четверг, 21 сентября 2017 г.
понедельник, 18 сентября 2017 г.
مذہبی شدت پسندتنظیم کو تحریک آزادی سے جوڑنا ممکن نہیں
مقبوضہ بلوچستان میں جاری شعوری،علمی آزادی کی جدوجہد نے جہاں طبقات،ذات پات کو زمین بوس کر دیا اسی طرح مذہبی تفریق کو عوامی سطح پر اپنی انقلابی تعلیمات و عمل سے پروان چھڑانے نہیں دیاجو بلوچ کی سب سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔البتہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مقامی منشیات فروشوں،سماجی برائیوں میں ملوث افراد سمیت پاکستانی نظام کو اسلام کا اصل سماج ماننے والے بلوچوں کے ذریعے ایسے گروہ منظم کیے اور انہیں اپنی فوجی چھاؤنیوں میں پناگائیں دیں۔کیونکہ وہ مذہب کے نام پر تفریق اور بلوچ سماج میں دراڑڈال سکیں تاکہ قابض بہ آسانی اپنی حکمرانی قائم کر سکے۔ایسے میں لشکر خراسان،داعش،لشکر جھنگوی،جنداللہ یا جیش العدل نامی تنظیموں کو مضبوط کیا گیا تاکہ آئی ایس آئی و دیگر مذہبی سامراجی ممالک کے ایجنڈوں کے ساتھ بلوچ سماج میں مذہبی تفریق پیدا کرکے نوجوانوں کی سرزمین سے محبت کو اسلام کے شدت پسندی کی جانب راغب کیا جا سکے۔اسی طرح جنداللہ یا جیش العدل نامی گروہ جو خاص کر مکران سے ایران کے سرحدی علاقے یا نوشکی جانب اپنا کچھ وجود رکھتی ہے ، بلوچ جہد آزادی کے خلاف بھر سرے پیکار ہے۔مقبوضہ بلوچستان سے باہر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ایران کے خلاف بلوچستان کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واقعی ایسا ہے یا ایسی بات کرنے والے بھی ریاستی حکمت عملیوں کے تحت بلوچ کے خلاف اس پلاننگ کا حصہ ہیں،جو بلوچ جہد آزادی کو مذہبی شدت پسندی کے غلاف میں منقلب کرنے میں جتے ہیں ۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ مذہبی تنظیم نے کب مغربی بلوچستان کی آزادی کادعویٰ کیا؟۔اگر کیا بھی ،تو کیا مذہبی شدت پسند نیشنلزم،سیکولرزم پر یقین رکھتے ہیں؟ وہ تو ملک کی بات نہیں کرتے بلکہ وہ تو امت کا لفظ استعمال کرتے ہیں ،اور نہ ہی کسی تاریخ میں مذہب کی بنیاد پر آزادی کی جنگیں لڑی گئیں ۔آزادی کی جنگیں یا تحریک ہمیشہ مذہب سے مبرا رہی ہیں۔پاکستان کی اگر آزادی کی بات کی جائے تو مذہب کی بنیاد پرہندوستان کوتقسیم کرکے اسے الگ ملک کا نام دیا گیا ۔اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی تحریک آزادی نہیں تھی البتہ ایسٹ انڈیا کمپنی کیخلاف ہندوستان کی آزادی کیلئے منظم تحریک چلی اور وہ مذہب کے بالکل بنیاد پر نہیں تھامذکورہ تحریک میں تمام مذہب کے لوگ شامل تھے ۔
ایسا کبھی دیکھا یا سنانہیں گیاکہ کسی مذہبی شدت پسند نے نیشنلزم کی بنیاد پر جدوجہد کی،اگر وہ نیشنلزم و سیکولرزم کی بات کرے تو وہ مذہبی شدت پسند ہو ہی نہیں سکتا،اب کچھ لوگ پتا نہیں کیوں ایسے گروہ کی حمایت پر سوشل میڈیا میں اپنی پوری قوت استعمال کر کے بغیر منطق کے دلائل دینے پر بہ زد ہیں کہ ایران کیخلاف آزادی کی جدوجہد کر کرہے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو ان کی یہ جنگ مغربی بلوچستان کی آزادی کی جنگ نہیں بلکہ اہل تشیع کیخلاف ایک شدت پسند مذہبی جنگ ہے جسکی جڑیں بلوچستان میں پھیل چکی ہیں جو ہزارہ برادری پر متعدد حملوں وھماکوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں جس میں سینکڑوں اہل تشیع کو بیدردی کیساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ،اسی طرح ذگری فرقے پر حملے بھی ہمارے سامنے واضح مثال ہیں۔
ایران میں برسرپیکار شدت پسند مذہبی تنظیم جنداللہ یا جیش العدل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اثاثہ ہے اور مذکورہ تنظیم سے وابستہ تمام ارکان کراچی و پاکستان کے بڑے بڑے مدارسوں اور فوجی کیمپس میں ریاستی اداروں کی زیر سرپرستی میں اپنی تعلیم و تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ رہی بات مذکورہ تنظیم پر گذشتہ دنوں پنجگور کے سرحدی حدود میں بلوچ سرمچاروں کے حملے و ہلاکتوں کی تو یہ ایک مثبت حکمت عملی ہے اگر بلوچ عسکری تنظیمیں پہلے پہل اس مذہبی گروہ کیخلاف کارروائی کرتی تو بلوچستان میں مذہبی شدت گروہ کاؤنٹر ہوجاتے ۔بلوچستان جسے ریاستی ادارے ایک مذہبی شدت پسندی میں دھکیل رہے ہیں اس میں بڑی حد تک کمی آجاتی ۔ کہا جارہا ہے کہ مذکورہ تنظیم پر جب بلوچ عسکری پسندوں نے حملہ کیا تو وہ ایران میں ایک کارروائی کے بعد واپس بلوچستان حدود میں آرہے تھے اور ریاستی اداروں کے کیمپ ان کے محفوظ پناگائیں ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ جیش العدل ایک ایرانی مذہبی شدت پسند گروہ ہے اور اسکے اپنے مذہبی مقاصد ہیں۔اگرا کوئی غور کریں تواسکی اور داعش کے جھنڈے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔داعش سے مشابہت رکھنے کے ساتھ ،دوسری اہم بات انکے ویڈیوز و تصاویر میں صاف ظاہر ہے، انگلی اُٹھا کر اوپر کی جانب اشارہ کرنا جو داعش کا سنبل ہے، یعنی مذکورہ مذہبی شدت پسند تنظیم اسی قبیل و نظریہ کا مالک ہے جو دیگر اسلامی شدت پسند تنظیم ہیں۔اب اس تنظیم کو مغربی بلوچستان کی آزادی کی تحریک سے جوڑناایک احمقانہ بات ہوگی ۔
ایسا کبھی دیکھا یا سنانہیں گیاکہ کسی مذہبی شدت پسند نے نیشنلزم کی بنیاد پر جدوجہد کی،اگر وہ نیشنلزم و سیکولرزم کی بات کرے تو وہ مذہبی شدت پسند ہو ہی نہیں سکتا،اب کچھ لوگ پتا نہیں کیوں ایسے گروہ کی حمایت پر سوشل میڈیا میں اپنی پوری قوت استعمال کر کے بغیر منطق کے دلائل دینے پر بہ زد ہیں کہ ایران کیخلاف آزادی کی جدوجہد کر کرہے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو ان کی یہ جنگ مغربی بلوچستان کی آزادی کی جنگ نہیں بلکہ اہل تشیع کیخلاف ایک شدت پسند مذہبی جنگ ہے جسکی جڑیں بلوچستان میں پھیل چکی ہیں جو ہزارہ برادری پر متعدد حملوں وھماکوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں جس میں سینکڑوں اہل تشیع کو بیدردی کیساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ،اسی طرح ذگری فرقے پر حملے بھی ہمارے سامنے واضح مثال ہیں۔
ایران میں برسرپیکار شدت پسند مذہبی تنظیم جنداللہ یا جیش العدل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اثاثہ ہے اور مذکورہ تنظیم سے وابستہ تمام ارکان کراچی و پاکستان کے بڑے بڑے مدارسوں اور فوجی کیمپس میں ریاستی اداروں کی زیر سرپرستی میں اپنی تعلیم و تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ رہی بات مذکورہ تنظیم پر گذشتہ دنوں پنجگور کے سرحدی حدود میں بلوچ سرمچاروں کے حملے و ہلاکتوں کی تو یہ ایک مثبت حکمت عملی ہے اگر بلوچ عسکری تنظیمیں پہلے پہل اس مذہبی گروہ کیخلاف کارروائی کرتی تو بلوچستان میں مذہبی شدت گروہ کاؤنٹر ہوجاتے ۔بلوچستان جسے ریاستی ادارے ایک مذہبی شدت پسندی میں دھکیل رہے ہیں اس میں بڑی حد تک کمی آجاتی ۔ کہا جارہا ہے کہ مذکورہ تنظیم پر جب بلوچ عسکری پسندوں نے حملہ کیا تو وہ ایران میں ایک کارروائی کے بعد واپس بلوچستان حدود میں آرہے تھے اور ریاستی اداروں کے کیمپ ان کے محفوظ پناگائیں ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ جیش العدل ایک ایرانی مذہبی شدت پسند گروہ ہے اور اسکے اپنے مذہبی مقاصد ہیں۔اگرا کوئی غور کریں تواسکی اور داعش کے جھنڈے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔داعش سے مشابہت رکھنے کے ساتھ ،دوسری اہم بات انکے ویڈیوز و تصاویر میں صاف ظاہر ہے، انگلی اُٹھا کر اوپر کی جانب اشارہ کرنا جو داعش کا سنبل ہے، یعنی مذکورہ مذہبی شدت پسند تنظیم اسی قبیل و نظریہ کا مالک ہے جو دیگر اسلامی شدت پسند تنظیم ہیں۔اب اس تنظیم کو مغربی بلوچستان کی آزادی کی تحریک سے جوڑناایک احمقانہ بات ہوگی ۔
воскресенье, 17 сентября 2017 г.
شفیق مینگل ایک مہلک ریاستی ہتھیار – ٹی بی پی رپورٹ
دو ہزار پندرہ میں سندھ کے شہر شکار پور میں ہونے والے خودکش دھماکوں کا دوہزار دس میں خضدار میں بی ایس او آزاد کی ریلی پر ہونے والے فائرنگ سے تعلق تب جڑا جب دو ہزار سولہ میں خودکش حملے کے لیئے تیار عثمان بروہی شکار پور کے ایک شیعہ مسجد میں دھماکے سے قبل پکڑا گیا۔ یہ پہلی دفعہ تھی جب ایک خودکش حملہ آور پکڑا جاتا ہے اور اپنی زبان سے بتلاتا ہے کہ میرا خود کش جیکٹ بلوچستان کے علاقے وڈھ میں ‘معاز’ نامی شخص تیار کرتا ہے۔
وڈھ میں مذہبی شدت پسندوں کی موجودگی ہمیشہ سے نہیں تھی، اور نہ ہی پورے بلوچستان میں فرقہ پرستی کا راج تھا۔ سندھ میں شیعہ مسلمانوں کے مساجد، کوئٹہ میں ہزارہ برادری اور بلوچ آزادی پسندوں کے قتلِ عام سے لیکر کراچی میں ایم کیو ایم لیڈر خواجہ اظہار الحق پرقاتلانہ حملہ ہو، ان سب کی کڑیاں وڈھ کے علاقے باڈڑی میں مقیم شفیق الرحمٰن مینگل سے جاکر ملتی ہیں۔
شفیق مینگل کون ہے؟ کس طرح وہ مذہبی شدت پسندوں سے لیکر ریاست کا آلہ کار بنا، اس بابت دی بلوچستان پوسٹ اپنے قارئین کے لیئے تحقیقات کے بعد یہ مختصر مگر جامع رپورٹ شائع کر رہی ہے۔
شفیق الرحمٰن، مینگل قبیلے کے محمد زئی طائفے سے تعلق رکھتا ہے، وہ سابق پاکستانی وزیر برائے پیٹرولیم اور سابق نگران وزیراعلی نصیر مینگل کا بیٹا ہے۔ شفیق مینگل نے اپنی بنیادی تعلیم لاہور میں قائم ایک اعلی طبقے کے کالج ‘ایچی سن’ سے حاصل کی ہے، مگر اسکے بعد اسنے اپنی سائنسی تعلیم چھوڑ کر کراچی میں ایک دیوبندی مدرسے میں پڑھائی شروع کردی اور تب اسکا وہ سفر شروع ہوا جس نے اسے نگران وزیراعلی کے بیٹے سے ہزاروں لوگوں کا قاتل بنا دیا اور آج دن تک وہ اپنے ہاتھ معصوم انسانوں کی زندگیوں سے رنگ رہا ہے۔
شفیق مینگل اور انکا خاندان شروعات میں خضدار شہر میں واپڈا گلی میں ایک معمولی سے گھر میں رہتے تھے۔ وہ اپنے شروعاتی دنوں میں بڑے بھائی عطالرحمن مینگل اور ماموں قدوس مینگل کے ساتھ افغانستان سے لائے جانے والی گاڑیوں میں منشیات کا کاروبار کرتا تھا۔
کراچی میں دیوبندی مدرسے میں تعلیم کے دوران اسکی ملاقات لشکرطیبہ کے لوگوں سے بھی ہوا، جہاں سے وہ کچھ وقت کے لیئے کشمیر کے جہادی گروپوں کے ساتھ رہا اورپھر کشمیر میں بھی پاکستانی فوج کی حمایت یافتہ جہادی تنظیموں کے ہمراہ لڑا۔ یہ کشمیر جہاد ہی تھی جہاں سے وہ آئی ایس آئی کے ایک اعلی آفیسر کی نظر میں آیا اور انھوں نے اسے ایک اثاثہ بنا دیا۔
دو ہزار آٹھ میں جب پاکستانی فوج نے بلوچستان بھر میں ‘کِل اینڈ ڈمپ’ پالیسی شروع کی تو فوج نے ساتھ ہی ساتھ ‘لوکل میلیشیا’ بھی تشکیل دینا شروع کردیئے، جن کا مقصد اس وقت تک صرف اغواء کاریوں میں معاونت کرنااور فوجی ٹیموں کو بحفاظت بلوچ علاقوں سے نکالنا تھا، مگر آزادی کی تحریک پروان چڑھنے اور بلوچ مسلح تنیظیموں کے مضبوط ہونے پر پاکستانی فوج نے اپنے ان ملیشیاوں کو بھی مسلح کردیا اور وہاں سے شفیق مینگل کا ‘مسلح دفاع تنظیم’ سامنے آیا۔
اس سرکاری ڈیتھ اسکوڈ نے اپنا پہلا حملہ دوہزار دس میں خضدار ڈگری کالج میں ہورہے بی ایس او ازاد کی ریلی پر فائرنگ کرکے کیا، جس کے نتیجے میں ایک طالب علم ‘علی دوست’ جانبحق اور متعدد طلباء زخمی ہوگئے تھے۔ اسکے بعد اسی تنظیم نے خضدار یونیورسٹی میں کلچرل پروگرام کے دوران دستی بموں سے بھی حملہ کیا تھا جہاں دو نوجوانوں کی ہلاکت اور دیگر کئی طالب علم زخمی ہوگئے تھے۔
ان دونوں حملوں میں لیاقت کرد اور بیبرگ زہری آج دن تک اپنے پیروں سے معزور ہیں۔
شفیق مینگل کو انٹیلجنس ایجنسیوں کی جانب سے پوری حمایت مل جانے کے بعد وہ اور انکا بڑا بھائی عطاالرحمان اپنا پڑاو ایک بار پھر خضدار شہر میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر اسی اثناء بلوچستان میں سرگرم آزادی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کے ہاتھوں انکے ماموں قدوس مینگل کی ہلاکت ہوجاتی ہے۔ اپنے ماموں جو کہ پاکستانی فوج کا ایک خاص اثاثہ بھی تھا، کہ قتل پر انھیں آزادی پسند کارکن سے لیکر انکے حمایتیوں کے قتل کا مکمل اجازت نامہ مل جاتا ہے۔
دوہزار نو سے لیکر دوہزار تیرہ تک خضدار شہر میں سینکڑوں لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اغواء کاریاں سب شفیق مینگل کا ڈیتھ اسکواڑ سرانجام دیتا ہے، اسی دیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں کمسن بالاچ اور مجید زہری کی شہادت ہوئی تھی، جبکہ بزرگ حاجی رمضان زہری اور حافظ عبدالقادر مینگل بھی انھی کے گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے تھے۔
شفیق مینگل کے والد مینگل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں مگر ماں کی طرف سے انکا تعلق خضدار کے علاقے توتک کے قصبہ سے ہے، جہاں قلندارنی قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اس رشتہ داری اور اپنی ملکیت کا بہانہ بناکر شفیق مینگل اپنا نیا ٹھکانہ توتک کو بناتا ہے۔
خیال رہے توتک میں شفیق مینگل کی آمد سے قبل ایک وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن ہوچکا ہوتا ہے جہاں قلندرانی قبیلے کے سردار کے بیٹوں سمیت دسیوں قلندرانی بلوچوں کو اغواء کیا گیا، اغواء ہونے والوں میں سے مقصود قلندرانی کی لاش بعد میں کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ سے برآمد ہوئی، مگر دیگر دسیوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں بیاسی سالہ عبدالرحیم قلندرانی بھی شامل ہے۔
توتک شہر کو اپنا ٹھکانہ بنانے کے بعد شفیق مینگل نے وہاں اپنے ٹارچر سیل قائم کیئے اور بلوچستان بھر سے معصوم لوگوں کو اغواء بعد وہاں پر زندانوں میں بند کرکے رکھا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں مال مویشی چرانے والے ہم سے بات کرتےتھے کہ انھیں رات بھر شفیق کے کیمپ سے چیخ و پکارکی آوازیں آتی ہیں، جیسے کسی کو ازیت دیا جارہا ہو۔ شفیق مینگل نے اپنے توتک کیمپ کے احاطے میں ہی گھڑے کھود رکھے تھے اور دوران ازیت اگر کسی کی موت ہوجاتی تو اسے وہی پر دفنایا جاتا تھا۔
ان اجتماعی قبروں کی نشاندہی دوہزار چودہ میں ایک چرواہے نے کیا تھا۔ شفیق مینگل کے کیمپ میں دریافت ہونے والی ان قبروں سے کل ایک سو انھتر لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی حالت اس قدر خراب تھی کے بعض کی صرف باقیات (ہڈیاں) ہی رہ گئی تھی۔ ان لاشوں میں سے صرف دو کی پہچان ہوئی جن کا تعلق بلوچستان کے علاقے آواران سے تھا۔
ان قبروں کی دریافت تب ہی ممکن ہوا جب شفیق مینگل ان علاقوں کو چھوڑ کر واپس اپنے والد کے علاقے وڈھ چلا گیا، اور یہ اسلیئے ہوا کیونکہ زرداری حکومت بدل چکی تھی اور ‘آئی ایس آئی’ کے مقابلے اب ‘ایم آئی’ نے کمان سنھبال لیا تھا۔ مگر شفیق مینگل نے پالیسی شفٹ ہونے کا ادراک بہت پہلے کرلیا تھا اور اب وہ ایک عام شہری کی طرح واپس جانے والا نہیں تھا۔
شفیق مینگل پاکستانی فوج کا ایسا مہلک ہتھیار تھاجو اب صرف اپنے خالق ‘آئی ایس آئی؛ کا سنتا ہے۔ ملٹری انٹیلیجنس نے اسے غیر مسلح کرنے کے لیئے اپنے خآص بندے سید وحید شاہ کو خضدار میں بطور ڈپٹی کمشنر بنا کر بھیجا، مگر اسے بھی اس بات کا اندازہ تب ہوگیا کہ شفیق مینگل کو اب خود فوج بھی لگام نہیں ڈال سکتا جب وڈھ کے قریب ڈیتھ اسکواڈ کے بندوں نے سرکاری لیویز فورس کے آٹھ بندوں کو قتل اور متعدد کو زخمی کردیا۔
شفیق مینگل نے اپنے کھلی آزادی کا فائدہ اٹھا کر لشکرِ جھنگوی جیسے فرقہ وارانہ تنظیم میں اپنی ایک جگہ بنا لی تھی اور اسکے علاوہ افغان طالبان سے بھی گہرے روابط قائم کرلیئے تھے۔ آزادی پسندوں کے قتلِ عام کے بعد اسنے اپنا وہ کام جاری رکھا جہاں سے اسے پہلے دفعہ ‘آئی ایس آئی’ کے لیئے بھرتی کیا گیا تھا۔
شفیق مینگل نے وڈھ کے علاقے باڈڑی میں ٹریننگ کیمپس قائم کیئے۔
ان کیمپوں میں شفیق مینگل ‘آئی ایس آئی’ کےزیرنگرانی نووارد “داعش” اور “لشکر جھنگوی العالمی” نامی تنظیموں کے کارندوں کو ٹریننگ دیتا ہے۔ شفیق مینگل بلوچستان سمیت پورے خطےکے لیئے ناسور بن جائیگا، اس بات کا اندازہ سب ہی کو تھا مگر کوئی بھی حکومت یا وزیر ‘آئی ایس آئی’ کے سامنے کھڑا نہ ہوسکا۔ گو کہ بلوچ مسلح تنظیموں نے شفیق مینگل پر متعدد حملے کیئے، جس میں سب سے نمایاں کوئٹہ شہر میں اسکے گھر پر خود کش حملہ تھا، جس کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
حال ہی میں کراچی میں پولیس چھاپے کے دوران پکڑے جانے والے مذہبی شدت تنظیم ‘انصارشریعہ’ کے کارندوں نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں ٹریننگ بلوچستان کے علاقے وڈھ سے ملی ہے اور وہاں انکا ٹرینر عبداللہ بلوچ تھا۔ خیال رہے اس سے قبل سندھ سے پکڑے جانے والے دہشتگردوں نے بھی شفیق مینگل کے ٹریننگ کیمپس کا بتایا تھا اور ساتھ میں یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ شاہ نورانی کے درگاہ پر خود کش حملے کا پلان بھی وڈھ میں تیار ہوا تھا، اس حملے میں باون کے قریب زائرین کی موت ہوئی تھی۔
شفیق مینگل اب ایک انتہائی مہلک ہتھیار بن چکا ہے اگر اسے مزید نشونماء ملی تو خطے میں ‘داعش’ کی مضبوطی سمیت خود خطے میں ایک بڑے مذہبی شدت پسند رہنماء کی روپ میں ابھر سکتا ہے۔
суббота, 16 сентября 2017 г.
سلامی اب بدنامی نہیں کیوں ؟ تحریر۔ برزکوہی بلوچ
جب موجودہ مزاحمت شروع ہوچکا تھا، اس وقت تمام بلوچوں خاص کر مری اور بگٹی قبیلے میں ایک سوچ موجود تھا کہ پاکستان کے سامنے سلامی ہونا، مزاحمت اور دوستوں کو چھوڑ دینا خوف و پیسوں کی خاطر تحریک سے دستبردار ہونا بدترین بزدلی اور بدنامی ہے۔ سلامی تو نا ممکن اور دور کی بات تھی وہ ایسا شاید سوچتے بھی نہیں ہونگے، خاص کر مری قبیلے کے بلوچ یہ تک سوچتے تھے کہ اگر کوئی دشمن کی حراست میں دوران ٹارچر کوئی تنظیمی راز بحالت مجبوری افشاں کرتا تو وہ بھی انتہاہی قابل نفرت، شرمناک عمل گردانا جاتا۔ بزدلی غداری اور دوستوں کے ساتھ دغاباذی میں شمار ہوتا ہے یعنی بلوچی غیرت و عزت کے حوالے سے بہت بڑا میار ہوتا تھا کہ فلاں شخص فلاں ٹکر کا بندہ پنجابی دشمن کے سامنے بدنام زمانہ قلی کیمپ میں سر جھکا کر آگیا اور تنطیم و دوستوں کے بابت دوران ٹارچر کچھ راذ دے دیا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب کیوں وہی بلند بلوچی میار اور بلوچی سوچ کے مالک لوگ دھڑا دھڑ بغیر تکلیف، شرم اور ٹارچر کے بلوچی پگڑی باندھ کر دشمن کے سامنے سلامی ٹھوک کر پاکستانی جھنڈے کو ہوا میں لہرا ر ہے ہیں؟ وجوہات کیا ہیں ؟ذمہ دار کون ہے؟ لوگوں کو اس حالت اور سوچ پر لا کھڑا کرنے والے ہاتھ کن کن کے ہیں؟
اگر ہم صرف اس دلیل اور موقف پر اتفاق اور تکیہ کریں کہ خوف، بزدلی اور دشمن کی ظلم و جبر اور بربریت اسکا ذمہ دار ہے یا تحریکوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے ۔ یہ حقائق بھی اپنی جگہ ایک حد تک درست ہیں لیکن شاید ہم جب تک اصل مسئلے کو سمجھ نہیں پائینگے اس وقت تک ہم خود اپنے ساتھ ناانصافی کرتے رہینگے۔
بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، تاریخ کے صفحوں کو ٹٹولنے کی ضرورت نہیں ہے، ایوب اور بھٹو دور کی بربریت پاکستان اور ایران کی مشترکہ فضائی آپریشن کو بھی یاد کرنے کی ضرورت نہیں جب مری علاقے چمالنگ میں اس وقت قریباً ڈھائی ہزار سے زیادہ بلوچ خواتین، بچے اور بزرگوں کی نسل کشی ہوئی۔ افغانستان میں درپدری زیرِ بحث نہیں ہے۔
ہم صرف حالیہ مری علاقے میں شہید نواب اکبرخان کے خلاف پاکستانی فوجی آپریشن ، مری اور بگٹی قبیلے کے بلوچوں کی کشت خون یا اس سے چند سال پہلے بے شمار خواتین اور بچوں کے قتل عام اور اغواء اور جنگ کی شدت دیکھیں تو وہ کسی طور کم نا تھے۔ بقول شہید بالاچ مری کے کہ تراتانی آپریشن تاریخ میں ایک اور جنگ کربلا تھا لوگ پانی کی ایک بوند کیلئے ترس رہے تھے کئی دن تک دن و رات انتہاہی طاقت کے ساتھ پاکستانی فوجی بربریت جاری تھی۔
میرے خیال میں آج تک اس طرح کے بڑے پیمانے کا فوجی آپریشن بلوچستان کے کسی اور جگہ پر نہیں ہوا ہے گو کہ اب روزانہ کی بنیاد پر پورے بلوچستان میں آپریشن جاری ہے۔ اگر کوئی کہے کہ دشمن کے سامنے سلامی کی اہم وجہ ریاست پاکستان کی بربریت اور تشدد کی تیز لہر ہے تو اس وقت یعنی 2006 میں کتنے بلوچ خاص کر مری قبیلے کے لوگ پاکستانی دشمن کے سامنے سلامی ہوئے؟
جب 2008 سے پاکستان نے باقاعدہ یہ فیصلہ کرلیا کہ بلوچوں کو اٹھاکر قلی کیمپوں میں تھرڈ ڈگری ٹارچر کا نشانہ بنا کر ان کی آنکھیں، دانت، ناخن حتیٰ کہ پیٹ پھاڑ کر دل اور گردے نکال کر پھر لاش میدان میں پھینک دیتا، تاکہ دوسرے بلوچوں کیلیئے عبرت کا نشان بنایا جائے اور اس پر باقاعدہ روذانہ کی بنیادوں پر عمل درآمد شروع ہوا، خاص کر 2010 سے لیکر 2013 تک یہ دہشت اور خوفناک عمل کی شدت انتہاہی تیز تھا جو اب بھی جاری ہے۔ تو پھر کیا اس وقت خوف اور لالچ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھا؟ پھر کیوں کوئی بلوچ سلامی کا نام ہی نہیں لیتاتھا؟
بلکل پاکستانی حکمران اور میڈیا کا گمراہ کن پروپگینڈہ جس میں عام بلوچوں کو مزاحمت کار ظاہر کرنا، جھوٹ بولنا، بلیک میلنگ، دھمکی اور عام معافی کا دھوکا نما کارڈ استعمال کرنا، لوگوں کو بے وقوف بنانا شامل ہیں لیکن یہ سب اپنی جگہ لوگوں کی مایوسی خوف، بزدلی، بدظنی اور ناراضگی میں زیادہ تر حصہ ہمارے آپسی اختلافات، آپسی لڑائی، غلط پالیسیوں، غلط فیصلوں، غیر انقلابی رویوں، نالائقیوں اور کوتاہیوں کا مرہون منت بھی ہے، جس سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
سلامی کرنے والے لوگ یہ بھی بخوبی جانتے ہونگے کہ پنجابی دشمن ہمیں سلامی کے بعد بھی معاف نہیں کریگا وہ یہ بھی جانتے ہونگے کہ دھوبی کے کتے کی طرح وہ نہ ادھر کا رہینگے اور نہ ادھر کا، اس کے باوجود یہ بے شرمی اور لعنت کے زندگی کے چند دن اپنانا آخر کیوں؟
قوموں اور تحریکوں میں مفاد پرست اور بزدل طبقہ موجود ہوتا ہے اور پیدا ہوتے رہینگے لیکن اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں، فیصلوں اور رویوں پر غور کریں۔ دشمن کے اس گمراہ کن پروپگینڈے کو جھوٹ اور دھوکہ ثابت کرنا ہوگا جو ہمیشہ کہتا آرہا ہے کہ یہ آپ لوگوں کے لیڈر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہے ہیں۔ یہ اپنے لیڈری اور پیسوں کیلئے آپس میں لڑرہے ہیں۔ آپسی اختلافات جو بھی ہیں لیکن آج قوم میں دشمن کے یہ خطرناک اور با اثر پروپگینڈہ اثرانداز ہورہا ہے اور لوگوں کی بدظنی اور راہِ فراریت کی اہم وجہ ثابت ہورہی ہے۔ اگر جلد اس پہلو پر ہمارے لیڈاران صاحبان سنجیدگی سے توجہ نہیں دیتے اور آپس میں عملاً ایک ساتھ نہیں ہوتے تو شاید ریاست کا یہ پروپگینڈہ قوم میں مزید پختہ ہوگا جس کے باعث تحریک مزید نقصان سے دوچار ہوگا۔
среда, 13 сентября 2017 г.
سی پیک کا جنازہ :تحریر پیردان بلوچ
دنیا میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ حالات میں بھی ڈرامائی انداز میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اگر گذشتہ پانچ سے دس سالوں کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں حیرت انگیز تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں جو یقیناً بعض ممالک کے داخلی اور خارجی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔
جہاں ایسے اصلاحات استعمال کیے جاتے ہوں کہ ہمارا کوئی مستقل دشمن نہیں اور نہ ہی کوئی مستقل دوست صرف ہمارے مفادات مستقل ہیں یا پھر یوں کہیے کہ دشمن کا دشمن ہمارا دوست ہے ۔۔
گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی سیاسی اور فوجی مقتدرہ ایک راگ الا پتے رہے ہیں سی پیک کا یعنی (چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈور ) جیسے پاکستان میں ترقی کے نئے مراحل، خطے میں انقلابی تبدیلیاں، پاکستان میں معاشی دھماکہ اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا ۔۔۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ چھیالیس سے باسٹھ 62 $ بلین ڈالر کا اپنے وقت کا سب سے بڑا پروجیکٹ ہے جو گوادر سے کاشغر تک پھیلایا جائے گا، جس سے پاکستان میں معاشی ترقی سے لے کر انفراسٹکیچر، جدید ٹرانسپورٹ سہولیات اور صنعتیں ترقی کے نت نئے مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔
بظاہرایک خوبصورت منظر کشی کے سوائے کچھ بھی نہیں ہے، تیرہ نومبر دو ہزار سولہ کو باقاعدہ اس منصوبے کو آپریشنل کیا گیا دھول کی تاپ پر بھنگڑے تک ڈالے گئے۔ دوسری طرف بلوچ قوم پرست تنظیمیں اور بلوچستان میں آزادی کیلئے برسرپیکار مسلح تنظیمیں اس پروجیکٹ کو شروع سے ہی مشکوک اور اپنی نسل کشی کا نیا منصوبہ قرار دے چکے ہیں۔ جس پر سیاسی جماعتیں مذمت اور مسلح تنظیموں کی جانب سے مزاحمت کا سلسلہ شروع دن سے جاری ہے۔ گوادر سے لے کر سی پیک روٹ کے گذرنے والے مختلف راستوں پر فوجی آپریشن کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جو ہنوز شدت کے ساتھ جاری ہے۔ گوادر سے لے کر پسنی، جیونی، اورماڑہ، تربت، مستونگ اور بہت سے بلوچ علاقوں میں خون ریزی کی ایک نئی لہر شروع کی گئی ہے۔ بلوچ لاپتہ افراد کی فہرست دراز ہوتی جارہی ہے۔ مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے، مشرف دور سے اب تک وہ مھٹی بھر فراری روزانہ ہھتیار ڈالتے ہیں روازانہ پانچ فراری کیمپ تباہ کرنے کے آئی ایس پی ار کے دعوئوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ نا جانے ابتک کتنے کیمپ یہ تباہ کرچکے ہیں اور کتنے ہزاروں فراری سرنڈری کروا چکے ہیں لیکن وہی مٹھی بھر افراد ابتک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے اور نا ختم ہونے کا دور دور تک امکان نظر آتا ہے۔
ہر ذی شعور اور سیاست و ریاست کو سمجھنے والا جانتا ہے کہ پاکستان میں داخلہ پالیسی سے لے کر خارجہ پالیسی پر کنڑول فوج کے پاس ہے اور یہ نہ پاکستانی منتخب قومی اسمبلی میں مرتب کی جاتی ہے اور نہ قانون سازی کے ایوان سینٹ میں بلکہ جی ایچ کیو میں کور کمانڈر ہی پاکستانی اندرونی بیرونی پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ جن کی مختلف اوقات پاکستانی ریاست بھاری قیمت بھی ادا کرچکی ہے۔
دوسری جانب گوادر میں چین کی موجودگی امریکہ سمیت انڈیا اور دوسرے چھوٹے بڑے ممالک کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے جہاں کہا جارہا ہے کہ چین بلوچ ساحل پر اپنے عسکری کیمپ یا ملٹری بیس قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ دوسری طرف بلوچ مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والی بلوچ قیادت کی جانب سے گوریلا کاروائیاں تیز کرنے کا اعلان کے بعد سی پیک سے منسلک پلوں اور کام کرنے والی فوجی کنسٹریکشن کمپنی (ایف ڈبلیو او) پر متواتر کئی حملے کیئے جاچکے ہیں۔ جس سے جانی اور مالی نقصانات کی بھی اطلاعات مقامی میڈیا کے ساتھ پاکستانی میڈیا پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
جبکہ امارات حکومت بھی وقتاً فوقتاً گوادر پورٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار زرائع ابلاغ کے زریعے کرچکا ہے۔
قدم قدم پر سیکورٹی کے انتظامات، چیک پوسٹیں، دھماکوں کی آوازیں، ریڈ الرٹ پر کھڑی آرمی اور گوادر شہر و گرد نواح کو جس طرح سے چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ جس دن سے گوادر کو ایک فوجی چھاونی بنادیا گیا اسی دن سے ہی سرمایہ کار یہ سمجھ چکے تھے کہ یہاں سرمایہ کاری کرنے کا مطلب مالی خسارے کے علاوہ کچھ نہیں اور جہاں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات ہوں وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ سیکورٹی خدشات کتنے بڑے پیمانے پر ہونگے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے نئی افغانستان پالیسی کا اعلان جیسے ہی کیا، وہیں پاکستانی ٹاک شوز میں پاکستانی دفاعی اور سیاسی تجزیہ کار دبے لفظوں، یہ اظہار کرتے نظر آئے کہ یہ افغانستان پالیسی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ایک محاذ ہے، جو پہلے سے کھلا ہوا تھا مگر اب اسکا اعلانیہ اظہار کیا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس پالیسی بیان کے بعد جلد ہی بین القوامی فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ نے پاکستان کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا جس میں دہشت گردوں کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں پر گھس کر مارنے کا عندیہ دیا تھا کا خیر مقدم کیا تھا۔
گذشتہ دنوں امریکہ میں قائم پاکستانی حبیب بینک کی نیو یارک برانچ کو بھاری جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ مذکور بینک شدت پسندی کو فروغ دینے میں فنڈنگ کرتی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی عدالت کے زریعے برطرفی کے بعد کوئی وزیر و مشیر سی پیک کا نام تک نہیں لے رہی ہے، جو صحافی پہلے حکومت اور فوج کی زبان بولتے تھے اور جن پاکستانی صحافیوں کو فوج کے نزدیکی جرنلسٹ ہونے کا اعزاز حاصل تھا، انکی طرف سے سی پیک کے خلاف پروپیگنڈہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت پاکستان اور فوجی قیادت یہ بھانپ گئے کہ سی پیک پروجیکٹ کو طول دینے کا مطلب اپنے لیئے ہی تباہی کا پیغام لانا ہے۔ اب اس بات کو سمجھنے کے لیے گزشتہ دنوں راولپنڈی میں سی پیک سے مطلق ریکارڑ رکھنے والے بلڈنگ میں آگ لگ جانا اور پھر ریکارڈ کا جل کر خاکستر ہونا بہت سے اشارے دے رہی ہے۔
چائینا پاکستان اکنامک کوریڈور کی لاش اوندھے منہ پڑی ہے اب جنازے اور دفنانے کا اعلان یا تو چین کی طرف سے ہوگا یا پاکستان کی طرف سے کیا جائے گا یہ دیکھنا باقی ہے۔
This article was first published in The Balochistan Post on 12 September 2017
среда, 6 сентября 2017 г.
بی آر اے کے سینئر رہنما گلزار امام بلوچ
گلزار امام: میں آج یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے کسی مذہبی تنظیم کے ارکان کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا ہے۔ البتہ جو الزامات خدا کے یہ فرشتے مجھ پر لگارہے ہیں، انہی فرشتوں کے ہمنوا طالبان نے ہمارے تنظیم کے دو اہم کمانڈروں سمیت دس بلوچوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ اب ہمارے ان دس ساتھیوں کا جواب کون دیگا؟ میرے نزدیک پاراچنار میں خود کش دھماکے کرنے والا جنداللہ اور اس جنداللہ و جیش العدل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول و پروگرام میں کوئی فرق نہیں۔ یورپ میں بیٹھے ایک لیڈر اور اسکے ساتھ بیٹھے کچھ ہمنواوں کی نظر میں جیش العدل ایک آزادی پسند بلوچ تنظیم ہوسکتا ہے لیکن میں نے ان تنظیموں کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے۔ یہ تنظیم خالصتاً سنی شدت پسند تنظیم ہے جو بلوچ کے نام کو بطور ایک کارڈ استعمال کررہی ہے، جس کی پشت پناہی براہ راست سعودی عرب کی فاشسٹ شاہی حکومت کررہی ہے۔ میں موقع کے مناسبت سے آج ان تنظیموں سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ محض مغربی بلوچستان میں متحرک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پاکستانی خفیہ اداروں سے تعلقات کی نفی کرتے ہیں تو پھر آپ بتائیں کے آج سے قریباً چار سال پہلے آپ نے منشیات فروشوں کے اپیل پر پنجگور کے علاقے تسپ میں ہمارے تنظیم کے ارکان پر مسلح حملہ کیوں کیا؟ اس حملے میں ہمارے دوست اپنا دفاع کرنے اور نکلنے میں تو کامیاب ہوگئے تھے لیکن ہمارے تنظیم کے چھ موٹر سائیکل وہیں پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ موٹر سائیکل آج بھی آپ صاحبان کے پاس ہیں۔ آپ کے مولانا عامر صاحب مجھے ان موٹرسائیکلوں کی حوالگی کیلئے تسپ پنجگور بلانا چاہتے تھے کیونکہ اسکے پیچھے براہ راست کمانڈنٹ پنجگور کا ہاتھ تھا۔ ان حضرات کا مقصد بلوچیت کے نام پر دیوان کرنا اور دوسری طرف ریاست کے ہاتھوں مجھے مارنے کی سازش تھی۔ بقول آپکے کہ ہم تین سالوں سے آپ کیلئے مسئلے پیدا کررہے ہیں تو پھر چار سال پہلے آپ کیا کررہے تھے؟ یورپ میں بیٹھے جن حضرات کے مالی مفادات آپ سے وابستہ ہیں وہ شاید آپ لوگوں کے حقیقیت سے ناواقف ہوں لیکن ہمیں بخوبی علم ہے کہ مغربی بلوچستان کیلئے جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرنے والے ان تنظیموں کے کیمپوں میں شام و اردن کے عرب بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ محض بلوچ تنظیمیں ہیں تو پھر وزیرستان سے آئے ہوئے پٹھان ان کو ٹریننگ دینے کیونکر پہنچتے ہیں۔ مفتی شاہ میر پیدارکی جو سینکڑوں بلوچ نوجوانوں کے شہادت کا ذمہ دار ہے وہ تربت میں آپکے تنظیم کے دیوان میں کن مفادات اور کس حیثیت سے بیٹھتا ہے؟ بہر حال میرے نزدیک اس کالے جھنڈے والے جیش العدل اور کالے جھنڈے والے داعش میں کوئی بھی فرق نہیں۔ یہ دونوں ہی مذہبی جنونی تنظیمیں ہیں جو پاکستانی خفیہ اداروں کی ایماء پر لشکر طیبہ کے ٹریننگ کیمپوں میں ٹریننگ لیکر بلوچیت کے نام پر ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
вторник, 5 сентября 2017 г.
بی آر اے کے سینئر رہنما گلزار امام بلوچ کے ساتھ ایک خصوصی نشست
گلزار امام بلوچ کا تعلق بلوچستان کے علاقے پنجگور سے ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بطورایک طالبعلم طلبہ تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔ وہ بی ایس او آزاد پنجگور زون کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ بعد ازاں جب سیاسی کارکنوں پر ریاستی کریک ڈاون شروع ہوگئی اور شہروں میں رہ کر پر امن سیاسی جدوجہد نا ممکن ہوگیا، تو انہوں نے سیاست سے کنارہ کش ہونے کے بجائے اپنے جدوجہد کا طریقہ کار بدل کر مسلح مزاحمت کا راستہ چنا اور مسلح مزاحمتی تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا حصہ بن گئے اور بہت جلد اپنے مخلصی اور ذہانت سے وہ بی آر اے کے اہم کمانڈروں میں شمار ہونے لگے ۔ بلوچستان کے علاقے مکران میں بلوچ ریپبلکن آرمی کو منظم کرنے میں انکا ایک اہم کردار ہے۔ اب وہ بی آر اے مکران کے کمانڈر کے حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں دی بلوچستان پوسٹ تربت کے نامہ نگار نے ان سے ایک نامعلوم مقام پر ملاقات کی اور موجودہ حالات کے بابت انکا انٹرویو لیا جو قارئین کے خدمت میں پیش ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ:آپ ایک پرامن سیاسی کارکن کے حیثیت سے جانے جاتے تھے، کیا وجہ ہے کہ آپ نے پر امن سیاست پر مسلح مزاحمت کو ترجیح دی؟
گلزار امام: میں بنیادی طور پر ایک سیاسی ورکر ہوں اور میں نے ہمیشہ سے ہی بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں مسلح جدوجہد سے زیادہ سیاسی جدوجہد کو اولیت دی ہے، لیکن ریاست نے مسلح جدوجہد سے زیادہ سیاسی جدوجہد کو زھرِ قاتل سمجھا اور سیاسی جدوجہد کے تمام دروازے بند کردیئے۔ بلوچ آزادی پسند پر امن سیاسی کارکنوں کے خلاف بد ترین کریک ڈاون کا آغاز کردیا گیا اور اس دوران ہمارے سینکڑوں سیاسی دوستوں اور رفقاء کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔حالات ایسے ہوگئے کے سرفیس پر رہ کر کوئی بھی سیاسی سرگرمی کرنا گولیاں چلانے سے کئی گنا زیادہ مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا۔ ان حالات کی وجہ سے میں نے اپنے عظیم سیاسی استاد سنگت ثناء بلوچ سے مشورہ کیا۔ ان کے صلاح و مشورے سے میں نے مسلح مزاحمت کا راستہ اپنایا جو تاحال جاری ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ : کیا بلوچ آزادی پسند سیاست میں اب واحد راستہ بندوق کا رہ چکا ہے یا اب تک عدم تشدد کا راستہ باقی ہے؟
گلزار امام: بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں میں موجود بندوق بھی شعور اور سیاسی علم کا تابع ہے اور اسی موجود بندوق کی طاقت نے پاکستان کی کمر توڑ دی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار اور پاکستان جس ملی بھگت سے بلوچ وطن میں لوٹ مار کررہے ہیں اب وہ عدم تحفظ کا شکار ہوگئےہیں۔ اب بیرونی سرمایہ کار یہاں سے بھاگ رہے ہیں۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تیل کی تلاش کرنے والے جن بڑی کمپنیوں نے گذشتہ ماہ عدم تحفظ کے بنا پر اپنے کام بند کرنے اور پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ان کمپنیوں میں سے دو کمپنیاں بلوچستان کے علاقے اورماڑہ اور ڈیرہ بگٹی میں بھی موجود تھیں اور تیل و گیس کے تلاش کا کام کررہے تھے ان کمپنیوں پر بلوچ ریپبلکن آرمی کے سرمچاروں نے متعدد حملے کیئے تھے۔ پر امن اور عدم تشدد کی سیاست صرف ان مہذب ممالک میں ممکن ہے جہاں ریاست انسانی جان و عزت کی قدر جانتی ہو۔ جہاں انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی پاسداری ہو۔ سیاسی کارکنوں کو سیاسی آزادی حاصل ہو، لیکن پاکستان جیسے ملک میں پر امن سیاسی جدوجہد کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بہر حال ہم بلوچستان میں جس بھی جدوجہد کا قائل ہوں، وہ عدم تشدد کی سیاست ہو یا پھر مسلح جدوجہد جب مقصد بلوچ وطن کی آزادی ہو تو پھر ریاست دونوں کو یکساں طور پر ہی کریش کریگا لیکن جب بندوق ہاتھ میں ہوگی تو آپ کم از کم اپنا دفاع تو کرسکتے ہو۔
دی بلوچستان پوسٹ:بلوچ سیاسی حلقوں میں یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ بی آر اے میں اب تک قبائلی اثر و رسوخ کی چھاپ باقی ہے، ایسے حالت میں آپ بی آر اے کا غیر قبائلی چہرہ ظاہر ہوتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ آپ نے جہدوجہد کیلے بی آر اے کا ہی پلیٹ فارم چنا؟
گلزار امام: بلوچ قومی جدوجہد کو طبقوں میں تقسیم کرنا بلوچ قومی آزادی کی جنگ کیلئے ایک المیہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مکران کے علاوہ بلوچستان کے اکثریتی خطے قبائلی و نیم قبائلی علاقوں پر مشتمل ہیں۔ آپ بلوچستان اور بلوچ تحریک آزادی میں قبائل کے کردار سے ہر گز انکار نہیں کرسکتے۔ بقولِ ماسٹر سلیم اہم چیز رویہ ہے اور یہی میرے نزدیک اہمیت رکھتا ہے۔ اگر قبائلی پس منظر رکھنے والے لیڈر یا کیڈر کا رویہ ایک سچے سیاسی کارکن جیسا ہے تو یہاں پس منظر اہمیت نہیں رکھتی اور اگر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے کسی لیڈر یا کیڈر کا رویہ اختیار ملنے کے بعدکسی سردار، میرو منسٹر کی طرح بن جائے تو پھر آپ کیا کہیں گے کون بہتر ہے؟ جہاں تک بی آر اے کا تعلق ہے تو اسکے اکثریتی سرمچار آپکے اور میرے جیسے عام بلوچ ہیں جو پورے بلوچستان میں وطن کی آزادی کے خاطر لڑرہے ہیں۔ وہ کوئی قبائلی علاقے کی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے آزادی کی خاطر جدجہد کررہے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں شہید نواب اکبر خان بگٹی کے مزاحمتی نظریات و افکار اور انکے لازوال قربانی سے متاثر ہوں اور انکے سیاسی فلسفے کا قائل ہوں۔ بلوچ ریپبلکن آرمی کا قیام بھی شہید اکبر خان بگٹی کے نظریات و افکار کے بنیاد پر ہوا تو فکری ہم آہنگی کے بنیاد پر میں نے جدوجہد کیلئے بی آر اے کا چناو کیا۔ میرے نزدیک کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے بلوچ کو جو اب مزاحمتی یا سیاسی عمل کا حصہ بن چکا ہے، اسے خاندانی پس منظر نہیں بلکہ انہیں تنظیم و ادارہ اور مظبوط ڈسپلن قومی تحریک کا پابند بناتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس وقت بلوچستان کی آزادی کی جنگ میں کئی مسلح جماعتیں سرگرم عمل ہیں، جو ایک طریقہ کار اور مقصد رکھنے کے باوجود خود ایک نہیں ہوسکتے، اس تقسیم و تضاد کی وجہ کیا ہے؟
گلزار امام: یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بلوچ عسکری قوت ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے سبب وہ قوت حاصل نہیں کرپائی جو وہ متحد ہوکر حاصل کرپاتی۔ اس میں ذاتی پسند و ناپسند، بلوچی ضد و انا، خود پرستی، عدم خود شناسی اور عدم بھروسہ جیسے وجوہات کارفرما ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ ہم متحد ہونے سے کتراتے ہیں۔ میری ذاتی تجویز اور سوچ یہ ہے کہ تمام مزاحمتی تنظیمیں اپنی اپنی تنظیمی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مشترکہ مزاحمتی فرنٹ تشکیل دیں ۔ جس میں تمام مزاحمتی تنظیمیں حتیٰ کے نومولود تنظیم بلوچ ریپبلکن گارڈ تک شامل ہو۔ یوں ہم ایک مضبوط قوت تشکیل دینے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: کیا آپ کو لگتا ہیکہ بلوچ آزادی پسند قوتیں مستقبل میں اتحاد کی طرف جاسکتے ہیں؟
گلزار امام: اگر ہر بلوچ لیڈر کے مفادات گروہی و ذاتی سے بالاتر ہوکر قومی بن جائیں تو پھر اتحاد میں بھلا کونسی چیز رکاوٹ ہوسکتا ہے یا ہوگا؟ میرے نزدیک بلوچ قوم میں ایک ایسے قومی لیڈر کا فقدان ہے جو اپنے گروہ کی سیاست سے بالاتر ہوتے ہوئے قومی مفادات کو زیادہ ترجیح دیتا ہو۔ سیاسی اتحاد کی صورت میں ہر ایک کو اپنے پیش امامی کی اہمیت کے کمی کے غم نے نڈھال کردیا ہے۔ بہرحال میں پر امید ہوں کہ عالمی حالات کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے ذمینی حالات کے تقاضوں کا اداراک رکھتے ہوئے ہمارے گروہ لیڈران قومی اتحاد کی جانب گامزن ہونگے۔
دی بلوچستان پوسٹ:اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچوں کو عالمی دوستوں کی ضرورت ہے لیکن آپ پر الزام ہیکہ آپ عالمی دوستوں کی تلاش میں مغربی بلوچستان کو بھول چکے ہیں اور اس خطے میں قابض ایران سے سمجھوتہ کر بیٹھے ہیں، اس میں کتنی صداقت ہے؟
گلزار امام: بلوچ چاہے مغربی بلوچستان میں ہوں یا مشرقی بلوچستان ان سب کا دکھ درد ہم یکساں طور پر محسوس کرتے ہیں۔ سب کیلئے میرا دل ہر وقت یکساں خون کے آنسو روتا ہے اور میں تمام بلوچوں کےلئے جدوجہد کررہا ہوں چاہے وہ مغربی بلوچستان کے ہوں یا مشرقی بلوچستان کے۔ میرا ایران کے ساتھ تعلقات کے الزامات محض لغو ہیں جن کا ذمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں البتہ مشرقی بلوچستان میں پاکستانی ظلم و بربریت سے تنگ آکر پچاس ہزار سے زائد بلوچ مرد، خواتین و بچے ہجرت کرکے مغربی بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں وہاں کے عام بلوچوں کے گھر بلوچیت و انسانی ہمدردی کے بنیاد پر پناہ لیئے ہوئے ہیں۔ اگر یورپ میں بیٹھے ہوئے کسی حضرت کو ان بلوچ مہاجرین کا ایران میں موجودگی پر کوئی اعتراض ہے اور وہ اس تعلق کو ایرانی ایجنٹ گری سے تعبیر کرتا ہے تو وہ ان بلوچ مہاجرین کیلئے کوئی دوسرا حل نکالے پھر یہ تمام مہاجرین ایران سے دوسری جگہ منتقل ہوجائیں گے۔
دی بلوچستان پوسٹ:ایرانی حکومت کے خلاف سرگرم عمل مذہبی تنظیم جیش العدل نے اپنے ایک حالیہ بیان میں بی آر اے، بی ایل ایف اور بالخصوص آپ پر الزام لگایا ہے کہ آپ نے انکے جنگجو گرفتار کرکے ایران کے حوالے کردیئے ہیں اور ان پر دو مرتبہ حملے کیئے ہیں۔ آپ اس بابت کیا کہنا چاہیں گے؟
گلزار امام: میں آج یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے کسی مذہبی تنظیم کے ارکان کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا ہے۔ البتہ جو الزامات خدا کے یہ فرشتے مجھ پر لگارہے ہیں، انہی فرشتوں کے ہمنوا طالبان نے ہمارے تنظیم کے دو اہم کمانڈروں سمیت دس بلوچوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ اب ہمارے ان دس ساتھیوں کا جواب کون دیگا؟ میرے نزدیک پاراچنار میں خود کش دھماکے کرنے والا جنداللہ اور اس جنداللہ و جیش العدل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول و پروگرام میں کوئی فرق نہیں۔ یورپ میں بیٹھے ایک لیڈر اور اسکے ساتھ بیٹھے کچھ ہمنواوں کی نظر میں جیش العدل ایک آزادی پسند بلوچ تنظیم ہوسکتا ہے لیکن میں نے ان تنظیموں کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے۔ یہ تنظیم خالصتاً سنی شدت پسند تنظیم ہے جو بلوچ کے نام کو بطور ایک کارڈ استعمال کررہی ہے، جس کی پشت پناہی براہ راست سعودی عرب کی فاشسٹ شاہی حکومت کررہی ہے۔ میں موقع کے مناسبت سے آج ان تنظیموں سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ محض مغربی بلوچستان میں متحرک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پاکستانی خفیہ اداروں سے تعلقات کی نفی کرتے ہیں تو پھر آپ بتائیں کے آج سے قریباً چار سال پہلے آپ نے منشیات فروشوں کے اپیل پر پنجگور کے علاقے تسپ میں ہمارے تنظیم کے ارکان پر مسلح حملہ کیوں کیا؟ اس حملے میں ہمارے دوست اپنا دفاع کرنے اور نکلنے میں تو کامیاب ہوگئے تھے لیکن ہمارے تنظیم کے چھ موٹر سائیکل وہیں پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ موٹر سائیکل آج بھی آپ صاحبان کے پاس ہیں۔ آپ کے مولانا عامر صاحب مجھے ان موٹرسائیکلوں کی حوالگی کیلئے تسپ پنجگور بلانا چاہتے تھے کیونکہ اسکے پیچھے براہ راست کمانڈنٹ پنجگور کا ہاتھ تھا۔ ان حضرات کا مقصد بلوچیت کے نام پر دیوان کرنا اور دوسری طرف ریاست کے ہاتھوں مجھے مارنے کی سازش تھی۔ بقول آپکے کہ ہم تین سالوں سے آپ کیلئے مسئلے پیدا کررہے ہیں تو پھر چار سال پہلے آپ کیا کررہے تھے؟ یورپ میں بیٹھے جن حضرات کے مالی مفادات آپ سے وابستہ ہیں وہ شاید آپ لوگوں کے حقیقیت سے ناواقف ہوں لیکن ہمیں بخوبی علم ہے کہ مغربی بلوچستان کیلئے جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرنے والے ان تنظیموں کے کیمپوں میں شام و اردن کے عرب بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ محض بلوچ تنظیمیں ہیں تو پھر وزیرستان سے آئے ہوئے پٹھان ان کو ٹریننگ دینے کیونکر پہنچتے ہیں۔ مفتی شاہ میر پیدارکی جو سینکڑوں بلوچ نوجوانوں کے شہادت کا ذمہ دار ہے وہ تربت میں آپکے تنظیم کے دیوان میں کن مفادات اور کس حیثیت سے بیٹھتا ہے؟ بہر حال میرے نزدیک اس کالے جھنڈے والے جیش العدل اور کالے جھنڈے والے داعش میں کوئی بھی فرق نہیں۔ یہ دونوں ہی مذہبی جنونی تنظیمیں ہیں جو پاکستانی خفیہ اداروں کی ایماء پر لشکر طیبہ کے ٹریننگ کیمپوں میں ٹریننگ لیکر بلوچیت کے نام پر ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ:سی پیک کو آپ بلوچ کے بقا و خوشحالی کے تناظر میں کیسے دیکھتے ہیں؟
گلزار امام: مستقبل میں پاکستان کے معاشی بقا کا انحصار مکمل طور پر بیرونی سرمایہ داری سے ہی وابستہ رہے گا۔ سرمایہ کاری کے تمام ذرائع بلوچ وطن میں موجود ہیں۔ بلوچ وطن جیو اسٹریٹیجک حوالے سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دوسرے اہم قوتوں کیلئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے حالات میں بلوچ ساحل و وسائل نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر سامراجی ممالک سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ سی پیک ہو یا سیندک پروجیکٹ یا کوئی بھی اور میگا پروجیکٹ، میرے نزدیک یہ سب پاکستان پنجابی کے معاشی مفادات کیلئے عالمی منڈیوں میں بلوچستان کو نیلام کرنا ہے۔ جب تک بلوچ خود آزاد نہیں ہوتا اور اپنے وسائل اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا تب تک بلوچ کسی بھی پروجیکٹ سے خوشحال نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک سی پیک کا تعلق ہے تو اس سے اب تک ہمیں جلے ہوئے گھر، کھنڈرات میں تبدیل ہوئے گاؤں اور مسخ شدہ لاشوں کے انبار ہی نصیب ہوئے ہیں۔ ان سے بلوچ کی خوشحالی اور بقا کی امیدیں لگانے والے دھوکے میں ہیں۔ سی پیک سے محض پاکستانی جنرل خوشحال ہونگے اور انکی آرمی مضبوط ہوگی کیونکہ سارے ٹھیکے انکے ہاتھوں میں ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ:کیا بلوچ میں اتنی قوت ہیکہ وہ بلوچ سرزمیں پر جاری سی پیک اور دوسری عالمی صف بندیوں کے سامنے رکاوٹ بن سکے یا انھیں روک سکے؟
گلزار امام: جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ رہا تھا کہ بلوچ مزاحمت کی وجہ سے پہلے سے ہی عدم تحفظ کے بنا پر بلوچستان سے غیر ملکی سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور جو بچے ہوئے ہیں وہ بھی سخت فوجی حصاروں کے اندر جان جوکھوں میں ڈالتے ہوئے بیٹھے ہیں اور بھاگنے کے موقعے تلاش رہے ہیں۔ اس وجہ سے بہت سے پروجیکٹ یا تو بند ہوچکے ہیں یا سست روی کا شکار ہیں۔ جہاں تک سی پیک کا تعلق ہے اس سامراجی منصوبے کے خلاف بلوچ سخت مزاحمت کررہے ہیں۔ شاید بے دریغ کشت و خون سے پاکستانی فوج سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچا بھی دے لیکن بلوچ وطن میں بلوچ مرضی کے بغیر امن کا ضامن کون بن سکتا ہے؟ بلوچ اس وقت دو سامراجی قوتوں چین اور پاکستان سے بیک وقت لڑ رہے ہیں اور میں کہوں گا کہ ہم یہ لڑائی جیت رہے ہیں کیونکہ سرمایہ دار سیکیورٹی کے مخدوش صورتحال کے سبب بلوچستان میں سرمایہ کاری سے انکاری ہیں۔ چین بھی اس خطے میں امن نا ہونے کے سبب اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔ بہر حال ہمیں مزید صف بندیوں کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اس نام نہاد سی پیک کو کامیاب بنانے کیلئے بلوچوں کو مکمل طور پر کچلنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ:کیا وجہ ہے کہ اتنی قربانیوں کے باوجود بلوچ تحریک اتنی پزیرائی حاصل نہ کر پائی جتنا کہ یہ حقدار ہے، کیا یہ بلوچ سفارتکاری کی ناکامی ہے کہ بلوچ خود کو ایک فیصلہ کن قوت ثابت نہ کرسکے؟
گلزار امام: میں بہرحال سیاسی دوستوں کی بیرون ملک سیاسی جدوجہد اور سفارتکار ی کو کسی حد تک تسلیم کرونگا کہ منتشر ہی سہی لیکن کچھ کررہے ہیں۔ گو کہ دنیا کے سامنے ہم خود کو ایک قوت ثابت نہیں کرسکے لیکن ہم دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ ہم پاکستانی غلامی کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنے وطن کے آزادی کیلئے لڑرہے ہیں، لیکن دنیا عسکری قوت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہم اب تک عسکری حوالے سے کمزور ہیں۔ ہمارا موثر ترین ہتھیار کل بھی آر پی جی سیون تھا اور آج بھی وہی ہے ۔ ہمیں ایک فیصلہ کن عسکری قوت بننے کیلئے مزید محنت کرنا ہوگا۔
دی بلوچستان پوسٹ:ایک عام خیال یہ سامنے آرہا ہے کہ پاکستانی ریاست اپنے قوت سے بلوچ تحریک پر حاوی ہورہا ہے اور بلوچ طاقت منتشر ہورہی ہے اس میں کتنی صداقت ہے ؟
گلزار امام: یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عوام کے اندر سے اٹھنے والی حقیقی تحریکیں کبھی ریاستی طاقت کے ذریعے منتشر نہیں ہوئے اور نہ ہی ہم منتشر ہونگے۔ ہاں حالیہ دنوں میں کچھ لوگ تحریک کے صفوں سے جدا ہوکر ریاست کے سامنے سجدہ ریز ہوکر گھر بیٹھ گئےہیں۔ جن کے انتہائی قلیل تعداد کو ریاست نے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ تحریک ایک تتقیری عمل ہے۔ اس میں فکر و نظریہ سے عاری جذباتی لوگ دباؤ کے بعد الگ ہوتے رہتے ہیں اور نیا خون نئے ولولے کے ساتھ شامل ہوتا رہتا ہے۔ کوئی اگر اسکو تحریکی انتشار سے تعبیر کرتا ہے تو پھر وہ انکی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ:آنے والے پانچ سالوں کو بلوچ و بلوچ تحریک کیلے انتہائی اہم گردانا جارہا ہے ، آپ ان پانچ سالوں کے بعد تحریک کو کہاں دیکھتے ہیں؟
گلزار امام: میری نظر میں ان سالوں میں ہماری ذمہ داری ہے کہ گراؤنڈ پر موجود سیاسی خلاء کو پر کریں۔ ہمارے لیڈرشپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ریاستی بربریت کے باوجود بلوچستان کے گراؤنڈ خاص کر شہری علاقوں میں بلوچ عوام سے رابطے تیز کریں اور رابطوں کے مسقتل ذرائع تشکیل دیں۔ اس وقت ریاست ہمیں اپنے عوام سے دور رکھ کر اپنے پالیسیاں ان پر تھونپنا چاہتا ہے اور اپنے پروپگینڈہ سے انہیں تحریک سے دور کرنا چاہتا ہے۔ عوام ریاستی بربریت کے باوجود آزادی پسند پارٹیوں سے روابط میں رہنا چاہتی ہے۔ اس بابت بلوچ آزادی پسند گروہوں کو انقلابی فیصلے کرنے ہونگے تاکہ دنیا ہمیں سیاسی و عسکری کمک مہیا کرے۔ ہمیں آنے والے سالوں میں اپنے عسکری قوت میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ ہمیں ایک طاقت بن کر دشمن کو مجبورکرنا پڑے گا کہ وہ بلوچستان سے دستبردار ہوجائے۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ ایک کیسے آزاد بلوچستان کیلے لڑرہے ہیں؟
گلزار امام: میں ایک ایسے آزاد بلوچستان کیلئے لڑ رہا ہوں جہاں کا حکمران بھی وطن کے سڑکوں کو صاف کرنے میں فخر محسوس کرے۔ ایک ایسا وطن جہاں سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف و آزادی ہو۔ جہاں کرپشن کو غداری تصور کیا جائے۔ جہاں تمام بلوچ برابری کے ساتھ خوشحالی کی زندگی گذاریں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس جنگ کا منطقی انجام آپ کے نظر میں کیا ہے؟
گلزار امام: میرے نزدیک اس جنگ کا منطقی انجام اس خطے میں ایک آزاد بلوچ وطن سے کم کچھ بھی نہیں ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: بلوچ قوم کے نام کوئی پیغام؟
گلزار امام: میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستانی سازشوں کا شکار نہ بنیں اور آزاد بلوچستان کے حصول کے اس جنگ میں وہ اپنی وابستگی مزید مضبوط کریں۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ کا بہت شکریہ کے آپ نے ہم سے بات کرنے کی حامی بھری اور ہمارے قارئین کے سامنے اپنا نقطہ نظر واضح انداز میں رکھا۔
Подписаться на:
Сообщения (Atom)








