were willing to sacrifice in the name of religion, but Aslam Baloch and his martyred son did their sacrifice for a noble cause, their motherland. Baloch being a phoenix nation by virtue of Balochistan’s mountainous topography and the chemistry of resistance is in the blood of Baloch for their motherland, due to which, there is a culture of sacrifice emerging within the Baloch. Nationalism sometimes demands people as a whole in the form of a collective interests and sacrifice. This sacrifice is often voluntarily done for the greater good and benefit for either the purpose of freedom of nation or people of a nation. This sacrifice by Rehan and all the other Baloch martyrs who sacrificed their lives, and all the women and children who are suffering the torture in torture cells; illustrate the concrete will and determination of the Baloch and all the extents the Baloch are willing to go for their nation. It is my personal suggestion that at any cost, whatever the method would be for the resistance, the Baloch should not let down their momentum of resistance till the victory. Unfortunately, our senior Baloch leadership knowingly caused us irreparable loss by supported the exhausted and failed constitutional politics of Pakistan. Yesterday, after the sacrifice of Rehan at the death anniversary of Goshbaksh Bezenjo, I wished that respectable Gosbaksh and other senior leaders had continued nationalism in its genuine spirit, which is resistance. But, at the last phase of their lives, all our senior leadership have given up their resistance movement, except Nawab Kherbaksh Marri. I frankly submit to Baloch nation that without struggle for a nation state, there is no nationalism and they call themselves so-called “nationalist” are fully unqualified, because nationalism means sacrifice for a nation states, which is missing in the parties who call themselves nationalists and practice constitutional politics of Pakistan that is totally exhausted due to stratocracy, kleptocracy instead of democracy. Our motherland is being exploited by Pakistan and China for its resources and location without any consent of the aboriginal Baloch. Baloch are robbed from their natural resources like natural gas, coal and gold and now even their lands have started to be occupied for construction of CPEC, where Baloch are dislocated from their hometowns. Baloch have risen their voice against this to the western community for years, but due to ignorance and double-policy of the west, we have been totally ignored. The Western community is bound to take action against this according to the UN´s Declaration 1960 Declaration on granting independence to colonial countries and people which states: The subjection of people to alien subjugation, domination and exploitation constitutes a denial of fundamental human rights, is contrary to the Charter of UN and is an impediment to world peace and co-operation. Since our liberation movement is according to UN Charted and Pakistan is seriously fluting the Charted of UN. Pakistan and China are violating Limburg Principle, in the name national security and counter terrorism and violating article 64 which states “ National security cant be used as a pretext for imposing vague or arbitrary limitation and may invoke only when there exist adequate safeguards and effective remedies against abuse” and article 65 of Limburg Principle that holds that “ systematic violation of economic, social and culture rights undermines true national security and may jeopardize international peace and security, a state responsible for such violation shall not invoke national security as justification for measure aimed at suppressing opposition to such violation or at perpetrating repressive practice against its population”. It would be reasonable to point out here that Baloch people have frequently approached all international and local institutions including UN that Pakistan has been committing genocide, ethnic cleansing, crime against humanity and war crimes accomplice with China in the vicinity of CPEC in the name of national security and counter terrorism. In this respect we have also referred an eminent international lawyer Hugo Grotius´s views “If tyranny becomes so unbearable as to cause the nation to rise, any foreign power is entitled to help an oppressed people that has requested its assistance”. All our struggle to approach the western community to enlighten them about Balochistan and to stop this unending impunity and atrocity, there has been no response from the west. Rather, they have deviated this from their responsibility. Since, the international state community UN and its sister institutions are not listening to our cry in such an alarming situation, there is no other option and alternative left for the Baloch except sacrifice.

воскресенье, 12 августа 2018 г.

ریحان بلوچ کا منتخب کردہ طریقہ کار ہی دشمن کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا: بشیر زیب

ریحان بلوچ کا منتخب کردہ طریقہ کار ہی قابض دشمن کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا ۔ ریحان بلوچ قوم اور تحریک کا سرمایہ تھا اور تا ابد رہے گا ۔ ان خیالات کا اظہار بلوچ آزادی پسند سنگت بشیر زیب بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں کیا ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کی مثالی کردار فداہیں ریحان بلوچ پورے بلوچ قومی تحریک اور بلوچ قوم کا سرمایہ تھا اور تا ابد سرمایہ ہی رہے گا جنہوں نے شعوری اور ایک پختہ طریقہ کار کا چناو کیا۔
انہوں نےکہا کہ دراصل یہی وہ راستہ ہے جو قبضہ گیر ریاست کے بوسیدہ بنیادوں کو ہلانے اور چین جیسے سامراجی قوت کو مجبور کردیتی کہ وہ بلوچ سرزمین پر سرمایہ کاری جیسے بلوچ دشمن اور بلوچ استصالی منصوبوں دستبردار ہوجائے ۔
انہوں نے کہا ریحان بلوچ نے ہمارے کندھوں پہ مزید ذمہداری عائد کرکے ایک کڑے امتحان میں ڈال دی ، ریحان کی بہتے لہو سے جنم لینے والے جذبے اور حوصلےسے اب کئی ریحان جیسے بہادر سپوت دشمن کے خلاف میدان میں آکردشمن کو عبرتناک انجام تک پہنچائیں گے ۔
سنگت بشیر زیب بلوچ نے کہا کہ ایسے ماں باپ سجدے کے لائق ہیں جو اپنے لخت جگر کو ہنستے ہوئے شہادت کی مبارک بادی دیتے ہوئے رخصت کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اپنے فرزند اور لخت جگر کو موت کی راہ پہ روانہ کرنا ایک انتہائی کرب ناک تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے اور اس کیفیت اور لمحے کو بیان کرنا ہم جیسے کمزور دل لوگوں کی بس کی بات نہیں ہوتا۔
ریحان بلوچ اور دیگر تمام شہداء کی فکر و عمل کو آگے بڑھانا ہمارا بنیادی و قومی ذمہداری ہونا چاہیے
ریحان جان کی قربانی اور فیصلہ ایک پرامن ،آزاد اور برابری و مساوات پر مبنی بلوچ سرزمیں کے حصول کی خاطر تھا اور ریحان کی قربانی پر بلوچ قوم اور تحریک آزادی سے وابستہ تمام جہد کار مبارک باد کے مستحق ہیں۔
بشیر زیب نے کہا کہ تمام آزادی پسند رہنما اور جہدکار ریحان جان کو بلوچ قوم کا قومی سرمایہ سمجھ کر اس لہو اور قربانی کا لاج رکھتے ہوئے ریحان کی وسیع اور عظیم قربانی کو کسی بھی قیمت اور سوچ کے تحت محدود نہ کریں اور ساتھ ہی
تمام دوست کسی بھی مقام خاص کر سوشل میڈیا یا اپنے دیگر سرکلوں میں کسی بھی طریقے اور سطح سے نہ ہی کسی کو کوئی طنز و شغان اور احسان جتانے اور برتری حاصل کرنے اور غرور و گمھنڈ میں رہنے کی کوشش نہ کرے بلکہ سارے نظریاتی و فکری دوست و سنگت ایسے منفی حرکتوں سے مکمل گریز کریں
انہوں نے کہا کہ تاریخ ساز دور میں تاریخی کردار ادا کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہے لیکن ہمیشہ تاریخ سازکرداروں کی قربانی اور عظیم کارناموں کی لاج رکھنا اور قوم اور قومی تحریک کے لیے پیش رفت ثابت کرنا انتہائی سخت امتحان ہوتا ہے خاص کر اس آنے والے امتحان سے اب ہمیں گزارنا ہوگا تو اگر ہم ریحان جیسے شہیدوں کی لہو اور تاریخ ساز کردار کی لاج نہ رکھتے ہوئے بلوچ قوم کی بقاء و قومی آزادی اور قومی تحریک کو مزید موثر اور منظم شکل نہ دے سکے تو تاریخ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریگا اس حوالے سے سب کو ہروقت سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اور شہداء کی فکر و عمل کو صرف آگے بڑھانا ہوگا
میں مکمل پر امید ہوں اور آگے وقت بھی ثابت کریگی بلوچ مادر وطن اب فکری و شعور کے حوالے سے بانجھ نہیں بلکہ گل زمین کی کوکھ سے مزید ریحان جنم لے چکے ہیں اور لیتے رہیں گے اور اسی طرح تاریخ ساز دور میں تاریخ رقم کرتے رہیں گے
بشیر زیب بلوچ نے کہا کہ میں تمام دوستوں سے دست بستہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ صرف اور صرف شہداء کے نظریات افکار اور عمل کو آگے بڑھانے کے علاوہ باقی تمام غیر ضروری اور سطحی چیزوں کو نظر انداز کرکے انھیں اپنے ذہنوں سے مکمل نکال دیں کیونکہ اسی سوچ احساس عمل رویوں اور شعور میں قومی تحریک کی اصل کامیابی و کامرانی مضمر ہے

суббота, 11 августа 2018 г.

**بلوچ قوم کا جوانسال مورخ شہید ریحان جان بلوچ.....ڈاکٹر جلال بلوچ**
چھلے دنوں میں نے ایک کالم میں یہ لکھا تھا کہ کردار ہی مورخ ہے۔وہ کالم لکھے ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ تاریخ رقم کرنے والا ایک اور عظیم کردار شہید ریحان بلوچ کے نام سے ہمارے سامنے آگیا۔شہیدریحان بلوچ نے اپنے عمل اور کردار سے بلوچ سماج میں شہید مجید اول اورشہید درویش بلوچ کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے تاریخ کا ایک اور باب رقم کیا جسے رہتی دنیا تک کوئی بھلا نہیں سکتا۔

جب ہم دنیا کی آزادی کی جنگوں میں فدائی حملوں کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو اس حوالے سے نوآبادیاتی نظام میں پہلا فدائی ہمیں ہندوستان کی سرزمین پہ کمانڈر کھلی کی صورت میں نظرآتا ہے۔یہ عظیم عورت کمانڈر کھلی جنوبی ہندوستان میں تامل قوم میں پیدا ہوئی۔ اپنی قوم کی آزادی کی جدوجہد کی کامیابی کے لیے اس عظیم کمانڈر نے برطانوی نوآبادیات کے بارودی مواد کو نشانہ بنایاجو ایک مندر میں چھپائے گئے تھے کیونکہ انہیں یہ جانکاری تھی کہ اگر برطانوی قبضہ گیر کو شکست دینا ہے تو اس کے لیے اس کے بارود اور ہتھیاروں کو نشانہ بنانا ہوگا۔اس کے بعد ہوا بھی یہی جہاں ہتھیاروں کی عدم دستیابی اور کمی نے برطانوی فوج کو ہندوستانیوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار کیا۔
دنیا میں اس سے قبل کتنے فدائی حملے ہوچکے ہیں میں نہیں جانتا ہاں البتہ تاریخ گواہ ہے کہ لوگ دیوانہ وار موت پہ بیعت کرتے نظر آتے ہیں لیکن بارود کی ایجاد کے بعد یہ پہلا فدائی حملہ تھا جس میں کمانڈرکُھلی نے برطانوی سرکار کو نشانہ بنایاجس پہ چل کے نہ صرف تامل نسلوں نے آنے والے دنوں میں سری لنکا کے خلاف اقدامات کیے بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی آزادی پسندوں نے جنگ کے اس طریقہ کار کو دشمن کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔جنگوں میں فدائی حملوں کا یہ تسلسل دراصل اسی اثرات کا نتیجہ ہیں جس نے برطانوی سرکار کو اٹھارویں صدی میں شکست سے دوچار کیا ۔جنگی حکمت عملی اور طریقہ کا ر کے اثرات کے حوالے سے دنیا میں یہ نظریہ خود کو ثابت کرچکا ہے کہ کوئی عمل جو کسی اجتماعی مقصد کے لیے ہو اس کے اثرات نہ صرف آنیوالوں پڑتے ہیں بلکہ اس سے دنیا کا ہر وہ معاشروہ جو اسی طرز کی جدوجہد کررہے ہوں وہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ،چاہے ماضی میں انہوں نے اس طریقہ کار کی وجہ سے کامیابی سے منزل کی جانب سفرکیا ہو یا اس میں ناکاامی کا منہ سامنا کرنا پڑا ہو لیکن اس کے اثرات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔کمانڈر کھلی کی جرات اور بہادری کے اثرات ہمیں اس کی قوم نہ صرف تاملوں میں نظر آتا ہے جہاں تامل ٹائیگرز کے فدائی حملہ آوروں نے فدائی طرز اپنا کے دشمن کو ایک بڑے عرصے تک مسائل سے دوچار کیے بلکہ اس کے اثرات دیگر انقلابی تحریکوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
بلوچ جدوجہد آزادی میں شہید مجید بلوچ نے ۷۰ کی دہائی میں پہلا فدائی حملہ کیا جس میں ہدف اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو تھے ۔شہید مجید بلوچ کا بلوچ جدوجہد کو فدائی طرزدینا ایک عظیم کارنامہ ہے جسے بلوچ قوم قدر اور فخر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔شہید مجید بلوچ کے بعد اکیسوی صدی میں شہید درویش بلوچ نے ریاستی ڈیتھ سکواڈ کو فدائی حملہ کا نشانہ بنایا جس میں ۷۰ سے زائد ریاستی ڈیتھ سکواڈ کے لوگ مارے گئے ۔شہید مجید بلوچ کے اس طرزِ جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے 11اگست جو کہ بلوچستان کی برٹش سرکار سے آزادی کا دن بھی ہے آزادی کے اس دن میں ایک اور تاریخی واقعہ کو اضافہ کرتے ہوئے ریحان بلوچ نے پاکستان اور چین کے استحصالی منصوبوں پہ کام کرنے والے چینی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
ایسے کارنامے انسان کو عظمت کی بلندیوں تک لے جاتی ہے جہاں ان کی ہمسری کے دعویدار کوئی اس وقت کرسکتا ہے جب وہ انہی کے نقش قدم پہ چل کر اجتماعی مفادت کی تکمیل کے لیے خود کو سپردِ گل زمین کردیں۔۔۔۔
جب شہید کے بارے میں میں نے معلومات حاصل کی تومجھے یہ جانکاری حاصل ہوئی کہ شہید ریحان بلوچ 2012ء میں فدائی حملے کے لیے تیار تھے لیکن کم عمری کی وجہ سے انہیں اس کی اجازت نہیں ملی مزید یہ کہ وہ پچھلے چھ سالوں سے یہ کہتا چلاآرہا ہے کہ میں نے ہوش سنبھالتے ہی یہ فیصلہ کیا ہے اور اسی پہ قائم رہونگا کیونکہ میں (شہید ریحان) اس بات کا قائل ہوں کہ ہمیں اپنے طریقہ کار میں جدت لانی چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جنگ کے ہر اس طریقے کو بروئے کار لائیں جس سے دشمن کی تکلیفیں زیادہ ہوں اور بلوچ قوم میں جذبہ آزادی پروان چڑھے۔
شہید ریحان بلوچ کے حوالے سے یہ معلومات بھی حاصل ہوئی کہ وہ ہر وقت جہد آزادی سے کافی پرامید دیکھائی دیتے تھے البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ آزادی کی وہ کرنیں دیکھنا مجھے بھی نصیب ہوں لیکن یہ قوم ضرور آزادی حاصل کریگی کیونکہ آج بلوچ جہد آزادی کو بلوچ سرمچاروں نے اپنی قربانیوں کی بدولت ایسی بنیاد فراہم کردی ہے جس میں مجھے دشمن کی شکست کے واضح آثار نظر آرہے ہیں۔
دشمن کی شکست کے لیے راہِ آزادی مسافروں نے دنیا میں جنگ کے نت نئے طریقے دریافت کیے جن پہ عمل پیرا ہو کے انہوں نے دشمن کی شکست یقینی بنایا۔ یہ ذکر ہوچکا ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف جو پہلا فدائی حملہ آور تھا وہ بھی ایک قوم پرست عورت تھی جنہوں اپنی قوم کی بقاء اور آزادی کے لیے اپنی جان کی قربانی دیتے ہوئے دشمن کی شکست کو یقینی بنایا ۔قومی آزادی کی جنگ میں یہ صنعتی انقلاب کے دوران نئی دریافت تھی۔
دنیا کے نظریاتی جنگوں میں اس طرز کے حملوں کو جب ہم دیکھتے ہیں وہ چاہے دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں ان میں اورپراکسی حملہ آوروں کے حملوں میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ نظریاتی طور پہ فدائی حملوں میں نشانہ دشمن ہی ہوتا ہے اور اسی لیے ایسے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعدادنہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ انہیں اپنے ہدف کو ہی نشانہ بنانا ہوتا ہے جہاں وہ اپنے عوام اور عام لوگوں کو محفوظ رکھنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے ان کے ان حملوں کودنیا ہدفِ تنقید نہیں بناتی اور نہ ہی عالمی قوانین ان کے خلاف کچھ کہتاہے ۔ یہی وجوہات ہیں کہ دنیا کے انقلابی سوچ یا دنیا سے محکوموں پہ ظلم کو برداشت نہ کرنے والے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
بلو چ جدوجہد میں شامل جہد کاروں نے اپنی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے آزادی کی جنگ کو ایسے رنگوں سے نوازہ ہیں جن کی وجہ سے دشمن کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، وہ چاہے جہد کاروں کے سنیپرز ہوں، یا دیگر جنگ کے دیگر طریقہ کار۔جن سے آج دشمن نفسیاتی طور پہ اس میں شکست کھا چکا ہے اسی لیے روز عام شہریوں خاص کر بلوچ خواتین اور بچوں کو لاپتہ کرکے جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنارہی ہے۔دشمن کے اس ظلم و ستم کے باوجود بلوچ جہد آزادی کے مسافر خندہ پیشانی دھرتی ماں کا قرض ادا کرنے میدانِ عمل میں بخوبی اپنا کرادر ادا کررہے ہیں ۔
شہید ریحان بلوچ کے 11 اگست 2018ء کا فدائی حملہ جس میں نوآباد کاروں کے آقا سیندک استحصالی منصوبے کے چینی انجینیروں کو نشانہ بنایا گیا تھا یہ چین ،پاکستانی قبضہ گیر اور ان کے دیگر آقاؤں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو ظلم ،جبر ،بربریت اورغلامی کے اندھیروں کی نظر کرکے استحصالی منصوبوں کو کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچاسکتے اس لیے بیرونی دنیا کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اس غیر فطری ریاست کی پشت پناہی سے باز آجائیں نہیں تو وہ بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آسکتے ہیں جس کی بھٹی انہیں ہی زوال پذیر کرسکتی ہے۔
شہید ریحان بلوچ کو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کے لیے جہاں انہوں نے مورخ بن کے اپنے لہو سے قومِ بلوچ کی تاریخ نوشتہ کی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فقط اتنا کہوں گا کہ
بلوچ قوم نے تاریخ میں آج کے دن آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھا اور آج ہی کے دن شہید ریحان بلوچ نے ایک اور سورج طلوع کیا جو بلوچ قوم کے لیے یقیناً آزادی کی نوید ثابت ہوگی ۔شہید ریحان بلوچ کے جلائے ہوئے روشنی کے اس چراغ میں آنے والی نسلیں رات کی تاریکی میں اپنی راہوں کا صحیح سمت انتخاب کرتے ہوئے منزل کی جانب پیش قدمی کریں گے ۔جو ایک اور 11 اگست یعنی آزادی کی منزل پہ جا کہ ختم ہوگی جو شہیدوں کے خوابوں کی تعبیر بھی ہے اور قوم کی منزل بھی

пятница, 10 августа 2018 г.

فریم ورک کا فسانہ – برزکوہی

برزکوہی
دی بلوچستان پوسٹ
“تقلید علم کی موت ہے، کیونکہ علم کی ترقی کلیتاً اختلافات کے وجود پر منحصر ہے، بجائے اختلافات تنازعہ اور بلآخر تشدد کا سبب بن سکتے ہیں اور یہ امر میرے خیال میں نہایت تکلیف دہ ہے، کیونکہ میں تشدد سے متنفر ہوں، تاہم اختلافات بحث و استدلال، دوطرفہ تنقید پر منتج ہوسکتے ہیں۔” یہ الفاظ فلسفی کارل پوپر کے ہیں۔ جی ہاں! ویانا کے فلسفی کارل پوپر کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فلسفیوں میں ہوتا تھا، برٹرینڈرسل کے بعد اس بامِ عروج پر پہنچنے والے وہ شاید دوسرے فلسفی ہیں۔
میرے لیئے پوپر کی فلسفیانہ طرز فکر اور خیالات اپنی جگہ قابل قدر لیکن پوپر کا سب سے ذیادہ متاثر کن چیز، اس کا اسلوب تحریر ہے، وہ بہت سادہ، سلیس اور واضح ہے بقول پوپر کہ “ہر منصف اور لکھاری کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بات کو ممکنہ حد تک سادہ اور واضح انداذ میں بیان کرے، مجھے گنجلک اور عسیر الفہم طرز بیان سے بڑی نفرت ہے، قاری کو بھاری بھرکم الفاظ سے مرعوب کرنے کی کوشش انتہاء درجے کی اخلاقی غیر ذمہ داری ہے۔ جس طرح فلسفی فریڈرک اینگلس اپنی تحریر لڈونگ فیورغ اور کلاسیکی جرمن فلسفے کے آغاز میں میڈیکل مادیت پسندوں کو بازاری پھیرے والے اور گول مول جواب دینے والے، مبلغین کے نام سے یاد کرتا ہے۔”
اسی تناظر میں سندھی دانشور خاکی جویو کہتا ہے “جو لوگ صرف اپنی بات اور موقف پیش کرتے ہیں اور دوسروں کا موقف سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جو خود کو ہمیشہ صیح اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں وہ دراصل حاکمیت پسند سوچ اور تعلیمی تصور کے قائل ہوتے ہیں۔ یہ بات ان کی فطرت کا حصہ بن چکی ہے اور یہ فطرت دراصل حاکمیت پسند سماجی شعور کی پیدا کردہ ہے، انقلابیوں میں بھی کئی لوگ اسی حاکمیت پسند سماجی شعور کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیئے وہ دوسروں کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے کیونکہ اس طرح ان کے کمزور موقف کا خول اترنے لگتا ہے، اس لیئے وہ ہمیشہ بات کو گول مول کرکے ٹال مٹول سے کام لینے لگتے ہیں یا کوئی بہانہ بنا کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ بحث اور دلیل سے کہیں ان کے ذہن میں بیٹھا ہوا حقیقت یا سچ (جسے وہ غلط فہمی کی بنا پر بزعم خود سچ سمجھے ہوئے ہیں )جھوٹ و فریب نہ ثابت ہوجائے۔”
“دیکھا یہ گیا ہے کہ کتنے ہی ایسے عام لوگ انقلابی رہنما اور کارکن، جن کے پاس حقیقی طاقتور فکر کی کمی ہوتی ہے، وہ اپنے موقف سے فررایت میں محفوظ سمجھتے ہیں، ایسے لوگ ایسی مجلس میں بیٹھتے ہی نہیں، اگر بیٹھتے ہیں تو منافقانہ طور پر ناپسندیدہ بات اور خیال کی تصدیق کرتے رہتے ہیں چونکہ ان کے پاس کسی موقف کو رد کردینے کے لیے طاقتور دلائل نہیں ہوتے ہیں، اس لیئے اپنے ذہن پر کٹر پن اور سخت گیر کا خول چڑھالیتے ہیں اور ان کے موقف سے جو بات یا دلیل زور دار ٹکر کھاتی ہے، اسے سننے سے ہی کتراتے ہیں۔ اگر مجبوراً سننا پڑ جائے تو اپنی انا اور ضد سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں وہ اسے اپنا تذلیل سمجھتے ہیں کہ وہ اکیلے ہی عاقل، بالغ اور عقل کل ہیں اور دوسرے تمام لوگ جاہل اور حقائق سے بے بہرہ ہیں۔ اس لیئے وہ ہمیشہ اپنی ذاتی جانکاری پر اکتفا کرتے ہیں۔” یہ تھا گول مول اور ٹال مٹول لوگوں کے بارے میں سندھی دانشور خاکی جویو کی موقف
ہمیشہ جب منطق و دلیل اور حقیقت پسندی جیسے اشیاء کے نام و نشان اور وجود نہ ہو، تو انسان لامحالا کسی بھی زیربحث موضوع اور موقف کو توڑمروڑ، لمبا چوڑا، گول مول کرکے گم کرنے کوشش کرتا ہے یا پھر بحث ہی کو جذبات کی بانہوں میں لیکر دھندلا اور گند آلود کرتا ہے، دراصل یہ علم نفسیات کی روشنی میں راہ فراریت، فریب، دھوکا، جہالت اور ڈرپوک لوگوں کا نفسیات ہوتا ہے۔
بحثیت ایک ادنیٰ ساہ لکھاری میں نے ہمیشہ سے یہ کوشش کی ہے کہ مثبت انداز، جذبات اور تعصابات سے ہٹ کر لفظوں کی ہیرا پھیری، گول مول کرنے بجائے، اپنے قارئین کے لیئے سلیس اور واضح انداذ میں اپنے بات کو رکھنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھوں تاکہ قاری کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
ہم لوٹتے ہیں پھر اپنے اصل موضوع کی تعریف تاکہ پوپر کے نظریہ فریم ورک فسانہ سے استفادہ حاصل کریں۔ خیالات، نظریات، روایات اور عقائد، انہی قیدخانوں کا دوسرا نام فریم ورک ہے۔ بقول کارل پوپر “جو لوگ قیدخانوں کو نا پسند کرتے ہیں، وہ فریم ورک فسانے کے مخالفت کریں گے اور ایک ایسے فریق سے خوش دلی سے بحث اور گفتگو کریں گے جو ایک دوسرے فریم ورک سے تعلق رکھتا ہو کیونکہ اس طرح انہیں اب تک نا محسوس زنجیروں سے آگاہ ہونے، انہیں توڑنے کا موقع ملے گا اور یوں وہ خود اپنے ذات کی حدوں سے باہر نکل سکیں گے، قید خانے کی دیواریں توڑ کر باہر نکل آنا، درحقیقت کوئی معمولی بات نہیں یہ صرف اور صرف ایک تنقیدی سعی بلکہ ایک تخلیقی سعی کا نتیجہ ہوتا ہے۔”
کارل پوپر مزید کہتا ہے کہ “خود رہائی کا آدرش لمحہ موجود میں خیالات اور عقائد کی قید سے آزادی کا آدرش کسی بڑے فکری فریم ورک کی قید میں بدل سکتا ہے، باالفاظ دیگر ہم کبھی بھی مکمل آذادی حاصل نہیں کرسکتے ہیں لیکن ہم اپنے قید خانے کو کشادہ کرسکتے ہیں اور کم از کم ہم اس شخص کی تنگ نظری سے ضرور بلند ہوسکتے ہیں، جو اپنی زنجیروں کا ہمیشہ خوگر ہوجاتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو یہی آگہی ہمیں قید سے رہائی دلا سکتی ہے۔”
یہ تھے پوپر کے الفاظ تو تنقید یا بحث کیوں؟ کس لیئے؟ کس چیز پر ہے؟ مارکسی خیالات کی تنقید طبقاتی تعصب کا ماہر نفسیات فرائڈ کے خیالات کی تنقید امتناع کا نتیجہ قرار پاتی تھی اور ہڈلر کے خیالات کی تنقید اپنی برتری کو ثابت کرنے کی خواہش یعنی احساس کمتری کی تلافی کی کوشش کا نتیجہ کہا جاتا تھا، تو بلوچ قومی جہدوجہد آزادی میں بحث و تمحیص اور تنقید کا معیار کن چیزوں پر ہے؟ کیا ہم تنقید اور بحث کے بنیادی اصولوں، طرز و معیار سے اچھی طرح با علم ہیں؟ یاصرف رٹا بازی سنی سنائی بحث و تنقید کرتے کرتے نہیں تھکتے ہیں؟ تضادات اختلاف کا وجود اور بنیاد کہاں ہے اور کیا ہے؟ فریک ورک فسانہ یعنی فکری نظریاتی حکمت عملی پالیسی و خیالات اور عقائد کیا ہیں؟ دوسری طرف یا دوسرے فریق نے فریم ورک فکری نظریاتی حکمت عملی، پالیسی، خیالات اور عقائد کیا ہیں؟ میرے خیال میں کچھ نہیں صرف اور صرف ضد، انا، ہٹ دھرمی، انتقام، مخصوص گروہی مفادات، خوشامدی، حسد، بغض، ذاتی عناد، منفی رویوں، خودغرضی، کم علمی، محدود اور سطحی سوچ کے علاوہ قطع نظر اگر ہے بھی مختلف فریم ورک فسانہ کی تو تنقید اور بحث کے طریقہ کار اور پیمانہ کیا ہے؟
الزام تراشی منفی و من گھڑت پروپگنڈہ، جھوٹ، فریب، غیر اخلاقی حرکتیں کیا علمی دنیاوی اور فلسفیانہ طرز فکر میں تنقید اور بحث کے زمرے میں آسکتے ہیں؟ یا پھر سیدھی سادی بات قومی تحریک کو کاونٹر کرنے، قومی تحریک سے قوم کو بدظن اور مایوس کرنے اور دور کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو معلومات فراہم کرکے تحریک کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی اصل قومی ذمہ داریوں سے غافل کرنے کے درپردہ ایجنڈے کی پایہ تکیمل ہے؟
حقیقی علمی اور منطقی بحث اور تنقید برائے تعمیر کے حوالے سے کارل پوپر اپنے مقبول ترین فریم ورک فسانے کی نہایت مخصوص صورت واضح کرتے ہوئے کہتا ہے “بحث کا آغاز سے قبل مصطلحات پر اتفاق ضروری ہے، شاید ہم اپنی اصطلحات کے تعریف کے ذریعے یہ اتفاق پیدا کرسکتے ہیں۔”
پوپر مزید کہتا ہے کہ “زیر بحث نظریئے خیالات اور عقائد کی آزمائش کرکے یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ آیا اس کے تمام منطقی مضمرات قابل قبول ہیں یا یہ کچھ ناپسندیدہ نتائج کا حامل تو نہیں، اس طرح ہم تنقید کے غلط منہاج اور تنقید کے درست منہاج میں منطقی امتیاز قائم کرسکتے ہیں۔”
گوکہ ہم بلوچ نینشنلزم قومی نجات اور قومی فکر آزادی کے فریم ورک فسانہ یعنی قید میں پابند ضرور ہیں لیکن دوسری جانب کس فریم ورک فسانے کے خیالات عقائد اور روایات کے قید میں ہیں؟ وہ شعوری ہیں یا لاشعوری ہیں؟ کبھی کبھار بہت سے ایسے روایت، خیالات، عادات اور عقائد نامحسوس طور پر ایسی پابندیاں بن جاتی ہیں کہ کسی کو معلوم ہی نہیں، وہ کیوں اس پر ڈٹے ہوتے ہیں مثلاً گھڑی کا بائیں ہاتھ پر باندھنا حالانکہ دائیں ہاتھ پر بھی گھڑی چلتی ہے اور ٹائم بتا سکتا ہے پھر کیوں دائیں ہاتھ پر ضروری ہے؟ اور اس کا بنیادی فائدہ کیا ہے؟ تو ہم اکثر اسی قسم کے مختلف فریم ورک یا نا محسوس خیالات عقائد اور زنجیروں کی قید میں مقید ہیں، جنکو توڑنا بھی گوارہ نہیں کرتے، بقول کارل پوپر ان کا توڑ اور ان سے آزادی و رہائی پانے کا واحد ذریعہ “تنقید تخلیق اور علم ہوتا ہے، اگر اندھا دھند تقلید ہو تو پھر بقول پوپر علم کی موت ہوتا ہے۔”
اب تنقید اور بحث کہاں، کیسے، کس طرح، مدمقابل، آمنے سامنے، بحث اور تنقید سے راہ فراریت بھاگنا اور منہ موڑنا دور دور، چپکے چپکے، چوری چوری سوشل میڈیا میں پٹاخے پھوڑنا اور اس کو تنقید، بحث اور سوال آٹھانے کا نام دینا، دنیا کے کس علم شعور، فلسفے، سیاست، ادب، روایات، تہذیب اور اخلاقیات کے زمرے میں شمار ہوتا ہے؟
میں نے پہلے کہا ہے، آج بھی کہوں گا اور آئندہ بھی کہوں گا اور میری یہ آراء حتمی ہے کہ 5 سال پہلے سے لیکر آج تک سوشل میڈیا میں مقدس بحث اور تنقید کے نام سے جو کردار کشی، الزام تراشی، مخبری، صفت و ثناء کا سلسلہ چل رہا ہے، جو آج تک جاری و ساری ہے، وہ براہِ راست قومی تحریک میں دراڑ ڈالنے، تحریک کو تقسیم در تقسیم کرنے، غلط فہمی پیدا کرنے اور انتشار پیدا کرکے تحریک کو کمزور اور ختم کرنے کا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے، اگر نہیں تو براہِ مہربانی کوئی مجھے ایک فیصد سوشل میڈیا بحث سے قومی تحریک کو کوئی فائدہ تو بتائے؟ اگر فائدہ صفر برابر صفر، نقصان بے انتہاء اور لامحدود ہے، اس کے باوجود منصوبے کے تحت، اسی نقصاندہ تسلسل کو آگے بڑھانا، کیا خود مخصوص ایجنڈے کے طرف واضح اشارہ نہیں ؟
کوئی آج اتفاق کرے یا نا کرے لیکن اگر وہ لاشعوری اور ناسمجھی کی بنیاد پر اس ایجنڈے کا حصہ ہے، تو وہ کل ضرور سب کچھ مان جائیگا اور جن کے ذاتی مفادات وابستہ ہیں، ان کا کام چل رہا اور چلتا رہے گا۔
کم سے کم ہر جہدکار کو انتہائی سنجیدگی سے اپنے فریم ورک فسانے کا بار بار جائزہ لینا اور سوچنا ہوگا، اپنی زنجیروں پر غور کرنا ہوگا، میں کیوں ان زنجیروں میں قید ہوں؟ یہاں سے پھر انسان میں خودکلامی، جستجو، خود تنقیدی کا سوچ اور احساس پیدا ہوگا، پھر وہ علمی بحث، تنقید برائے تعمیر سے اپنی زنجیروں کو توڑ کر قومی تحریک میں ایک فعال موثر اور حقیقی کردار نبھائے گا، جو اس وقت اہم بلوچ قومی تحریک کی ضرورت ہے۔

пятница, 3 августа 2018 г.

درباریت اور بلوچ تحریک- برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ : کالم
کسی مہربان نے سوال کیا  کہ کیا بلوچ قیادت  اتنی کم عقل، کم علم اور بے شعور ہے کہ درباریوں کے زیر اثر رہ کرمعاملات کو غلط نقطہ نظر سے دیکھ کر  غلط پالیسیوں ،غلط حکمت عملی، غلط رخ اور غلط سمت سفر کرنے کے مرتکب ہوں ؟
میرا جواب تھا کہ کیا بلوچ قیادت ان تمام مغل سلاطین، بادشاہوں سے زیادہ دانشمند، عالم ،باعلم اور عقلمند ہے جو اس وقت درباریوں اور چاپلوسوں کی درباری اور چاپلوسی کردار اور سوچ کی گھیرے میں ہوکر پھر بھی ان کا شکار نہ ہو، اور ان سے بھی حد درجہ زیادہ مضبوط ہوں، جو اپنے کردار سلطنت،  اور عروج کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے درباری چاپلوس اور خوشامدی کے بھینٹ چڑھا کر اپنے آپ کو تاریخ کی صفحوں میں زوال و فنا کے مقدر میں دھکیل دیں۔
سلطنت ،ریاست ،سیاست ، تحریکات ،قبائلی شخصیات اور جنگ و جدل کی تاریخوں میں درباریوں کا ہمیشہ واضح کردار رہا ہے زمان و مکان کے تناظر میں شاید شکل و صورتاور طریقہ کار مختلف ہوں، لیکن درباریوں کی  فطرت و خصلت تاریخ کے مطالعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر دور میں ایک جیسا ہوا ہے اور ایک جیسا ہوتا ہوا آرہا ہے
ماضی سے لیکر عصر حاضر تک اگر مختصر بھی  حوالہ دیا جائے تو درجنوں صفات بھر جائیں گے ، لیکن درباریوں کے درباری کرداروں کو پورا طشت ازبام کرنا ممکن نہیں ہوگا
کیسے اور کس طرح درباریوں کا کردار دربار پر اثر انداز ہوکر فنا اور زوال کو دعوت دیتی ہے۔؟
شیخ سعدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس کا بادشاہ جنت میں ہے اور شہر کاایک پارسا آدمی دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے۔اس نے ایک دانا سے خواب کی تعبیر پوچھی تو جواب ملا کہ یہ بادشاہ فقیروں سے عقیدت رکھتا تھا اس لئے جنت میں جا پہنچا اور پارسا آدمی بادشاہ کے درباریوں کا گرویدہ تھا اس لئے دوزخ میں جلتا نظر آیا۔
جلال الدین اکبر اپنی مضبوط سلطنت اور بہترین زانت کی وجہ سے جانا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اپنے آباؤ اجداد سے بھی آگے بڑھ گیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ جلال الدین میں پڑھنے کی اہلیت بہت کم تھی اور وہ لفظوں کی ادائیگی صحیح طور پر نہیں کر پاتا تھا۔ شائد اسی وجہ سے اس نے کچھ درباریوں کی باتوں میں آکر دین الٰہی کی بنیاد ڈالی تھی۔ جو کہ بُری طرح ناکام ہوئی۔ اور رہتی دنیا تک اسے منفی انداز میں یاد رکھا جائے گا ۔
برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل بھی بادشاہوں کے مرنے کے بعد سلطنت ان کے اولاد کے حصے میں آیا کرتا، ہر دور کی طرح یہاں بھی سازشیں رہتی جن میں ان کے درباری اور نورتن اہم کردار کرتے، کبھی انعام و اکرام سے نوازے جاتے تو کبھی سولی چڑھائے جاتے، ان نورتنوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے اور خاص طور پر دربار اکبر ی میں نورتنوں کی اپنی اہمیت تھی جن میں بیربل، شیخ فیضی، راجہ ٹوڈرمل، عبدالرحیم خان خاناں، مہاراجہ مان سنگھ، ابوالفضل اور تان سین شامل تھے۔
دربار میں یہ لوگ دن بھر بادشاہ کی رضا جوئی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سیاہ کو سفید اور دن کو رات کہتے نہیں تھکتے ،شاید ان میں جو درباری مسلمان ہوں گے وہ تنہائی میں بادشاہ وقت کی نئے دین، دین الٰہی کی اپنی حمایت پر افسوس کرتے ہوں اور توبہ کرتے کہ دربار میں کیسی کیسی حماقتیں کرتے ہیں مگر اپنے حریفوں کو شکست دینے کا یہی حل تھا کہ بادشاہ کی ہر جائز ناجائز بات کی حمایت کی جائے تا کہ ان کے دشمنوں کا منہ بند ہو۔ وہمشہور محاورہ بھی کہتے تھے کہ ہم بادشاہ کے نوکر ہیں بینگنوں کے نوکر نہیں، اکبر بادشاہ کا مشہور نورتن ابوالفضل فیضی جو اس کا دودھ شر یک بھائی بھی تھا، اس کی ہاں میں ہاں ملانے سے اس قدر خائف ہو گیا تھا کہ اس کا تکیہ کلا م بن گیا تھا، ہائے ایسا نہ کروں تو کیا کروں وہ بار بار یہ الفاظ دہراتا اور ٹھنڈ ی آہ بھرتا تھا ۔
اکبرکے یہ نورتن ذہین ہو نے کے ساتھ ساتھ چاپلوسی اور خوش آمدی میں ماہر تھے، خوشامدی کا فن سب سے زیادہ شاہی دربار میں پروان چڑھا کیونکہ بادشاہ کی ذات  عقل کل اور اختیارات کی حامل تھا،خوشامد کرنے والے اپنی زبان میں شائستگی و خوبصورت اشعارکا استعمال کرتے بادشاہوں کی تعریف میں ان کی شجاعت و بہادری کے قصے سناتے، زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے، طاقت و اختیارات اور اقتدار ایک انسان کی شخصیت کو بدل دیتے ہیں، خوشامد کے لفظوں میں اس قدر جادو ہوتا کہ بادشاہ وقت اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا
چودھویں صدی کی بات ہے۔
ہندوستان میں دہلی کے چیف جسٹس قاضی کمال الدین نے اپنی عدالت لگائی ہوئی تھی ۔ ہندوستان کے بادشاہ محمد تغلق کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا ۔ دہلی کے عالم اور فاضل شیخ زادہ جام نے کہا تھا کہ بادشاہ ظالم اور بربریت پسند ہے۔
جب شیخ کا یہ الزام سلطان تک پہنچا تو وہ شاہی سواری کی بجا ئے پیدل قاضی کمال الدین کی عدالت میں پیش ہوا تھا ،وہ یہ الزام برداشت نہیں کرسکتا تھا کوئی اسے ظالم کہے ، وہ تو انصاف کے لیے مشہور تھا ،تغلق نے چیف جسٹس قاضی کمال الدین سے کہا شیخ ذادہ جام کو فوراً عدالت میں طلب کیا جائے اور ثبوت مانگے جائیں ۔
اب شیخ زادہ جام عدالت میں ایک ملزم کی حیثیت سے کھڑا تھا ، اسے بادشاہ کا الزام پڑھ کر سنایا گیا اور قاضی کمال الدین نے پوچھا ”آپ نے بادشاہ سلامت کو ظالم بادشاہ کہہ کر پکارا تھا ؟ ‘‘شیخ زادے نے سر اوپر اٹھایا خاموش رہا۔ بادشاہ کی طرف دیکھا تو اسے وہ دن یاد آیا جب محمد تغلق بادشاہ بنا تھا ،پوری عدالت شیخ زادے جام کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ اس الزام کا کیا جواب دیتا ہے جبکہ شیخ ماضی میں کھو چکا تھا ۔
شیخ ز ادے کو 1325 کا سال یاد آیا جب سلطنت دہلی کا بادشاہ غیاث الدین تغلق پانچ سال ہندوستان پر بادشاہت کے بعد حادثے میں مرچکا تھا ۔ اگرچہ شک اس کے بیٹے محمد تغلق پر کیا جارہا تھا جو اس وقت شیخ زادے کے خلاف شکایت لے کر عدالت میں
کھڑا تھا ، تاہم محمد تغلق نے ایسے ظاہر کیا تھا کہ اسے باپ کی موت کا بہت صدمہ تھا ۔
شیخ کو یاد آیا چالیس دن بعد محمد تغلق ایک بڑے جلوس کے ساتھ دلی کی طرف روانہ ہوا تھا اور پوری دلی کو دلہن کی طرح نئے بادشاہ کے استقبال کے لیے سجایا گیا تھا ، لوگوں کا ہجوم دیکھ کر محمد تغلق نے تقریربھی کی تھی کہ ” میرا باپ غیاث الدین تغلق بھی انصاف کرتا تھا میں بھی انصاف کروں گا ‘‘۔ عدالت میں کھڑے شیخ زادے کو نئے سلطان کے لفظ یاد آئے ” بوڑھا ہو یا جوان سب میرے باپ اور بچوں کی طرح ہیں ۔ میں سب کی فلاح کے لیے کام کروں گا ۔ میں انصاف کے ساتھ حکومت کروں گا اور ایسا انصاف لاوں گا کہ مجھے منصف بادشاہ کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔‘‘
اور پھر محمد تغلق نے اپنے انداز میں انصاف شروع کیا اور سلطنت دلی کے تین سو سال کا سب سے مشکل ترین دور شروع ہوا ۔ شیخ زادہ جام بھی ہندوستان کے بہت سارے مورخوں کی طرح شروع میں یہ فیصلہ نہ کر سکا تھا کہ سلطان محمد تغلق ایک خونی درندہ ہے یا پھر ایک انہتائی ذہین اور سجھدار بادشاہ ۔ بادشاہ ایک طرف لوگوں پر تحائف کی بارش کرتا تو اس سے زیادہ اس دن انسانی لہو بہاتا تھا۔ محل کے دورازے سے فقیر خالی ہاتھ نہیں جاتا تو کوئی دن ایسا بھی نہ گزرتا جب محل کے سامنے کسی انسان کا لہو نہ بہایا جاتا ۔ دھیرے دھیرے سلطان تغلق کے بارے میں مشہور ہونا شروع ہوگیا “اے سینٹ ود دا ہارٹ آف ڈیول “. ۔ جو ہروقت انسانی لہو بہانے کے لیے تیاررہتا تھا ۔ روزانہ اس کے دربار میں سینکڑوں لوگ لائے جاتے جن میں عالموں سے لے کر عام لوگ ہوتے۔ جن کا سر قلم ہونا ہوتا تھا ان کا سر قلم کر دیا جاتا، جن پر تشدد کا حکم ہوتا انہیں تشدد کا شکار کیا جاتا۔ محل کے دورازے پر ہر وقت انسانی لہو بہتا رہتا تھا ۔ دنوں تک لاشیں لٹکی رہتیں تاکہ لوگوں کو سلطان سے ڈرا کر رکھا جائے۔ جمعہ کے علاوہ روزانہ وہاں انسانوں کا لہو بہایا جاتا تھا ۔ سلطان محمد تغلق ایک پڑھا لکھا بادشاہ تھا لیکن اس کے اندر رحم نام کی کوئی چیز نہ تھی۔
سب عالم اور بڑے لوگ سلطان تغلق سے خوفزدہ تھے۔ آواز کون اٹھائے اور پھر دلی کے شیخ زادہ جام نے کہا کہ وہ آواز اٹھائے گا کہ بادشاہ ظالم اور بے انصاف ہے۔ عالم کا کام ہے جب بادشاہ ظالم ہو تو وہ عام انسانوں کا ساتھ دے، بادشاہ کو چیلنج کرے اور پھر شیخ جام زادہ نے آواز بلند کردی جس کی گونج بادشاہ تک پہنچ گئی اور آج بادشاہ اسے چیف جسٹس کی عدالت میں لے آیا تھا اور متمنی تھا کہ ” شیخ کو کہیں میرے خلاف ثبوت دے ‘‘
سب نظریں اب شیخ پر لگی ہوئی تھیں۔ قاضی کمال الدین اور سلطان تغلق بھی شیخ زادہ جام کو دیکھ رہے تھے۔
آخر شیخ نے سر اوپر اٹھایا اور بولے جی میں نے سلطان تغلق کو ظالم اور بے انصاف بادشاہ کہا ہے۔ یہ ظالم ہے۔
پوری عدالت ایک دفعہ ہل کر رہ گئی ۔
سلطان تغلق بھی کانپ کر رہا گیا ۔ کچھ دیر بعد سنبھل کر بولا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے ظلم کیا اور بے انصاف بادشاہ ہوں۔
شیخ زادے نے کہا جب آپ کے سامنے ملزم لایا جاتا ہے تو آپ کا شاہی استحقاق ہے انصاف یا ناانصافی پر مبنی اس کو سزا دیں لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ اس ملزم کے بیوی اور بچوں کو بھی جلاد کے حوالے کردیتے ہیں کہ وہ جو جی چاہے ان کے ساتھ سلوک کریں ۔ اسلام یا کس اور مذہب میں لکھا ہے کہ آپ یہ ظلم کریں؟ کیا یہ ظلم اور بے انصافی نہیں؟
سلطان چپ چاپ عدالت سے باہر نکل گیا ۔
عدالت سے باہر نکل کر تغلق نے حکم دیا شیخ زادہ جام جب عدالت سے باہر نکلے اسے گرفتارکر کے لوہے کے پنجرے میں قید کردیا جائے۔
دوسری طرف بادشاہ کے درباری پریشان تھے کہ سلطان کو کون سمجھائے کہ وہ یہ شیخ زادے کے خلاف یہ سلوک نہ کرے کیونکہ وہ عدالت شکایت لے کر گیا تھا اور اس کی شکایت کا جواب سلطان کے پاس نہ تھا۔
بادشاہ کے درباری پہلے بھی سلطان کے ہر ظلم پر نہ صرف خاموش رہتے بلکہ تعریفوں کے پل باندھتے تھے ۔ ان درباریوں کو یہ ڈر لگا رہتا تھا اگر انہوں نے سلطان کو سمجھانے کی کوشش کی یا سچ بول دیا تو جہاں انہیں دربار سے باہر پھینکا جاسکتا تھا، ان کی شان و شوکت اور دولت سب کچھ چھن سکتی تھی۔ اس لیے وہ سب درباری منافق بن گئے تھے۔ منہ پر بادشاہ کی تعریفیں اور نجی محفلوں میں بادشاہ کے ان مظالم کی آنکھوں ہی آنکھوں میں برائیاں کرتے۔ دنیاوی خواہشات نے اب سب کو منافق بنا دیا تھا ۔ بادشاہ کا ڈھول بجا کر ہی یہ درباری عہدے لے سکتے تھے۔ انہیں سلطنت، معاشرہ یا لوگوں پر ظلم کی پروانہ نہ تھی۔ پرواہ تھی تو ان عہدوں کی جو وہ بادشاہ کی خوشامد کر کے لیے بیٹھے تھے۔ جو بھی زبان کھولنے کی جرات کرتا اسے یہ درباری ہی غدار قرار دے دیتے۔ اس لیے ان درباریوں نے بھی یہی سوچا منافق بن کر جیو اور سلطان سے عہدے لو اور میراثیوں کی طرح بادشاہ کا ڈھول پیٹو۔۔
مشہور مورخ ضیاء الدین برنی نے جو خود بھی سلطان کے قرببی درباری تھے، نے اپنے جیسے ان سب درباریوں کے بارے میں لکھاہے ” دنیاوی دولت اور عہدوں کی لالچ نے ہم سب کو منافق بنا دیا تھا ۔ ہم سب درباری سلطان کے دربار میں کھڑے سلطان کو غیرانسانی اور غیرقانونی سزائیں دیتے دیکھتے رہتے اور چپ رہتے۔ سلطان کی وجہ سے ملنے والی دولت اور عہدوں نے ہم سب درباریوں کے منہ بند کر دیے تھے کہ ہم بادشاہ کو کہہ سکتے آپ غلط کررہے ہیں۔سلطان محمد تغلق کے ہم سب درباری اپنے اپنے ذاتی فائدوں کے لیے منافق بن گئے تھے‘‘ ضیاء الدین برنی نے یہ جملہ اپنی آخری عمر میں لکھا ۔
اسی شیخ زادے جام کی لاش کو عدالت کے باہر سلطان نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھنکوا دیا جہاں شیخ زادے نے جرات کر کے ظالم بادشاہ کے خلاف گواہی دی تھی۔
جب دلی کے قاضی کمال الدین کی عدالت کے باہر انصاف کا قتل ہورہا تھا اورشیخ زادے جام کی لاش ٹکڑوں میں تبدیل ہورہی تھی اس وقت بھی سلطان محمد تغلق کے یہ سب منافق اور عہدوں کے لالچی درباری عدالت کے باہر خوشی سے بے حال ہو کر مبارکبادوں کے شور میں ڈھول کی تاپ پر لڈیاں ڈال کر لڈو بانٹ رہے تھے اسی طرح ہر دور میں
بادشاہوں کو ایسے درباری علماءنصیب ہوئے ہیں جنہوں نے دین کی اصل شکل کو مسخ کرکے دین کے احکامات کو بادشاہوں کی خواہشات کے تابع کیا۔ بادشاہ اپنی مرضی سے قاضی مقرر کرتا جو بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ سناتا ۔ یہی وجہ تھی کہ بعض اوقات علمائے حق بادشاہوں کے دربار میں ایسے مناصب قبول کرنے سے اجتناب کرتے تھے ، یہاں تک کہ وہ بادشاہ کے حکم کی خلاف ورزی پر سزا پانے کے لیے تیار ہوجاتے تھے لیکن چند ٹکوں کے عوض دین بیچنے پر راضی نہیں ہوتے تھے۔ مغلیہ دور میں اکبر بادشاہ کا دور بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔ اکبر بادشاہ خود تو ان پڑھ تھا لیکن اعلیٰ دماغ کا حامل تھا ۔ اس نے ہندووں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اس نے دین الہٰی کے نام سے ایک نیا دین بھی جاری کیا۔ جو ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اس نے اپنے غیر اسلامی معاملات کو رواج دینے کے لیے اپنے دربار میں ایسے لوگ جمع کیے ہوئے تھے جو علم و فن میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ اکبر بادشاہ کو ابو الفضل اور فیضی جیسے معتبر علماءکی صحبت نصیب ہوئی جنہوں نے بادشاہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ متذکرہ دونوں علماءاپنے علم و فن میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ فیضی کے متعلق آتا ہے کہ وہ بہت بڑا مصنف تھا۔ اس کی تصنیفات کی تعداد ۱۰۰ سے زیادہ تھیں۔ تاریخ ، فلسفہ اور طب وادبیات کا ماہر تھا۔ اس کے علم و فن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے سواطع الالہام کے نام سے قرآن مجید کی غیر منقوط تفسیر لکھی۔ اکبر بادشاہ کی سوانح تین جلدوں پر مشتمل اکبر نامہ کے نام سے اسی کی کاوش تھی۔ اس طرح دربار اکبری کا دوسرا عالم ابو الفضل بھی اپنے وقت کا بلند پایہ مصنف تھا ۔ اس کے خطوط کا مجموعہ فارسی ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔یہ آزاد خیال شخص تھا ۔ علماءاسے دہریہ سمجھتے تھے۔ اکبر کے دین الٰہی کے اجراءکا سبب یہی بناتھا۔ اسی نے اکبر بادشاہ کے مذہبی عقائد پر بہت اثر ڈالا اور بادشاہ کو یقین دلایا کہ مذہب کے معاملات آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دربار اکبری کے دونوں علماءکی ترغیب و تحریص اور تعاون سے اکبر بادشاہ دینِ الٰہی کے نام سے ایک نیا دین قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ اس دین کو کامیاب کروانے میں درباری علماءکا بہت بڑا کردار تھا۔ اگر کوئی علمائے حق میں سے اکبر بادشاہ کے خلاف آواز اٹھاتا تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑتایا اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا۔ حضرت شیخ مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے
پروفیسر عزیر بگٹی لکھتے ہیں
بلوچوں کے خان میر محراب خان کی دربار میں درباریوں کا غلبہ تھا، ان میں داود محمد غلزئی اخوند فتح محمد اس کا بیٹا اخوند محمد صدیق ملا محمد حسن اور شریف محمد خصوصی طور پر قابل ذکر ہے ان کو بلوچ سرزمین اور بلوچ حکومت سے کوئی دلچسپی اور وابستگی نہیں تھی۔
انھیں محض اپنے وزارت اور ذاتی مفاد سے غرض تھا لطف کی بات یہ ہے مذکورہ درباری حصول مال و زر کی خاطر ایک دوسرے سے خار رکھتے تھے اور آپس میں مستقل چپقلش سی کیفیت میں رہتے تھے ان میں سے ہر ایک اپنی حریف کا خاتمہ کرکے اس کی جگہ قلات کا وزیر بننے کی خواہش رکھتا، اس مقصد کی حصول کے خاطر انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، اخوند قتح محمد اور داود محمد علزئی بھی اس چپلقش کے بھینٹ چڑھ گئے اسی چپقلش اور ذاتی مفاد کے لالچ انھیں انگریز کی ایجنٹ بننے کی طرف مائل کیا، مذکورہ درباریوں کی باہمی چپقلش محض ان تک محدود نہیں رہی ان کے لپٹ میں بیشتر بلوچ سردار بھی آگئے کیونکہ انہوں نے مختلف سرداروں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کی شادی کرکے ان سے قربت داری پیدا کی تھی خان کے سرداران سراوان اور سردار جھالاوان اخوند فتح محمد کے داماد تھے اس طرح متذکرہ درباریوں کی چپقلش اور سازشیں بلاواسطہ طور بلوچ قباہلی معاشرے پر اثر انداز ہو کر ان کے اندر نفاق اور گروہ بندی پیدا کردیتی تھی جس کے باعث بلوچ کنفڈریسی میں رخنے پڑنا شروع ہوگہے
کیا اس وقت بلوچ تحریک درباری گری کا شکار نہیں ؟ پارلیمانی پاکستانی طرز سیاست کی طرح چاپلوسی خوشامدی پوائنٹ اسکورنگ ایک دوسرے سے بازی لیجانے، پاوں کیچھنے کی رجحانات خاص کر موجودہ نام نہاد الیکشن میں پارلیمانی پارٹیوں میں جو سرکشی اور منظر کشی دکھائی دے رہا تھا کیا وہ منفی اثرات اور جراثیم بلوچ تحریک پر اثر انداز نہیں ہیں ؟کیا قومی تحریک یا قومی جنگ جس کی سفر صرف بلوچ قوم کی خون  اور بے شمار قربانیوں کی بدولت محو سفر ہو پھر ایسے منفی رجحانات کے متمحل ہوسکتا ہے ؟قطع نظر پارلیمانی مراعات یافتہ مفادات اور سستی شہرت کی سیاست میں یہ سب کچھ مناسب جائز اور ضرورت ہیں کیونکہ جہاں قربانی اور خون کی تصور نہیں
کیا پھر تحریک آزادی کی جہد میں ایسے فرسودہ آزمودہ نسخوں اور رجحان کو پروان چڑھانا تحریک کے لیے سود مند ہونگے؟
ہر گز نہیں میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں آج بھی کہوں گا اور آئندہ بھی کہوں گا اگر اس دفعہ حالیہ بلوچ مزاحمت خدانخواستہ سردمہری کا شکار ہوا تو اس میں اور بھی کوئی نہ کوئی وجوہات ضرور ہونگے لیکن سب سے اہم وجہ درباریوں اور چاپلوسیوں کا کردار اور دوسرا تحریک میں غیر سنجیدگی اور سطحی پن سوچوں کی بھرمار ہوگا۔
درباریوں کا بنیادی نفسیات خصلت اور طریقہ واردات ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے سب سے پہلے قیادت، بادشاہ، سردار، نواب، حاکم وغیرہ کی پورے طرح ذاتی مزاج طبعیت ،خواہشات ،خوشی ،ناراضگی، غم، پریشانی، تکلیف و سکون، لطف و بے چینی سب چیزوں کو انتہائی باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے بعد سب چیزوں کو مدنظر رکھ عمل درآمد شروع کرتے ہیں انتہائی شاطرانہ اور چرپ زبانی کے ساتھ صفت خوانی خوشامدی شروع کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ذیادہ تر قیادت کے سامنے اس کے مخالفین پر زبردست کیچڑ اچھالنے کاکام کرتے ہوئے مخالفین کو غلط، ناکام، نالائق اور کچھ نہ ہونے کی حد تک پیش کرتے تاکہ وہ مزید خوش ہو ، تو پھر بادشاہ ،قیادت ،حاکم وغیرہ جتنا باصلاحیت اور باکمال ہو وہ درباریوں اور چاپلوسی کی زد سے اس طرح نہیں بچ سکتا ہے جس طرح کوئی ہیروہنی  نشے میں دھت انسان نہیں بچ سکتا ہے کیونکہ وہ پھر صرف تعریف صفت و ثناء اور خوشامدی کی عادی ہوگا ،بعد میں درباریوں اور چاپلوسیوں کی کمال ہے وہ کس طرف اور کہاں اسے لیجائے، آخر کار درباریوں اور چاپلوسیوں کی آپسی چپقلش ضد و انا ذاتی مفادات مقام رتبہ دربار سے قربت کی آپسی جنگ و جدل سازشیں جھوٹ فریب منافقت حسد و بغض سب ملکر قیادت، بادشاہ، سردار، حاکم وغیرہ کو زوال اور فنا سے دوچار کردینگے
ایسے بے شمار حقیقت پر مبنی واقعات سے پوری ایک زندہ تاریخ آج بھی انسانی دلوں اور کتابوں میں موجود ہے جن کو پڑھنے سمجھنے اور سننے کے بعد ایک انجان قسم کا خوف محسوس ہوتا ہے،جب سب کچھ انسان اپنی آنکھوں سے خود اپنی حالت کو کبھی کبھار دیکھتا ہے
ہر ایک انسان کو کوئی بھی انسان حقیقت اور سچائی کے بنیادوں پر کبھی بھی خوش اور مطمن نہیں کرسکتا البتہ جھوٹ دورغ گوہی دھوکہ، مصنوعی دکھاوئے کے بل بوتے پر ہر ایک کو مکارانہ اور شاطرانہ طریقے سے خوش اور مطمن تو کرسکتا ہے لیکن یہ منفی عمل خود چاپلوسی اور درباریت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے، اگر آپ ایسا نہیں کرو گے تو آپ لوگوں کی آراء میں ضرور ناقابل قبول اور متنازعہ ہونگے لیکن وقت اور تاریخ کی صفحوں میں ضرور غیر متنازعہ اور قابل قبول ہونگے تو پھر اصل چیز تاریخ اور وقت ہے، لوگوں کی آراء اور آج نہیں ہے کیونکہ فیصلہ ہمیشہ وقت مورخ اور تاریخ کی ہوگی لوگوں کے صرف آراء ہونگے جن کی وقتی ہی اثر ہی صحیح مستقبل میں کوئی اہمیت نہیں ہوگا
بہرحال تمام جہدکاروں کو  اگر تاریخ اور وقت کی صفحوں میں زندہ ہونے کی خواہش اور تمناء ہے کم از کم غلطی ،ناسمجھی اور لاشعوری سے بھی دن کو رات اور رات کو دن، سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کسی کی طبعیت ،خواہش اور مزاج کی خاطر کہنے سے گریز کریں بصورت دیگر تاریخ وقت اور مورخ انتہائی بے رحم ہے۔