Powered By Blogger

четверг, 20 сентября 2018 г.

صورت خان مری کی رائے کے روشنی میں – برزکوہی

کل کسی دوست نے واجہ صورت خان مری کا کوئی حالیہ صوتی انٹرویو وٹساپ پر بھیجا تو سننے کاموقع ملا، کیونکہ صورت خان مری کو میں روزاول سے بلا ناغہ سنتا اور پڑھتارہا ہوں اور اس سے سیکھتا ہوں، تو حسب روایت انٹرویو بھی سنا۔ سننے کے بعد مجھے یہ تعجب ہوا کہ اس حالت میں ایک تو واجہ صورت خان مری عمر کی لحاظ سے بہت ضعیف اور بیمار ہیں، پھر بھی غنیمت اگر کسی کو بھی ایسا موقع مل جاتا ہے کہ ان سے بات کرے، تو کم از کم بلوچ قوم، دنیا عالم کیلئے اور کم از کم خود کیلئے کچھ سیکھنے اور آگاہ ہونے کا ماحول بنانا چاہیئے۔ اور واجہ صورت خان سے علمی و تجرباتی استفادہ حاصل کرنے کے خاطر مجموعی اور قومی مقصد اور فکری و نظریاتی بنیادوں پر کچھ حاصل کرنے کی کوشش ہونا چاہیئے تھا، تو قابل داد عمل ہوتا۔ بجائے سب کو نیچا دکھانے، خود کو آسمان پر چڑھانے کی ناکام کوشش کرنے کے۔
مگر افسوس بدقسمتی سے یہ انٹرویو کم بلکہ صورت خان مری صاحب کو بطو وکیل صفائی یا آخری سہارا بنانے کی ایک ناکام کوشش نظر آئی، انٹرویو کو ایک موقع سمجھ کر کسی محترم بلوچ بہن کو چند ذاتی خواہشات، ذاتی مقاصد اور ذاتی ایجنڈے کے تحت چند مخصوص سطحی فیسبکی سوالات تھما کر، اس سوچ کے ساتھ روانہ کرنا کہ واجہ صورت خان صاحب بھی سوشل میڈیا کے چند نابالغ اور غیر سنجیدہ ایکٹیوسٹوں کی طرح تمام تنظیموں کے قائدین اور جہدکاروں کو غلط اور مسترد کرکے یہ کہہ دیں گے کہ بس بلوچ واحد قوم ہے، واحد تحریک ہے، اور فلانہ واحد اصول پرست کرشماتی و کراماتی اس کا لیڈر ہے اور باقی سب کے سب حقیر، فقیر، نتو خیرو ہیں اور کوئی کچھ نہیں، باقی سب کے سب ناکارہ پرزے ہیں۔ لیکن واجہ صورت خان مری نے انکے ذاتی فرمائش، خواہش، توقعات اور فرمودات کے برعکس 5 سالہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں شروع کئے گئے اسی قسم کے منفی پروپگنڈوں، الزام تراشیوں، گالی گلوچ کو عامیانہ قسم کی آراء یا پروپگنڈہ قرار دیکر مسترد کر دیا۔ ان کونا قبول کیا اور نا ان کی تائید و تعریف کی، یہ نہیں کہا جنہوں نے یہ عمل شروع کیا، انہوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے بلکہ اسے انارکی اور انتشار قرار دیکر لوگوں اور خاص کر سمجھنے والوں کی توجہ اصل اور بنیادوں حقائق کی طرف متوجہ کیا۔ یہ انٹرویو تو انٹرویو کرنے والوں کے توقعات کے اتنے برخلاف تھا اگر بس چلتا تو وہ اسے شائع نہیں کرتے لیکن واجہ صورت خان کی عادت ہے کہ وہ مختلف جگہوں سے دریافت کرتے رہتے ہیں کہ شائع ہوئی یا نہیں اگر ہوئی تو توڑی یا مروڑی نہیں گئی، سو مجبوراً شائع کی گئی۔
واجہ نے جوابات میں جواب کم دیا بلکہ خود سوال اٹھایا، اب سوال سے سوال پیدا ہونا اور پھر سوال سے پیدا ہونے والے سوال کو لیکر سوال کرکے کسی دانشور سے جواب حاصل کرنا اور قارئین کی تشنگی ختم کرنا اور علم و شعور سے مستفید کرنا کسی بھی صحافی کا معیار و صحافتی اصول اور ہنرمندی ہوتا ہے، لیکن یہاں معاملہ ایسا نہیں تھا، ایک تو محترمہ صحافی نہیں ہوگی، دوسری بات اگر صحافی ہو بھی اسے سوالات روانہ کرکے ہدایت اور خبردار کیا گیا تھا کہ بس یہ چند سوالات کے علاوہ زیادہ صحافی بننے کی کوشش نہیں کرنا، بس صرف جواب میں کچھ تعریفی صفت و ثناء والی کلمات اور باقی سب کو غلط قرار دینے والی کچھ اچھے قسم کے باتیں واپس لانا اور مقصد کچھ نہیں، بس اپنے مرضی کے جواب لینا مقصود تھا۔
تو کیا یہ عمل خود صحافت اور صحافتی اصولوں اور انٹریو کے زمرے میں شمار ہوتا ہے؟ میرے نزدیک واجہ سے جس مقصد کے تحت اپنے حق میں کچھ کہنے کی توقع رکھا گیا، وہ ایک غلط اندازہ اور تجزیہ تھا اور پھر واجہ کی باتوں کو شائع کرنا جس توقع کے ساتھ ہوا، وہ بھی ایک غلط اندازہ اور تجزیہ تھا، ہم نے بارہا کہا ہے کہ لمحہ بہ لمحہ شروع سے لیکر آج تک غلط اندازوں اور سطحی تجزیوں کی وجہ سے ہی حالات اس نہج پر پہنچ گئے، ہمیشہ ہر قدم، آراء اور فیصلے سے قبل اگر اس کے بارے میں اندازہ، تجزیہ، سطحی اور سرسری ہو تو اس کے نتائج بھی غلط اور صحیح نشانے پر نہیں ہونگے فی الحال تو معامالہ ایسا چلتا آرہا ہے۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو واجہ کی پوری انٹریو خود بیساکھی یا سہارا بننے کے بجائے معذور پیروں پر ایک اور کلہاڑی اور کم عقل دماغ پر ایک اور ہتھوڑا مارنے کے مترادف ثابت ہوا۔
2010 سے لیکر آج تک آپ اخبارات، سوشل میڈیا، محفلوں اور مجلسوں کے ذریعے حتیٰ کہ میدان جنگ میں بھی انتہائی ترند و تیز انداذ میں صبح و شام اپنی تمام ترانرجی خرچ کرکے حربہ، سازش، الزام و دشنام، گالی گلوچ، اغواء و قتل وغیرہ وغیرہ کی انتہاء پر پہنچ کر یہ ثابت اور وضاحت نہ کرسکے کہ بی ایل اے اور یوبی اے کے اختلافات، جنگ، یوبی اے کے بننے اور اس سے آپسی جنگ کے اصل حقائق اور وجوہات پس پردہ کیا تھے؟ یہ سوال اب میں نہیں اٹھا رہا ہوں بلکہ بلوچ دانشور واجہ صورت خان مری اٹھا رہا ہے اور آپ خود اس سوال کو شائع کرکے ہمارے بھی اسی رونے اور موقف کی تصدیق کررہے ہو۔ ہم نے بارہا کہا، رویا کہ چند سطحی، مخصوص، فیسبکی، غیرسنجیدہ لوگ اور مخصوص و محدود سرکل آپ کی اقدامات اور باتوں پر ضرور واہ واہ کرتے ہوئے وقتی طور پر مطمئین ہونگے، ان کا شعور و علم اور سوچ اور اپروچ کی سطح یہی ہے لیکن جو دانشور ہے، جو تاریخ دان ہے، جو اعلیٰ شعور و علم کے مالک محققین ہیں، وہ ایسے ویسے بے بنیاد غیر منطقی سطحی باتوں سے مطمین نہیں ہونگے۔ جس کی واضح مثال آپ نے خود پیش کیا، صورت خان مری کی شکل میں کہ وہ جواب اور وضاحت طلب کررہا ہے، وہ مطمین نہیں ہے۔ صورت خان مری ایک بلوچ دانشور ہے، بلوچ قوم سے ہے، آج بھی بلوچ سرزمین پر بیٹھا ہوا ہے، 60 کی دہائی سے سب کچھ دیکھ رہا ہے، محسوس کررہا ہے، مطالعہ کررہا ہے، وہ فین، سارتر، ایڈور سعید، گرامچی اور جان ریڈ وغیرہ نہیں ہم اسے اس پربات نظر انداز کریں کہ ان کے زمینی حقائق اور حالات اور تھے، ہمارے حالات اور ہیں وہ وقت اور تھا آج اور مختلف ہے، یہ جی صورت خان مری ہے، جو آپکا دانشور اور آپکے زمینی حقائق سے مکمل واقف ہے، وہ بھی جواب اور وضاحت کا طلبگار ہے؟ کہ یوبی اے اور بی ایل اے کی تقسیم، اختلاف اور آپسی جنگ کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
کیا اس وقت بلوچ قوم میں صورت خان مری کے علاوہ ایسا کوئی بھی دانشور ہے، جو کسی بھی پارٹی یا شخصیت کی وفاداری کے بجائے، ایسا غیرجانبدار آزادی پسند اور بلاخوف و لالچ کوئی اور اعلیٰ قسم کے علم و تجربہ رکھنے والا ہو ؟ اگر جواب نہیں میں ہے؟ تو پھر کیا صورت خان مری کا موقف، ادراک اور سوچ غلط ہوسکتا ہے؟ اگر غلط ہے تو اس کو غلط ثابت کرنے کے لیئے کوئی ٹھوس علمی دلیل اور منطق موجود ہے؟
کیا صورت خان مری تنظیم، تحریک، ڈسپلن، احتساب، تنقید، ادارہ، ہائی کمان وغیرہ وغیرہ سے علمی حوالے سے اس طرح نابلد اور نا واقف ہے؟ کہ صورت خان مری کو ایسی چیزوں اور خالی خولی باتوں پر قائل اور متاثر کرکے اس سے حمایت حاصل کیا جاسکتا ہے؟
کیا صورت خان مری ماہانہ خرچہ، موبائل فون، لیپ ٹاپ (بڑھائی)روٹی کپڑا مکان، کرایہ، گاڑی کی خاطر اپنا ضمیر اور علم کو بیچ کر درباری اور چاپلوس بن کر خوف اور لالچ میں کچھ کہے گا یا لکھے گا؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں کیونکہ جہاں علم و شعور ادراک اور ذہانت دستیاب ہو، وہاں پھر چاپلوس، وفادار اور درباری بننا اور خوف اور لالچ میں مبتلا ہونا ممکن نہیں ہوگا۔
میرے نزدیک اگر کوئی سمجھنے والا اپنی آنکھیں، کان اور دماغ کے دریچوں کو کھول کر سمجھ لے تو صورت خان مری کے حالیہ انٹریو میں وہ سب چیزیں واضح انداز میں لفظ بہ لفظ اظہار پاچکے ہیں اور کم از کم ہمارے موقف اور خیالات کی تصدیق ہوچکا ہے۔
میں نے باربار اپنے تحریوں میں ذکر کیا ہے کہ محدود اور مخصوص سرکلوں اور ٹولوں سے نکل کر ہمیں سوچنا چاہیئے، ہوا نہ وہی بات؟ اپنے مخصوص و محدود سرکلوں اور خوشامدیوں کے زیر سایے آپ تو امیرالمومنین بن گئے تھے لیکن دانشور حضرات ابھی بھی جواب اور وضاحت چاہتے ہیں کہ بی ایل اے اور یوبی اے کی تقسیم کی اصل وجوہات اور حقائق کیا تھے؟
یاد رکھا جائے مورخ ایسے ہوتے ہیں، ہم نے بارہا کہا مورخ اندھا اور بہرہ نہیں ہوتا ہے، مورخ درباری اور خوشامد پسند بھی نہیں ہوتا ہے۔
میں آج بھی برا ملا کہتا ہوں کہ موجودہ بلوچ قومی تحریک کی باقی تمام غلطیاں، بلنڈر، کمزوریاں اپنی جگہ لیکن تین چیزوں کو مورخ انتہائی بے رحمی کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کے لیئے انتہائی نقصاندہ اور خطرناک اور پاکستان کے لیے انتہائی فائدہ مند قرار دیگا نمبر 1۔ یوبی اے اور مری بلوچوں کے خلاف بی ایل اے کے طاقت کا استعمال نمبر 2۔بی ایل اے کے گمنام غیرمتحرک آزاد نامی ترجمان کے نام سے بی ایل اے کے رہنماء اسلم بلوچ کی انڈیا موجودگی یعنی تحریک کو انڈیا اور دوسرے مذہیبی شدت پسندوں سے جوڑنا 3۔بی ایل اے کے جانثار مجیدبرگیڈ فدائی ریحان بلوچ کی چینی انجنیئروں پر فدائی حملے کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کا نام دینا۔ یہ ایسے تاریخی بلنڈر ہیں کہ ان کے منفی اثرات آج بھی تحریک پر پڑ رہے ہیں اور مستقبل میں انتہائی بھیانک انداز میں پڑینگے۔ جس طرح صورت خان مری سوالات کے بوچھاڑ میں حقائق کو واضح کرتا ہے، کل مورخ ضرور لکھے گا، اسی طرح کہ یہ تمام فردی فیصلے اور بلنڈر ہوتے رہے لیکن درباری خوف اور لالچ کے عوض تماشائی بنے تھے یا پھر سب کی رضامندی شامل تھی، یہ بلنڈر ضرور تاریخ کا حصہ ہیں اور حصہ ہوچکے ہیں۔
ہم نے بارہا کہا! جھوٹ، حربہ، سازش، بلیک میلنگ، منفی پروپگنڈہ، الزام تراشی، گالی گلوچ، تشدد کسی کو نیچا دکھانے سے سوشل میڈیا، چاکنگ، مظاہرے، پوسٹرسازی، پروفائل پکچر، سطحی، تعریفی مضامین، صفت خوانی، سخت ڈسپلن اصولی کرشماتی کرماتی واحد قومی لیڈر کی جملوں کی رٹہ بازی سے بات نہیں بنے گا۔ ضرور کچھ نادان، معصوم، کم علم، کم عقل، جذباتی، بے شعور، غیر سنجیدہ، خود غرض، رافراریت اختیار کرنے والے چاپلوس لوگوں کی آنکھوں میں ایسے چیزیں دھول بن کر وقتی گمراہ ہوسکتے ہیں لیکن مورخ دانشور اور باشعور اور باعلم مخلص بے غرض اور بہادر لوگوں کے لیئے ایسے تمام چیزیں سطحی اور عامیانہ ہونگے۔ خاص کر تنقید اور حقیت پسندی کے نام پر سوشل میڈیا کی گند آلود بحث ہم نے کہا تھا وقت ضائع کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں اور صرف خوش فہمی اور دل بہلانا ہے اور کچھ نہیں۔ آج صورت خان کو سمجھنے سے سب کچھ ملے گا اگر عقل و شعور تھوڑا بھی ہے۔
واجہ کے انٹرویو کے تناظر میں کچھ سوالات، بلوچ طاقت کو بلوچ عوام کے خلاف استعمال اور پھر تحریک سے بلوچ عوام کی حمایت کا ختم ہونا کیا کوہستان مری میں جو مری بزرگ، معصوم بچے، مرد اور خواتین رہائش پذیر تھے وہ بلوچ عوام شمار نہیں ہونگے؟ کیا بی ایل اے کا طاقت ان کے خلاف استعمال نہیں ہوا؟ وہاں بلوچوں کا سرعام اور علی الاعلان قتل عام، مال مویشیوں کا چوری، گھروں اور گدانوں پر حملہ اور انہیں نذر آتش نہیں کیا گیا؟ اور 80 سالہ بلوچ جہدکار نواب خیربخش مری کے قریبی دوست بلوچ گوریلا کمانڈر رحمدل مری کا اغواء نہیں ہوا؟ آج تک معلوم نہیں وہ زندہ ہے یا شہید ہوچکا ہے؟ کیا بی ایل اے بلوچ قومی طاقت نہیں تھا؟ کیا بے گناہ بلوچوں کے خلاف استعمال نہیں ہوا؟ اگر فرض کریں وہ گناہ گار تھے، تو کوئی دلیل کوئی وضاحت؟ آج یہ میں نہیں کہتا واجہ صورت خان مری کہتا ہے میں نے پہلے کہا آپ کی تاریخ ایسے لوگ لکھتے ہیں۔ سوال آپ نے کیا کہ بلوچ قوم کی طاقت بلوچ قوم کے خلاف استعمال سے بلوچ قوم کی حمایت تحریک سے ختم ہوا تو جواب صورت خان مری نے دیا بلکل کوہستان مری انگریز دور سے مزاحمت کا گڑھ اور علامت تھا، وہاں پاکستان اور انگریز دشمن کی طاقت کے باوجود سڑک نہیں بنا سکے لیکن بی ایل اے اور یوبی اے کے آپسی جنگ کے بعد سڑک بھی بن گیا اور ٹریفک بھی زور و شور سے جاری ہے اور کامیاب پاکستانی الیکشن پہلے ممکن نہیں تھا، اس دفعہ کوہستان مری میں جوش و خروش سے الیکشن بھی ہوا، یہ میں نہیں کہتا صورت خان کہہ رہا ہے، صورت خان کو تو ڈاکٹر نظر استاد اسلم اور بشیر زیب استعمال نہیں کررہے ہیں۔
صورت خان مری کہتا ہے کہ سڑکوں کا اجازت تو نہیں ہوا ہے؟ کیا مخصوص ایجنڈے کے تحت یہ آپسی جنگ خود اجازت کی طرف واضح اشارہ نہیں ہے؟ پہلے قومی طاقت کو تقسیم پھر آپسی لڑائی بلوچ عوام میں مایوسی، بدظنی، سرنڈر، قتل عام، مزاحمت کا صفایا، پھر سڑکوں کی تعمیر، الیکشن اور لیویز فورس کے ذریعے قومی مڈی، جنگی سازوسامان دشمن کے حوالے، اس کے بعد آخری مرحلے میں کوہستان مری سے تیل و گیس اور بے پناہ دیگر وسائل کو نکالنا، اس وقت نواب خیربخش مری تھا جو پوری زندگی کوہستان مری میں موجود وسائل کو ہاتھ نہ لگانے دیتے اور بلوچ قوم کا ملکیت، امانت تصور کرتے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواب خیربخش مری کی زند میں نواب صاحب نے یوبی اے بنایا اور بی ایل اے سے علیحدگی اختیار کی تو جب نواب صاحب حیات تھے، تو اس وقت یوبی اے یا مری عوام کے خلاف کیوں بلوچ قومی طاقت یعنی بی ایل اے استعمال نہیں ہوا؟ اور نواب صاحب کے وفات کے فورا بعد نواب صاحب کی قبر کی مٹی خشک نہیں ہوا تھا، وہاں بی ایل اے کے طاقت کا استعمال ہوا؟ کیا کوہستان مری سے مزاحمت کا بیخ کنی سڑکوں کی تعمیر انہی سڑکوں کے ذریعے فوجی نقل و حرکت کے ساتھ قدرتی وسائل کو لےجانے کا منصوبہ بندی اور مخصوص ایجنڈہ نہیں تھا؟ اگر نہیں تو پھر یوبی اے اور بی ایل اے کی آپسی لڑائی کی کیا وضاحت؟ بقول واجہ صورت خان مری کے اس کے بعد بی ایل اے کے مخلص سینئر اور اکثریت دوستوں کی یوبی اے کے ساتھ پہلے ایک سال جنگ بندی اور پھر جنگ کا مکمل خاتمہ اس عمل کو برا مان کر مخلص دوستوں کو دیوار سے لگانے کی ناکام کوشش کیا گیا، کیا یہ عمل خود مخصوص ایجنڈے کی تکمیل نہیں تھا؟
لیکن بی ایل اے اور یوبی اے کی آپسی جنگ کا خاتمہ، خود آج اس بات کی واضح ثبوت ہے کہ بی ایل اے نے آپسی جنگ کو مسترد کرکے پورے آپسی جنگ کا خاتمہ کیا، آج بلوچ قوم کی خوش قسمتی ہے، کوہستان مری میں یوبی اے اور بی ایل اے کے دوست آپس میں شیروشکر ہوگئے اور کوئی واقعہ، کوئی جنگ اور کوئی جھگڑے کی ایک معمولی سی جھلک بھی دیکھائی نہیں دے رہا اس حقیقت سے کوئی انکار کرسکتا ہے؟
اور یہ بات متوقع ہے کہ جلد یوبی اے اور بی ایل اے کے سرمچار کوہستان مری میں مشترکہ طور پر ایک ساتھ ہوکر بلوچ جنگی سازوسان اور قدرتی وساہل کی لوٹ مار اور ریاستی و بیرونی استحصالی حکمت عملی و منصوبہ بندی، عزائم اور ایجنڈے کو خاک میں ملا دینگے۔
دوسری جانب واجہ صورت خان مری جو بار بار ہمیشہ کہتا آرہا کہ بلوچ سیاسی پارٹی، سیاسی قوت کی فقدان ہے، وہ بھی سرزمین پر اسی وجہ سے مسلح گروپس میں انارکی، تقسیم در تقسیم، بے لگامی کی کیفیت ہے تو ایک بار پھر واجہ ہمارے موقف کی تائید کی جب تک سیاسی سوچ، علم و شعورعوام میں نہیں ہوگا، اس وقت تک مسلح جہدوجہد اور تحریک کی کامیابی ممکن نہیں ہوگا۔ صورت خان مری یہ نہیں کہتا کہ مضبوط سفارت کاری، سوشل میڈیا بحث و مباحثے، باہر مظاہرے، جلسہ جلوس کی ضرورت ہے گوکہ یہ کسی حد تک ضرورت ہے لیکن مسلح جنگ کو منظم کرنے اور لگام دینے اور دھڑے بندی سے بچانے کی حصول کے خاطر سیاسی پارٹی کی ضروت ہے، جو ریاست کا نعم البدل ہو، جو گراونڈ میں موجود ہوکر ریاست کی نعم البدل ہوسکتا ہے ہزاروں میل دور ہوکر کیسے کس طرح ریاست کا نعم البدل ہوسکتا ہے؟
میں مزید واجہ کی مستند رائے کی تشریح کرتا چلوں، جب سیاسی پارٹی ہوگا تو خود قوم اور نوجوانوں میں سیاسی شعور و علم ہوگا، جب سیاسی علم شعور ہوگا تو مسلح جدوجہد کنٹرول ہوگا یعنی سیاسی شعور و علم ہی کے مقابلے میں پھر کوئی لاکھ کوشش کرے، مسلح دھڑہ بنا لے بے لگام ہو تو بلوچ عوام کی سیاسی شعور اور علم کے سامنے بےبس حمایت سے محروم اور ناکام ہوگا بلکہ ختم ہوگا۔ اس کو کوئی بھی قبولیت نہیں ملیگا، جب سیاسی شعور نہیں تو ایک درجن اگر مسلح گروپس آزادی کے نام پر بنے ان کا ایجنڈہ جو بھی ہو تو لاشعوری، جذباتی اور غیر سیاسی بنیادوں پر بھیڑ بکریوں کی طرح نوجوان آنکھیں اور کان بند کرکے دوڑتے ہوئے بطور ایندھن استعمال ہونگے، جس طرح آج ہوتے جارہے ہیں اور مسلح گروپس کو سہارا اور ایندھن بن رہے ہے اور کسی کے بھی ذاتی اور خاندانی مفادات کے نگہبان اور محافظ بن رہے ہیں، اس لیئے مخصوص اور ذاتی مفادات کے خاطر بقول واجہ صورت خان کے روذاول سے سیاسی قوت تشکیل نہیں دیا گیا ہے، تو اس کا برائے راست تانے بانے مخصوص مفادات کی حصول اور تکیمل سے ملتے ہیں۔
اب ضرورت اسی امر کی ہے کہ بلوچ عوام میں ہر مکمن حد تک کوشش ہو، علم و شعور اور ذہنی تربیت کو تیزی کا ساتھ پھیلانا تب جاکر قومی مسلح جہدوجہد منظم اور موثر ہوگا۔

суббота, 8 сентября 2018 г.

تنظیم و ڈسپلن کے دعویدار، خود نابلد – برزکوہی

چلیں! لمحہ بھر کیلئے ہم ان تمام انشاء پردازیوں، دشنام طرازیوں، الزامات در الزمات اور حقائق و فسانے کے غیر متفرق گنجلک دلدل سے ہاتھ پیر مار کر نکلتے ہوئے بالا تر ہوکر، خالصتاً بطورِ ایک غیر جانبدار بلوچ ، بلوچ لکھاری اور تحریک کے ہمدرد کے حیثیت سے ناپ تول کرکے دیکھتے ہیں کہ کون موسیٰ کون فرعون، کون صحیح کون غلط، کون ملامت کون سلامت۔
ایک توقف کیلئے بیانیوں کو مان کر دیکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ بی ایل اے کے سینئر کمانڈر استاد اسلم بلوچ گذشتہ سال ہائی کمان، ڈسپلن اور اداروں کو بائی پاس کرتے ہوئے بغیر اجازت علاج کے غرض کیلئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں پھر ردعمل میں بی ایل اے کے ایک ترجمان آزاد بلوچ اخباری بیان میں یہ بات آشکار کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ حقائق قوم کے سامنے لارہا ہوں پھر فوراً بی ایل اے کے دوسرے متحرک ترجمان جیئند بلوچ اس بیان کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیے دیتا ہے اور سارے الزامات مسترد کرتا ہے۔
سلسلہ چلتا ہے اور کچھ وقت بعد بی ایل ایف کے ترجمان گہرام بلوچ کا بیان نظروں سے گذرتا ہے جس میں وہ اعلان کرتا ہے کہ بی ایل اے کے ساتھ اشتراکِ عمل طے پاچکا ہے لیکن چند دن بعد بی ایل اے کے ترجمان آزاد کا بیان آتا ہے اور کہتے ہیں کہ بی ایل اے کے دو کمانڈران اسلم و بشیر زیب اور دو ترجمان میرک و جیئند غیر معینہ مدت کیلئے معطل ہیں۔ پھر اسکے ساتھ ہی الزامات میں بھی اضافہ ہوتا ہے کہ اسلم بلوچ ناصرف بھارت گئے ہیں بلکہ انکے مذہبی شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اور بشیرزیب کو معطل محض اسلم بلوچ کی حمایت پر کیا جاتا ہے۔ پھر اگلے دن بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کا بیان آتا ہے کہ بی ایل اے کا کوئی متفقہ، مشترکہ اور منظور شدہ کوئی ہائی کمان ہی نہیں ہے اور باقی تمام الزامات کو جیئند بلوچ جھوٹ قرار دیکر چیلنج کرتا ہے۔ اس کے بعد مکمل خاموشی۔۔۔۔۔
یہاں پھر سوال یہ اٹھا کہ جیئند بلوچ نے جو کہا کیا وہ سب سچ تھا، اگر نہیں تو پھر آزاد بلوچ اپنے الزامات کے صحت میں کوئی ثبوت و دلیل یا کوئی صفائی پیش کرنے سے کیوں قاصر؟
پھر تقریبا پورے ایک سال تک بی ایل اے کے مکران سے لیکر بولان، کاہان، قلات، خضدار، نوشکی، دالبندین، خاران، حب چوکی، کوئٹہ، زہری و دیگر علاقوں میں تواتر کے ساتھ مسلح کاروائی ہوتے رہے اور ان کو بی ایل اے کے ترجمان جئیند بلوچ قبول کرتے رہے اور بی ایل اے کے سرمچار دوستوں کی شہادتیں بھی ہوتی رہیں۔ کبھی کبھار بی ایل ایف کے ساتھ مشترکہ کاروائیاں بھی ہوتے رہے اور خاص کر بی ایل اے اور یو بی اے کی آپسی جنگ بندی اور جنگ کا مکمل خاتمہ یوبی اے اور بی ایل اے کا مشترکہ بیان مرکزی ترجمانوں جئیند بلوچ اور مرید کا بیان بھی سامنے آیا، اس کے ساتھ مختلف مسائل اور حالاتِ حاضرہ پر پر بی ایل اے کے رہنما اسلم بلوچ کے مختلف اور وقتاً فوقتاً بحثیت بی ایل اے کے کمانڈر بیان، وڈیو پیغام اور انٹرویو بھی آتے رہے لیکن مکمل خاموشی۔۔۔۔ جب 11 اگست کے دن دالبندین کے مقام پر سیندک پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجنیئروں پر فدائین حملہ ہوا، اس واقعے کو بھی بی ایل اے کے مجید فدائین بریگیڈ نے ترجمان جئیند بلوچ کے نام سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ فدائین بی ایل اے کے جانثار ساتھی ریحان بلوچ تھا۔ اور ریحان بلوچ استاد اسلم بلوچ کے بڑے فرزند ہوتے ہیں۔
اس لمبی خاموشی کے بعد، خود کش حملے کے پانچ دن بعد بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ کا بیان آتا ہے کہ اس فدائین حملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ معطل شدہ دوکمانڈر اسلم بلوچ اور بشیرزیب بلوچ کا ذاتی فیصلہ تھا، انہوں نے اپنے ذاتی مفاد میں ریحان بلوچ کو استعمال کیا۔ لہٰذا یہ تنظیمی ڈسپلن کے خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے اور ان کے اوپر ایک اور مقدمہ بن گیا، لہٰذا وہ جوابدہی کے لیئے پیش ہوجائیں، ورنہ ان کا تنظیم سے بنیادی رکنیت ختم کردیا جائیگا، دوسرے دن بی ایل اے کے سینیئر کمانڈ کونسل اور آپرینشنل کور کمیٹی کا مشترکہ بیان ترجمان جئیند بلوچ کا نام سے آتا ہے کہ آزاد بلوچ کا اخباری بیان بچگانہ، شرمناک اور قابل افسوس ہے اور سرکاری بیانیہ ہے اور آئیندہ بی ایل اے کا خود ساختہ ہائی کمان اور ترجمان آزاد بلوچ سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی یہ خود ساختہ ہائی کمان بشمول اس کا ٹولہ بی ایل اے سے فارغ ہے لیکن بی ایل اے کے ترجمان جئیند بلوچ کے بیان کے بعد ایک مہینہ گذر جانے کے بعد بھی مکمل خاموشی، نہ دلیل نہ صفائی نہ وضاحت کچھ نہیں۔ کیا یہ خود کھلا تضاد نہیں ہے؟ غلط، جذباتی پن، بے شعوری، کم عقلی، تنظیمی امور سے نابلدی اور ملامت ہونے کی واضح ثبوت نہیں ہے؟ یا پھر جئیند بلوچ کے بیان کو من و عن حقیقت مان جانے اور تسلیم کرنے کی واضح اشارہ ہے؟
یہاں سب سے زیادہ مزاحقہ خیز بات مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جتنا زیادہ تنظیم، ادارے اور اصول کی بات کی جاتی ہے، انکے ہاں ادارے، ادارہ جاتی طریقہ کار، تنظیمی امور کے بابت اتنی ہی لاعلمی اور نا اہلیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ بالفرض آزاد بلوچ اپنے بیان میں کہتا ہے کہ ان دونوں کمانڈران کو غیر معینہ مدت کیلئے معطل کی جاتی ہے۔ کیا دنیا کے کسی تنظیم میں غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا تصور موجود ہے؟ سزا ثابت ہونے پر کوئی تین مہینے، کوئی سال کوئی چھ مہنے معطل کردیتا ہے لیکن یہ دنیا کے تنظیموں کے تاریخ میں پہلا انہونا واقعہ ہے جہاں غیر معینہ مدت کیلئے معطل کی جاتی ہے۔ دوسری بات کیا کسی بھی تنظیم میں شوکاز نوٹس جاری کیئے بغیر اور اظہار وجوہ کا موقع دیئے بغیر سزا دی جاتی ہے؟ تنظیمی طریقہ کار یہ ہے کہ کسی اونچ نیچ کی صورت میں مذکورہ شخص کو شوکاز نوٹس جاری ہوتا ہے، وہ شخص جاکر اپنی صفائی پیش کرتا ہے، صفائی سننے کے بعد سزا و بری کا فیصلہ ہوتا ہے، کیونکہ یہی اخلاقی و تنظیمی اور قانونی اصول ہے، جب تک آپکو دوسرے کا موقف معلوم نہیں آپ کو سچائی کا مکمل علم نہیں ہوسکتا ہے، اسی لیئے کسی قتل کے مجرم کو بھی تب تک ملزم ہی کہا جاتا ہے جب تک اسے صفائی کا موقع نہیں دیا جائے۔ لیکن یہاں جس پر الزام لگے ہیں اسے بنا شوکاز اور صفائی کے موقع کے معطل ہونے کی خبر اخباروں سے پتہ چلتی ہے۔ یہ خود ان لوگوں کے اصول پرستی کے دعووں کی دھجیاں اڑانے کیلئے کافی ہے۔
قطع نظر اسکے کہ شنید میں آیا ایک دو دفعہ بطور قبائلی جرگہ پیغام رسانی کیلئے اسلم بلوچ کے پاس بھیجے گئے، کیا اس جرگے کے ارکان تنظیمی امور، تنظیمی مسائل، تنظیمی ڈسپلن، تنطیمی اصولوں کے فرنبرداری و خلاف ورزی سے بلد اور باعلم یا با اختیار تھے؟ اگر نہیں تو پھر پورے ایک سال تک اسلم، بشیر اور ان کے دوستوں کی سرگرمیوں کا جیئند کے نام سے قبولیت حتیٰ کے بقول ان کے تنظیم کے دوست کو بھی ذاتئ مفاد کے لیئے فدائی حملہ کروایا گیا یعنی بقول ان کے بار بار ہر بار پورے ایک سال تک تنظیم کے ڈسپلن کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انکی طرف سے متنازعہ ہائی کمان اور ترجمان آزاد کو فارغ کرنا، بی ایل ایف کے ساتھ مشترکہ کاروائی، یوبی اے کا ساتھ جنگ کا خاتمہ، اس کے باوجود معطل در معطل پر گذارہ کرنا؟ پھر بھی بنیادی رکنیت ختم نہیں کرنا کس تنظیم، کس ڈسپلن کی علامت ہوتا ہے؟ دنیا میں ایسی کوئی مثال موجود ہے؟ ایسی کسی تنظیم اور ڈسپلن کے وجود کا کوئی ذکر کرسکتا ہے؟ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں سب سے زیادہ تنظیم و اصولوں کی رٹابازی ہورہی ہے وہ تنظیم و اصول کے ابجد سے بھی ناواقف لوگ ہیں۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ وسائل کی کمیابی، جنگی سازو سامان کے چھینے یا چوری کیئے جانے، وسائل کی ترسیل بند ہوجانے اور انتہائی کسمپرسی کے حالت کے باوجود یہ پورے بلوچستان میں ایک سال تک بہت زور و شور طریقے سے مسلح کاروائیاں کرتے ہیں، فدائین حملے کرتے ہیں اور یہ حملے کھلم کھلا جیئند بلوچ قبول کرتا آیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ دو بندے اسلم بلوچ اور بشیر زیب جادوئی چھڑی گھما کررہے ہیں یا پھر انکے ساتھ مختلف علاقوں کئی کیمپ کمانڈران اور سرمچاران موجود ہیں۔ جو ایک سال سے اس کم وسائلی میں بھی انکے شانہ بشانہ دشمن پر آتش و آہن برسا رہے ہیں، تو پھر یہ باقی تمام کمانڈران کو اور سرمچاران کو ڈسپلن کے خلاف ورزی پر معطل کیوں نہیں کیا جارہا؟ دیکھا جائے تو پھر وہ بھی واضح احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں، پھر باقی سب معطل کیوں نہیں؟ یہاں تنظیم و اصول اور ڈسپلن کہاں گئی؟
یہ اب تک نا تنظیم کو سمجھ سکے ہیں اور تحریک کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں، تنظیم کا محور فعالیت ہوتا ہے اور تحریک کا محور ہدف! تنظیم کی کارکردگی رپورٹس، اعداد و شمار سے بھری ہوتی ہے جبکہ اگر پوچھیں اس تمام فعالیت نے آپ کو ہدف اور اپنے نصب العین سے کتنا نزدیک تر کیا ہے تو جواب مشکل ہی ملتا ہے۔ تحریک ہدف کی طرف حرکت کرتی ہے۔ چاہے پورے سال فعالیت رہے لیکن ہدف کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑہے تو یہ وقت ضائع کرنا ہے کیوںکہ حرکت نہیں کی، اپنی جگہ کھڑے ہو کر پاؤں مارے ہیں۔ تنظیم فعالیت محور ہے اور تحریک ہدف محور ہے۔ ظاہر ہے ہدف تک پہنچنے کیلئے حرکت اور فعالیت چاہیئے لیکن فعالیت سے مراد کارکردگی رپورٹس کا پیٹ بھرنا نہیں بلکہ ہدف اور مقصدِ اعلیٰ سے نزدیک تر ہونا ہے۔ لیکن اپنی تنظیمی نابلدیت کی وجہ سے انہوں نے تنظیم کا محور ہی بدل کر غیرفعالیت میں ڈھال دیا ہے جس کی وجہ سے وہ نا صرف خود تحریک کے محور ہدف سے نکلتے جارہے ہیں بلکہ دوسروں کی ٹانگیں بھی کھینچتے نظر آتے ہیں۔
میرا ایک غیرجانبدار بلوچ لکھاری کی حثیت سے ایسے تنظیم، تنظیمی اصول اور تنظیموں امور سے نا واقف، نابلد اور لاعلم لوگوں سے عرض ہے کہ وہ سب سے پہلے تنظیم، تنظیمی اصول اور طریقہ کار کے بارے میں زیادہ اگر ممکن نہیں کم سے کم کچھ نہ کچھ ضرور مطالعہ کرلیں، یہ جان لیں کہ تنظیم اور تنظیمی امور خود کیا ہوتا ہے اور تنظیمی فیصلے تنظیمی و اصولی طریقہ کار سے کیسے عمل میں لائے جاتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کے ایسے بچگانہ، غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز حرکتوں سے ضرور چند مٹھی بھر غیرسنجید علم سے نابلد سوشل میڈیا اکٹیوسٹ، مراعات یافتہ، چاپلوس، خوشامدی، ضرور خوش اور مطمئین ہونگے۔ ان کے لیئے آپ بلی کو شیر اور شیر کو بلی قرار دو وہ قبول کرچکے ہیں اور قبول کرتے رہیں گے لیکن پوری بلوچ قوم ایسی نہیں، ایسے بھی بلوچ بہت ہیں جو سیاسی حوالے سے باعلم اور پختہ ہوکر ایسے بچگانہ حرکتوں کو دیکھ کر ان کے پاس ہنسنے کے سوا اور کچھ نہیں، دنیا میں اور بھی مختلف مکاتبِ فکر کے انتہائی زیرک قسم کے ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جن کی نظر اس وقت بلوچ قومی تحریک پر فوکس ہے، وہ بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور وہ آپ لوگوں کی طرح تنظیم اور تنظیمی امور سے نا بلد بھی نہیں ہیں۔
آپ قوم اور اہلِ دانش کی نظروں میں ایک مزاق بنتے جارہے ہیں، شاید آپ لوگوں کو اس بات کا گمان بھی نہیں ہے اور آپ لوگوں کو یہ بھی اندازہ نہیں ہوا کہ آپ لوگ اپنے اس سارے کھیل اور ڈراموں کے ذریعے خود اسلم بلوچ اور بشیرزیب کو صحیح ثابت کررہے ہو۔ اگر کسی میں تھوڑا بہت علم و شعور اور اس کو تنظیمی امور پر عبور اور تجربہ حاصل ہے، وہ آپ کے ان حرکات سیاسی نابالغی یا بوکھلاہٹ ہی کہہ سکے گا۔
صرف اور صرف رٹے بازی، سنی سنائی باتوں پر قیاسات کے محل تعمیر کرنا اگر علم و شعور کا معیار ہوتا تو دنیا میں اس وقت سب سے ذہین، باشعور اور باعلم جانور طوطا ہی ہوتا۔ دنیا کی دیگر تحریکوں کے بارے میں غلط تشریحات کرکے، انہیں خلط ملط کرکے اپنے ذاتی مفاد، خواہش اور مرضی کی مطابق پیش کرنا ہرگز دانشمندی نہیں ہوتا۔ ذمینی حقائق، اپنے وسیع ماحول سے عدم واقفیت، مخصوص و محدود سرکلوں میں مقید ہوکر خلا میں تیراندازی کرنے کا نتیجہ ہمیشہ زوال ہوتا ہے۔
اگر تھوڑی بہت شعور اور عقل ہوتی تو بہتر انداذ میں یہ تجزیہ ہوتا کہ کل کی حمایت، طاقت، باصلاحیت لوگوں کی اکثریت کہاں چلی گئی؟ آج ادھر ادھر سے تمام سست و کاہل، کام چور، مفاد پرست درباریوں، چاپلوسوں اور پیداگیروں کو اکٹھا کرکے تنظیم اور ڈسپلن کا نام دینا اور خوش فہمی میں مبتلا ہونا۔ عنقریب یہ ارگرد کے مفاد پرست خود ایسا درد سر بن کر رہینگے جس کا اندازہ آج کسی کو نہیں ہے، ہر ایک کے ذاتی مفادات اور ذاتی خواہشات کا آپسی ٹکراو آج سے شروع ہے، مستقبل قریب میں کیا ہوگا وہ آج خود ظاہر ہے۔
ہاں اگر سب کچھ مخصوص ایجنڈے کے تحت رفتہ رفتہ ختم کرنے کی پالیسی تھی اور پالیسی ہے، تو سب کچھ صحیح چل رہا ہے اور اسی طرف آپ اور آپ ٹولہ بالکل جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی کامیابی نہیں ملی آپکو کیونکہ بی ایل اے کے مخلص، ایماندار، محنتی، بے غرض اور قربانی کے جذبے سے سرشار دوست آج بھی اور کل بھی اور مستقبل میں بھی اپنے حقیقی وجود کے ساتھ قائم تھے اور قائم رہینگے۔

пятница, 7 сентября 2018 г.

ہماری سیاسی نا پختگی – توارش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 
کچھ مہینوں سے سوشل میڈیا میں مِسنگ پرنسز کے حوالے سے کافی بحث و مباحثہ دیکھنے کو مل رہا ہے، بحث کا آغاز اُس وقت شروع ہوا جب بی این پی مینگل و اُس کے ٹولے نے انتخابات کے وقت لاپتہ افراد کے مسئلے کو پولیٹکل سکورنگ کیلئے استعمال کیا تاکہ وہ اپنے لیئے بلوچ قوم سے ہمدردی بٹور سکیں۔ اسی سلسلے کو مینگل کی ساری پارٹی لیڈرشپ نے اپنایا اور ہر کسی نے اپنے پہلے ترجیحات میں لاپتہ افراد کا معاملہ رکھا جبکہ اس حقیقت سے کوئی انکاری نہیں کہ بلوچ سیاسی کارکناں طلبا سمیت ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت آئے دن بلوچستان میں بےگناہوں کی گمشدگی کا سلسلہ آج کا نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ 15 سال سے بدستور جاری و ساری ہے، جس میں ہر نئی حکومت کے بعد شدت آئی ہے جبکہ لاپتہ افراد کی زیادہ تر مسخ شدہ لاشیں آج بلوچستان کے ہر کونے میں دریافت ہوئیں ہیں۔ سیاسی ورکروں سے لیکر عام بلوچ کو بے دردی سے قید خانوں میں بےرحمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مسخ شدہ لاش پھینکی گئی ہیں، کسی کا کھال اترا ہوا مسخ شدہ لاش پایا گیا ہے، تو کسی کا جسم سگریٹ سے جلا ہوا پایا گیا ہے، کسی کے جان پر چاقو سے پاکستان زندہ باد لکھا گیا ہے، تو کسی کے ہاتھ پاؤں تڑے ملے ہیں، اذیت و تشدد کے بارے میں جو ہم کہانیاں کتابوں میں پڑھتے تھے، کئی عشروں سے بلوچستان میں اپنے آنکھوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔
‎یہ سلسلہ دو تین مہینے کا نہیں جو کہ میں کہوں کہ شاید اختر مینگل اپنے لیڈرشپ سمیت ناواقف تھے بلکہ بقول اختر مینگل خود یہ سلسلہ 15 سالوں سے جاری ہے تو پھر وہ کیا وجہ تھی کہ اختر مینگل کو اب بلوچ مِسنگ پرنسز کی یاد آئی ہے؟ اسی دوران 5000 سے زائد سیاسی کارکنان بلوچ طلباء ڈاکٹرز وکلا سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا ہے، کیا پانچ ہزار لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں، لاپتہ افراد کیلئے آواز اُٹھانے کیلئے کم ہیں؟ کیا ان پانچ ہزارہ لاشوں کی کوئی سزا و جزا نہیں؟ کیا ان پانچ ہزار لوگوں کو بھول کر خوش ہو جائیں کہ 10 بےگناہ لاپتہ افراد رہا کیئے گئے بلکہ حقیقت میں ہم سمجھ ہی نہیں رہے ہیں کہ کیا گیم چل رہی ہے حقیقت میں مسئلہ لاپتہ افراد کا نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کہ تحت بلوچ نوجوانوں کے ذہن کو دوسری جانب موڑا جا رہا ہے، جس دن پاکستانی ایجنسیاں دس لوگوں کو رہا کر دیتے ہیں اُسی دن بلوچستان کے مختلف علاقوں سے درجنوں سے زیادہ لوگوں کو غائب کیا جاتا ہے جبکہ میڈیا میں بس انہی دس رہا ہوئے لوگوں کی خبریں گردش کرنے لگتی ہے جبکہ وہ درجنوں افراد جو اُسی ہی دن غائب ہوئے کا کوئی بھی پوچھتا نہیں جبکہ ان بازیاب شدہ افراد میں سے زیادہ تر لوگ مختلف امراض کا شکار اور ذہنی حوالے سے مفلوج ہوتے ہیں۔ جن کا اب اُنہیں جیل خانوں میں کوئی ضرورت نہیں ہوتا جبکہ کچھ ایسے جیلیں ہوتے ہیں جیسے کے تربت ٹارچر سیل ہے، جہاں لوگ بھرے ہوئے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ بازیابیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔
‎یہ ایک ریاستی سوچا سمجھا منصوبہ ہے، جیسے ہم سمجھنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں ہمارے کچھ سیاسی دوست انجانے میں اپنے اصل ہدف کو کھو بیٹھے ہیں، اگر ہم یاد کریں تو یہ جبری گمشدگیاں یوں نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک مقصد ہے ہم یہ پہلے ہی بخوبی جانتے تھے کہ اگر بلوچ اپنی آزادی خودمختاری اور اپنے آزاد ریاست کی بحالی کے لئے آواز بلند کرے گا اپنے مادر وطن کی مکمل آزادی کی بات کرے گا، تو دشمن اپنی پوری زور آزمائے گا اور ہر وہ حربہ استعمال کرے گا، جس سے تحریک کو نقصان پہنچے، تحریک کو کاؤنٹر کرنے کیلئے ہی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ کوئی انوکھا عمل نہیں بلکہ یہ عمل ہمیں ہر قبضہ گیر کی جانب سے دیکھنے کو ملا ہے کہ اگر کسی محکوم قوم نے اپنی آزادی کی بات کی ہے تو قبضہ گیر نے ہر وہ عمل اپنایا ہے، جس سے محکوم کی تحریک کو نقصان پہنچے، اس لیئے ہمیں اس بات پر حیرانگی نہیں ہونا چاہیئے کہ لوگ کیوں لاپتہ ہوئے ہیں؟ کیونکہ اس عمل کا ادراک جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی ہمیں تھا ایک دفعہ شہید واجہ غلام محمد نے کہا تھا کہ اس جنگ کا آغاز ہم نے شعوری طور پر کیا ہے، دشمن نے نہیں اس لیئے جنگ میں نقصان تو ضرور ہوگا۔
‎ایک ادنیٰ سیاسی کارکن کے بحیثیت میں نے بلوچ تحریک میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ ہم اپنے اختیارات کو سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہے ہیں، اگر بلوچ تحریک کا بغور جائزہ لیا جائے اس میں سب سے بڑی ایک غلطی یہ رہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے کام نہیں کیئے اور اپنے ذمہ داریوں کو سمجھنے سے قاصر رہے، ہر کوئی اپنے کاموں سے غافل رہا ہے یہی عمل تحریک کیلئے زیر قاتل ثابت ہوا ہے اپنے واک و اختیارات سے بالاتر ہوکر ہم نے کام کرنا چاہا، جس کے نقصانات آج ہمارے سامنے عیاں ہیں کہ ہر کوئی سیاسی کارکن ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بن چُکا ہے۔
‎بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگیں مسئلہ ہے جس سے کوئی بھی باشعور انسان انکار نہیں کر سکتا لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی سے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جبکہ یہ لوگ اغواء ہی اسی جنگ کے سبب ہوئے ہیں، یہ بات یقینی ہے کہ جب تک بلوچ قومی تحریک جاری رہےگی دشمن لوگوں کو لاپتہ کرنا نہیں چھوڑے گا جبکہ اس عمل کو مزید وسعت دے گا، جبکہ دوسری جانب جب بھی بلوچ لیڈرشپ نے آزادی سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا اُسی دن ریاست سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرے گا تو اس چھوٹی سی بات کو سمجھنے سے ہم کیوں قاصر ہیں دشمن ہمارے اسی غیر دانستہ عمل سے فائدہ اُٹھا رہا ہے بلکہ میں یہ کہتے ہوئے غلط نہیں ہونگا کہ دشمن ہمارے اس عمل سے فائدہ اُٹھا چُکا ہے اور دنیا و پاکستان میں یہ تاثر ایک حد تک پھیلانے میں کامیاب ہو پایا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب بس لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے جبکہ بلوچستان میں بھی ریاست کے کٹھ پتلیاں اس بات کو پھیلانے میں ایک حد کامیاب ہو پائے ہیں جبکہ اصل مسئلہ آزاد بلوچستان اور بلوچ قومی تحریک سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہم دشمن کا غیر دانستہ طور پر خوب ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
‎اختر مینگل اور اس کے حواریوں کی بھی کوشش رہی ہے کہ بلوچ قومی تحریک کو جو عوامی پذیرائی ملی ہے کو ختم کریں جبکہ بلوچ قوم کا توجہ دوسری جانب موڑنے کی کوشش کریں، اسی پر عمل پیرا ہوکر اختر مینگل نے بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ زور سے اُٹھایا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ اُٹھا کر قوم سے ہمدردیاں حاصل کرے گا جبکہ دوسری جانب بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو لوگوں کے ذہنوں سے نکال دینے کی کوشش کرے گا، اب یہ ہم ہر منحصر ہے کہ ہم اختر مینگل و اس کے حواریوں کے اس دوغلے پن کو کیسے کاؤنٹر کر سکتے ہیں جبکہ ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ اختر مینگل کا نظریہ سامنے لانے کے بجائے اصل ہدف کیلئے کیمپیئن چلائیں۔
‎لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگین و گمبھیر مسئلہ ہے اس سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے البتہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ افراد لاپتہ ہوتے ہی کیوں ہیں؟ جبکہ گمشدگی کا سبب جدوجہد سے لوگوں کی وابستگی ہے ہمیں چاہیئے کہ قوم کے اندر دشمن کے اس عمل کے خلاف آگاہی پھیلائی جائے، اگر ہم گمشدگی کے واقعات کا جائزہ لیں تو اُن علاقوں میں ایسے واقعات زیادہ رونما ہوتے ہیں جہاں بلوچ جدوجہد آزادی منظم ہے، جبکہ ان علاقوں میں ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے جہاں لوگ بلوچ جدوجہد سے وابستہ نہیں ہیں۔ ہمارے دوستوں اور کامریڈوں کو سمجھنا ہوگا کہ اگر گمشدگی کا سلسلہ بند ہو جائے، گھروں پر بمباری کا سلسلہ بند ہو جائے فوج کا عوام پر جبر و ظلم ختم ہو جائے، تو اس صورت میں ہماری کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ہم ناکام ہونگے کیونکہ یہ اُس صورت ہو سکتا ہے جب عام لوگ ریاست کے ساتھ بیٹھنے کو راضی ہونگے جبکہ آزادی مانگنے والوں کو ریاست چاکلیٹ نہیں کھلائی گی، جبری گمشدگیاں ریاستی جبر و ظلم تب تک جاری رہیں گی جب تک ایک بلوچ بھی آزادی کا مطالبہ کرے گا۔
‎ذاکر مجید آج 9 سالوں سے کس لیئے زندان میں ہے؟ ڈاکٹر دین محمد کس وجہ سے اتنے عرصے سے بند ہیں؟ سنگت زاہد، ثنااللہ بلوچ، شبیر بلوچ، حسام نصیر سمیت ہزاروں لوگ کیوں گمشدگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ یقیناً بلوچستان کی پاکستان سے مکمل آزادی کیلئے ناکہ مِسنگ افراد کی بازیابی کیلئے، وہ ایک آزاد ریاست کی خاطر اس اذیت کا سامنے کر رہے ہیں، باہر بہت سارے دوست چلے گئے ہیں سب لوگ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بن چُکے ہیں اتنی کوشش لاپتہ افراد کا مسئلہ اُٹھانے کے بجائے آزاد بلوچستان کیلئے کرتے تو شاید باہر کچھ لوگ بلوچستان کی قومی جدوجہد سے آگاہ ہوتے لیکن باہر جاکر سب سوشل لوگ بن چُکے ہیں، میں اُن سے عرض کرتا چلوں کہ میرے عظیم کامریڈوں یہاں خاندانوں کے خاندان آزادی کیلئے شہید ہوئے ہیں ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر آزاد ریاست کی بحالی کیلئے قربان کئے ہیں اور کر رہے ہیں۔
‎میں قطعاً لاپتہ افراد کے معاملے میں اُٹھنے والے آوازوں کی خلاف ورزی نہیں کر رہا، میں چاہتا ہوں کہ مِسنگ پرسنز بازیاب ہو جائیں لیکن اس قیمت پر نہیں کہ آج اختر مینگل نے رکھا ہے جبکہ ہمیں اس حقیقت سے انکاری نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم کس ریاست سے نبرد آزما ہیں، پاکستان اگر سیاسی زبان سمجھتا تو آج بلوچ کو بندوق اُٹھانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن بلوچ نے بندوق اور مسلح جنگ کو ترجیح ہی اس لیئے دیا ہے کہ پاکستان سیاسی زبان نہیں سمجھتا بلکہ طاقت سے قبضہ کیئے گئے ریاست سے طاقت کے ذریعے سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔
‎باہر بیٹھے ہوئے لوگ بلوچ سرمچاروں کی کھل کر حمایت کر سکتے ہیں اور لوگوں تک اُن کے بندوق کے نظریہ کو سمجھا سکتے ہیں، اُنہیں چاہیئے کہ بجائے سارا دن ہیومن رائٹس اداروں سے بلوچوں کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کے کچھ وقت اُن عظیم سرمچاروں کی پرچار کرنے میں صرف کریں، جو آزادی کیلئے پہاڑوں پر سخت مشکل زندگی بسر کر رہے ہیں جن کا روز موت سے سامنا ہوتا ہے جن کا مقصد ایک آزاد بلوچستان ہے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ بلوچ سرمچار بلوچ قوم کی حقیقی فوج ہے اور بلوچ سرمچاروں کی مرضی و منشا کے بغیر دنیا کا کوئی بھی سرمایہ بلوچستان میں پایا تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا، لیکن اس طرح کا کوئی بھی عمل ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتا کچھ دنوں پہلے 11 اگست کو بی ایل اے کے سرمچار شہید ریحان بلوچ نے چائینز انجئینرز پر خود کش حملہ کیا تھا، تنظیم کی جانب سے حملہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ چائینا کو ایک واضح پیغام پہنچائیں کہ وہ بلوچ نسل کشی میں پاکستان کا ہاتھ بٹانا بند کر دیں اور اپنا سرمایہ بلوچستان سے نکال دیں لیکن حملے کے بعد کچھ ہی سوشل میڈیا کارکنان نے ریحان کی قربانی کو سراہا اور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چائینز ذمہ داروں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی جبکہ دوسرے جانب ہمیں خاموشی دیکھنے کو ملی میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس پر ہمیں زیادہ بات کرنا ہوتا ہے ہم خاموش ہو جاتے ہیں جبکہ دوسرے چیزوں پر اپنا پورا وقت دے دیتے ہیں۔
‎باہر بیٹھے کچھ دوستوں کا اسرار ہے کہ اگر ہم سرمچاروں کی حمایت کریں تو ہمیں باہر مسئلہ ہو سکتا ہے ہمارے لیے سیاسی پناہ لینا مشکل ہو سکتا ہے، میں اُنہیں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ سیاسی پناہ کس لیئے لے رہو ہو اپنی جان بچانے کیلئے یاکہ قومی آزادی کا پیغام دنیا کو پہنچانے کیلئے آپ کے سیاسی پناہ کو مسئلہ ہے تو آپ خاموش ہیں جبکہ یہاں لوگوں کے گھروں پر بمباری ہو رہا ہے نوجوان آئے روز دشمن کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زندان میں قید و بند ہیں اور ہزاروں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں ہیں کیا ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق نہیں تھا؟ کیا بلوچستان میں آزادی کیلئے جدوجہد کرنے سے آپ کی جان کو خطرہ لاحق نہیں ہے اگر ہے تو آپ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ باہر اپنا فرض پورا کریں، ایک انقلابی جہدکار کیلئے لفظ جان کو خطرہ میری سمجھ سے باہر ہے، دوسرے قوموں کی تحریک سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ قربانیوں کے بغیر آزادی حاصل نہیں ہوتا۔

‎آخر میں اپنے دوستوں سے اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا ہمارے لیئے اُس وقت تک کچھ نہیں کرے گا جب تک ہم دنیا کو یہ باور نہ کرائیں کہ ہم بھی ایک مضبوط طاقت رکھتے ہیں دنیا کبھی بھی بلوچستان کو سپورٹ نہیں کرے گا اور جب دنیا ہماری طاقت مزاحمت اور مظبوط جدوجہد سے آگاہ ہوگا تبھی ہماری مدد کرنے کو تیار ہوگا، لاپتہ افراد کا مسئلہ اجاگر کرنے سے ہم دنیا کو یہ ثابت نہیں کرا سکتے ہیں کہ بلوچ قوم صرف اور صرف آزادی چاہتا ہے جس کیلئے بلوچ قوم ہر قیمت ادا کرنے کو وہ تیار ہے جبکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ دو صورتوں میں حل ہوگا، بلوچستان کی مکمل آزادی یاکہ جدوجہد سے دستبرداری انہی دو صورتوں میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اس لیئے دوستوں کو چاہیئے کہ وہ اصل ہدف پر توجہ دینے کی کوشش کریں۔

вторник, 28 августа 2018 г.

حقائق و اسرار – یاسین عزیز بلوچ

انسانی جذبات کو اُس وقت قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے، جب انسان ناانصافی دیکھتا ہے اور کسی بھی باضمیر انسان کےلیئے ناانصافی کی انتہاء کو دیکھ کر اُسے برداشت کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ برداشت کرکےخاموشی پر اکتفاء کرنا، اندر ہی اندر کڑنا یا کسی بھی قسم کا اظہارکرنا ہر انسان کےعقل و دانش، فہم و فراست اور جرات پر منحصر ہوتا ہے۔ راہ چلتے لوگوں پر کسی پاگل یا مجنوں کا پتھر پھینکنے کا جواب کوئی پتھر پھینک کر دیتا ہے، جب تک اُسے یہ سمجھ نہ آئے کہ پتھر پھینکنے والا پاگل ہے، کوئی خاموشی سے گذر جاتا ہے اور کوئی اپنا راستہ ہی بدل لیتا ہے، بہرحال پاگل اور مجنوں سے کوئی بھی مقابلہ نہیں کرنا چاہتا، جنکا کوئی کام ہوتا ہے، کوئی منزل ہوتی ہے ان کو تو آگے ہی بڑھنا ہوتا ہے۔
‎کچھ وقت سے لکھنے کی کوشش کررہا تھا لیکن کئی اندیشے اور خدشات دامن گیر تھے لیکن اندر سے ضمیر اور انصاف نے انہی دنوں میں نہ جانے کیوں جھنجھوڑا، شاید اس مرتبہ گیارہ اگست کی قربانی اور اسکے بعد کے حالات نے حوصلہ دیا ضمیراور اندر کےانصاف کے تحت کچھ تحریر کررہاہوں۔ آگے پڑھنے والے خود انصاف کے تقاضے پورا کریں۔
‎انصاف صرف عدالتوں سے نہیں ملتا، انصاف کا پیمانہ ہر انسان کے سوچ اور اسکے ضمیرسے جڑا ہوتا ہے، ہر وہ شخص جو انسانی سماج کا حصہ ہے اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات و معاملات کو کس زاویے سے دیکھتا اور پرکھتا ہے، انکو سمجھ کر ان سے حقائق کی کسوٹی پر کتنا انصاف کرسکتاہے، اپنے اظہار اور فیصلوں پر اس حقیقت کو کس طرح سے لاگو کرتا ہے یہ دیکھنے کےلیئے صرف اسکے اظہار اور فیصلوں پر غور کرنا پڑتا ہے کیونکہ انسانی علم، حیثیت واختیار اور عمل کے بااثر اور بے اثر ہونے کا تعلق بنیادی طور اسی سے جڑا ہوتا ہے۔
‎بلوچ قومی تحریک میں حیثیت، اختیار اور عمل کے زوال ہونے کا سب سے سبق آموز اور عبرتناک نمونے کے طور پر ہمارے سامنے اس وقت جونام آتا ہے وہ حیربیار مری کا ہے۔ آخر کیوں وہ شخص جو قومی تحریک کے ابتداء میں سب سے زیادہ جاندار کردار، سب سے بااثر حیثیت اور سب سے زیادہ بااختیار تھا، آج بے بسی کا منظر پیش کررہا ہے؟
‎وجوہات، دعوؤں اور الزامات کے بیچ سرگردانی سےبہتر ہے ہم صرف اردگرد کے لوگوں سےحیربیارمری کے تعلقات اور واقعات کا سرسری جائزہ لیں، ضروری نہیں الزامات کے گورکھ دھندے میں ہم تنقیدی نقطہ نگاہ سے واقعات کو پرکھیں بلکہ ہم اُن پیش آنے والے واقعات اور ان سے جڑے افراد کے کرداروں پرغورکریں، جن پر حیربیارمری کی طرف سےتسلسل کیساتھ الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی رہی تھی یا کی جارہی ہے اور پھر حیربیارمری کی طرف سے سامنے آنے والے موقف اور حیربیارمری کے جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا موازنہ کریں، کچھ قریبی ذرائع اور بلوچ تحریک پر نظر رکھنے والے دانشوران اور سیاسی مبصرین کی آراء اور اپنی معلومات کوبھی شاملِ تحریر کروں گا تاکہ اصل حقائق کوسمجھنے میں ہمیں آسانی ہو، ان حقائق کے بہت سے دیگر پہلو ہوسکتے ہیں انکی جانج پڑتال قارئین کے ذمہ داری ہے۔
‎لندن میں حیربیارمری کی گرفتاری تک تحریک کے اندر کوئی بڑی رکاوٹ سامنے نہیں آیا تھا، ابتدائی صورت حال کی وجہ سے بلوچ عوام اورتحریکی ساتھیوں کےلیئے سب کچھ نیا تھا اور ظاہری وعملی اقدامات توجہ حاصل کررہے تھے، جن میں اثرانگیزی کی وجہ مزاحمتی اور جنگی کاروائیاں تھیں، نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کی شہادت جیسے سانحات نے تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی تھی، اسی دوران اچانک حیربیارمری کی گرفتاری بعدازرہائی کے بعد تحریک میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔
‎پہلے غیر متوقع اعلانِ یک طرفہ جنگ بندی سامنے آیا، سیاسی اور جنگی مبصرین کے مطابق یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان مزاحمتی تنظیموں کی طرف سے آنا بالکل ہی حیرت انگیز تھا، کیونکہ دنیا کی تاریخ میں جتنی بھی مثالیں ملتیں ہیں، ان میں یک طرفہ جنگ بندی کی پیش کش طاقت ور فریق کی طرف سے ہوتا رہا ہے، جن حالات میں جنگ بندی کی گئی ان حالات کے تحت جنگ بندی کے وجوہات کوسمجھنا آسان کام نہ تھا۔ کئی مہینوں کی مشترکہ جنگ بندی کی غیر اعلانیہ خاتمے کا آغاز بگٹی علاقے سے ہوا، جہاں پاکستانی فوج نے حملہ کرکے کئی لوگوں کو نشانہ بنایا، جسکے ردعمل میں بی آر اے نے جنگ بندی ختم کرکے پاکستانی فوجیوں پر حملے شروع کردیئے اور اسکے فوراً بعد مشکے میں سرکاری کاروائیوں کے نتیجے میں بی ایل ایف نے بھی جوابی کاروائیوں سےجنگ بندی کا خاتمہ کردیا، جو یہ ثابت کرنے کےلیئے کافی تھے کہ یکطرفہ جنگ بندی کا فیصلہ وقت وحالات کے تحت نہیں تھا۔
‎بعد کی حاصل کی گئی معلومات کے مطابق یہ جنگ بندی حیربیارمری کے خواہش پر کی گئی تھی، جس کےلیئے اس نے کوئی واضح اور خاص وجہ پیش نہیں کی تھی۔ مبصرین کے مطابق ہوسکتا ہے کہ یہ جنگ بندی ایک ایسی یقین دہانی تھی، جو کسی کو کرائی جارہی تھی کہ تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں، جو بی آر اے اور بی ایل ایف کے غیر اعلانیہ جنگی کاروائیوں سے اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکا اور پھر بی ایل اے نے بھی جنگ کا اعلانیہ آغاز کردیا۔
‎یک طرفہ جنگ بندی کا مسئلہ عام بلوچوں کےلیئے سر بستہ راز ہی بنا رہا لیکن جنگی اور سیاسی مبصرین اس جنگ بندی کوکسی کی یقین دہانی سے جوڑتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یک طرفہ جنگ بندی کے فیصلے اور اسکے مقاصد جو بھی تھے، وہ پورے نہ ہوسکے، اسکی وجہ فردی اور یکطرفہ فیصلوں اور ان پر مجموعی حوالے سے عمل نہ ہونا تھا۔ جنکے پیچھے کسی پالیسی یا متفقہ سوچ کا فقدان تھا، بعد کے ہونے والے تمام متنازعہ اقدامات اور انکی ناکامیوں کی ابتداء جنگ بندی اور اسکے ناکامی سے ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد حیربیارمری کے طرف سے ایک اخباری بیان میں یہ اعتراف کیا گیا کہ تحریک میں قیادت کے سطح پر اختلافات ہیں، جنکو حل نہیں کیا گیا تو وہ تحریک سے کنارہ کشی اختیار کرینگے بیان میں اختلافات اور انکی نوعیت اور قیادت کی سطح پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔
‎ اسی دوران بی این ایف کی طرف سے ایک اخباری بیان جاری ہوا، جس میں حیربیارمری کو قومی تحریک کا عالمی نمائندہ مقرر کیا گیا تھا، لیکن دوسرے دن ہی بی این ایف نے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ بعد کی معلومات کے مطابق جوبات کھل کرسامنے آئی، اس میں بلوچ رائٹس کونسل کے وہاب بلوچ اور حیربیارمری سے قربت رکھنے والے سمندر آسکانی نے یہ بیان خود سے جاری کیا تھا۔ جس کےلئے بی این ایف کے ذمہ دار دوستوں سے کسی بھی قسم کی مشاورت کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اس مسئلے نے بھی یکطرفہ جنگ بندی کی طرح متفقہ سیاسی مشاورت اور فیصلوں کے فقدان کی طرف اشارہ کیا اور اس مسئلے میں بھی جو متنازعہ کردار سامنے آیا، وہ حیربیارمری کا تھا۔
‎ اسی دوران حیربیارمری کی طرف سےچارٹر آف لبریشن کی باز گشت سنائی دی اور وہ تیار ہوکر تمام آزادی پسندوں تک پہنچائی گئی، جن میں نواب مری سے لیکر اختر مینگل تک سب شامل تھے، اس چارٹر آف لبریشن کے ساتھ دو نقاط کے سوا تمام نقاط میں تبدیلی کےلیئے گنجائش کی شرط بھی رکھی گئی تھی، جسے شروع میں تو تمام آزادی پسندوں نے خوش آئند اور بہتر قرار دیا لیکن آہستہ آہستہ سب اسکی حمایت سے دستبردار ہوتے گئے، وجوہات تک رسائی کی تگ دو میں کچھ مبصرین چارٹر آف لبریشن کے شائع کرنے کے وقت و حالات کو غیرمناسب و غیر موزوں قرار دیتے ہیں، انکے مطابق ٹھیک اسی وقت نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ زامران مری کو لیکرحیربیارمری اورنواب خیربخش مری کے بیچ جو کچھڑی پک رہی تھی، اسکو لیکر حیربیار مری کسی بھی طرح تمام آزادی پسند اتحادیوں کو اپنا حمایتی بنانا چاہتے تھے۔ مبصرین کے مطابق یکطرفہ جنگ بندی، بی این ایف کا متنازعہ بیان اور چارٹر آف لبریشن اسی سلسلے کی کڑیاں تھے۔ یہ ایسے اقدامات تھے جو حیربیارمری نے قیادت کے ڈور کو اپنے ہاتھوں میں ثابت کرنے کےلئے عجلت میں اٹھائے تھے۔ ان تمام اقدامات سے مراد یہ تاثر دینے کی سعی تھی کہ حیربیار مری بلوچ تحریک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، لہٰذا کوئی گفت و شنید اس سے گذرے بغیر ممکن نہیں ہوسکے گی، اب یہ تاثردینا کس کو مراد تھا، شاید اب تحریک کے اندر یہ مزید ایک سربستہ راز نہیں رہا۔
‎ مبصرین کے مطابق اگر مدمقابل نواب خیربخش مری جیسی شخصیت نہ ہوتی، تو شاید ان تمام اقدامات کا حمایت حاصل کرنا اتنامشکل نہیں ہوتا۔ دیگر آزادی پسند چہ میگو ئیوں میں ان اقدامات کو سیاسی حربوں کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جنکا مقصد آزادی پسند اتحادیوں میں خود کوبطور قیادت نمایاں کرنا تھا، جو ممکن نہ ہوسکا اس دوران یو بی اے کا ظہور ہوچکا تھا اور بی ایل اے اپنے ایک اخباری بیان میں یو بی اے کوریاستی تنظیم بھی قرار دے چکا تھا۔ یہ سلسلہ آگے چل کر مزید سنگین صورت حال اس وقت اختیار کرگیا، جب سوشل میڈیا پر تنقید اور اصلاح کے نام پرتقریباً ان تمام آزادی پسند گروپوں کو نشانہ بنایا گیا، جو نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے مسئلے میں غیرجانبدار رہنا چاہتے تھے یا جو مسئلے کا کوئی متفقہ حل نکالنا چاہتے تھے۔
‎ مبصرین کے مطابق حیربیارمری کو صرف اور صرف اپنے شرائط پر مسئلے کا طے شدہ حل قبول تھا، جو نواب خیربخش مری اور اسکے ساتھیوں کو سنے اور سمجھے بغیر انکو قبول کروانا تھا، جس میں زامران مری قابل قبول نہیں تھے اور حیربیارمری اپنے فیصلے کو جراح اورکوئی بھی ثبوت پیش کیئے بغیرپورا ہوتا دیکھنا چاہتے تھے، جو دیگر آزادی پسند اتحادیوں کےلیئے ممکن اور قابل قبول نہیں تھا، ایک طرف حیربیارمری کے ناقابل قبول شرائط اور دوسری طرف سوشل میڈیا پر تنقید و اصلاح کے نام پر کردار کشی کے لیئے کئے جانے والےحملے، معمولی مسائل کو جواز بنا کر ہدف تنقید بنانے کے اقدامات مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے جارہے تھےاور بداعتمادی کا باعث بنے رہے تھے۔ اس دوران تحریک کو حاصل ہونےوالے تمام مقناطیسی اثرات آہستہ آہستہ زائل ہونا شروع ہوئے، وہ مقناطیسی محب بدمزگی، اخلاقی گراوٹ اورکھلے پن کا شکار ہوکر بازاری ماحول میں تبدیل ہوتاگیا، جس کے منفی اثرات سے بلوچ عوام و تحریک متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔
‎ اسی دوران نواب مری اس دنیا سے رخصت ہوگئے، اُنکی رحلت کے فوراً بعد حیربیارمری کا نواب صاحب کے بارے میں تبدیل ہونے والے موقف نے آزادی پسندوں کو حیرت میں ڈال دیا، حیربیارمری کی طرف سے نواب صاحب کے عقیدت میں جو بیانات سامنے آئے، وہ زندہ نواب خیربخش مری کے بارے میں اُن کےپیش کئے جانے والے رائے اور موقف سے بالکل بھی الگ اورمتضاد تھے، قریبی ذرائع کے مطابق اسکے بعد اپنے والدہ سے ناراضگی اور آخری وقت میں انکی حال پرسی سے انکار اور پھر والدہ کی رحلت کے بعد جاوید مینگل، اپنی بہن اور زامران مری کے خلاف لندن پولیس کو رپورٹ کرنا بھی اسی سوچ کی عکاسی تھی۔ خاص طور پر اپنی والدہ کے وفات کے بعد حیربیار کا اپنی بہن کے خلاف اخباری بیان اور لندن پولیس میں رپورٹ کرنے کو عوامی سطح پر بہت منفی معنوں میں دیکھا گیا۔
‎ ایسے پرُتضاد فیصلوں کا سامنے آنا، حیربیارمری اور اُسکے قریبی ساتھیوں اور عوام کے بیچ قائم اعتماد کے رشتے پر براہِ راست منفی اثر ڈالنے لگے کیونکہ نواب خیربخش مری، زامران مری اور دیگر آزادی پسند شخصیات پر لگائے گئے الزامات کو بھی ثابت کرنے میں حیربیارمری مکمل ناکام ہوئے اور دوسری طرف ان شخصیات کے بیچ پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں بھی حیربیارمری مکمل ناکام ہوئے، معمولی مسائل اگر اس طرح کی سنگین شکل اختیار کرتے ہیں تو انکی تہہ تک جانا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی نقطے کے تحت اگر مری بگٹی قبائلی جنگ، جس میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے تھے، جو ایک پیچیدہ مسئلہ تھا، اگر اس جنگ کوروک کر دونوں قبائل کو شیر شکر کرکے انکا رخ دشمن کی طرف موڑا جاسکتا تھا اور موڑا گیا، تو پھرمعمولی کرپشن کے الزامات پر یو بی اے جیسا تقسیم اور آزادی پسندوں کے بیچ ہونے والےآپسی جنگ کو کیسے روکا نہیں جا سکتا تھا؟ دشمن کے خلاف سرگرم عمل ساتھیوں کو دشمن کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں دھکیلنا باعث تشویش وحیرت تھا۔ وہ عوامل کیا تھے، جو معمولی مسئلے سےتقسیم اور پھر جنگ کی صورت حال اختیار کرگئےاور وہ عوامل کیا تھے جو قبائل کے بیچ جاری جنگ اور اس جنگ میں ہزاروں جانی و مالی نقصانات کو فوراً حل کی طرف لے گئے؟ ایسے متضاد صورت حال میں لازمی طور پر سطحی الزامات جیسے ڈسپلن، اصول پرستی وغیرہ بغیر ٹھوس و ثبوت یا مضبوط دلائل کے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ الزامات اورسطحی و جذباتی شور شرابے میں حقائق تک رسائی بھی اتنا آسان نہیں ہوتا، اسلیئے ہر کوئی اپنے معلوماتی ذرائع پر تکیہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، چاہے اسکا معیار کچھ بھی ہو جسکی وجہ سے پیچیدگیاں جنم لیتے ہیں۔
‎ مسائل کے ڈھیر میں ایک اوراضافہ اس وقت ہوا کہ جب بی ایل اے 2017 میں ایک اور بحران کا شکار ہوا، حیربیارمری کے دست راست سمجھے جانے والے اور زمین پر پوری تنظیم کی باگ ڈور سنبھالنے والے استاد اسلم بلوچ اور کامریڈ بشیرزیب بلوچ کے خلاف بھی اچانک میڈیا میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزامات اچھالے گئے، ہندوستان اور مذہبی گروہوں سے تعلقات کی شُبے اورنشاندہی کے ساتھ انکو معطل کردیا گیا لیکن دوسری جانب تنظیم کے اندر سے ہی اس فیصلے کو شخصی فیصلہ قرار دیکر مسترد کردیا گیا اور الزامات کو دباؤ کے حربے قرار دیکر ثبوت مانگا گیا اور تنظیم کے اندر تنظیمی طریقہ کار کے بغیر ہونے والے اس فیصلے کو چیلنج کیاگیا اور تنظیم کے اندر ذمہ داران کے ساتھ ملکر مسئلے کے حل پرزور دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ماضی کی طرح یہ سلسلہ بھی تنظیم کے اندر حل نہ ہوتے ہوئے اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔ اور تادمِ تحریر لگائے گئے الزامات کے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا، جو ان الزامات کے صحت کو مشکوک کردیتی ہے۔
‎ اس مسئلے میں دو ترجمان سامنے آئے، آزاد بلوچ نامی ترجمان حیربیار مری کی ترجمانی کرنے لگا اور جئیند بلوچ بی ایل اے کا دعویدار بنکر سامنے آیا، یہ بات بھی ماضی کی طرح سر بستہ راز رہا کہ سخت اصولوں کےلیئے پہچان رکھنے والا تنظیم اپنے اندرونی مسائل تنظیم کے اندر حل کرنے کی صلاحیت سے کیوں قاصر ہے؟ اپنے مسائل کے حل کےلئے اُسے پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ دو طرفہ دعوؤں اور الزامات سے قطع نظرسیاسی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ حیرت زدہ کردینے والی بات یہ ہے کہ حیربیارمری ہمیشہ سے اصول اور سخت ڈسپلن کا دعویدار رہا ہے، بی ایل اے کو وہ اصولوں کا گہوارہ قرار دیکر خود کو زبردست اصول پرست قرار دیتا آرہا ہے لیکن اس دوران سب سے زیادہ بحران اور تقسیم کا شکار بی ایل اے اور سب سے زیادہ متنازعہ شخصیت حیربیارمری خود ہی رہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ سمجھنا شاہد ماضی میں مشکل رہا ہو، مگر آج اتنا مشکل نہیں۔ مبصرین کے مطابق حیربیارمری ہر مسئلے کواپنے مرضی اور منشاء کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے، چاہے اس مسئلے میں حیربیارمری فریق ہی کیوں نہ ہو، شرائط رکھ کر اپنی بات منوانے کی عادت حیربیارمری کی نفسیات میں شامل ہے، اسکے شرائط اگر فریقین کےلئے قابل قبول نہ ہو تو، حیربیارمری مزید گفت وشنید کے بجائے دباؤ میں لانے کےلیئے مسائل کو اخبارات میں اپنے طور پر بیان کرکے مزید اُلجھن پیدا کرتا ہے، جس سے مزید پیچیدگیاں جنم لیتے ہیں۔
‎ زمینی حقائق کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ بات دیکھنے میں بالکل صاف نظر آتی ہے کہ حیربیارمری کی طرف سے سب سے زیادہ ہدف تنقید بی ایل ایف اور ڈاکٹراللہ نذر رہے، مکران میں ہونے والی جدوجہد رہی اور ساتھ ہی ساتھ اسی دوران اصول، اصلاح، ڈسپلن اور حقیقی سمت میں سفر کےلیئے حیربیارمری ہمیشہ ہی اپنے آپ کو متعارف کراتے رہے لیکن آج کے نتائج میں کوہلو، کاہان اور مکران کے مزاحمتی حالات کچھ اور گواہی دے رہے ہیں۔ کوہلو کاہان میں مزاحمتی لہر آخری سانسیں لے رہا ہے، جس مڈی کو جواز بنا کر آزادی پسند جنگجوؤں کو آپسی جنگ کے آگ میں دھکیلا گیا، اس مڈی کو روزانہ کی بنیاد پر سرکاری فورسز علاقے سے بغیر کسی مزاحمت کے برآمد کرکے اپنے تحویل میں لے رہے ہیں، مری علاقے کے نامی گرامی کمانڈر یا تو سرینڈر ہوچکے ہیں یا پھر خاموش ہو کر کہیں روپوش ہوگئے ہیں۔ بچے کچھے ساتھیوں میں مزاحمت کی قوت ناپید ہے جبکہ جس مکران کو مافیا کا گڑھ اور جس بی ایل ایف کو چوروں اور منشیات فروشوں یا بلوچ کش افراد کا ٹولہ قرار دے رہے تھے، وہ اس مشکل حالات اور بے سر وسامانی کی حالت میں بھی مکران میں مزاحمت کو مضبوطی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسےحالات میں اصول پرستی، سخت ڈسپلن کے دعوؤں پر آسانی سے یقین کرنا کیسےممکن رہ جاتا ہے؟
‎ تازہ ترین بحران کے تحت ایک سال قبل ہی حیربیارمری اور اسکے قریبی ساتھیوں کی طرف سے استاد اسلم بلوچ اور کامریڈ بشیرزیب کو معطل کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ محض دو کمانڈر ہیں، باقی تنظیم پر اسکے اثرات نہیں پڑے لیکن ان دعوؤں کو ترجمان جئیند بلوچ کے نام سے مسترد کیا گیا تھا، بعض مقامات پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ حیربیار کا انفرادی فیصلہ تھا جسے محض اسکے کچھ قریبی ساتھیوں کی تائید حاصل تھی، وگرنہ یہ محض دو کمانڈر نہیں بلکہ تنظیمی اکثریت اس شخصی آمریت کے خلاف ہے، جسکے بعد وہ ترجمان جئیند بلوچ کے نام سے بی ایل اے کی مسلح کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعد کے آنے والے حالات و واقعات جیئند بلوچ کے موقف کے حق میں دلالت کرتے نظر آئے کیونکہ دو معطل کمانڈر مکران سے لیکر سبّی کاہان تک کیسے مسلح کاروائیاں سرانجام دے سکتے ہیں؟ اس ایک سال کے دوران جیئند بلوچ نے کوئٹہ، خاران، قلات، خضدار، زھری، حب چوکی، دالبندین، نوشکی، بولان، سبی، مچھ، کاہان، ہرنائی وغیرہ سمیت مکران کے مختلف علاقوں میں کامیاب کاروئیاں کئیں، یہ تقریباً بلوچستان کا ہر کونہ بن جاتا ہے، یہ یقیناً محض دو کمانڈروں کی بس کی بات نہیں لگتی بلکہ تنظیمی اکثریت لگتا ہے اور یہ حملے محض اخباری دعوے نہیں ہیں، مسلح کاروائیوں کے بہت سارے وڈیوز بھی سامنے آچُکے ہیں جبکہ دوسری طرف آزاد بلوچ اور ہائی کمان کے حملے انتہائی محدود سطح پر اور محدود علاقوں اور محدود پیمانے کے ہوئے اور وہ بھی ان حملوں کے دعوؤں کی تصدیق کیلئے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ جنگی مبصرین کے مطابق ان عوامل سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ دو کمانڈروں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ حیربیار مری تنظیمی اکثریت کھوچکے ہیں۔
‎ ایسا بھی سننے میں آرہاہے کہ ہمگام نیوز کی تشکیل ومتعارف کرانےاوراشاعت میں استاد اسلم بلوچ کی ٹیم کاہاتھ تھا لیکن تین سال قبل مختلف حیلوں و بہانوں سے اس ٹیم سے بلا کسی جواز کے ہمگام کو زبردستی چھین کر شبیر اور جمال ناصر کے حوالے کیا گیا، اس کے بعد ہمگام نیوز کی کارکردگی اور معیار اس حد تک گِرگیا کہ دیکھنے لائق ہے۔ اسکے بعد ایک سال قبل متعارف کیاجانے والا ایک نیا اردو و انگریزی آن لائن میڈیا ادارہ اُسی ٹیم کی مرہون منت ہے، جن سے ہمگام نیوز کو بِلا جواز چھینا گیا تھا، اگر اس نئے آن لائن میڈیا ادارے اور ہمگام نیوز کا آج صرف غیرجانبدارنہ تقابل و تجزیہ کیاجائے تو کارکردگی کے حوالے سے بہت کچھ ثابت ہوجائے گا۔
‎ بی ایل اے جئیند بلوچ کی مسلح کاروائیوں سے لیکر متعارف کیئے گئے نئے متحرک میڈیا نیٹورک ادارے کی مخالفت سوشل میڈیا پر اُن آئی ڈیز کی طرف سے کی جاتی رہی ہے، جو حیربیارمری کے حمایتی جانے جاتے ہیں، آگے چل کر اسی سلسلے کی کڑی گیارہ اگست کو دالبندین میں چینی انجئیرز پر ہونے والا فدائین حملہ جسکو استاد اسلم بلوچ کے فرزند ریحان بلوچ نے اپنے والد اور والدہ محترمہ کی اجازت و رضامندی سے سرانجام دیا تھا۔ جنگی مبصرین کے مطابق اس واقعے نے بلوچ تحریک پر انتہائی گہرے اور کثیر الجہت اثرات مرتب کیئے، اول یہ کہ بلوچ تحریک میں فدائی حملوں کی مثال کم ملتی ہے، اس حملے نے یہ پیغام پہنچایا کہ تحریک کس حد تک شدت اختیار کرسکتی ہے اور اس شدت کا فیصلہ بلوچ مزاحمتکاروں کے ہاتھوں میں ہے، جو ان دعوؤں کو مسترد کر بیٹھی کہ بلوچ تحریک کمزور پڑرہی ہے، دوسری جانب بلوچ تحریک قیادت کی سطح پر متنازعہ ہوتی جارہی تھی، لیکن استاد اسلم بلوچ کا خود کش حملے کیلئے سب سے پہلے اپنے جوانسال بیٹے کے چننے نے قیادت پر اعتماد کی بحالی میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور حالیہ صورتحال کو لیکر وسعت، شدت اور اثر انگیزی میں بی ایل اے ترجمان جئیند بلوچ کے دعوے سچ ثابت ہوئے اور اسکی واضح برتری نظر آنے لگی۔ پانچ روز گذرنے کے بعد آزاد بلوچ اور ہائی کمان کے دعویدار حیربیارمری کی طرف سے دالبندین فدائین حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرکے اس حملے کواستاد اسلم بلوچ کا ذاتی فعل قرار دیا گیا۔ اس کے فوراً بعد یعنی اگلے روز جئیند بلوچ نے آزاد بلوچ کے بیان کو شرمناک قرار دیکر تنظیم کے اکثریتی کمانڈروں کی طرف سے آزاد اور حیربیارمری کو بی ایل اے سے لاتعلق قرار دیکر اپنے سینئرکمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمیٹی کا اعلان کردیا۔ اس مسئلے میں بھی قریبی ذرائع اور سیاسی مبصرین کسی اور طرف ہی اشارہ کرتے نظر آتے ہیں۔
‎ مبصرین کہتے ہیں کہ بی ایل اے کا موجودہ بحران راتوں رات پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ اسکی کڑیاں گذشتہ مسائل سے جڑی ہوئیں ہیں اور بہت سے معاملات پر اختلافات تنظیم کے اندر پنپ رہے تھے۔ بی ایل اے میں پہلے نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے بیچ پیدا ہونے والے بحران اور اسکے نتائج کے سامنے آنےکے بعد تنظیمی ساتھیوں کی اکثرت نے ادارہ جاتی طریقہ کار کی کمی محسوس کی اور ادارہ جاتی تنظیمی طریقہ کار پر زور دیا اور یو بی اے سے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصانات اور دیگر آزادی پسند گروہوں سے اختلافات اور آپسی رسہ کشی کے تباہ کن نتائج کو مدنظر رکھ کر اپنے پالیسوں اور طریقہ کار پر نظرثانی کےلیئے زور دیا اور انہی خطوط پرکام کرنا شروع کردیا۔ اُن ساتھیوں میں استاد اسلم بلوچ اور اسکے قریبی ساتھی پیش پیش تھے اور تنظیم کے اندر استاد اسلم اور انکے قریبی ساتھی بہت اثر رکھتے ہیں، وہ اعتماد کے حوالے سے بھی تنظیمی ساتھیوں کے اکثریت کےلیئے قابل قبول ہیں۔ لیکن حیربیار مری کسی بھی ایسے ساخت، فیصلے یا تنظیم کاری کے قائل نہیں تھے، جہاں تنظیمی معاملات مکمل طور پر انکے ہاتھ میں نہیں رہتے۔ اس وجہ سے بہت سے معاملات پر اختلافات نے سر اٹھانا شروع کیا۔ اسی دورانیئے میں بی ایس او کانسٹی ٹیوشنل بلاک اور سالویشن فرنٹ جیسے پارٹیوں کی حیربیار کی جانب سے حمایت اور حوصلہ افزائی پر بھی اختلافات سامنے آچُکے تھے۔ استاد اسلم بلوچ اور انکے دوست ان فیصلوں کے قائل نہیں تھے، مگر دوسری طرف حیربیارمری کو تبدیلی اور کوئی دوسراطریقہ کار قابل قبول نہیں تھا، حیربیارمری نتائج کی پرواہ کیئے بغیر اپنے پرانے سوچ کے تحت اپنے ہی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتا تھا، تنظیمی طریقہ کار کے فقدان کا پہلے سے ہی تنظیم کو سامنا تھا۔ ادارہ جاتی فقدان کی وجہ سے تنظیم نواب خیربخش مری، زامران اور انکے قریبی ساتھیوں کی تقسیم اور یو بی اے جیسے بحران سے پہلے ہی دوچار ہوچکا تھا۔ حیربیارمری کےلئے کھل کر استاد اسلم اور اُنکے ساتھیوں کی مخالفت ممکن نہیں تھا، لیکن وہ اسلم بلوچ کی تنظیم میں اثرانگیزی اور گرفت کو بھی خود کیلئے خطرے کی گھنٹی سمجھتا تھا۔ اس لیئے حیربیار نے اس دوران اُستاد اسلم اور اسکے ساتھیوں کے خلاف جواز ڈھونڈنا شروع کیا، پہلے مرحلے میں اُس نے استاد اسلم کے قریبی ساتھیوں کو بلا جواز دباؤ میں لانے کی کوششیں کیئے، آہستہ آہستہ انکو بغیر وجوہ ظاھر کیئے اور بسا اوقات معمولی وجوہات بنا کر تنظیمی ذمہ داریاں انکے ہاتھوں سے لیکر انہیں بند گلی میں دھکیلنے لگا، تنظیم کے اندر ذمہ دار حلقے اور مبصرین اس پورے تسلسل کو اسلم بلوچ کے گِرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرنے سے تعبیر کرتے ہیں تاکہ بغیر کسی مسئلے کے اسلم بلوچ کو بے اثر کیا جاسکتا۔
‎اس کے ساتھ ہی، تنظیم میں کچھ نااہل اور کچھ باہر کے غیرمتعلقہ افراد کو ایک ساتھ کرکے تنظیم کے موجودہ طریقہ کار میں مداخلت شروع کی گئی، ان ساتھیوں پر مزید دباؤ بڑھانے کیلئے وسائل کی روک تھام شروع کی گئی اور ساتھیوں سے رابطے منقطع کیئے گئے، یہاں تک کہا جاتا ہے کہ استاد اسلم اور کامریڈ بشیر زیب کو کہا گیا کہ آپ دونوں عسکری جہد کے تقاضوں سے نابلد شبیر بلوچ اور جمال ناصر کے پابند ہیں اور کسی بھی کام کےلیئے جمال ناصر اور شبیر سے رابطہ کریں، ایسے حالات بنائے گئے جن کی وجہ سے اشتعال انگیزی جنم لے اور کوئی مشتعل ہوکر کچھ غلط کرے۔ ایسے حالات میں مزید دباؤ کےلیئے مختلف حربے استعمال ہوتے رہے۔
‎ اسی دوران طبعیت کی ناسازی اور دوران علاج اُستاد اسلم کے خلاف ایسے اخباری بیان کا سامنے آنا جس کا تصور بھی ایک عام سیاسی کارکن کےلیئے ممکن نہیں، جس میں استاد اسلم کے مقام وموجودگی کی نشاندہی کے ساتھ کسی دوسرے ملک سے تعلقات کے اشارے دیئے گئے، وہ بھی بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ کے نام سے، سیاسی مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ پچھلے تمام عرصے میں پاکستان بھرپور کوششیں کرتا رہا کہ کسی بھی طرح بلوچ قومی تحریک کو ہندوستان ،افغانستان یا اسرائیل سے جوڑ کر پراکسی قرار دے سکے لیکن پاکستان اپنے اس کوشش میں مکمل ناکام رہا، ایسے حالات میں بی ایل اے کے ترجمان آزاد کے نام سے اسطرح کے بیان کا سامنے آنا ناقابل یقین عمل تھا۔ عام خیال یہ ہے کہ تمام رابطوں کی موجودگی اور تنظیم کے ہوتے ہوئے، کیا وہاں صرف علاج کےلئے اجازت نہ لینے کی جرم پر استاد اسلم کو جوابداہ نہیں بنایا جاسکتا تھا؟ اس بات کو بھی سمجھنا ذرا مشکل ہے کہ دوران علاج اور غیر موجودگی میں استاد اسلم کے مقام و موجودگی کی نشاندہی کیوں کی گئی؟ کیا یہ عمل کسی بھی طرح اصول پرستی یا کسی بھی طرح کے ڈسپلن کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر اس بات پر چند لمحات کیلئے یقین بھی کیا جائے کہ یہ بیان موقع کی تلاش نہیں بلکہ خاص ڈسپلن کے بنیاد پر جاری ہوا تھا، پھر کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ جس سطح کی بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہوئی ہو، شاید وہ اتنا بڑا گناہ نہیں ہوتا لیکن تنظیم کے کسی سینئر کمانڈر کا جگہ، مقام اور صحت کی صورتحال کا میڈیا میں یوں اعلان کرنا، خود ناقابلِ معافی حد تک ڈسپلن کی ورزی نہیں تھی؟ بلکہ یہ پاکستان کی دیرینہ موقف کی رسمی طور پر تائید ہے۔
‎ اس عمل کے پس پردہ مقاصد پر رائے زنی کافی مشکل کام ہے قریبی ذرائع کے مطابق یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بیان سے کوئی ایک ہفتہ قبل شعبہ نشرواشاعت کے انچارج و ذمہ داران کو کوئی وجہ بتائے بغیر ان سے تنظیم کے تمام ویب سائٹس کے پاسورڈزمانگے گئے اور اسکےلیئے حیربیارمری نے از خود ایک ذمہ دار پر دباؤ ڈالا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ میں ویب سائٹس چیک کرکے پاسورڈز واپس کردوں گا لیکن پھر پاسورڈ تبدیل کرکے استاد اسلم کے خلاف بیان جاری کیا گیا اور شعبہ نشرواشاعت کو نظرانداز کرکے ویب سائٹس پر قبضہ کرلیا گیا، جسکے ردعمل میں بی ایل اے کے ساتھیوں نے اس مخبرانہ اخباری بیان، جس میں استاد اسلم کے مقام و موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی سے لاتعلقی اور ویب سائٹس کے ہیک ہونے کا بیان جاری کیا گیا تھا۔ اول یہ بیان رسمی طریقہ کاروں سے ہٹ کر شعبہ نشر واشاعت کے بغیر جاری ہوا تھا اور دوسری طرف آزاد بلوچ سے جاری اس بیان کا بیانیہ مکمل طور پر پاکستانی بیانیئے سے ہم آہنگ تھا، جس سے فوری ہیک ہونے کا تاثر ابھرا۔
‎مبصرین کی رائے ہے کہ گذشتہ واقعات کے تسلسل، استاد اسلم بلوچ سے رابطہ کیئے بغیر اور بجائے اسے آمنے سامنے بِٹھا کر کسی بھی تنظیمی طریقہ کار کے مطابق اظہارِ وجوہ کا موقع دیا جاتا، مسئلے کو اخباروں کی زینت بنانا یہ تمام حالات و واقعات اس جانب اشارہ کررہی ہیں کہ اسلم بلوچ کا علاج یہاں مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ وہ موقع تھا جس کا حیربیار مری کو تلاش تھا۔ ان عوامل کو مدنظر رکھ کر اگر دیکھا جائے تو پھر یہ بات سمجھنے میں چنداں دشواری پیش نہیں آتی کہ اگر اسلم بلوچ علاج نہیں بھی کرواتے تو پھرجلد یا بدیر ڈسپلن کے نام پر کوئی اور مسئلہ اچھال کر اسلم بلوچ کو اسی طرح معطل کیا ہی جاتا اور بات اسی طرح میڈیا کی زینت بنائی جاتی۔
‎جس طرح یہ مسئلہ بلوچ سیاست کے کچھ شرمناک واقعات میں سے ایک ہے، اس مسئلے کو حل کرنے کی نیت اور طریقہ کار بھی اچھے روایات قائم کرنے میں ناکام رہی۔ اس مسئلے میں فریق ہونے کے باوجود حیربیار مری اس مسئلے کا حل بھی حسبِ روایات اپنے شرائط کو تسلیم کرانے سے منسوب کراچکا تھا اور کوئی بھی بات چیت شرائط کو من و عن تسلیم کرنے سے ہی مشروط تھا۔ اس معاملے میں جو ثالث تھے انہوں نے بھی خود کو بے بس پایا۔ انہی ثالثین میں سے ایک میر عبدالنبی بنگلزئی بھی تھے جنہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا کہ اسے استاد اسلم بلوچ نے اس مسئلے کو حل کرنے کا مکمل اختیار دے دیا تھا، لیکن بارہا کوششوں کے باوجود حیربیار مری نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
‎بلوچ سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کیلئے یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے اور اس بابت یہ جائز سوال اٹھایا جارہا ہے کہ تنظیم کو اتنے بڑے بحران میں اصولوں کے نام پر مبتلا کیا گیا، لیکن وہ اصول کیا ہیں؟ استاد اسلم بلوچ جیسے ایک کمانڈر جو پورے تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، کو یوں اصولوں کی خلاف ورزی کے نام پر معطل کیا گیا، تنظیمی اکثریت اور ہمدردیوں کو یوں اصولوں کے نام پر پسِ پشت ڈالا گیا لیکن اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسلم بلوچ نے کس اصول کی خلاف ورزی کی تھی؟ یہ اصول یا نظم و ضبط کے کس شِق کی خلاف ورزی تھی؟ اگر اصول تحریری نہیں ہیں، زبانی ہیں تو پھر اس بات کی ابتک کوئی وضاحت کیوں سامنے نہیں آئی ہے کہ یہ اصول تنظیم کے کس ادارے نے، کب اور کتنے کمانڈروں کی موجودگی میں تشکیل دی تھی اور اسکے علاوہ تنظیم کے اہم اصول کیا ہیں؟ اگر میڈیا میں اتنے حساس مسئلے پیش کیئے جاسکتے ہیں، تو پھر اس معاملے کو سلجھانے کیلئے، ان اصولوں یا کم از کم جس اصول کی خلاف ورزی ہوئی تھی، اسے سامنے لانے میں کوئی عار نہیں۔ اگر ایسی کوئی ٹھوس چیز پیش نہیں کی جاسکتی، پھر استاد اسلم بلوچ، کامریڈ بشیر زیب اور انکے ساتھیوں کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ یہاں اصول سے مراد حیربیار مری کا مزاج اور منشاء ہے، کوئی متفقہ اور منظور کردہ طے شدہ منشور یا نظم و ضبط نہیں۔ پھر اس طرح اصول و ڈسپلن کے خوشنما نعرے کے پیچھے کل مہران مری کو نشانہ بنایا گیا، آج اسلم بلوچ کو نشانہ بنایا جارہاہے پھر آنے والے کل کو کسی کو بھی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاسکے گا۔
‎مبصرین اپنی رائے میں اس سنجیدہ مسئلے کی جانب بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ مسئلہ محض اندرونی تھا، پھر بھی جلد یا بدیر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن آزاد بلوچ نے استاد اسلم بلوچ کے خلاف جو بیان جاری کیا، اس میں ہندوستان کا ذکر کیوں ضروری تھا؟ کیا حیربیار مری یا اسکے قریبی ساتھی پاکستان کے پروپگنڈے یا خطے کی صورتحال سے اتنے نا واقف تھے کہ انکو احساس نہیں تھا کہ ہندوستان کا نام لیکر وہ پاکستان کے بیانیئے کی تائید کررہے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ اس جانب اشارہ ہے کہ یہ کسی غیر تحریکی قوت کو خوش کرنے کیلئے، بھارت کو بلیک میل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حیربیار مری غیر تحریکی قوتوں کی وجہ سے تحریک کو بڑے مصائب میں مبتلاء کرنے کا موجب بنے ہیں۔ یک طرفہ جنگ بندی کے فیصلے سے خود کو تحریک کا مالکِ کل ظاھر کرنے کی سعی ہو، بی این ایف سے عالمی نمائیندگی کا جعلی بیان جاری کروانا ہو، یو بی اے مسئلہ یا چارٹر پر سب کو زبردستی متفق کرانے کی کوشش کرکے خود کو اختیار اعلیٰ ظاھر کرنا چاہنا ہو اور اب بی ایل اے کے نام سے بھارت کو رسمی طور پر بلوچ تحریک میں ملوث قرار دینے کی کوشش۔ ان سب عوامل میں تین چیزیں مشترکہ نظر آئیں گی اول یہ کہ سب سے مراد حیربیار کو طاقتور اور سب سے زیادہ با اختیار ظاھر کرنے کی کوشش تھی، دوئم سب عوامل میں تحریک کے باقی اسٹیک ہولڈر بائی پاس ہیں اور جو بھی کچھڑی پک رہی ہے یا سودا بازی ہورہی ہے وہ حیربیار مری اور کسی غیر تحریکی قوت کے بیچ ہوئی ہے اور تیسری یہ کہ سب کا انجام تحریک میں انتشار، ٹوٹ پھوٹ اور مایوسی پر منتج ہوا ہے۔
یہی مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کرتے ہوئے خدشات تب جنم دیتا ہے، جب گیارہ اگست کو چینی انجنیئروں پر خود کش حملہ ہوتا ہے۔ اس حملے کو پوری بلوچ قوم میں ستائش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن حیربیار مری چپ رہنے کے بجائے آزاد بلوچ کے نام سے یہ بیان دیتے ہیں کہ بی ایل اے کا اس خود کش حملے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ استاد اسلم بلوچ کا ذاتی عمل تھا۔ دو ایسے وجوہات ہیں جس کی وجہ سے آزاد بلوچ کے اس بیان کو غیر معمولی سمجھا جاسکتا ہے اور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اول یہ کہ بی ایل اے جئیند بلوچ کے نام سے تقریباً روزانہ کے بنیاد حملے کرتی اور قبول کرتی آرہی ہے لیکن آزاد بلوچ کو صرف چینی انجنیئروں پر خود کش حملے کی تردید کرنی پڑی کے اسکا بی ایل اے سے تعلق نہیں باقی حملوں کی نہیں دوسری اہم بات یہ کہ آج سے قریباً چھ ماہ قبل معتبر جریدے فنانشل ٹائمز نے یہ خبر بریک کی تھی کہ چین ” کچھ قبائلی علیحدگی پسند بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔” مبصرین اب چینی انجنیئروں پر حملے کی تردید اور قبائلی علیحدگی پسند کا چین سے مذاکرات کو جڑتے ہیں اور آزاد بلوچ کے بیان کو چین کو دی گئی یقین دہانیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔
‎استاد اسلم بلوچ اور کامریڈ بشیر زیب بلوچ کو معطل کرنے کے بعد سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے استاد اسلم اور انکے ساتھیوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ در اصل تنظیم توڑنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے بی ایل اے کو توڑنے کے بجائے بی ایل اے کے نام سے ہی اپنا کام جاری رکھا اور مبصرین کے مطابق حیران کن حد تک انکی ایک سالہ کارکردگی بی ایل اے کی گذشتہ کارکردگی سے بھی بہتر رہی، اس دوران بی ایل اے نے جئیند بلوچ کے نام سے بلوچستان کے تقریباً ہر کونے میں کامیاب حملے کیئے، جن میں بڑے پیمانے کے حملے بھی شامل تھے، جن میں سب سے قابلِ ذکر چینی انجنیئروں پر استاد اسلم بلوچ کے اپنے بیٹے ریحان بلوچ کا فدائی حملہ تھا۔ اسکے علاوہ اس ایک سال کے دوران استاد اسلم کے ساتھیوں نے یو بی اے سے جنگ بندی کرتے ہوئے، جنگ کا مکمل خاتمہ کردیا، نقصانات کا ازالے کے ساتھ آزادی پسند ساتھیوں کو باہم شیر وشکر کردیا، بی ایل ایف سے اشتراک عمل کرکے دیگر آزادی پسند تنظیموں سے اعتماد بحال کردیا۔ ایک سال سے کم عرصے میں نا صرف اردو بلکہ انگریزی میڈیا میں ایک نیا معتبر و متحرک میڈیا ادارہ تشکیل دیکر بلوچستان کی آواز دنیا تک پہنچانے میں قابلِ ذکر حد تک بہترین کام کیا اور سب سے بڑھ کر جو کام بی ایل اے گذشتہ دو دہائیوں سے نہیں کرپائی وہ انہوں نے گذشتہ ایک سال کے اندر کرکے دِکھایا یعنی تنظیم کے اندر باقاعدہ سپریم کمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمانڈ کے نام سے حقیقی ادارے تشکیل دے دیئے۔ یہ عوامل اس امر کی غمازی کرتیں ہیں کہ حیربیار مری تنظیم کے اندر اداروں کے قیام اور صلاحیتوں کےسامنے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
‎اصول پرستی، حق گوئی اور حقیقت پسندی کے خوشنما نعروں کے برعکس، ہر عمل اور فیصلے کا نتیجہ اسکا سب سے بڑا وکیل ہوتا ہے، آج سے دو دہائیوں سے زائد عرصے پہلے خیربخش مری نے حیربیار کے ہاتھ میں بلوچوں کی واحد نمائیندہ مزاحمتی تنظیم کی مکمل باگ ڈور تھمائی اور اسے بے پناہ طاقت و اختیار کا مالک بنا دیا، اس طویل عرصے کے بعد آج حیربیار اسکو کتنا آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے یا کتنا گھٹاتے رہے، اس پر اب مزید تجریئے کی ضرورت نہیں، آج وہ جہاں کھڑے ہیں، وہ اب تک اپنے غلط فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے، تحریک کے تمام اسٹیک ہولڈروں کو جن کی بہت جاندار کرداریں ہیں، انہیں نمک حرام و سازشی قرار دیکر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ اور اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ دوسرے آزادی پسندوں کے ساتھ روا رکھے اس ہتک آمیزانہ اور متکبرانہ رویئے کے باوجود ان سے اتحاد اپنے شرائط پر چاہتے ہیں۔
کوئی بھی عمل ہو، جب تک ہم اسکے مستقبل بعید کے بارے میں درست پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکیں تب تک وہ سائنس کے کسوٹی پر پورا نہیں اترتا، اور درست پیشن گوئی کی صلاحیت بار بار کے نتائج اور ان نتائج کے باہم مربوط رشتے اور مماثلت کو درست پرکھ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ اب ان فیصلوں اور انکے نتائج، اور حقائق کے اس بوچھاڑ میں سیاسیات کا ایک طالبعلم بلوچ قومی تحریک کے مستقبل کی کیسی پیشن گوئی کرسکتا ہے، وہ اسکے صلاحیتوں پر منحصر ہے، لیکن کوئی بھی غیر جانبدار مبصر و تجزیہ نگار ایسے فیصلوں و اعمال کے نتائج میں ایک تابناک مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کرے گا، اگر مستقبل روشن نظر نہیں آرہی تو اسکا مطلب ہے کہ موجودہ فیصلوں و اعمال کے نتائج کا باہم ربط مثبت نہیں اور اگر فیصلے مثبت نہیں تو فیصلے کرنے والوں کو پرکھنا چاہیئے۔

пятница, 24 августа 2018 г.


اگر چین اپنے سامراجی عزائم سے باز نہیں آیا تو انہیں بلوچ قوم کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

(   مقبوضہ بلوچستان  ) بلوچ قوم پرست رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ بلوچستان پر پاکستان کی قبضہ گیریت کو محکم کرنے، بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار اور استحصال کے لئے چین پاکستان اشتراک عمل، بے پناہ سرمایہ کاری بلوچ قوم کے لئے ناقابل قبول ہے اور ہم ہر طرح سے چینی منصوبوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ چین کی بلوچ سرزمین پر پاکستان کے ساتھ ساجھے داری اور پاکستان کو جدید عسکری ٹیکنالوجی اور سازو سامان دینا بلوچ نسل کشی میں چین کے کردار کو بھیانک اور قابل نفرت بنا چکا ہے اور اسے بلوچ قوم قطعاً معاف نہیں کرے گی۔ چین پاکستان تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین جس غلامی اور استحصالی دور سے گزرا ہے اسے بلوچ سرزمین، وسائل اور شناخت کا احساس ہونا چاہئے لیکن چین اپنے ماضی قریب کو بھول کر ہماری غلامی اور استحصال میں پاکستان کے ساتھ شریک جرم بن چکا ہے۔ چین کو اپنے ماضی کے طویل تجربوں کو مدنظر رکھ کر اس امر کا اندازہ ہوگا کہ آزادی کی تحریکیں کتنی طاقت ور ہوتی ہیں۔ 
ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا کہ سی پیک سمیت کئی چینی منصوبوں کی حفاظت کے نام پر بلوچستان میں نہ صرف پاکستانی فوج کا بہت بڑا حصہ تعینات ہے بلکہ فوج اور خفیہ ادارے ظلم و جبر کی حدود پھلانگ چکے ہیں۔ مگر تمام تر ظلم و جبر کے باوجود پاکستان اور چین کے منصوبے ابھی تک ہوا میں معلق ہیں۔ یہ امر وضاحت کا محتاج نہیں ہے کہ چینی منصوبوں کو بلوچ قوم کی زبردست مزاحمت کا سامنا ہے۔ ہم چین کو خبردار کرتے ہیں کہ بلوچستان ایک مقبوضہ اور متنازعہ خطہ ہے یہاں بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی منصوبہ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا۔ اس کے باوجود چین یہاں سے انخلاء نہیں کرتا ہے تو چینی منصوبوں کے لئے بلوچستان ایک قبرستان بن جائے گا اور چینی سرمایہ یہیں ہمیشہ کے لئے دفن ہوکر رہ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے خلاف پاکستانی مظالم جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اس میں چین کا کردار واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ایسے حالات میں چین سمیت کسی بھی ملک کا پاکستان کے ساتھ شراکت داری بلوچ نسل کشی میں ساتھ دینے اور جنگی جرائم میں شریک کار ہونے کے مترادف ہے۔ بلوچستان ایک لاوارث سرزمین نہیں ہے کہ پاکستان کسی بھی سامراجی قوت کے ساتھ مل کر بلوچستان کو ہمیشہ کے لئے اپنے زیر نگین رکھے گا اور بلوچ قوم اور قومی تشخص کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا بلکہ بلوچ قوم نے پاکستانی قبضے کے خلاف بیش بہا قربانیاں دی ہیں جو ہنوز جاری ہیں۔ اگر چین اپنے سامراجی عزائم سے باز نہیں آیا تو انہیں بلوچ قوم کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پاکستانی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری فوجی آپریشن میں پاکستانی فوج نے چالیس ہزار سے زائد بلوچوں کو غیر قانونی حراست اور خفیہ زندانوں کے عقوبت خانوں میں بند کر رکھا ہے۔ دس ہزار کے قریب بلوچوں کو فوجی آپریشن، دوران حراست تشدد، مارو اور پھینکو پالیسی اور جعلی انکاؤنٹر میں قتل کرکے شہید کیا گیا ہے۔ ان مظالم میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) منصوبے کے معاہدے کے بعد انتہائی حد تک تیزی لائی گئی ہے۔ اس منصوبے کے روٹ پر آباد مکینوں کو فوجی آپریشن کے ذریعے ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے۔ کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹائے گئے ہیں۔ ان کے مکین بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک بڑی تعداد افغانستان اور دوسرے ممالک میں پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان اور ایپکس کمیٹیوں جیسے بلوچ کش منصوبوں کی منظوری بعد خونی آپریشن کروانے اور حصہ لینے والوں کا بھی بلوچ قوم احتساب کرے گی اور وہ ان جنگی جرائم اور بلوچ نسل کشی میں برابر شریک ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ آج بلوچ ہجرت، دربدری اور بے پناہ مظالم کا سامنا کررہے ہیں اور وہ یہ تمام قربانیاں اپنے عظیم وطن کی آزادی کے لئے دے رہے ہیں۔ ان قربانیوں کا حاصل و نتیجہ آزاد بلوچستان ہی ہوگا۔ دنیا کو اس امر کا احساس کرنا چاہئے کہ بلوچستان کی آزادی کے بغیر اس خطے میں امن لانا ایک خواب ہی رہے گا کیو نکہ چین کے سامراجی عزائم اور پاکستان کی دہشت گردی کے فروغ پر مبنی پالیسیاں دنیاکے لئے مزید خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جس کا نقصان بلوچ قوم پہلے ہی سے اٹھا رہے ہیں لیکن عالمی دنیا بھی ان سے محفوظ نہیں رہے گی۔

четверг, 23 августа 2018 г.

فکر آزادی کو سچ ثابت کرنا – فلسفہ فدائین – برزکوہی


سقراط نے علم فلسفہ کو سچ ثابت کرنے کے لیئے زہر کا پیالہ پی کر جام شہادت نوش کی، اسکندریہ کے فلسفی پروفیسر ہائی پیشیا کو فلسفے کو سچ ثابت کرنے کی پاداش میں ڈنڈوں سے مار مار کر شہید کیا گیا، پھر اس کی لاش کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کی گئیں اور ان بوٹیوں کو گلی میں رکھ کر آگ لگایا گیا تاکہ خوف مسلط ہو، علم فلسفہ کی سوچ دم توڑ دے۔اٹلی کے برونو کو کمبھے پر باندھ کر زندہ آگ لگائی گئی اور اس کی راکھ ہوا میں اڑا کر خوشیاں منائی گئیں۔
دنیا میں ایسے بے شمار انسان گزر چکے ہیں کہ اپنے نظریہ و افکار کو دنیا میں سچ ثابت کر نے اور پھیلانے کی خاطر ہر قسم کی اذیت حتی کے موت کو بھی خوشی سے قبول کرچکے، تاکہ تاریخ میں وہ امر ہوجائیں اور ان کی فکر بھی زندہ اور سچ ثابت ہو۔ جس طرح سقراط نے سزا موت دینے والی جیوری سے اپنے خطاب میں کہا تھا”یاد رکھو تم مجھے سزائے موت دیکر ذندہ کررہے ہو، اب میں اور میرا علم کبھی نہیں مریں گے کیونکہ میری تمام دلیلیں زندہ رہیں گی، اس لیئے میں زندہ رہونگا۔”
بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے دانستہ طور پر دشمن کو نقصان دیئے بغیر، صرف آواز کے بم اسمبلی میں گرا کر پھانسی کا تختہ بخوشی قبول کرکے اپنی قومی آذادی کی فکر کو اپنے قوم اور دنیا کے سامنے سچ ثابت کردیا۔اسی طرح بلوچ قومی لیجنڈ ریحان نے خود کو بارود سے بخوشی اڑا کر، بلوچ قوم خاص کر دنیا اور چین سمیت پاکستان جیسے دشمن کے سامنے قومی فکر کو سچ ثابت کردیا کہ قومی آزادی کی فکر سچائی کی فکر ہے۔ اگر اس فکر میں سچائی نہیں ہوتا تو اپنی جان کو خود فدا کرنا دور کی بات، باشعور انسان بغیر سچ اور حقیقت کے اپنا ایک انگلی بھی کٹا نہیں سکتا ہے۔
دنیا میں ہر سچائی کو صرف باتوں اور لفاظیت سے کوئی سچ ثابت نہیں کرسکتا، اگر اس طرح ممکن ہوتا تو حضرت محمد پر خدا کا وحی اور قران پاک نازل ہوتے ہوئے بھی انہوں نے کیوں فکر اسلام کو سچ ثابت کرنے کے لیئے جہاد شروع کی تکلیف اور مشکلات برداشت کیں؟ وہ بھی بیٹھ کر آرام سے صرف دعوے اور لفاظیت کے ذریعے اسلام کو سچا ثابت کرسکتا تھا حالانکہ آپ پر خدا کا وحی ناذل ہوچکا تھا پھر بھی سچائی کے لیئے اسے قربانی دینا پڑا تب جاکر اسلام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا اور سچ ثابت ہوا۔ صرف باتوں دلیل اور لفاظیت سے ممکن ہوتا تو نبی کریم بھی بیٹھ کر صرف سچ کی دعوی کرتا۔ قران پاک اور خدا کا رسول ہونے کے دلیل سے زیادہ طاقتور دلیل اور کیا ہوسکتا تھا؟
آج ہم جتنا بھی، جس حدتک یہ دلیل دیں کہ پاکستان بلوچستان پر قابض ہے، ہم بحثیت بلوچ قوم بلوچ سرزمین کے مالک ہوتے ہوئے پاکستان کو اپنے سرزمین پر نہیں چھوڑتے اور چین بھی پاکستان کا ساتھ نہ دے اور بلوچ قوم کے وسائل کا لوٹ کھسوٹ بند کردے بلکل یہ فکر سچ اور سچائی پر مبنی ہے، کیا اس طرح کہنے اور دلیل پیش کرنے سے پاکستان اور چین بلوچ سرزمین کو چھوڑ دینگے؟ اور خود بلوچ قوم اس سچائی کو قبول کرلیگا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر 70 سالوں سے کیوں ایسا نہیں ہوا؟ کیوں سننے والا کوئی نہیں؟ اگر سنتے بھی ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں ہورہا ہے؟کیوں سارے ٹھوس دلیل اور تاریخی حقائق نظر انداز ہورہے ہیں؟ کیوں بلوچ وسائل کے لوٹ کھسوٹ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے؟ کیوں چین اور دیگر بیرونی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے؟کیونکہ سب کچھ طاقت اور تشدد کی بنیاد پر ہورہا ہے، طاقت کو طاقت اور تشدد کو تشدد ہی ختم کرسکتا ہے دنیا میں کوئی ایسا ایک مثال ہے؟ بغیر طاقت اور بغیر تشدد سے طاقت اور تشدد کوئی ختم کرسکا ہے؟ میرے خیال میں بالکل نہیں پھر بلوچ قوم کس طرح اور کیسے چین اور پاکستان کی طاقت اور تشدد کو صرف دعووں اور لفاظیت سے ختم کرسکتا ہے؟ یا پھر انتہائی چھوٹے چھوٹے کاروائیوں سے اتنے بڑے پیمانے پر طاقت اور تشدد کو ختم کرسکتے ہیں؟ یہاں رکاوٹ اور پریشر کی حد تک بالکل کافی ہیں لیکن خاتمہ کرنا ناممکن نہیں۔
اگر ہم بحثیت بلوچ قوم اور بلوچ جہدکار صرف اور صرف رکاوٹ اور پریشر گروپ یا ہر ایک اپنے آپ کو انفرادی طور پر تاریخ میں محدود سطح تک زندہ رکھنے کی خواہش مند ہیں تو پھر جو چل رہا ہے، وہ صحیح ہے، پھر ہم تاریخ میں ضرور بالضرور اور ایک محدود سطح تک یاد رکھے جائینگے لیکن بطور کامیاب انسان اور کامیاب تحریک اور کامیاب قوم کے نام سے کبھی بھی نہ یاد رہینگے نہ ہی تاریخ بنیں گے، تو پھر اس طرح کے سینکڑوں قوم اور تحریک پہلے بھی گزر چکے اور آج بھی گزر رہیں ہیں جنکی کوئی خاص تاریخی اہمیت نہیں ہے۔
میں تو سمجھتا ہوں آج شعور و علم کی سطح کی کمزوری اور پست ہونے کی وجہ سے ہم سوچ کے حوالے سے انتہائی محدود دائرے اور مقام پر کھڑے ہوکر اس محدود دائرے اور سطحی مقام کو وسیع اور اعلیٰ مقام تصور کررہے ہیں حالانکہ حقیقت ایسا نہیں ہے۔
آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور شیشے کی طرح صاف اور واضح ہوچکا ہے، کچھ طبقے شعوری یا لاشعوری، دانستہ یا غیر دانستہ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپری سطح تک مکمل ایک بلوچ قومی اور عوامی تحریک کی سوچ تک نہیں رکھتے ہیں یا ان کی سوچ اور اپروچ کی سطح یہاں تک ہے یا پھر سب کچھ جانتے ہوئے صرف اور صرف تحریک کی شکل اور نام پر بزنس یا وقت گزاری کرتے ہیں، جو قومی المیہ ہے۔
اس سوچ سے نہ تو دنیا کی توجہ بلوچستان پر مبذول ہوگا اور نہ دشمن سے چھٹکارہ حاصل ہوگا، البتہ دشمن کے لیئے کم سطح پر تکلیف اور پریشانی ضرور ہوگا اور اس سطح کے تحریک کو دنیا کبھی بھی کھل کر اور بڑے پیمانے پر سپورٹ نہیں کریگا اور دنیا اتنا بے وقوف بھی نہیں کہ وہ پاکستان اور چین جیسے طاقتوں سے مفت میں دشمنی مول لے، جب تک دنیا کی طاقت آپ میں وہ قوت اور طاقت محسوس نہ کرلے، اس وقت تک عملاً اور مکمل مدد ممکن نہیں۔
البتہ صرف پریشر گروپ کی حد تک توجہ دینا اور مدد کرنا ممکن ہوگا، جو بلوچ قومی تحریک اور مجموعی بلوچ قوم کے لیئے مفید ثابت نہیں ہوگا، البتہ کچھ لوگوں اور کچھ خاندانوں کے لیئے ضرور فائدہ مند ہوگا۔
انفرادی، خاندانی اور گروہی فوائد کے لیئے آج بلوچ تحریک میں کچھ طبقات اسی سوچ پر کاربند ہیں، جو انتہائی خطرناک ہیں، ایسی سوچ پر تحریک کو قومی اور عوامی تحریک کی شکل اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے، کچھ طبقات کبھی برداشت نہیں کرینگے، کیونکہ قومی اور عوامی تحریک کی شکل میں ان کی ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کی تحفظ نہیں ہوگی، پھر پانے کے لیئے ان کے پاس کچھ نہیں۔
پھر پاکستان اور چین جیسے بلوچ دشمن قوتوں کا ردعمل آخری حد تک ہوگا، اس خوف کے تناظر اور ذاتی خوشحال زندگی گذارنے کی نقطہ نظر سے پاکستان اور چین جیسے دشمن کو زیادہ تکلیف دینا، انکو ناگوار گذرتا ہے، بس ایک حدتک اور معمولی سطح پر دشمن کو دشمن کہنا اور اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنے والا حکمت عملی کافی ہوتا ہے، اس سے بڑھ کر کچھ کرنے والے اور قدم اٹھانے والوں کا گلہ گھونٹنا، حوصلہ شکنی اور مخالفت کرنا اس سوچ کے تحت تاکہ قومی اور عوامی تحریک اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان کی سوچ پروان نہ چڑھے جو کہ بلوچ تحریک میں انتہائی خطرناک سوچ اور حکمت عملی ہے۔ اسی خطرناک سوچ اور حکمت عملی کی وجہ سے تحریک سے وابستہ مخلص، قربانی کے جذبے سے سرشار جہدکاروں کے خلاف حربے، پروپگنڈے، دیوار سے لگانے والے سازش، کردار کشی، الزام تراشی، حوصلہ شکنی، مخالفت در مخالفت جاری و ساری ہے۔
بلوچ قومی لیجنڈ ریحان بلوچ نے قومی آزادی کی فکر کو مذید سچ ثابت کرنے کے لیئے اور دشمن کو یہ پیغام دینے کے لیئے پاکستان اور چین پر فدائی حملہ کرکے یہ ثابت کیا کہ بلوچ اپنی سرزمین پر کسی کو برداشت نہیں کرتا، اب یہ سچ اور سچائی خود بلوچ معاشرے میں پروان چڑھ کر آئندہ مزید کئی ریحان جیسے سپوت پیدا کریگا اور دشمن کے خلاف مزید ایسے اقدامات سامنے آئینگے، تو بلوچ قومی تحریک اور بلوچ سیاست میں متوقع تبدیلیوں کے ساتھ مزید ردانقلابی قوتیں واضح ہوکر اصل قومی جہدوجہد کے سامنے رکاوٹ ہونگے، ان کو سمجھنا اور جاننا ہر مخلص ایماندار اور ہم خیال جہدکار کی ذمہ داری ہے، یہ اس وقت ممکن ہوگا، جب سطحی اور محدود سوچوں کا خاتمہ ہوکر شعور اور سنجیدگی اپنی بلندیوں پر ہو۔

вторник, 21 августа 2018 г.

برزکوہی – Rehan the Legend

Rehan the Legend
برزکوہی
بلوچ قومی تاریخ میں بالاچ گورگیچ ایک لیجنڈ ہے، بالاچ گورگیج قدیم گوریلا جنگ کا بانی کہلانے کا مستحق ہے، اپنے کمزور طاقت سے تن تنہاء اپنے مدمقابل انتہائی طاقتور دشمن سردار بیبرگ بلیدی سے بلوچ روایات بلوچ کوڈ آف آنر کے خاطر آخری دم تک لڑتا ہے، بالاچ گورگیج کی ماں، بہن یاسمین کی طرح بالاچ گورگیج کو کہتا ہے
یا مرد کہ میار جل انت
تہا نیمروچ نا وسپ انت
بالاچ گورگیج کی ماں کی بالاچ کو نصیحت یا شغان، بہن یاسمین کی اپنے بیٹے ریحان کو قومی بیرک سے لپیٹ کر یہ کہنا جا بیٹا میں نے آپ کو وطن کے لیئے قربان کردیا۔ دونوں تاریخی کردار اور واقعات اپنے تئیں وقت و حالات اور تقاضات کے مطابق مختلف ہوتے ہوئے ایک حد تک یکسانیت رکھتے ہیں، دونوں کی بنیادی اصول بلوچ قوم کوڈ آف آنر پر آکر رک جاتی ہے۔
بالاچ گورگیج اور اس کی ماں کا تاریخی کردار، آج تک بلوچ سماج میں بہادری کی وہ داستان بن چکی ہے کہ جسے اکثر مائیں اپنے بچوں کو سناتے ہوئے بہادری کا درس دیتے ہیں اور بالاچ گورگیج اور اس کی ماں کا یہ تاریخی داستان بلوچوں کے ذہن پر اپنے نقوش چوڑ دیتا ہے۔
شہید نواب اکبر خان بگٹی بھی بالاچ گورگیج کو اپنا آئیڈیل مانتا تھا اور آخری عمر میں وہ بالاچ گورگیج کے فلسفہ پر کاربند ہوتا ہے۔
ریحان بھی صرف بلوچ قوم کا نہیں بلکہ تمام مظلوم قوموں کے لیئے ایک لیجنڈ بن گیا ہے، آج بلوچ قوم کے ساتھ ساتھ دیگر مظلوم اقوام بھی نسل درنسل اپنے بچوں کو اگر بہادری کی داستانیں سناتے ہونگے یا ماں اپنے بچوں کو بہادری کی لوری سنائیں گے، تو ریحان اور بہن یاسمین ہی ان کا موضوع ہوگا۔
تمام مظوم اقوام سمیت، بلوچ قوم کے شہداء اور ماؤں کی قربانی اور کردار اپنی جگہ انتہائی قابل قدر اور قابل فخر ضرور ہے لیکن ریحان اور اس کی ماں یاسمین کی قربانی اور تاریخی کردار سب سے الگ منفرد اور مثالی ہے، جس کا موازنہ اور برابری پوری انسانی تاریخ میں کسی جگہ ہمیں نہیں ملتی ہے۔
کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو بخوشی جنگ پر روانہ کرنا یا اس کی شہادت کے بعد اس پر فخر کرنا، ایک الگ سوچ اور کیفیت ہوتا ہے لیکن اپنے بیٹے کو فدائی پر روانہ کرنا وہ بھی مذہبی نظریئے یعنی خدا کی راہ میں قربان کے سوچ سے مختلف، صرف وطن پر قربان کرنا، وہ بھی یہ سوفیصد جان کر میرا بیٹا ریحان واپس زندہ گھر ہرگز دوبارہ نہیں لوٹے گا، یہ خود انوکھا واقعہ اور کیفیت ہے یعنی بالاچ گورگیج کی ماں کو پورا یقین تھا اس کا بیٹا لڑکر ضرور واپس لوٹے گا لیکن ریحان کی ماں کو پورا یقین تھا کہ ریحان کبھی بھی گھر کے دروازے کی چوکھٹ پر واپس پلٹ کر قدم نہیں رکھے گا، پھر بھی خوشی سے ریحان کو شہادت کے لیئے روانہ کرنا، خود اپنے اندر عجیب ہم جیسوں کے لیئے نہ سمجھنے والی کیفیت ہے۔
صرف میں اتنا سمجھتا ہوں فکرے وطن اور فکرے قوم سب چیزوں سے بالاتر ہے، بشرطیکہ قومی فکر خود کمزوری تذذب اور ڈگمگاتے ہوئے کیفیت کا شکار نہ ہو، بلکہ پختہ یقین ہو۔ یہ بلکل شعور اور قومی فکر کی پختگی اور انتہاء ہے۔ جب بھی قومی فکر، قومی شعور کی پختگی اور اس کی انتہاء ہوگی، تو قومی جنگ برائے قومی آزادی کو پھر رد کرنا کسی بھی طاقت اور رکاوٹ کی بس کی بات نہیں ہوگا۔
قومی جنگ اور قومی شعور لازم و ملزوم ہیں، قومی نجات کیلئے صرف جنگ اور لڑنا بغیر قومی شعور کے بے فائدہ ہے اور قومی شعور بغیر قومی جنگ کے بھی بے فائدہ ہے، قومی شعور اگر ٹیبل ہے تو قومی جنگ ٹیبل کی چار ٹانگیں ہے، اگر قومی جنگ کسی مکان کے چھت ہوتا ہے تو قومی شعور مکان کے چاروں اطراف کے دیواریں ہوتی ہیں، قومی جنگ اگر ایک درخت ہوتا ہے تو پانی قومی شعور ہوتا ہے۔
قومی شعور قومی جنگ کو تخلیق کرتا ہے اور قومی جنگ قومی شعور کو تخلیق کرتا ہے، یعنی دونوں برابر، لاذم اور ملزوم ہیں ایک کے نا ہونے کی صورت میں، دوسرا نا مکمل ہوگا جب نامکمل ہوگا تو ایک دن ضرور انسان تھکاوٹ، مایوسی، پشیمانی اور الجھن کا شکار ہوگا۔
جہاں اور جب بھی قومی شعور پختہ ہوگا، قومی جنگ تسلسل کے ساتھ جاری و ساری رہیگی، وہاں کامیابی ہی کامیابی قومی مقدر ہوگا۔ قومی جنگ کی منظم، مضبوط اور موثر شکل قومی شعور میں پوشیدہ ہے، تو اسی طرح قومی جنگ کی شدت قومی شعور کی پرورش کرتا ہے۔
جذبہ اور احساسات جب بھی لاشعوری یا کم شعوری میں مبتلا ہوں، تو وقتی ہی صحیح لیکن مستقل طور پر قومی تحریک کے لیئے کارگر ثابت نہیں ہونگے، بہت جلد منہدم پڑ جائینگے۔ ذاتی تجربات اور مشاہدات کے پیش نظر، سینکڑوں واضح مثالیں ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
لیجنڈ ریحان اور بہن یاسمین کی تاریخی کردار اور عمل اس کے بعد پوری بلوچ قوم، قومی تحریک اور دنیا پر پڑے مثبت و حوصلہ افزاء اثرات، احساسات اور جذبات قومی تحریک کے لیئے انتہائی سود مند ہیں اور مزید سود مند ثابت ہونگے، بشرطیکہ تمام جہدکار ان ہی جذبات، احساسات اور مثبت اثرات کو قومی شعور کے رخ میں بدل کر قومی جنگ میں مزید شدت پیدا کریں۔
اس کوشش کے لیئے ہر قدم ہر لمحہ انتہائی سوچ و بچار اور سنجیدگی کی اشد ضرورت ہے۔ چین سامراج اور پاکستان دشمن سمیت تمام رد انقلابی اور جنگ مخالف قوتیں حتع الوسع کوشش کرینگے کہ بطور ردعمل ایسا عمل کریں تاکہ یہ اثرات زائل ہوں۔
ان کے تمام چھوٹے بڑے عزائم، سازشوں اور اقدامات کو باریک بینی سے جاننا اور سمجھنا اور حکمت عملی ترتیب دینا، اس وقت سب مخلص اور ہم خیال جہدکاروں کا قومی فرض ہے۔ اس مقصد کےلیئے انتہائی سنجیدگی سوچ سمجھ اور غور و خوض کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ علم ہنر اور صلاحیت درکا ہوتا ہے، نہیں تو جذبات کا ماحول جیسا بھی ہو، جس طرح بھی ہو، جس مقام اور سطح اور عروج پر ہو، وہ جذبات ہی ہوتے ہیں، جو ہرگز دیر پا نہیں بلکہ وقتی کیفیت ہوتے ہیں اور کیفیت خود ہی ہمیشہ آخر کار سرد پڑجاتے ہیں۔
تو بجائے تمام مخلص اور ہم خیال جہدکاروں کی سطحی، محدود اور غیرضروری چیزوں پر اٹکے رہنے کے، اپنا تمام تر توانائی توجہ اور دلچسپی اہم اور ضروری چیزوں پر مبذول کرکے ریحان کو بطور لیجنڈ سمجھ کر ریحان کے افکار، نظریات اور خیالات کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی شعور کو اجاگر کریں اور ساتھ ساتھ قومی جنگ پر توجہ دیکر، قومی جنگ کو تیز کردیں، اسی میں بلوچ قومی تحریک کی کامیابی اور کامرانی پوشیدہ ہے