Powered By Blogger

суббота, 27 сентября 2014 г.

غدار کی موت قومی بقاء ہے
تحریر۔۔۔۔ میر یاسین بلوچ
بہت دن ہوئے ہیں سوچا تھا کہ قلم نہ اُٹھاوں اور کچھ بھی نہ لکھوں کیونکہ ایسے حالات مرتب ہوئے کے قلم کو چھوڑنا ہی بہتر راستہ تھا، مگر شہداؤوں کے بہتے ہوئے پاک لہو نے اغوا شدگان کی زخموں کے دردوں نے مجھے پھر قلم اُٹھانے پہ مجبور کردیا ہے، اور اپنا قلم کو نہ اُٹھانے کا فیصلہ ترک کرنے پہ مجبور ہوگیا۔
مجھے اکثر رات کو سوتے وقت شہیدوں کے ماؤوں کی فریاد کانوں میں گونچتی رئی ہیں اور یہ فریاد کرتے ہیں کہ میرے بیٹے اپنے فرض نبھاتے ہوئے اپنے مادرِ وطن کے لیے شہید ہوئے اور اپنا حق ادا کیا، دھرتی بھی ہماری ماں ہے اور جنم دینے والے ماں سے کئی گناہ زیادہ اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے اور اس ماں کا حق ادا کرنے کے لیے اپنی دھرتی ماں کو کسی کے زیر قبضہ نہ کرنا ہی اس ماں کی حق ادائیگی ہے۔ دھرتی ماں وہ ماں ہے جو ہمارے تمام غلاظت خود میں سمیٹ لیتا ہیں اور ہمارے اس فانی جہاں سے رخصت ہونے کے بعد ہمیں اپنے باہوں میں ہمیشہ کے لیے سمیٹ لیتا ہے اور اپنی ماں ہونے کا حق نبھالیتا ہے، اب ہم پہ ہے کہ اپنے بیٹھے ہونے کا بھی حق ادا کرے اور جب بھی اپنی دھرتی ماں کی آغوش میں سونے کے لیے جائے تو شرمندہ نہ ہونا پڑے اور دھرتی ماں کے حق سے نجات پائے۔
مگر بلوچستان کے ایسے ہی فرد ہیں جو اپنی مادرَ وطن سے غداری کرکے اُسے غیر کے ہاتھوں قبضہ کروارئیے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو دھرتی ماں سوال ضرور کریگا کہ کیا تم نے اپنی ماں کا حق ادا کیا؟ مگر ایسے لوگ غدار ہی کہلائینگے ان کی غداری قابض سے قربت سے بھی تجاوز کرکے اپنے ہی بھائیوں کی مخبری کرواکے اُنہیں شہید کرواتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اپنی ماں سے بھی زیادہ ظالموں کی وفاداری عزیز ہیں اور چند مراعات کے عوض اپنی مادر وطن سے غداری کرکے اپنے ہی بھائیوں کو شہید کرواتے ہیں۔
ریاست کے فوجیوں کا تعلق پنجاب یا تو وزیرستان سے ہیں جو بلکل ہی نہیں جانتے کے کون کس تنظیم کون کس پارٹی اور کس کا گھر کہاں ہیں، مگر پھر بھی ریاست بلوچ نسل کشی جارئی کئے ہوئے ہیں، مگر ریاست کو کون بتا رہا ہیں کے یہ فلاح کا گھر ہے یہ فلاح بندہ ہے یہ فلاح پارٹی کا ممبر ہے، یقناََ وہ ہم میں سے ہی ہیں جو اپنے ہی بھائیوں کی مخبری کرکے اپنے ہی بھائیوں کو شہید کروارئیے ہیں اور وہ بھی صرف چند مراعات کے عوض۔
جب ہندوستان پہ انگریز قابض تھے تو اس وقت ہندوستان مین انگریزوں کے مخالف ٹیپوسلطان کھڑا ہوا، اور انگریزوں کو کافی مشکل وقت میں ڈال دیا تھا، انگریزوں کے لیے ایسے حالت پیداکیا کہ انگریزوں نے ٹیپوسلطان کو شہید کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑا، مگر پھر بھی ٹیپو سلطان کو شہید کیا گیا، ٹیپو سلطان کو شہید کرنے والے انگریز نہ تھے بلکے ہندوستانی ہی تھے جو کہ انگریزوں کے زیر حکم پہ اپنا کام سرانجام دیتے تھے، اسی طرح ویتنام میں بھی تحریک چلی تو ویتنام میں 35000 غداروں کو موت کے گھاٹ اُتارا اور یہی وجہ بنی کے ویتنام چند سالوں میں ہی امریکہ جیسے سپر پاور سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
چنگیز خان کا والد بھی اپنے قبائل کا سردار تھا دھوکے سے ان کے والد کو قتل کردیا گیا اور چنگیز خان کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی گئی، بچپن سے جوانی تک چنگیز خان نے بہت سے مسائل کا سامنا کیا یہاں تک کہ چنگیز خان کو خرید کر غلام بھی بنایا گیا تھا، چنگیز خان کو اس حالات تک پہنچانے والے منگول کے اپنے ہی لوگ تھے انہی کی کی ہوئی غداریوں کے سبب چنگیز خان کو ایسے اذیتیں سہنی پڑی، پھر چنگیزخان نے خود کو منظم کرنے کے لیے بے تہا کوششیں کی اور یہ عہد بھی کیا کہ سارے منگول کو قانوں کے تحت لائیگا ان کو ان کے سرداروں کا وفادار بنائیگا اور اگر اس کے لیے آدھے سے زیادہ منگولیوں کو قتل کرنا بھی پڑے تو قتل کرنے میں ذرا بھی دریغ نہیں کریگا، آخر کار چنگیزخان نے خود سے کیے ہوئے وعدوں کو جامہ تکمیل تک پہنچایا سب منگول کو قانون کے تحت اور سب کو اپنے سرداروں (خان) کا وفادار بنایا۔
اگر ہم بلوچ تحریک کو دیکھے تو غداروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہیں ہر کوئی چند مراعات کے عوض اپنے ہی بھائیوں سے غداری کررئیے ہیں اور اس کے لیے بلوچ مسلح تنظیموں کو پہلے انہی غداروں کو عبرت کا نشانہ بنانا ہوگا کیونکہ اگر بلوچ قوم کو کسی سے خطرہ ہیں تو وہ یہی بلوچ قومی غداروں سے ہی ہیں کیونکہ یہی لوگ ہیں جو بلوچ آزادی پسند لوگوں کی نشاندئی کراکے انہیں اغوا کے بعد شہید کرنے میں برابر کے شریک ہیں آج ہمارے لیے دشمن اتنا خطرناک نہیں جتنا کے قومی غدار ہیں دشمن تو ہم سے ہی خوفزدہ ہیں اگر بلوچ مسلح تنظیموں نے ان غداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا تو ریاستی فورسس دُم دھبا کر گیدھڑ کی طرح بھاگ جائیگا مگر اس کے لیے ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہمیں الگ الگ دیکھ کر ریاست خوشیاں منارہا ہیں ریاست کو اگر آدھی موت مارنا ہیں تو اتحاد ہی ریاست کو آدھی موت مار ہی دیگی باقی آدھی موت ریاست کو ہم ہی ماردینگے مگر اس کے لیے ہمیں اپنے گلے شکوے بُھلادینے ہونگے اور ہر آزادی پسند کو اپنا بھائی مان کر ان کے ہمرا ہ ہوکے ہگام بن کے چلنا ہوگا۔

пятница, 26 сентября 2014 г.

Interview: Baloch Activists

четверг, 25 сентября 2014 г.

ISISI Are not Moslim and they have been created by ISI Pakistan And USA AND UK Against Syria and Iraq. I wonder why Now when USA AND UK Sow that Syrian government do not give up and they become stronger so UK and USA stop funding any more and fight against them ??what kind of game going one ? why USA /UK think people AROUND THE WORLD are stupid ?? Now as you see this crature moved to Baluchistan and work with ISI Pakistan start killing Baloch People in the name of God of Pakistan. Not god of Islam. So i want to ask big boss UK /USA if you want to fight with this reature so fight everywhere even in Occupied Baluchistan. to not only in Gulf .
And stupid Arab are sleeping do not understand that USA /UK use Arab against the Arab UAE,SAUDI,QATAR,BAHRAIN Wake up and do not involve in this dirty Pakistani ISI ,Uk USA war i promise you that this USA UK Using you for their own benefit's how long you want to be sleeping and be a slave?. USA /UK Will leave you along one day you will cry for a daily bread GULF WAKE UP.ISISI Created By USA AND UK now they have to clean their ass them self why you involving ?? USA UK ISI Of Pakistan go and leave Occupied Baluchistan along. We Bluch Nation are peaceful Nation and do not want this creature in our Land. lease stop your game and drama around the world go and sell your weapons somewhere else not in Middle east. Stop help and funding your slave's Pakistani Your funding are killing innocent People .Do you know what humanity is?

понедельник, 22 сентября 2014 г.

ماما قدیر کا پیغام 
بلوچ قوم و رہنماؤں کے نام
ماہنامہ سنگر ستمبر شمارہ
میں ماما قدیر بلوچ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چئیرمین، بلوچ قوم سے مخاطب ہوں کہ میں جو پیغام ابھی ریکارڈ کر رہا ہوں اس سے پہلے بھی کچھ دوستوں نے ریکارڈ کیا مگر بد قسمتی سے وہ کوئی وجہ بتائے بغیر اسے شائع کرنے میں ناکام رہے۔ اس لئے اسے اپنا قومی اور انسانی فرض سمجھ کر پھر ریکارڈ کرکے آپ تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
معزز سامعین و حضرات:
آج کل بلوچستان میں حریت پسندوں کے درمیان اختلافات کا چرچہ ہے، پارلیمانی جماعتیں اور رد انقلابی اس صورتحال سے بہت خوش ہیں۔ وہ اپنی نجی محفلوں میں بڑی مسرت سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا بلوچ قومی تحریک کیلئے یہ ایک نیک شگون ہے؟ یہ درست ہے کہ اختلافات ہر تحریک میں ہوتے ہیں، بڑے سے بڑا انقلابی لیڈر بھی غلطیوں سے مستثنیٰ نہیں۔ لیکن جس طرح سے ان مسائل کو آج کل سوشل میڈیا پر اٹھایا جارہاہے، جس کے باعث بہت سارے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ وہاں اسکے منفی اور مثبت اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مثبت بات یہ ہے کہ تنقید کو علمی استعداد اورعلمی سطح اور نظریاتی سوالات سے لیس ہونا چاہئے، بغیر استدلال کے جوش و جنونیت میں آکر بلوچستان سے محبت بھلا کس کام کی؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ کس کا پرچم ہے یہ کس کا مظاہرہ ہے، فلاں کیا کر رہا ہے، فلاں کو ایسا کرنا چاہئے، فلاں ہیرو ازم کا شکار ہے، فلاں خود پسند، حتیٰ کہ نواب خیربخش مری سے متعلق بھی ایسے سولات پوچھے جا رہے تھے، جن کو بچگانہ ہی قرار دیا جاسکتاہے۔ ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ بلوچ قومی تحریک ایک ایسے مرحلے میں ہے، جب ہر گلی کوچے میں بلوچوں کا خون بہہ رہا ہے، بے شمار لوگ غائب ہیں، اذیت گاہوں میں ظلم سہہ رہے ہیں، اکثر کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ زندہ ہیں یا اجتماعی قبرستانوں میں پھینک دیئے گئے ہیں، ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، قبائلی جھگڑوں کے نا م پر بلوچ معاشرے کو منظم ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، ہر جانب آگ لگی ہوئی ہے، لاکھو ں افراد فوج کشی کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ ایرانی خفیہ ایجنسی ساواک کی طرح ہر گھر میں مخبر پیدا کئے جا رہارہے ہیں۔ اس صورتحال میں بعض بلوچ حریت پسندوں کو الگ تھلگ کرنے اورisoalation کا شکار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ تضاد کا کھیل سوشل میڈیا پر کھیلا جا رہا ہے، کیا یہ لوگ بلوچستان کی محبت کے جنون میں قابض ریاست کا کام آسان نہیں کر رہے؟
کسی کیلئے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ قابل قبول نہیں تو کسی کو نواب براہمدغ خان بگٹی پر اعتراض۔ کیا یہ تحریک کا رومانس ہے یا غیر ذمہ دارانہ حرکتیں ہیں؟ عام بلوچوں نے اپنی ساری توقعات، حتیٰ کہ اپنی زندگیاں اورخاندان کی عزت و آبرو داؤ پر لگا رکھی ہے، وہ ان سوالات کو سننے میں اور اُن سے پیدا ہونے والے اختلافات پرکبیدہ خاطر ہیں، ان کا مورال کمزور کیا جارہا ہے۔ نفسیاتی جنگ جو اس مرحلے میں بلوچ جیت چکے ہیں، اب اس کو شکست میں تبدیل کرنے کیلئے ایسے شوشے کیوں چھوڑے جارہے ہیں؟ ہر شہید کا بہتا ہوا لہو ہم سے ضرور پوچھ رہا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم کس حد تک ذمہ داری کا ثبوت دے رہے ہیں؟ ان تمام سولات کو گہری نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کہ طویل غلامی اورخاص طور پر پاکستانی سیاست کے اثرات سے اب تک ہم اپنا دامن نہیں چھڑا سکے ہیں۔ وہی محلاتی سازشیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، فتویٰ بازی سے سارے عناصر پاکستانی سیاست کے تانے بانے ہیں۔ یہ سب کچھ اب حریت پسندوں کے بعض نام نہاد نقادوں کا مرغوب کھیل بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنی مرضی کے اقتباسات چن کر ان کو پیسٹ کرکے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بلوچ کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس کے نقصانات کیا ہونگے، اس سے کسی کو غرض نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ چند ایک مظاہروں میں شریک ہو کر یا انقلابی تنظیم کے ممبر ہونے کے ناطے وہ جلد ہی دانشوری کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کتاب اور قلم کے ساتھ پر بھی تنقید کی جاتی ہے اور جو سیاسی رہنما آزادی کیلئے کتاب سے رہنمائی کی بات کرتے ہیں ان کا کھلم کھلا مزاق اڑایا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ کتابیں انسان کا علم اور تجربات ہیں جو ظلم، استحصال اور غلامی کے خلاف حریت پسندوں کو عمل پر مجبور کرتے ہیں۔ بلوچ سیاست کا المیہ رہا ہے کہ یہ ہمیشہ سے انتہا پسندی کا شکار رہی ہے۔ ان میں ضرور مخلص لوگ بھی ہونگے لیکن اس سوچ نے بلوچ قوم کو بہت نقصان پہنچایا۔ مسلح جد و جہد کے حامیوں نے پختہ کار ذہنوں کے کتاب کی مخالفت کی اور ردِ انقلابی عناصر نے بندوق کی جگہ کتاب کے رٹ لگائے رکھی، لیکن دونوں انتہائیں انتہائی غلط ہیں۔ بلوچ قوم، بلوچ قومی تحریک کیلئے جہاں جذبہ حریت کی ضرورت ہے وہان عقل اور سوچ کی ضرورت بھی ہے۔ تعقّل پسندی کے بغیر صرف جذبات کے ذریعے قوم کو غلامی سے نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ ہٹلر کو بھی اپنے وطن سے محبت تھی لیکن جنون کی حد تک تھی۔ اُسکی اس محبت نے کیا گُل کھلائے؟ صرف محبت کے اظہار سے قوم اور ملک کی خدمت نہیں ہوسکتی۔ اگر کسی کو دانشوری کا شوق ہے تو اسکی راہ کس نے روکی ہے؟ اس راہ پر چلے اور قوم کو راستہ سمجھانے میں مدد دے۔ لیکن عقلی استدلال سے عاری ایک دوسرے کیخلاف الزامات کی بوچھاڑ ہمارے ذھنی پسماندگی کا ثبوت ہیں، وہ کام جو مخبر نہیں کر سکتے آج وہی کام ہم اپنے ہاتھ سے سر انجام دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سولات اُٹھانے والوں پر بھی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ ان سوالات کا جواب دے سکیں؟ وطن سے دور رہ کر کنکر پھینکنا بڑا آسان ہے۔ اس سے نرگسیت کی تسکین ہو سکتی ہے لیکن اسے وطن کی محبت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ بہتر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اُلٹے سیدھے سوالات پیسٹ کرنے اور کتاب کی مخالفت کے بجائے وہ اپنے سوالات کو تحریری شکل میں لائیں۔ یہ ایسے ہیں کہ وہ کتاب کی مدد سے کتاب کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یقیناََ جو بھی سوالات معاشرے میں اُٹھتے ہیں ان کا تعلق علمی تجربات اور مشاہدات سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کیلئے یہ سب کچھ نہیں ہے تو کسی دوسرے کیلئے کیوں کر غلط ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا دانشور، سیاسی ورکر اور انقلابی مختلف کردار ہوتے ہیں۔ بہت کم ایسے عبقری ذہن ہونگے جو بیک وقت سیاسی رہبرا ورعظیم دانشور ہوں۔ لہٰذا خود کو چُوں چُوں کا مربّہ بنانے کے بجائے ایک مرکز پر توجہ دی جائے اور کام کیا جائے۔ صرف سوالات اُٹھانے سے مسائل کا حل نہیں ہونگے۔ ان کے جوابات دینے کی بھی سعی کرنی چاہیئے۔
فتویٰ بازی اور خود کو افضل سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ سبھی قوم کی عدالت میں احتساب کیلئے تیار رہیں۔ اگر ایسے سوالات اُٹھا نے کی بات ہوتی تو نواب خیر بخش مری سے بڑھ کر ایسی کونسی شخصیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی دانشوری کا زعم نہیں دکھایا۔ بُرے حالات میں بھی اپنے بد ترین دشمنوں کے خلاف ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے لوگوں کی سوچ منتشر ہوجائے۔ لوگوں کو منتشر کرنے کے بجائے انکی سوچ کو ایک مرکز پر لانا ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ ہے انقلابی تنظیموں میں موقع پرستوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں ہر قدم پر ہوشیار رہنا ہوگا۔ درباری ذہنیت کو اپنے بیچ میں سے نکالنا ہو گا۔ عوام اور بعض سیاسی شخصیات کی قربت کی خاطر قوم کے مفاد کو داؤ پر لگانے والوں سے دور رہنا ہوگا۔ بیشک ہماری تعداد اور کم ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ لیکن ایک بار موقع پرست ہمارے درمیان گھُس بیٹھے، وہ اختلافات کو ضرور ہوا دینگے۔ ایسے انسان کی تربیت کسی اور ماحول میں ہوئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لاکھوں بلوچوں کے خون اور جذبات کی بنیاد پر جس نرگسیت کی بنیاد ڈالی جارہی ہے یہ تباہی کا باعث ہے۔ اُسے روکنے کیلئے جہاں عمل موثر ہتھیار رہا ہے وہاں بہترین لٹریچر کی بھی ضرورت ہے۔ ذہنی عیاشی کے ذریعے قوم کی خدمت نہیں ہو سکتی۔ اس نقطہ کو ضرور سمجھنا چاہیے کہ مختلف شخصیات اور گمنام انقلابی اپنا عمل، اپنے موثر کردار کے ذریعے ثابت کر رہے ہیں۔ چند موقع پرستوں کو یہ حق نہیں دینا چاہیئے کہ وہ اُلٹے سیدھے سوالات کے ذریعے اپنی انا کی تسکین یا ردِ عمل کے طور پر بلوچ قومی تحریک کے خلاف زہر پھیلائیں۔ جن کو مقبولیت اور شہرت کا شوق ہے ان پر کوئی پابندی نہیں، وہ کوئی اور میدان بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ موقع پرست اور سوشل میڈیا کے نادان دوستوں کو آخر کب تک سمجھانا پڑے گا کہ انقلاب اور آزادی کی جد و جہد صبح کا ناشتہ، دوپہر یا رات کی ضیافت نہیں ہے۔
بحث سمیٹتے ہوئے ان مشکلات کے حل کیلئے دو اہم تجاویز غور کیلئے سامنے رکھتا ہوں۔ پہلے یہ کہ ہماری توانائی اور وقت ایک دوسرے کیخلاف خرچ ہونے کے بجائے بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ریاست کے خلاف کار آمد ہو۔ دوسرا اتحاد و اتفاق کی فضا کیسے پیدا کی جائے۔ تنقید اور کردار کشی میں فرق۔ جس طرح کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ جو کچھ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا میں تنقید اور درستگی کے نام پر ہو رہا ہے اُسے درستگی تو نہیں البتہ ہم خرابی اور اتحاد کے بجائے انتشار کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اس کا آسان حل تو وجود نہیں رکھتا مگر محتاط راستہ یہی ہے کہ ادارے اور معتبر لوگ سوال و جواب و ڈائیلاگ کریں تاکہ وہ ہر اُٹھتے سوال کا مشّخص جواب دیں اور اپنے کئے ہوئے بات کا ذمہ دار بھی ہوں۔ اس طرح ایک ذمہ دارانہ بحث جو ہر لحاظ سے علمی اور اخلاقی دائروں میں ہو، مثبت اور درستگی کا سبب بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر جعلی ناموں اور اداروں کے سامنے جوابدہی سے مبرّا لوگ یہی کریں گے جو پچھلے ایک سال کرکے پراگندگی اور مایوسی پھیلا چکے ہیں۔
اتحاد کے تقاضے:
ایک بات بارہا کہی گئی ہے اور یہ ایک آفاقی سچ بھی ہے کہ اگر ہمارے دشمن ہمیں مارنے اکٹھے ہو رہے ہیں تو ہم مرنے والوں کو اپنے دفاع کیلئے کیا چیز یکجاہ ہونے سے روک رہی ہے؟ بلوچ قومی جد و جہد ایسے سے بے شمار واقعات سے آشنا ہے کہ جب ہم نے ذاتی مفادات، بضد انا کی خاطر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارکر دشمن کا کام آسان کیا ہے۔ بلوچ وطن کی تقسیم اور بلوچوں کی غلامی کا بنیادی سبب بھی یہی ہے۔ جس طرح سابقہ تحریکوں کو ختم کرنے، ہمارے درمیان سے صادق و جعفر بھرتی کرکے ہمارے سامنے کھڑے کئے گئے ہیں۔ آج بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ ایسے حالات میں اتحاد و اتفاق کا فارمولہ بہت آسان اور قابل عمل ہونے اور دو باتیں بہت لازمی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس تمام قوتوں سے ساتھ کوئی ربط نہیں رکھنا چاہئے جو بلوچ قوم کو اسکے شہداء کے ارمانوں کے برخلاف پاکستانی پارلیمنٹ کی طرف لیجانا چاہتے ہیں۔ ان کا نام کوئی بھی ہو، پارٹی کوئی بھی ہو، نعرہ کوئی بھی ہو، لیکن ان کی منزل آزادی نہیں۔ لہٰذا وہ آزادی کیلئے جان دینے والوں کو اپنے اقتدار تک پہنچنے کا سیڑھی بنانا چاہتے ہیں۔ جس کی اجازت ہر گز نہیں دینی چاہئے، دوسری بات یہ ہے کہ ان تمام قوتوں کو اپنا فطری اتحادی تصور کیا جائے جو بلوچ قوم کے ریاست کی بحالی اور اُسے آزاد و خود مختار دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو اُس کا دُنیا کے تمام بین الاقوامی قوانین کے مطابق مسلمہ حق ہے۔ بلوچ قوم چونکہ کٹ مر رہا ہے اسلئے یہاں کسی مصلحت، اقربا پروری، ذاتی تعلقات و قبائلی و شخصی اثر رسوخ سے بلند ہوکر حقیقی قوتیں خاص کر واجہ ہیر بیار مری، واجہ ڈاکٹر اللہ نذر، واجہ براہمدغ خان بُگٹی اور واجہ خلیل بلوچ اپنے نظریاتی حکمت عملی کے اختلافات کے حل کیلئے ایک مشترکہ مصالحتی کونسل تشکیل دیں۔ اور مذکورہ تمام مسائل اس فورم میں زیر بحث لائیں اور بڑے اور نظریاتی سوالات و جوابات کیلئے بلوچ غیر جانبدار دانشور و سفید ریش حضرات کی خدمات لی جائیں جو سب کو شائستگی سے سُنیں اور ایک ساتھ کام کا کوئی فارمولہ طے کریں۔ اور مصالحتی کونسل کے سامنے تمام فریق اپنے تحفطات و تضادات رکھ کر انہیں فیصلہ کا اختیار دیں۔ اگر آج ہم یہ کام کرنے میں ناکام ہوئے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم اپنے آپ کو بحیثیت قوم ایک بہت بڑے المیہ سے بچا سکیں گے۔ 

пятница, 19 сентября 2014 г.

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری 

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن 
برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کےلیے سکاٹ لینڈ میں پایہ تکمیل تک پہنچنے والے ریفرینڈم پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز تھیں۔ ایک طرف برطانیہ کا مستقبل زیر بحث رہا تو دوسری طرف سکاٹش ریفرینڈم کا دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحریکوں سے موازنہ کیاگیا۔
ریفرینڈم میں تو سکاٹش عوام نے آزادی کے خلاف ووٹ دے کر برطانیہ میں رہنے کو ترجیح دی لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں نتائج سے ہٹ کر سکاٹش ریفرینڈم یورپ سمیت دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحریکوں پر اثر انداز ہوگا۔
بلوچستان میں جاری علیحدگی پسند تحریک کا سکاٹ لینڈ سے موازنہ صحیح ہے یا غلط یہ بحث تو اپنی جگہ لیکن کچھ کے خیال میں بلوچ علیحدگی پسند جب تک انتخابات میں آزادی کےلیے ریفرینڈم کا نعرہ لگا کر منتخب نہیں ہوتے تب تک سکاٹ لینڈ کی آزادی پسند حکمران جماعت سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی سے ان کا موازنہ درست نہیں ہوگا۔
سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی نے سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں ’آزاد سکاٹ لینڈ‘ کا نعرہ لگا کر کامیابی حاصل کی تھی اور پھر اپنے انتخابی منشور کے تحت ریفرینڈم کروانے کا وعدہ پورا کیا۔
لیکن بلوچستان کے علیحدگی پسند حلقےنہ تو انتخابات کو مانتے ہیں اور نہ ہی اس میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی سوالات جب میں نے بلوچ علیحدگی پسند رہنما اور نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے حیر بیار مری کے سامنے رکھے تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیا گیا اور نہ ٹارچر کیا گیا لیکن بلوچستان میں تو جو آزادی کا صرف نام لیتے ہیں ان سے تو اس دنیا میں رہنے کا حق بھی چین لیا جاتا ہے۔‘
حیر بیار مری کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ اور بلوچستان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام صدیوں سے اپنی مرضی سے برطانوی یونین کا حصّہ ہیں اور اب اگر آزادی مانگ رہے تھے تو انہیں ان کا جمہوری حق دیا گیا لیکن بلوچستان کے عوام تو1947 سے پاکستان کے ساتھ نہ تو رہنے کے حق میں تھے اور نہ اب ہیں، تو ہم ریفرینڈم کا مطالبہ کیوں کریں؟
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان پر قبضہ ختم کیا جائے اور پھر اس کے بعد بلوچ عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
تو کیا بلوچ عوام سرداروں اور نوابوں کے ماتحت زندگی گزارنا پسند کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں حیربیار مری کا کہنا تھاکہ بلوچ عوام کا ماضی میں استحصال ضرور ہوا ہے لیکن ان کے پیش کیےگئے بلوچستان لبریشن چارٹر کے تحت سردار اگر بلوچستان نیشنل اسمبلی کا ممبر بننا چاہے گا تو اسے سرداری سے مستعفیٰ ہونا پڑے گا، آزاد بلوچستان میں سردار ہو یا کہ عام بلوچ وہ ایک ہی ووٹ استعمال کر کے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں گے۔

среда, 17 сентября 2014 г.

ﺳﻤﺎء ﻧﯿﻮﺯ ﭼﯿﻨﻞ ﭘﺮ ﺩﺭﺳﮕﺎﮦ ﺍٓﺯﺍﺩﯼ ﺑﺎﺑﺎ
  بلوچ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﻨﮑﺮ ﭘﺮﺳﻦ
ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ
ﮐﯽ ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ؟
ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﯽ
ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﺘﺎﺋﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﭘﻨﺎ
ﺯﮨﺮﯾﻼ ﺧﻨﺠﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮔﮭﻮﻧﭗ ﺳﮑﮯ۔
ﺑﺎﺑﺎ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﻠﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﮯ
ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺗﮭﮯ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ
ﺍﺧﺘﻼﻓﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﻞ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﻦ
ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
لیکن آج تو یار لوگوں نے حد کی ھیں
ھر غلطی پر تنقید کرنی چائیے اس پر بحث و مباحثہ کرنی چائیے
لیکن بھائی آپ کو ایک بات یاد رکھنی چائیے میں کہا ھوں کس جگے پر ھوں
آج سوشل میڈیا پر موجود کچھ لوگ جو کہ تنقید کی دکان کھلے ھوئے ھیں
انھیں ایک بات یاد رکھنی چائیے کہ آپ لوگوں کی اسطرح کی عملوں سے ھمارے دشمن کو فائدہ اور ھمیں نقصان ھوسکتا ھیں

суббота, 30 августа 2014 г.


بلوچ قومی رہنماء اور گوریلا کمانڈر ڈاکٹر ﷲ نذر سے گفتگو

تحریر : بوریوال کاکڑ 
ترجمہ : لطیف بلیدی

’چھ ہزار بلوچ جنگجو پاکستانی فوج کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘ 
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ


’یہ پنجابی کے شریک کار ہیں جنہیں نشانہ بنارہے ہیں نہ کہ پنجابی آبادکاروں کو۔ وہ لوگ جو مارے جا رہے ہیں وہ مزدور کے بھیس میں ملٹری انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کے مخبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔‘ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا کہنا ہے کہ ’آزادی کی جنگ میں، شریک کار کو نہیں بخشا جا سکتا، تاہم کسی پنجابی آبادکار کو نہیں مارا گیا ہے۔‘ جاری بلوچ مزاحمت اور بلوچ قوم پرستی کی ایک مرکزی شخصیت، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے پلیٹ فارم سے بطور ایک ممتاز طالب علم رہنماء کے ابھر کر سامنے آئے۔ ان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اٹھایا، ان پر غیر قانونی حراست کے دوران تشدد کیا گیا اور چند سال تک وہ ’لاپتہ‘ رہے۔ ان کی دلیرانہ جدوجہد سے انہیں بلوچستان میں ایک شاندار حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت وہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کو کمان کر رہے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: پاکستان میں سندھیوں، سرائیکیوں اور پشتونوں کو بھی ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ لیکن صرف بلوچ نے مسلح جدوجہد کا انتخاب کیا ہے۔ کیوں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھی مظلوم ہیں، اسی طرح سے پشتون اور دیگر بھی۔ پاکستان میں قومی جبر موجود ہے۔ بلوچستان کے معاملے میں، ہم اپنی جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی بحالی کیلئے لڑ رہے ہیں کیونکہ ہم پر پاکستان نے قبضہ کیا تھا۔ بلوچ پاکستان کیساتھ رضاکارانہ طور پر شامل نہیں ہوئے۔

بوریوال کاکڑ: اسوقت بلوچستان میں بلوچ قوم پرست اقتدار میں ہیں۔ انہیں بلوچ عسکریت پسندوں کیساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ کیا آپ ڈاکٹر مالک کی حکومت کیساتھ مذاکرات کریں گے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ بلوچ قوم پرست اقتدار میں ہیں۔ وہ وفاق پرست ہیں، نہ کہ قوم پرست، اور انہیں بلوچ عوام نے منتخب نہیں کیا۔ بلوچ قوم نے گزشتہ سال کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کو اپنے حلقے سے بمشکل دو فیصد ووٹ ملے ہوں گے۔ وہ وفاق اور پنجاب کی زبان بول رہے ہیں۔ تاہم، بلوچ مذاکرات کے ذریعے حل سے انکار نہیں کریں گے جب تک کہ اقوام متحدہ جیسا کوئی تیسرا بین الاقوامی فریق اس مذاکراتی عمل میں ثالثی نہ کرے۔

بوریوال کاکڑ: آپ اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات قبول کریں گے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: جی ہاں۔ اگر اقوام متحدہ تاریخی طور پر موجود بلوچستان اور اس کی شناخت کو قبول کر لے تو ہم اقوام متحدہ کی ثالثی قبول کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ بلوچستان کو ایک جنگ زدہ علاقہ قرار دے۔ بلوچستان پر بلوچ عوام کی مرضی کیخلاف قبضہ کیا گیا تھا۔ جب تک کہ بلوچستان اپنی کھوئی ہوئی آزادی حاصل نہ کرلے، تب تک نہ خطے میں اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

بوریوال کاکڑ: بالفرض اگر اقوام متحدہ ثالثی کرتا ہے تو کیا آپ ایک آزاد بلوچستان کا مطالبہ کریں گے یا آپ پاکستانی ریاست کے اندر خود مختاری مانگیں گے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: اقوام متحدہ کو قومی سوال حل کرنے کیلئے بنایا کیا گیا تھا۔ جب تک کہ اقوام متحدہ بلوچستان کی تاریخی سرحدوں کی موجودگی کا احترام کرتی ہے، بلوچ اس طرح کے ہر اس آپشن پر غور کریں گے جو بلوچ آزادی کی ضمانت دیتا ہو۔

بوریوال کاکڑ: آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: جی ہاں، بالکل۔ تاہم، اگر جمہوریت کا مطلب جبر ہے، جیسا کہ پاکستانی جمہوریت ہے، تو یہ دقت طلب ہے۔ پاکستانی پارلیمان بلوچ پر ظلم کا جواز پیش کرنے کیلئے ایک آلہ ہے۔ کیونکہ پاکستانی قانون ساز بلوچ پر ظلم کو جواز فراہم کرنے اور اسے درست قرار دینے کیلئے قانون سازی کرتے ہیں، ہم پاکستانی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلوچ بطور ایک قوم یہ کہتی ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں۔ ہم جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: لیکن جمہوریت اور مسلح جدوجہد ایک ساتھ نہیں چل سکتے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: ہماری مسلح جدوجہد کی رہنمائی جمہوری سوچ کر رہی ہے۔ ہم ایک متحدہ کمان پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم جمہوری اداروں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری بندوقیں کسی فاشسٹ نظریے کا دفاع یا حمایت نہیں کرتیں۔ ہم نے بندوقیں بنیادی انسانی حقوق کے دفاع کیلئے اٹھائی ہوئی ہیں۔

بوریوال کاکڑ: کتنے مسلح بلوچ گروہ اس جدوجہد میں مصروف عمل ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: آپ کے پاس بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلکن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی ہے۔ وہ سب کے سب بلوچستان کی آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: انکے آپس میں کیا اختلافات ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: کوئی اختلافات نہیں ہیں۔

بوریوال کاکڑ: تو پھر کیوں بہت ساری مختلف تنظیمیں ہیں؟ شاید حکمت عملی پر اختلافات ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: بنیادی چیزوں پر کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ سب ایک ہی دشمن کیخلاف لڑ رہے ہیں اور جڑے ہوئے ہیں۔ طریقہ کار پر کچھ اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر سب بلوچ آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: کیا یہ ایک بہت بڑا فرق نہیںہے کہ ہیر بیار لندن میں اور براہمداغ بگٹی سوئٹزرلینڈ میں ہیں جبکہ آپ بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: صحیح۔ انکی اپنی مجبوریاں ہو سکتی ہیں۔ تاہم ہمارا مقصد ایک ہی ہے: بلوچستان کی آزادی۔

بوریوال کاکڑ: آپ کے خیال میں تمام مسلح گروہوں میں سے کونسا مضبوط ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: ہمارے اندر کسی بھی گروہ کا دوسرے کے مقابلے میں مضبوط ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ہم سب آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: تمام گروہوں کو ملا کر وہاں کتنے جنگجو موجود ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: چھ ہزار سے زائد ہیں لیکن لوگ جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ہمارا نصب العین عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ بلوچ سرمچاروں سے بلوچ قوم محبت کرتی ہے۔ اسکے نتیجے میں تعداد بڑھ رہی ہے۔

بوریوال کاکڑ: آپ کس طرح سے چھ لاکھ کی ایک مضبوط فوج کیساتھ چھ ہزار جنگجووں پر مشتمل ایک طاقت کا موازنہ کرتے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: وہ 6000 سرمچار نہیں ہیں بلکہ وہ بلوچ قوم کے بیس ملین سے زائد لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ ایک پوری قوم کیساتھ چھ لاکھ کی ایک مضبوط فوج کا موازنہ نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی فوج ایک ایسی فوج ہے جسے کوئی بھی کرائے پر لے سکتا ہے۔ اسکی کوئی قومی تاریخ، کوئی قومی تشخص یا نظریہ نہیں ہے۔ آپ کیسے اس طرح کی ایک فوج کیساتھ ایک قوم کا آپس میں موازنہ کرسکتے ہیں جو اپنی ثقافت اور ہزاروں سال پر محیط تاریخ پر فخر کرتی ہو؟ بلوچ قوم کے سامنے پاکستانی فوج کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

بوریوال کاکڑ: آپ کے سیاسی جماعتوں کیساتھ بھی رابطے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: جی ہاں، ہمارے آزادی پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: کس پارٹی کیساتھ آپ کی نظریاتی قربت ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: مثال کے طور پر بی این ایم (بلوچ نیشنل موومنٹ)۔ یہ بلوچستان کی آزادی کیلئے لڑ رہی ہے۔ اسکی اور اسکے ساتھ بلوچ نیشنل فرنٹ کے تمام کارکنوں کی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے تحت تربیت ہوئی ہے۔ ہمارے ان تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے ہیں جو بلوچستان کی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل گروپ یا نیشنل پارٹی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی دونوں بلوچستان پر مسلط کی گئی جنگ کا حصہ ہیں۔ بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی دونوں پاکستانی ریاست کی طرف سے مرتب کردہ آئینی ڈھانچے کو مانتے ہیں۔ بلوچ کارکنوں کی گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اسی آئینی فریم ورک کی فضیلت سے کی جارہی ہیں۔ اس ظلم کے حصے کے طور پر، وہ کس طرح سے بلوچستان کے نمائندے ہو سکتے ہیں؟

بوریوال کاکڑ: لیکن وہ بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: دیکھیں، نیشنل پارٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔ بے شک بی این پی کے سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پھر بھی بی این پی کی قیادت بلوچ کاز کیلئے جدوجہد نہیں کررہی ہے۔ اس کے بجائے، یہ اپنی بقاء کے بارے میں فکر مند ہے۔ بی این پی کی قیادت زندہ رہنے کیلئے پاکستانی اسٹابلشمنٹ کی قبولیت کا خواہاں ہے۔ وہ بلوچ قوم کی بقاء کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔

بوریوال کاکڑ: ٹھیک ہے، اگر بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی بلوچستان کے نمائندے نہیں ہیں تو وہ کیونکرحملوں کی زد میں ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: جیسا کہ پہلے واضح کیا کہ نیشنل پارٹی حملوں کی زد میں نہیں ہے۔ تاہم، بی این پی کے کارکنوں کو شہید کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے، اس سب کے باوجود بی این پی مینگل کی قیادت انفرادی فوائد کیلئے سمجھوتہ کررہی ہے۔

بوریوال کاکڑ: آپ کو کسی بھی غیر ملک سے مدد مل رہی ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کسی اور مرحلے میں ہوتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور اس کے ساتھ ساتھ ایشیاء کے جمہوری ممالک ہمیں مدد فراہم کریں۔ ہم انکے شکرگزار ہونگے اگر کوئی ہمیں مالی مدد فراہم کرے۔

بوریوال کاکڑ: کہا جاتا ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے آپ لوگوں کی مدد کررہا ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچ عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کیلئے افغانستان میں تربیتی کیمپ موجود ہیں۔
ڈاکٹر ﷲ نذر: بھارت ہمیں کوئی مدد فراہم نہیں کررہا ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بلوچستان اور افغانستان کے درمیان ثقافتی، جغرافیائی اور قبائلی روابط ہیں۔ میرے اپنے خاندان کا نصف نمروز میں رہتا ہے۔ کسی شادی جیسی تقریب میں شرکت کرنے یا ایسے کسی اور کام کیلئے لوگ (پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنیوالی) ڈیورنڈ لائن کے آر پار سفر کرتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ ڈیورنڈ لائن، جسے نوآبادیت کی طرف سے کھینچا گیا تھا، دونوں اطراف میں قائم ہمارے رشتوں کو ختم نہیں کر سکتا۔

بوریوال کاکڑ: کیمپوں اور تعلقات کے درمیان ایک فرق موجود ہے۔ آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ وہاں بلوچ عسکریت پسندوں کیلئے تربیتی کیمپ موجود ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: ہرگز نہیں۔

بوریوال کاکڑ: بلوچستان میں امریکی اور اسرائیلی ہاتھ کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے۔ کیا امریکہ خفیہ طور پر معاون ہے؟ یہ دعویٰ کتنا صحیح ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: امریکہ نے افغانستان میں حامد کرزئی اور عراق میں نئی تشکیل شدہ حکومت کو مدد فراہم کی ہے۔ ہم امریکی مدد کا خیر مقدم کرتے، لیکن ہمیں کوئی مدد مل نہیں رہی ہے۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے: ہمارا نوآبادکار بین الاقوامی برادری اور میڈیا کا توجہ ہٹانا چاہتا ہے اسی لئے غیر ملکی ہاتھ کی بات کرتا ہے۔

بوریوال کاکڑ: کسی غیر ملکی مدد کے بغیر آپ ہتھیار کہاں سے حاصل کرتے ہیں اور آپ اپنی جدوجہد کو مالی طور پر کس طرح سے برقرار رکھ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: بلوچ قوم ایک بڑی قوم ہے۔ وہاں بلوچ تارکین وطن موجود ہیں۔ وہ ہماری مالی اعانت کرتے ہیں۔ جہاں تک ہتھیاروں کی فراہمی کا تعلق ہے تو میں سب کو یاد دلاتا چلوں کہ ’افغان جہاد‘ کے دوران چار ہزار روپے کے عوض ایک کلاشنکوف خریدا جا سکتا تھا۔ ہم نے 1980 کی دہائی کے دوران اسلحہ خریدا اور ذخیرہ کیا۔ کیا ہمارے پاس کوئی جدید ہتھیار، کوئی اسٹینگر میزائل یا طیارہ شکن توپ، کوئی گائیڈڈ میزائل ہیں؟ اس صورت میں تو ہم اب تک آزادی کی جدوجہد جیت چکے ہوتے۔ ہم بلوچ قوم کی مدد سے اپنی جنگ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

بوریوال کاکڑ: کیا آپ کو لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری آپ کو مدد دینے کیلئے ہاتھ بڑھائے گی؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: یقینا۔ دنیا کا ضمیر اب تک مرا نہیں ہے۔ امریکی کانگریس اور پینٹاگون سے لیکر یورپی یونین اور عرب ممالک تک، وہ لوگ جنکا ضمیر زندہ ہے، مدد کریں گے۔

بوریوال کاکڑ: کیوں غریب پنجابی آبادکار بلوچستان میں مارے جا رہے ہیں؟ ان کا قصور کیا ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: مجھے ایک بات کی وضاحت کرنے دیں: یہ پنجابی کے شریک کار ہیں جنہیں نشانہ بنارہے ہیں نہ کہ پنجابی آبادکاروں کو۔ وہ لوگ جو مارے جا رہے ہیں، وہ مزدور کے بھیس میں ملٹری انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کے مخبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آزادی کی جنگ میں شریک کار کو نہیں بخشا جا سکتا۔ تاہم کسی پنجابی آبادکار کو نہیں مارا گیا ہے۔

بوریوال کاکڑ: آپ بلوچستان میں بڑھتے ہوئی فرقہ وارانہ تشدد کی وضاحت کس طرح سے کریں گے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: اسکے لئے طالبان ذمہ دار ہیں۔ وہ پاکستان فوج کے اسٹراٹجک اثاثے ہیں۔ بلوچ قوم پرست فرقہ واریت میں ملوث نہیں ہیں۔ دراصل فرقہ وارانہ عناصر اپنی تربیت پنجاب میں حاصل کرتے ہیں۔ فوج فرقہ واریت کو بلوچ قومی جدوجہد سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کررہی ہے۔

بوریوال کاکڑ: افغانستان میں لڑنے والے طالبان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: وہ بھی اسٹراٹجک اثاثے ہیں۔ کرنل امام یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے ان کو تربیت دی ہے۔ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے ملا۔ ملا عمر کوئٹہ میں کور کمانڈر کے گھر کے برابر میں رہتا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ پنجاب ہے۔ یہ اس طرح سے ہے کہ وہ لوگ جنہیں بھارت پر حملہ کرنا ہو تو انہیں پنجاب کے راستے گزرنا پڑتا ہے۔ محمود غزنوی سے لیکر احمد شاہ ابدالی تک یہی صورت رہی ہے۔ اب پنجاب بدلہ لینا چاہتا ہے۔ دیکھیں کہ کس طرح سے پشتون ثقافتی ورثے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ رحمان بابا کے مزار کے ساتھ ساتھ اجمل خٹک کے مزار پر بھی بم حملہ کیا گیا۔ وہ افغانستان کو پاکستان کا پانچواں غیراعلانیہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی سب سے بڑی خواہش ہے۔

بوریوال کاکڑ: افغانستان اور پاکستان میں امن کس طرح سے ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: پاکستان دہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہ دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ طالبان کو تربیت دیتے اور افغانستان بھیجتے ہیں۔ نیٹو ممالک اس عمل کو ضروری طور پر روکیں۔ دیرپا امن کے حصول کیلئے، بلوچستان کی بطور ایک بفر ریاست کے ضرور حمایت کی جانی چاہیے۔

بوریوال کاکڑ: افغان امن کس طرح سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: جب تک کہ پاکستان اپنی موجودہ جغرافیائی صورت میں قائم رہیگا، امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ، جب تک کہ امریکہ اور مغرب پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے خوفزدہ رہیں گے، افغان مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک بلوچ اور پشتون قوم کی تاریخی حیثیت بحال نہیں ہوجاتی، ایک دیرپا امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

بوریوال کاکڑ: بلوچستان کی طرف واپس چلتے ہیں۔ بلوچستان میں میگا پراجیکٹس کی مخالفت کیونکر جبکہ ان سے غریب فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: گوادر پروجیکٹ کی مثال لے لیں۔ اس کا مقصد نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا دینا ہے بلکہ بلوچستان کے باہر سے یہاں مزدور لاکر بلوچ کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ اسی وجہ سے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم نے ان ممالک یا سرمایہ کاروں، جو بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں۔

بوریوال کاکڑ: لیکن وہاں ایسے بلوچ بھی ہیں جو اس طرح کے منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ﷲ نذر: جی ہاں، انکے مفادات وابستہ ہیں۔

بوریوال کاکڑ: آپ پاک ایران گیس پائپ لائن کی بھی مخالفت کریں گے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: چاہے وہ گوادر پورٹ ہو یا کوئی پائپ لائن، بلوچ عوام کی قیمت پر کسی بھی منصوبے کیخلاف مزاحمت کریں گے۔

بوریوال کاکڑ: بلوچستان میں پشتون اضلاع ہیں، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر ﷲ نذر: بلوچ کا پشتون کیساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ وہ اپنی تاریخی زمین پر رہ رہے ہیں۔ یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، افغانستان کیساتھ الحاق کرتے ہیں یا ایک آزاد پشتونستان کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بلوچ انکے فیصلے کا احترام کریں گے۔

بوریوال کاکڑ: آخر میں یہ کہ بلوچستان مسئلے کا حتمی حل کیا ہے؟
ڈاکٹر اﷲ نذر: ایک آزاد بلوچستان۔

بشکریہ : ویو پوائنٹ

четверг, 28 августа 2014 г.

خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ
ارشاد مستوئی۔۔۔۔۔ 
گوکہ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات تبدیل ہورہے ہیں اور ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر ہے لیکن دوسری جانب بلوچستان میں تشدد کے واقعات بدستور برقرار ہیں بلکہ گذشتہ ہفتہ کوئٹہ اور مستونگ میں ہونے والے واقعات سے خوف دہشت اور عدم تحفظ کے نئے احساس نے جنم لیا 21 جولائی کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب میں کلی کمالو کے مقام پر چار بلوچ خواتین پر اس وقت سرنج کے ذریعے تیزاب پھینکا گیا جب وہ عید کی شاپنگ کیلئے جارہی تھیں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر تیزاب پھینک دیا اور فرار ہوگئے تیزاب حملے میں خواتین کے ہاتھ پیر اور چہرے جھلس گئے جنہیں طبی امداد کیلئے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
بلوچستان کے کسی بلوچ آبادی والے علاقے میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کا سلسلہ تین چار سال قبل سابق حکومت کے دور میں شروع ہوا جب قلات اور دالبندین میں ایک شدت پسند گروہ نے پمفلٹ سازی کرتے ہوئے خواتین کے چار دیواری سے باہر نکلنے پر خود ساختہ پابندی عائد کی ‘‘2010ء میں قلات اور دالبندین میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات رونما ہوئے دالبندین میں بلوچ غیرت مند نامی ایک تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبو ل کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ’خواتین نہ صرف پردے کی پاسداری کریں بلکہ وہ کسی مرد کے بغیر بازار نہ جائیں
واقعہ کے فوراً بعد صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عبدالرزاق چیمہ نے اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے اے ایس پی سریاب کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی اور اس کو فوری طور پر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ابھی چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ ضلع مستونگ میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کا ایک اور واقعہ پیش آیا مستونگ شہر میں 14 سے 15 سال کے درمیان عمروں کی دو بہنیں عید کی خریداری کے لیے بازار آئی تھیں خریداری کے بعد جب یہ واپس گھر جا رہی تھیں توموٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر تیزاب پھینک دیا تیزاب ان میں سے ایک کی گردن جبکہ دوسری کے چہر ے پر گرگیا۔ دونوں بہنوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے مستونگ شہر میں ایک پرائیویٹ ہسپتال منتقل کر دیاگیا ہے تاحال حملے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے بلوچستان میں 24گھنٹوں کے دوران تیزاب پھینکنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
بلوچ قوم پرست اور علیحدگی پسند حلقوں کی جانب سے اس پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا گیا بلکہ ان واقعات کو بلوچستان کے ترقی پسند و روشن خیال چہرے کو مسخ کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا گیا حکمران جماعت نیشنل پارٹی کے ترجمان نے خواتین پر تیزاب پھینکنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے بلوچ علاقوں میں خواتین و معصوم بچیوں پر تیزاب پھینکنے کے عمل کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے معاشرے کو تہہ و بالا کرکے دہشت گردی و انتہاء پسندی کے ذریعے اپنا ایجنڈہ مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی اجازت کوئی بھی مہذب معاشرہ نہیں دے سکتا تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پروزور مطالبہ کرتے ہیں ان واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ضرورت پڑنے پر ایسے دہشت گرد عناصر کے خلاف ضرب عضب طرز کے آپریشن کے آغاز سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے ان واقعات کی مذمت کی گئی ہے جبکہ علیحدگی پسند حلقوں کا خیال ہے کہ بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے جاری تحریک کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی سے ریاستی قوتیں خوفزدہ ہیں اور انہوں نے بلوچ تحریک کا راستہ روکنے کیلئے انتہاء پسندی و مذہنی جنونیت کے بیج بونا شروع کردیئے ہیں ہزارہ برادری کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کے بعد خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ انہی سلسلوں کی کڑی ہے تاکہ بلوچ تحریک کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کیا جاسکے بلوچستان کے سنجیدہ حلقوں کو بھی ان واقعات پر تشویش لاحق ہے سینئر صحافی تجزیہ نگار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ بلوچستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اور یہاں دشمنیاں نبھانے کیلئے کبھی بھی تیزاب پھینکنے کا طریقہ نہیں اپنایا گیاہم یہ سنتے رہتے تھے کہ پنجاب میں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں جہاں خواتین کے چہروں کو مسخ کرنے کے لیے تیزاب پھینکا جاتا ہے۔
بلوچستان میں خواتین کے خلاف یہ ایک نئی چیز ہے اس پر لوگوں کو یہ تشویش ہے کہ بلوچستان میں یہ طریقہ کہاں سے آیا؟ بلوچستان کے کسی بلوچ آبادی والے علاقے میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کا سلسلہ تین چار سال قبل سابق حکومت کے دور میں شروع ہوا جب قلات اور دالبندین میں ایک شدت پسند گروہ نے پمفلٹ سازی کرتے ہوئے خواتین کے چار دیواری سے باہر نکلنے پر خود ساختہ پابندی عائد کی ‘‘2010ء میں قلات اور دالبندین میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات رونما ہوئے دالبندین میں بلوچ غیرت مند نامی ایک تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبو ل کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ’خواتین نہ صرف پردے کی پاسداری کریں بلکہ وہ کسی مرد کے بغیر بازار نہ جائیں بصورت دیگر ان کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی واقعہ کا وہ خود ذمہ دارہونگی۔‘ دالبندین میں پمفلٹ تقسیم کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ غیرت مند بلوچ اپنی خواتین کو بازار جانے نہ دیں۔ اگر کوئی مر یض ہو تو اپنے ساتھ مرد ضرور لائے اور جو خواتین کھلے منہ بازار اور گلیوں میں نظر آئیں ان کے چہروں پر تیزاب چھڑک دیں گے جس کی ذمہ داری متاثرہ خواتین پرعائدہوگی۔
پمفلٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بازار شیطان کی جگہ ہے اور آج کل خواتین بازارمیں شاپنگ کرنے کے لیے ایسی ملبو سات پہن کر آتی ہیں کہ شیطان بھی شرما جاتاہے۔پمفلٹ کے آخرمیں دائیں طرف ایک دکان میں کاسمیٹک کا سامان دکھایاگیا ہے جس پر کراس کا نشان ہے جبکہ بائیں جانب ایک پرانی عمارت کی تصویر دکھائی گئی ہے جو سادگی کی زندگی کو ظاہر کرتی ہے۔بلوچستان میں تقریباً تمام قوم پرست جماعتوں بشمول بلوچ مزاحمتی تنظیموں نیخواتین پر تیزاب پھنکنے کی شدید مذمت کی تھی اور اس واقعہ کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ بعض قوتیں بلوچ معاشرے کو رجعت پسندی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں جسے بلوچ قوم ناکام بنادے گی۔
کوئٹہ اور مستونگ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کی تو کسی تنظیم یا گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے طاہر حسین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وویمن پروٹیکشن ایکٹ کے نافذ العمل نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں جب تک مکمل طور پر وویمن ایکٹ کے نفاذ کو یقینی نہیں بنایا جائے گا صورتحال کی بہتری ممکن نہیں ہوسکے گی ادھر سنجیدہ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ خواتین پر تیزاب پھینکنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ سماج سرمایہ داری کے زیرِ اثر گل سڑ چکا ہے اور بربریت روز بروز نئی شکلوں میں اپنا اظہار کر ہی ہے۔ان حالات میں ملائیت اور بورژوا لبرلازم دونوں ہی عورت کی نجات کے لئے کوئی لائحہ عمل دینے سے قاصر ہیں۔مذہبی بنیاد پرستی اور مغربی لبرل ازم دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
یہ دونوں عورت کو استعمال کی ایک چیز سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ استعمال کے ’’طریقہ کار‘‘اور حدود پر اختلاف بہر حال موجود ہے۔ملائیت عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود کر کے شوہر، باپ اور دوسرے نام نہاد خاندانی رشتوں کا غلام بناتی ہے تومغربی لبرل ازم اسے نام نہاد آزادی دے کر بازار میں سرِ عام نیلام کرتا ہے۔ حقوق نسواں کا کاروبار کرنے والی این جی اوز اور دیگر تنظیمیں بھی سامراجی قوتوں کی آلہ کار ہیں۔ آج کے معاشرے کی خواتین میں بھی طبقاتی فرق نمایاں ہے۔ایک جانب وہ خواتین ہیں جو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ جو پارلیمنٹ اور اقتدار کے دیگر ایوانوں میں محنت کشوں کو کچلنے والی پالیسیاں ترتیب دینے میں سرگرم ہیں۔ایسی خواتین بھی ہیں جو گھریلو ملازم محنت کشوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتی ہیں اور خود عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتی ہیں۔جن خواتین نے اپنی زندگیوں کو طبقہ امرا کے مردوں لیے نمائش بنا نے پر اکتفا کر لیا ہے،ہر وقت نئے زیورات اور لباس کے لیے تگ و دو ان کی زندگی کا محور ہے۔
جبکہ دوسری جانب وہ خواتین ہیں جو سخت موسموں میں بھی خاندان کی کفالت کے لیے شدید مشکلات برداشت کرتی ہیں اور زمانے بھر کی ذلتوں کا سامنا کرتی ہیں۔ان دونوں طبقوں کی خواتین کے مسائل اور زندگیاں مختلف ہیں اس لیے ان کی سیاسی اور سماجی جدوجہد بھی مختلف ہے۔گھریلو کام کاج جو محنت کش خواتین کی پیدائشی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے امیر گھرانوں کی خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں بلکہ اسے قابل فخر سمجھا جاتا ہے کہ انہیں یہ کام نہیں آتے۔حقوق نسواں کا کاروبار کرنے والے افراد اس طبقاتی تفریق کو ماندکرنا چاہتے جو اس سماج کی جڑوں میں موجود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عورت سماجی طور پر تب تک آزاد نہیں ہو سکتی جب تک وہ معاشی طور پر آزاد اور خود مختار نہ ہواور یہ معاشی و سماجی خود مختاری موجودہ نظام کے زیرِ اثر رہ کر حاصل نہیں جا سکتی۔


вторник, 19 августа 2014 г.

توتک میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کے متعلق عدالتی ٹریبونل کا تحقیقاتی رپورٹ کو جزوی طور پر شائع کیا گیا ہے۔ لیکن رپورٹ میں ٹریبونل نے فوج، ایف سی، آئی ایس آئی سمیت دیگر خفیہ اداروں اور حکومتوں کو بری الزمہ قرار دیکر مہبم انداز میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ انھیں بھی ایک طرح سے بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہیں۔ اگر یہ سب اس عمل میں شامل نہیں تو کیا پھر یہ اجتماعی قبروں سے ملنے افراد ازخود اپنے آپ کو ان اجتماعی قبروں میں دفن کئے تھے۔ ٹریبونل مہبم انداز میں شفیق مینگل کی طرف اشارہ دے رہی ہے لیکن یہ بات چھپا رہی ہیکہ شفیق کو کس نے مسلح کرکے لوگوں کی قتل عام کا سرٹفکیٹ جارہی کیا تھا اور شفیق کس کے ایماء اور سپورٹ سے لوگوں کو اغواء کرکے اُنھیں قتل کرکے اُنکی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہے تھے اور اجتماعی قبروں میں دفن کررہے تھے۔ کیونکہ شفیق کو آئی ایس آئی نے مسلح کرکے آزادی پسند قوتوں کے سامنے کھڑے کرنے کی کوشش کی تھی اور توتک اجتماعی قبروں سے ملنے والی دو لاشوں کی شناخت ہوئی تھی جن کو ایف سی نے آواران سے اغواء کیا تھا اور سیاسی کارکنوں کو آئی ایس آئی، ایف سی ، فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ملکر اغواء کئے تھے جن کے اغواء اور لاپتہ کرنے کی شواہد اور کئی عینی شاہدین موجود ہیں۔ اب شفیق مینگل کو خاموشی سے عرضی طور پر سائیڈ لائن کرکے ڈی سی وحید شاہ کو سامنے لایا گیا جن کے زریعے یہ ڈرامہ رچایا گیا کہ یہ خضدار میں امن لانے کے لئے تنعینات کیا گیا ہیکہ اُن کے زریعے اجتماعی قبروں کو منظر عام پر لاکر شفیق مینگل اور اُنکے کارندوں کے خلاف کاروائی کرنے اور ڈیتھ اسکواڈز کو ختم کرنے کا نام نہاد ڈرامہ کیا گیا دراصل شفیق اور اُس کے کارندے آئی ایس آئی، ایف سی اور فوج کے بدنامی کے باعث بن رہے تھے۔ شفیق مینگل نے وھیر میں سرعام 8 لیویز اہلکاروں کو موت کی گھاٹ اُتار دی لیکن کسی نے اسکا بال بھی بیکا نہیں کرسکا آج بھی شفیق ایف سی کے گارڈز کے ساتھ دندناتے پھیر رہے ہیں۔ ایجنسیوں نے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ڈی سی وحید شاہ کو سامنے لاکر عوام میں اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کی اب ڈی سی وحید شاہ کے زریعے نئے مخبر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں اور اب ڈی سی وحید شاہ کے سربراہی میں ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دی گئی ہیں اور آئی ایس آئی و ایف سی اب اپنے تمام کارندوں کو وحید شاہ کے قیادت میں منظم کررہے ہیں، ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہیکہ خضدار میں قتل عام کرنے والے ایجنسیوں کے کارندے ڈی سی اور ایف سی کمانڈنٹ کے ساتھ براجمان ہیں۔ اب اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے بلوچ نوجوانوں کے اغواء، قتل عام، مسخ شدہ لاشوں، اجتماعی قبروں میں نوجوانوں کو دفنانے میں فوج، ایف سی، ایم آئی، آئی ایس آئی شامل ہیں شفیق، عطاء اور زکریا و دیگر غدار عام مہرے اور دلال ہیں جو چند روپیوں کے لئے اپنی ماں و بہنوں کو بھی فروخت کرنے سے گریز نہیں کرتے