Powered By Blogger

суббота, 9 апреля 2016 г.

جی ایم بلوچ: میرے ماموں اور ناقابل شکست حریف

تحریر : ساجد حسین
ہم تقریبا ہر روز لڑے۔ سیاست پر۔ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا ایک نوجوان رکن تھا اور وہ ایک تجربہ کار بلوچ قوم پرست رہنما اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے بانی تھے۔ لیکن انہوں نے میرے کتابی خیالات کو ایک نوجوان کے یوٹوپیا طور پر کبھی مسترد نہیں کیا۔ اگرچہ، وہ شاذ و نادر ہی مجھ سے اتفاق کرتے، میں جو بات کہتا وہ اسے ہمیشہ سنتے تھے اور پھر ایک سگریٹ جلاتے جس سے انہیں اپنا جوابی دلیل دینے کیلئے تیار ہونے میں وقت ملتا۔
کبھی کبھار ہماری تکرار نہایت اونچی آواز کو پہنچ جاتی تو میری والدہ، ان کی بہن، ہمارے درمیان اپنا دوپٹہ ڈال دیتی، ایک بلوچ روایت کہ میدان جنگ میں جب ایک عورت ایسا کرتی ہے تو مرد اسکے احترام میں تلوار زنی روک دیتے ہیں۔
ہمارے سیاسی مقاصد مختلف نہیں تھے۔ ہم سیاسی ساتھی تھے۔ ہماری تنظیمیں ایک آزاد بلوچستان کیلئے جدوجہد کر رہی تھیں اور ایک باقاعدہ اتحاد میں تھیں۔ لیکن ہمیں حکمت عملی پر اختلاف تھا۔
وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ وہ کراچی پریس کلب کے سامنے ریلیوں میں علیحدگی پسند بلوچ عسکریت پسندوں کی حمایت کرتے۔ ایک مرتبہ، جب موجودہ بلوچ شورش زور پکڑ رہی تھی، تو انہوں نے اپنے آبائی قصبے مند میں نیم فوجی چوکیوں کیخلاف ایک احتجاج کی قیادت کی۔ ان پر ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں۔ لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ آخر کار، ایف سی کمانڈر نے ان کو پیشکش کی کہ اگر وہ ان لوگوں کے نام انہیں دے دیں جو مسلح افواج پر حملے کر رہے ہیں تو چوکیاں ہٹا دی جائیں گی۔ انہوں نے جواب میں کیا کہا؟
”آپ ان کے نام جاننا چاہتے ہو؟ وہ میں ہوں، اور میرا نام غلام محمد ولد محمد ایوب ہے۔ جی ہاں، وہ راکٹ میں نے آپ کے کیمپ پر داغے تھے۔ میں آپ کے قافلوں پر گھات لگا کرحملہ کرتا ہوں۔ جب کبھی بھی آپ اپنے کیمپ سے باہر قدم رکھتے ہو تو وہ میں ہوں جو آپ لوگوں پر فائرنگ کرتا ہے۔ یہ میں ہوں۔ اب آپ میرے ساتھ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں کریں اور چوکیاں ہٹادیں۔“
ہجوم نے خوشی سے نعرے لگائے۔ اور چوکیوں کو اسی روز بعد میں ہٹا دیا گیا۔
میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کی اس کھلی حمایت کے خلاف تھا۔ ہمیں بہت سی چیزوں پر اختلاف تھا، لیکن ہمارے اختلاف کی جڑ یہی تھی۔ میری دلیل یہ تھی کہ ہم سیاسی گروہ ہیں اور ظاہری سطح پر کام کرتے ہیں۔ ہمارا بنیادی مقصد عام بلوچوں کو متحرک کرنے کا ہے تاکہ ہم اپنے نصب العین کیلئے عوامی حمایت حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ، مسلح گروہوں کی کھل کر حمایت کرنے سے فوجی اسٹابلشمنٹ برہم ہوگی اور وہ ہمیں ہمارا کام کرنے نہیں دے گی۔
لیکن ایک مرتبہ، جب وہ لیاری کراچی میں بی ایس او اور بی این ایم کے مشترکہ طور پر زیر اہتمام ایک عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے تو میں ہجوم میں موجود تھا۔ جیسے ہی انہوں نے بولنا شروع کیا تو میں نے اپنے اندر کے محتاط شخص کو کھونا شروع کیا۔ ان کی شعلہ بیانی نہایت سحر انگیز تھی اور میں آہستہ آہستہ اس ہجوم کا حصہ بن گیا جو انکے ہر لفظ پر نعرہءتحسین بلند کررہا تھا۔
لیکن جب ہم گھر واپس آئے تو ہم نے جھگڑا کیا۔ ”آپ نے پہلے ہی سے فوج کو برہم کیا ہوا ہے۔ آج آپ نے ایم کیو ایم (ایک سیاسی گروہ جو اپنے مخالفین کیخلاف تشدد کے ذریعے کراچی پر حکومت کرتی ہے) کیخلاف بات کی۔ وہ بھی اردو میں تاکہ وہ سمجھ سکیں۔ آپ مزید دشمن بنا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو کراچی میں آپ کو جان سے مار نے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔“
انہوں نے اپنی دودھ پتی چائے کی چسکی لی، ایک سگریٹ جلائی، اپنا پہلو بدلا اور مسکرائے۔ ”وہ (ایم کیو ایم) ہمارے کارکنوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ وہ کراچی (دو کروڑ کی آبادی والے ساحلی شہر کراچی میں بلوچ ایک اہم نسلی گروہ ہیں) میں بلوچوں کی طاقت آگاہ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ بلوچ سیاسی طور پر منظم ہوں۔ میں صرف ان کو ایک پیغام بھیجنا چاہتا تھا کہ ہم اپنے لوگوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں،“ انہوں نے اپنی چائے کا آخری قطرہ پیا اور اپنا سگریٹ پھونکا۔
ایم کیو ایم نے ہمارے ساتھیوں کے ایک دفتر کے سامنے ہوائی فائرنگ کی تاکہ کراچی میں انہیں کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی سے باز رکھیں۔ ایم کیو ایم کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے جو کچھ چیئرمین (بلوچوں میں وہ اس نام سے جانے جاتے ہیں) نے اس جلسہ عام میں کہا تھا وہ انتہائی پروقار تھا۔ ”اگر آپ کے پاس گولیاں ہیں، تو ہمارے پاس راکٹ ہیں۔“ پہلے انہوں نے یہ الفاظ بلوچی میں کہے۔ پھر انہوں نے مزید کہا: ”بالفرض اگر آپ کی سمجھ میں نہیں آیا ہے تو مجھے اردو میں اسے دہرانے دیں۔“
میں انہیں لاپرواہ کہتا تھا۔ انکے پیروکار انہیں نڈر کہتے تھے۔ لاپرواہی اور نڈر ہونے کے درمیان ایک لکیر کھینچنا مشکل ہے لیکن میں نے ان کے چہرے پر کبھی خوف نہیں دیکھا۔ فوجی اسٹابلشمنٹ کو ان کی صلاحیت کے بارے میں علم تھا کہ وہ محض اپنے الفاظ سے بلوچ نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں۔
جاسوسوں کی طرف سے ان کا پیچھا کیا جا رہا تھا۔ ان میں سے چند کو وہ شکل سے پہچانتے تھے۔ وہ اپنے راستوں کو تبدیل کرکے اور مختلف مقامات پر قیام کرکے ان کو الجھانے کی کوشش کرتے۔ وہ جانتے تھے کہ جلد ہی انہیں اٹھایا جا ئے گا کیونکہ فوج نے کافی وقت پہلے سے ہی بلوچ کارکنوں کو ”غائب“ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور وہ ان کے رہنما تھے۔ لیکن وہ اب بھی عوامی اجتماعات میں تقاریر کرتے اور کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لے رہے تھے۔
اس دن ایک عوامی اجتماع تھا۔ 3 دسمبر2006 کو۔ انہوں نے نہایا دھویا، کپڑے تبدیل کیے، اپنے بالوں میں تیل ڈالا اور گھر سے نکلتے وقت مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نہیں آرہے؟“ جس طرح سے بلوچ اپنے سیاسی معاملات چلارہے تھے، میں اس سے مایوس تھا اور بالکل اس موڈ میں نہیں تھا ”نہیں،“ میں نے جواب دیا۔ اور وہ چلے گئے۔
”کیوں تم اور تمہارے ماموں ہمیشہ لڑتے رہتے ہو؟“ ان کی اہلیہ نے مجھے ڈانٹتے ہوئے لہجے میں کہا۔
”آپ کے خاوند خود کو مصیبت میں ڈالنے جا رہے ہیں۔ اور وہ ہمیشہ دوسروں کے سامنے میرے اور میرے دوستوں کیخلاف بولتے ہیں،“ میں نے شکایت کی۔
”نہیں۔ یہ جھوٹ ہے۔ وہ کبھی بھی تمہارے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتے۔ جی ہاں، وہ تمہارے کچھ دوستوں کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کو نہیں چھپاتے ہیں لیکن کب اور کہاں انہوں نے تمہارے خلاف بات کی ہے؟“
اور بحث جاری رہی۔ ہم اب بھی بات کر رہے تھے کہ انہیں ایک فون کال موصول ہوئی۔ وہ تھوڑی دیر کیلئے ایک مورتی کی طرح بیٹھی رہیں، اور پھر کہا: ”وہ انہیں اٹھاکر لے گئے ہیں۔“
بغیر کچھ کہے، میں گھر سے باہر بھاگا۔ باہر بارش ہو رہی تھی اور میرے پاس لیاری جانے کیلئے کسی بس یا رکشہ کے کرایے کیلئے پیسے نہیں تھے تاکہ اس بارے میں جاکر معلومات کروں کہ کیا ہوا تھا۔ میں بارش میں دو کلومیٹر تک چل کر ایک دوست، ان دوستوں میں سے ایک جنہیں وہ ناپسند تھے، کے گھر گیا اور کچھ پیسے ادھار لیے۔
اور میں نے نو ماہ تک اپنی بھاگ دوڑ جاری رکھی۔ ایک عدالت سے دوسرے تک۔ ایک وکیل کے دفتر سے دوسرے تک۔ کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر سے پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے دفتر تک۔ ہمیں ان کے اتے پتے کے بارے میں کوئی سراغ نہیں ملا۔
مورخہ 20 ستمبر 2007ء کو میں ایک مسافر بس پر اسلام آباد کے قریب پہنچ رہا تھا جہاں ان کے کیس کے حوالے سے اگلے روز مجھے سپریم کورٹ کی سماعت میں حاضر ہونا تھا۔ میں نے اس سفر کیلئے اپنے ایک دوست سے 4,000 روپے ادھار لیے تھے جو کہ میں نے ابھی تک واپس نہیں کیے۔ اسلام آباد پہنچے کو چند کلومیٹر رہ گئے تھے، مجھے ایک ٹیکسٹ پیغام موصول ہوا کہ فوج نے انہیں سبی، مرکزی بلوچستان میں ایک ضلع، میں پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
اس طرح کی افواہیں کافی عرصے سے گردش کر رہی تھیں۔ تو میں اس پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ پھر مجھے ایک نامعلوم نمبر سے ایک کال موصول ہوئی۔ یہ ان کی جماعت کے ایک رکن کی طرف سے تھا۔ خبر کے بارے میں سن کر ان کے ساتھی سبی تھانے میں جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک سے مجھے فون کرنے کو کہا تھا۔
”تم اپنے ماموں سے بات کرنا چاہتے ہو،“ کال کرنے والے نے کہا۔
میں تذبذب میں تھا کہ کیا کہوں۔ فون کرنے والا آئی ایس آئی کا بندہ ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر میں نے ان کی آواز سنی۔”ہاں یار۔ واپس آ جاو۔“ کسی نے، شاید ان کی اہلیہ نے، ان سے کہا تھا کہ میں اسلام آباد جارہا ہوں۔
انہیں اگلے روز انکے آبائی ضلعے کے تربت جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ اور پھر چند روز بعد رہا کیا گیا۔ بلوچستان کے ہر شہر سے سب انکا خیر مقدم کرنے گئے تھے۔ میں نہیں گیا۔ وہ ایک بار پھر میرے سیاسی حریف تھے۔
اپنی رہائی کے فوری بعد انہوں نے شعلہ بیان تقریریں کرنا شروع کر دیں، کہ اگر پاکستان انہیں خاموش کرنا چاہتا ہے تو ہمت کرکے انہیں جان سے مار دے۔
کچھ دنوں بعد جب وہ علاج، چونکہ حراست کے دوران انہیں بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، کیلئے کراچی آئے تو ہمارے جھگڑوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ وہ وہی شخص تھے ماسوائے اسکے کہ انکے بال چھوٹے تھے جو ان کے اذیت رسانوں نے کاٹ دیے تھے۔ اس کے علاوہ، ان کے چہرے پر گوشت نام کی کوئی چیز نہیں بچی تھی۔ ان کے پہلے ہی لمبے کان مزید لمبے لگ رہے تھے۔ اب وہ اپنے قمیض کی سامنے والی جیب میں بج رہے اپنے سیل فون کی گھنٹی تک نہیں سن سکتے تھے۔
”وہ میرے سر کے گرد کچھ لپیٹ دیتے اور اس سے کچھ گزارتے تھے، مجھے لگتا ہے کہ وہ بجلی کا کرنٹ تھا،“ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، جب میں نے عقوبت خانوں میں گزارے گئے ان کی سخت آزمائش کے بارے میں پوچھا۔ دوسروں کے برعکس، جنہوں نے فوجی عقوبت خانوں کی تاریکیوں کو دیکھا تھا، وہ خود پر کیے گئے ذہنی اور جسمانی تشدد کی نہ ختم ہونے والی رونگٹے کھڑے کردینی والی کہانیاں سنائیں گے، لیکن انہوں نے اپنے آپ پر کیے گئے تشدد کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ ”کبھی کبھار، وہ مجھے مارتے تھے۔ مجھے گالیاں دیتے تھے۔ مسلح گروہوں کے بارے میں مجھ سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔ بس یہی ہوتا تھا،“، جب بھی میں ان سے پوچھتا تو وہ یہی کہتے تھے۔ اگرچہ وہ پوری بات نہیں بتاتے تھے۔
عوامی اجتماعات میں ان کے چبھتے ہوئے الفاظ اب بھی فوجی اسٹابلشمنٹ کو پریشان کر رہے تھے۔ 2008ء میں ایک دن، میں ایک لائبریری میں بیٹھا ہوا کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا تھا تو کسی نے مجھے فون کیا کہ انہیں کراچی پریس کلب کے سامنے، جہاں وہ تقریر کر رہے تھے، سے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
میں لائبریری سے نکلا، ایک بس پکڑی اور ایک دوست کو فون کیا کہ پریس کلب کے ارد گرد پولیس اسٹیشنوں میں انہیں تلاش کرے جہاں سے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ انہیں ایک بار پھر”غائب“ کیا جائے گا۔ ٹریفک کی وجہ سے مجھے اس علاقے تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگا۔ میرے دوست نے مجھے فون کیا کہ اسے اندازہ ہے کہ انہیں صدر پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے کیونکہ انچارج اسے کوئی سیدھا جواب نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اسے اپنے پہنچے تک وہیں رکنے کا کہا۔ میں جب وہاں پہنچا تو ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا کہ گویا انچارج مصروف ہے۔ اسٹیل کے ایک اسٹول پر تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد جب میں تھک گیا تو وہیں آگے اور پیچھے ٹہلنا شروع کر دیا۔ سورج ابھی ابھی غروب ہوا تھا۔ لیکن جب میں ٹہل رہا تھا تو میں انچارج کے آفس کے اندر جھانکنے کی کوشش کی، اس بات کی تصدیق کرنے کیلئے کہ وہ واقعی بہت مصروف ہے یا صرف تاخیری حربہ استعمال کررہا ہے، میں نے ان کے جوتے دیکھے۔ میں نے سکھ کا سانس لیا! وہ یہیں تھے۔ فوج نے انہیں نہیں اٹھایا تھا۔
اس وقت میں کوئی بے بس طالبعلم نہیں تھا۔ اب میں ایک صحافی کے طور پر پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روزنامے کیساتھ کام کر رہا تھا۔ میں نے انچارج کے دفتر میں اپنا بزنس کارڈ بھیجا اور اس نے مجھے اندر بلالیا۔
”اس سے تمہارا کیا رشتہ ہے،“ انچارج نے پوچھا۔
”یہ میرے مامو ہیں۔“
انچارج نے گہری سانس لی اور پھر اپنے دفتر کی دیوار پر لٹکے ایک بلیک بورڈ کی طرف اشارہ کیا۔ اس پر سفید رنگ میں کچھ نام عمودی ترتیب میں لکھے ہوئے تھے۔ ”یہ سابق ایس ایچ اوز (پولیس سٹیشن کا انچارج) کے نام ہیں۔ ان کے ٹرانسفر کی تاریخ بھی لکھی ہوئی ہے۔ آپ ایک صحافی ہیں، آپ کہتے ہیں؟ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس اسٹیشن کے ایس ایچ او تقریباً ہر ماہ ٹرانسفر ہوتے ہیں۔ آپکو پتہ ہے کیوں؟“ میں نے کچھ نہیں کہا۔ ”کیونکہ کراچی پریس کلب ہمارے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور آپ کے ماموں ہر ہفتے پاکستان کو گالیاں دینے وہاں آتے ہیں،“ پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ ”اس کے بعد فوج کے لوگ ہمارے کانوں میں غلیظ الفاظ کیساتھ چلاتے ہیں کہ آپ لوگ اسے کیوں نہیں روکتے۔“
میں بین السطور انکا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اب میں جان چکا تھا کہ وہ انہیں زیادہ دیر تک حراست میں نہیں رکھنے والے تھے۔ یہ گرفتاری محض ایک تنبیہ تھی۔
”سر میں اپنے ماموں کی وجہ سے پیدا شدہ آپکے مسائل کیلئے معافی چاہتا ہوں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ پھر انہیں پریس کلب کے سامنے کبھی نہیں دیکھیں گے،“ میں جانتا تھا کہ ایک کھوکھلا وعدہ کر رہا ہوں۔
”جی ہاں، بڑی مہربانی۔ میں کوئی ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج نہیں کروں گا، اور تم اسے کل مجسٹریٹ کے دفتر سے ایک چھوٹا سا جرمانہ ادا کرکے رہا کرا سکتے ہو۔ لیکن اس میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرو۔“
”ضرور، میں کروںگا،“ میں نے ایک اور کھوکھلا وعدہ کیا، کہ گویا میں کسی اسکول ٹیچر کو یقین دہانی کرا رہا تھا میرا بچہ مستقبل میں کوئی شرارت نہیں کرے گا۔
اگلے روز صبح سویرے، ہم مجسٹریٹ کے دفتر میں تھے۔ یہ ایک بھرا ہوا دفتر تھا۔ وہاں اس دفتر کی گنجائش سے زیادہ فائلیں رکھی ہوئی تھیں۔ ہم 20 سے زائد منٹ تک کھڑے رہے اور مجسٹریٹ اپنی فائلوں کو دیکھتا رہا کہ گویا وہ ہماری موجودگی سے بے خبر تھا۔ جب اس نے سر اٹھا یا تو میں نے ساٹھ سال کے قریب کا ایک تھکا ہوا آدمی دیکھا۔
”ملزم کون ہے،“ انہوں نے پوچھا۔
”وہ،“ میں نے شرماتے ہوئے اپنے ماموں کی طرف اشارہ کیا۔
مجسٹریٹ نے تھوڑی دیر تک ان کی طرف دیکھا۔ پولیس اسٹیشن میں رات گزارنے کی وجہ سے، انکے چہرے پر بھوری رنگ کی ہلکی سی شیو بڑھی ہوئی تھی۔
”اپنی عمر تو دیکھو۔ کیا اس عمر میں ایسی حرکتیں کرنا اچھا کام ہے؟ آپ کو اپنے پوتے پوتیوں کیساتھ کھیلنا چاہیے نہ کہ امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہیے۔“
میں دعا کر رہا تھا کہ اس کے جواب میں وہ کوئی ناگوار بات نہ کہہ دیں۔ وہ عمر میں مجسٹریٹ سے کم از کم 25 سال چھوٹے تھے۔ لیکن وہ ہوشیار تھے۔ وہ خاموش رہے۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں ایک اور دن باہر رہنے کا موقع ملے تاکہ وہ پریس کلب جاکر ایک سحرزدہ عوام کے سامنے کوئی شعلہ فشاں تقریر کریں۔
انہیں رہا کیا گیا۔ میرا ان کیساتھ کام ختم ہوا، کم از کم اسوقت کے لئے۔ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر ایک ہجوم ان کا انتظار کر رہا تھا۔ ”میں تم سے گھر پر ملوں گا،“ انہوں نے مجھ سے یہ کہا اور بھیڑ کے ساتھ چلے گئے۔
اس دن شام کو دیر سے جب وہ گھر آئے تو وہ ہمارے درمیان بدترین جھگڑوں میں سے ایک تھا۔ میری والدہ مسلسل دخل دے رہی تھیں، ہم میں صلح کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے برتن، بستر، چادر اور تکیے کے بارے میں شکایت کرنے کیلئے جو میں گزشتہ رات تھانے لے گیا تھا اور واپس لانا بھول گیا تھا۔ ”وہ اب جا چکے ہیں۔ آپ کراچی پولیس کو نہیں جانتیں،“ میں نے ان سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنے بھائی کی طرح ضدی تھیں۔ ”مجھے وہ کسی بھی حالت میں واپس چاہیئیں۔ اور اگلی بار اگر تم جیل گئے تو میں تمہارے لئے کھانا نہیں بھیجوں گی،“ انہوں نے اپنے بھائی کی طرف متوجہ ہو کر کہا۔ ہمارا سیاسی جھگڑا اب ایک گھریلو مسئلے میں تبدیل ہوچکا تھا۔ ہم نے ان سے نئے برتن خریدنے کا وعدہ کیا لیکن کبھی نہیں خریدے۔
وہ اپنی بیوی، ماں اور بہنوں سے کیے گئے وعدے پورا کرنے میں کھرے نہیں اترے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے ایک ایئر کنڈیشنر خریدنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے پورانہیں کیا۔ لیکن انہوں نے بلوچ عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا۔ تقریباً ہر تقریر میں، انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایک آزاد بلوچستان کیلئے اپنی جان قربان کر دیں گے۔
مورخہ 3 اپریل 2009ء کو انہیں تربت میں اپنے وکیل کے دفتر سے اٹھا لیا گیا۔ 9 تاریخ کو ان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔
میں اب بھی سوچتا ہوں کہ ان کی سیاسی حکمت عملی غلط تھی۔ لیکن اپنی ”غلط“ حکمت عملی کیساتھ انہوں نے ایک آزاد بلوچستان کے خواب کیلئے لاکھوں بلوچوں کو متحرک کیا۔ مجھے اب بھی لگتا ہے کہ میری مجوزہ حکمت عملی صحیح تھی، لیکن میں نے کیا اثر ڈالا؟ میں مند میں انکے گھر پر جمع ہوئے ان ہزاروں طیش میں آئے بلوچوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ان کی موت کا بدلہ لینے کا وعدہ کیا۔
میں نے یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ لیکن بہت سوں نے کیا یا کم از کم پورا کرنے کوشش کر رہے ہیں۔

пятница, 1 апреля 2016 г.


”کیا پاکستان ٹوٹے گا؟


کارنیگی انڈاو منٹ فار انٹرنیشنل پیس میں مرکز برائے بین الاقوامی پالیسی کے ایشیاء پروگرام کے ڈائریکٹر سلیگ ایس ہیریسن کے ریمارکس
(ریمارکس کی 9جون 2009ءکی تقریر کیمطابق جانچ نہیں کی گئی ہے)
ترجمہ: لطیف بلیدی
Selig S Harrisonمیں اپنی تقریر کا آغاز کتاب کے ایک حوالے کیساتھ شروع کرنے جا رہا ہوں۔ یہ اقتباس میرے نزدیک پاکستان کے موضوع پر لکھی گئی ایک اہم کتاب سے ہے جسکا نام ’گریٹ گیم کی پرچھائی: تقسیم ہند کی ان کہی داستان‘ ہے، جسے نریندراسنگھ ساریلا نے لکھا ہے جوکہ ایک ریٹائرڈ بھارتی سفارتکار اور ماونٹ بیٹن کے اے ڈی سی تھے۔ انہیں برطانوی آرکائیوز تک بے مثال حد تک رسائی حاصل تھی۔ اپنی کتاب میں انہوں نے تفصیلی اور حتمی ثبوت پیش کیے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ حتیٰ کہ مارچ 1945ء کے اوائل میں ونسٹن چرچل اور برطانوی جنرل اسٹاف نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسٹراٹیجک وجوہات کی بناء پر تقسیم ہند ضروری ہے۔ انہوں نے جان بوجھ کر پاکستان کے قیام کیلئے کام کیا کیونکہ جناح نے ان سے فوجی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور نہرو نے ایسا کرنے سے انکار۔
یہ امر اس بات کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ پاکستان کیونکر اتنا ناقابل فعال ہے۔ یہ ایک مصنوعی سیاسی ہستی ہے۔ برطانیہ نے پانچ نسلی گروہوں کو اکھٹا کیا جو کہ تاریخی طور پر اس سے قبل کبھی بھی ایک ہی مملکت میں ایک ساتھ نہیں رہے تھے۔ ان میں سب سے بڑا نسلی گروہ بنگالی تھے۔ وہ دیگر تمام چاروں، یعنی پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں اور سندھیوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ تھے۔ بے شک یہ پانچ سے چار ہوئے جب بنگلا دیش الگ ہوا۔جب یہ ہوا تو 1971ء کے بنگلا دیش بحران کے دوران میں ڈھاکہ میں تھا جب تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے فوج داخل ہوچکی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ میری ایک یادگار گفتگو ہوئی تھی جس میں انہوں کہا تھا کہ یہ بہتر ہوگا اگر بنگالی واقعتا الگ ہوجائیں کیونکہ ان کے بغیر پاکستان کا انتظام زیادہ بہتر طور پر چلایا جاسکے گا۔ اس سے انکی مراد یہ تھی کہ اگر وہ بنگالیوں سے چھٹکارا حاصل کر لیں تو پنجابیوں کے ساتھ تعاون میں انہیں پاکستان کا نظام چلانے کا ایک بہتر موقع مل سکے گا۔ اور ہوا بھی یہی، ماسوائے اس کے کہ فوج، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، نے انہیں بالآخر پھانسی دیدی۔
پاکستان کی فوج، جو اسے برطانیہ کی طرف سے ورثے میں ملی تھی، پر بھاری اکثریت کیساتھ پنجابی افسران اور سپاہیوں کا غلبہ تھا۔ تو لہٰذا بنگالیوں کے جانے کیساتھ بلوچ، پشتون اور سندھیوں نے ایک ظالمانہ تاریخی ستم ظریفی کا سامنا کیا۔ صدیوں سے وہ اپنے علاقوں میں مغلوں کے حملوں کیخلاف مزاحمت کرتے آرہے تھے، لیکن اب وہ خود پنجابیوں کی حکمرانی کے تحت آچکے تھے جو مغلوں کی عظمت کو اپنے اقتدار کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تین نسلی اقلیتیں مجموعی طور پر آبادی کا محض 33 فی صد ہیں لیکن وہ پاکستان کے 72 فیصد علاقے کو اپنا آبائی وطن سمجھتے ہیں۔ یہ امر اس تنازعے کا ایک مستقل حصہ ہے۔
آئیں سب سے پہلے بلوچ پر نظر ڈالیں کیونکہ وہ ایک فعال بغاوت چلا رہے ہیں۔ وہ کبھی بھی پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اسی لئے 1958ء(1948) میں پاکستان کی قابض فوج کو انہیں زبردستی شامل کرنا پڑا۔ اب بھی پورے بلوچستان میں شورش سے نمٹنے کیلئے فوج کی چھاونیاں قائم ہیں جو وقفے وقفے سے اسے کچلتی آئی ہے اور اس کے بعد جلد ہی دوبارہ شورش شروع ہوجاتی ہے۔ اس شورش کو بنیادی طور پر پنجابیوں کے بلوچستان کے اقتصادی استحصال کیخلاف بلوچ کی نفرت بھڑکاتی ہے خاص طور پر وہاں سے نکالا جانیوالا قدرتی گیس جسکا سب سے زیادہ استعمال باقی ماندہ پاکستان کرتا ہے جسے بلوچ غیر منصفانہ شرائط پر مبنی سمجھتے ہیں۔ بلوچستان میں بے پناہ قدرتی وسائل ہیں، بشمول تیل کے، جنہیں شورش کے خاتمے تک ترقی نہیں دی جا سکتی۔ اسوقت بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے 22 منصوبے التواء کا شکار ہیں، لہٰذا یہ پاکستان کیلئے ایک سیاسی اور فوجی مسئلے کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑا مضمحل کن اقتصادی مسئلہ بھی ہے۔
فوج اور اس کے انٹیلی جنس ادارے ان کے رہنماوں کو خرید کر اور انہیں قتل کرکے بلوچ کو تقسیم کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں بلوچ باغی قوتوں کے دو مضبوط رہنماوں کو قتل کیا ہے، سب سے پہلے اکبر بگٹی اور حال ہی بالاچ مری، انہوں نے انہیں شہید بنادیا ہے۔ اس وقت بلوچ مسلح جدوجہد کے پاس موثر متحدہ قیادت نہیں ہے مگر چھ ملین بلوچ سیاسی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ متحرک ہیں۔ وہاں اب بھی چند اعتدال پسند بلوچ سیاسی شخصیات موجود ہیں جو پاکستان میں رہنے کے حق میں ہیں اگر اقلیتوں کو صوبائی خودمختاری مل جائے جسکا تصور 1973ء کے آئین میں دیا گیا ہے، لیکن آزادی کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد میں نام نہاد سویلین حکومت کی آمد کے باوجود آئی ایس آئی بلوچ اور سندھیوں کی، وکلاء اور عدالتوں تک رسائی دیے بغیر، پکڑ دھکڑ جاری رکھے ہوئی ہے۔ 900 سے زائد بلوچ اور سندھی سرگرم کارکن بنا کسی سراغ کے غائب ہوئے ہیں۔ میں آپ سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ ’ناقابل تردید کی تردید: پاکستان میں جبری گمشدگیاں‘ پڑھنے کی درخواست کرتا ہوں جو انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں پر پوری سند کیساتھ حوالہ دیتی ہے، جو مشہور زمانہ پنوشے کے چلی میں گمشدگیوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔
فوجی لحاظ سے تنہا بلوچ ایک کمزور پوزیشن میں ہیں لیکن انہوں نے سندھی دھڑوں کیساتھ اتحاد قائم کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ بلوچ اور سندھی رہنماء جس بارے میں بات کر رہے ہیں وہ ہے ایک خود مختار بلوچ سندھی وفاق جو کہ بھارتی سرحد سے لیکر ایران تک پھیلی ہوئی ہوگی۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں سب سے واضح رکاوٹ بے شک کراچی ہے جو کہ ایک کثیر النسلی آبادی کیساتھ اس علاقے کے وسط میں ہے۔ لیکن بلوچ اور سندھیوں کا کہنا ہے کہ کراچی کا انحصار گیس اور پانی کی پائپ لائنوں پر ہے جو اسکے ارد گرد کے دیہاتی علاقوں سے گزرتی ہیں جو انکے کنٹرول میں ہیں۔
میں نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے مستقبل اس امر پر منحصر ہونگے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کیا شکل اختیار کرتے ہیں۔ بھارت میں اب تک یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ایک مستحکم پاکستان بھارتی مفاد میں ہے۔ لیکن ممبئی حملوں کے بعد لشکر طیبہ کیخلاف کارروائی میں پاکستان کی ناکامی نے انہیں دوبارہ کچھ اور سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
بھارتی غصہ جتنا بڑھتا ہے اتنا یہ خیال بھی کہ بھارت کو بلوچ اور سندھی علیحدگی پسندی کی حمایت کرنی چاہئے، یا تو پاکستان کیخلاف بھرپور جوابی فوجی کارروائی کیلئے ایک متبادل کے طور پر یا پھر دومحاذی فوجی حکمت عملی کے ایک اہم حصے کے طور پر۔ ایک متبادل کے طور پر یہ کہ بلوچ اور سندھیوں کو اکسانا پاکستان کیساتھ ایک براہ راست فوجی تصادم کے خطرات سے بچائے گا جوکہ ایٹمی جنگ کی سطح تک جا سکتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے خروج کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ایک دومحاذی حکمت عملی کے حصے کے طور پر یہ کہ بلوچ اور سندھی باغیوں کیلئے بھارتی حمایت پاکستانی فورسز کی خاصی تعداد کو سندھ کی طویل سرحد پر محدود رکھیں گی جبکہ دیگر افواج کشمیر یا پنجاب، یا دونوں میں بھارتی فورسز کا سامنا کریں گی۔
گزشتہ پانچ سالوں سے پاکستان بھارت پر الزام لگاتا آرہا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے بلوچ مزاحمتکاروں کی مدد کررہا ہے لیکن اسکے حق میں ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔ ان الزامات میں معتبریت کا فقدان پایا جاتا ہے کیونکہ بلوچ چھوٹےغیرموثر ہتھیاروں کیساتھ لڑ رہے ہیں۔ بلوچ کہتے ہیں کہ دبئی اور خلیج فارس کی دیگر ریاستوں میں مقیم بلوچ ہم وطنوں سے فنڈز کی فراہمی کیساتھ انکے ہتھیار بلیک مارکیٹ سے خریدے گئے ہیں۔ اگر درحقیقت بھارت بلوچوں کو بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیار، ترسیلی مدد اور فنڈز دینے کا فیصلہ کرلے تو وہ بڑی تعداد میں بیروزگار بلوچوں اپنی طرف کھینچ کر 4,500 جنگجووں کی اپنی موجودہ قوت کو تیزی سے بڑھالیں گے۔
موجودہ وقت میں ایک آزاد بلوچستان یا ایک بلوچ سندھ فیڈریشن کے امکانات بہت دور نظر آتے ہیں۔ لیکن اصل گیم چینجر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک جنگ ہوگی جس میں بھارتی ایئر فورس براہ راست بلوچ باغی فورسز کی مدد کرے گی۔ بلوچ کیساتھ ماضی کی لڑائیوں میں پاکستان ایئر فورس نے بلوچ مزاحمتکاروں اور شہریوں پر یکساں طور پر بڑی بے رحمی سے بمباری کی ہے اور بلوچ کو علاقے قبضے میں لینے اور اپنا قبضہ جمائے رکھنے کیلئے بھارتی فضائی مدد کی ضرورت پڑے گی۔
اپنی بہت بڑی جنگی طاقت کے علاوہ، پاکستان کی مسلح افواج 38 ارب ڈالر کے اثاثوں کیساتھ ایک وسیع کاروباری سلطنت کو کنٹرول کرتے ہیں جو انہیں اقتصادی طور پر طاقت میں رہنے میں مدد دیتا ہے (جنکی تفصیلات عائشی صدیقہ کی کتاب ’ملٹری انکارپوریشن‘ میں دی گئی ہیں) جسکی ایک طویل جدوجہد کو برقرار رکھنے کیلئے ضرورت ہے۔
خواہ بھارت کیساتھ کشیدگی پاکستان کے ٹوٹنے کی صورت میں نکلے یا نہ نکلے، آنے والے سالوں میں بلوچ اور سندھی علیحدگی پسند گروہوں کے اپنے نیم فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا امکان ہے۔ چنانچہ، جب تک کہ مرکزی حکومت اقلیتی صوبوں کیساتھ ایک پرامن مصالحت کے حصول کی کوشش نہیں کرتا، پاکستان کے پہلے سے موجود سنگین اقتصادی مسائل میں مضمحل کن نسلی کشیدگی شدت لے آئیں گی۔ یہ کشیدگیاں اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں گی اور ملک کے بڑے حصوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاہدوں کے نفاذ کو ناممکن بنا دیں گی۔ میں نے اپنی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ایک پرامن مصالحت کیلئے کیا چیز ضروری ہے، خاص طور پر 1973ء کے آئین پر عملدرآمد جو صوبوں کو اختیارات کی ایک بامعنی منتقلی پر منتج ہو۔
اب پشتونوں کی طرف آتے ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف آباد 41 ملین پشتونوں میں اتحاد کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
برطانوی راج سے قبل 1747ء سے پشتون سیاسی طور پر ایک افغان سلطنت کے زیرانتظام متحد رہیں جو مشرق میں پنجاب کے مرکزی خطے سے لیکر دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ان کیلئے انتہائی تکلیف دہ تھا جب برطانیہ نے دریائے سندھ اور خیبر پاس کے درمیان پشتون آبائی علاقے کے 40,000 مربع میل پر قبضہ کرلیا جس میں نصف پشتون آبادی سمٹ گئی اور اس کے بعد ان پر ڈیورنڈ لائن تھوپ دی جس نے ان کی فتح کو رسمی شکل دیدی۔ بعد ازاں 1947ء میں برطانیہ نے یہ علاقہ شمال مغربی سرحدی صوبے میں 1947ء کے ایک متنازعہ ریفرنڈم کے بعد پاکستان کی نئی حکومت کو سونپ دیا۔ ریفرنڈم کا اہتمام برطانوی نوآبادیاتی حکام کے زیر انتظام کیا گیا تھا جنہوں نے صوبے کے پاکستان کیساتھ الحاق کی کھل کر طرفداری کی۔ 572,799 اہل ووٹروں میں سے صرف 292,118 نے ووٹ دیا۔ یہ اسلئے ہوا کیونکہ بہت سے پشتونوں کی جانب سے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔ جن پشتون جماعتوں نے 1946ء کے صوبائی انتخابات بھاری اکثریت سے جیتے تھے اس ریفرنڈم میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ ایک آزاد ”پشتونستان“ کے اختیار کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔ ریفرنڈم سے قبل ان جماعتوں کے رہنماوں کو قید کیا گیا اور 22 جون 1947ء کے ”بنوں اعلامیہ“ کے بعد ان کے اخبارات پر پابندی عائد کی گئی جس میں انہوں نے ”پشتونستان“ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان لوگوں میں سے جن پشتونوں نے برطانوی حکام کی جانب سے منعقد کردہ قبائلی اجتماعات میں ووٹ دیا تھا، پاکستان کے حق میں کل 2,894 ووٹ پڑے۔ چنانچہ اس مسئلے کا فیصلہ 50.5 فیصد اہل رائے دہندگان نے کیا تھا جو کھلی دھاندلی کے الزامات کے درمیان ہوا جسکی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد ظاہر شاہ کی بادشاہت، محمد داود کی جمہوریہ اور کابل میں کم میعاد کمیونسٹ حکومت، ان سب نے پاکستان کے پشتون علاقوں پر حکومت کرنے کے حق کو چیلنج کیا ہے۔ بسا اوقات افغانستان نے پاکستان کے اندر ایک خودمختار پشتون ریاست قائم کئے جانے کے مقصد کی حمایت کی ہے، بعض اوقات ایک آزاد ”پشتونستان“ پاکستان سے کاٹ کر بنائے جانے کی بات کی ہے اور بسا اوقات ”گریٹر افغانستان“ کی جس سے وہ اپنے کھوئے علاقے براہ راست شامل کر سکے۔
سوویت قبضے کیخلاف مزاحمتی تحریک اور القاعدہ اور طالبان کیخلاف امریکی فوجی کارروائی، جو 2001ء میں شروع ہوئی، نے پشتون معاشرے میں گہری تقسیم پیدا کی ہے جس نے ”پشتونستان“ تحریک کے مستقبل کو غیر یقینی بنادیا ہے۔ قبائلی معاشرے میں ملا پر ملک کی روایتی بالادستی کمزور ہوئی جب امریکہ نے سعودی عرب اور خلیج فارس کے اسلامی گروہوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں اسلام پسند حاشیہ نشینوں کو سوویت یونین کیخلاف جدوجہد کیلئے ہتھیاروں کی امداد اور فنڈز کی فراہمی کی۔ یہ سب انٹرسروسز انٹیلی جنس پاکستان کی نظامت کی ایماء پر کیا گیا۔ آئی ایس آئی کا مقصد ایسے نائبین پیدا کرنا تھا جو پشتونستان کے تصور کے مخالف ہوں۔ سوویت افواج کے جانے کے بعد جب ان نائبین نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی طاقت کو مجتمع کرنے کے قابل نہیں ہیں تو آئی ایس آئی طالبان کی طرف متوجہ ہوئی جسکے پاس ایک پشتون اساس تھی لیکن اس پر ایک پین اسلامسٹ نظریے کی حامل علماء رہنماوں کا غلبہ تھا۔ تاہم، اہم بات یہ ہے کہ طالبان کی حکومت، جس نے 1996ء سے 2001ء تک حکومت کی، نے ایسا کرنے کے پاکستانی دباو کے باوجود ڈیورنڈ لائن کو قبول نہیں کیا۔
پشتون معاشرے میں گزشتہ تین دہائیوں کی افراتفری سے پیدا شدہ تقسیم اور اس کے نتیجے میں ملِک کی قیمت پر مُلا کی طاقت میں اضافہ ہونے کے باوجود پشتونوں میں اجتماعی تشخص کا ایک طاقتور احساس موجود ہے جسکی جڑیں ایک قدیم قبائلی ساخت میں پیوست ہیں جو اب بھی ان کی زندگی کا تعین کرتی ہے۔ پشتونوں پر سب سے ممتاز برطانوی ماہر لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز کے پروفیسر ایمریطس رچرڈ ٹیپر ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے جو ٹیپر کہتے ہیں: ”مختلف پشتون گروہوں کے درمیان مقامی تنازعات کے باوجود سیاسی اتحاد کیلئے غیرمعمولی صلاحیت کی حامل ایک علامتی جذبے کے طور پر تمام پشتونوں کی نسلی اور ثقافتی وحدت کے تصور سے وہ طویل عرصے سے آشنا رہے ہیں۔“
پاکستان کی مسلح افواج اور امریکی ڈرون طیاروں کی طرف سے پشتون سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس سے ایک گہرا سیاسی اثر پڑا ہے۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات، جو فاٹا کے طور پر جانا جاتا ہے، کی سیاست سے نئی وابستگی کے سبب انتہا پسند پشتون اب اپنے آپ کو شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان کے شمالی کونے میں آباد پشتونوں کے سیاسی بھائیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اقتصادی ترقی چاہتے ہیں، لیکن ایسی ترقی جو پشتونوں کے کنٹرول میں ہو نہ کہ پنجابی اکثریتی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں نشانہ بنائے جانے سے ایک پشتون احساس کو ابھارنے کے سبب فاٹا میں لڑی جانیوالی ”دہشت گردی کیخلاف جنگ“ نے انہی جہادی قوتوں کو مضبوط کیا ہے جنہیں امریکہ شکست دینے کی کوشش کررہا ہے۔ طالبان قیادت کی بنیاد غزالی پشتون قبائل میں ہے، لہٰذا امریکی پالیسی نے طالبان کو دونوں یعنی اسلام اور پشتون قوم پرستی کا چیمپیئن بننے کے قابل بنایا ہے۔
روایتی دانش میں، ایک یا دوسرا، اسلامی یا تو پشتون، بالآخر فتح یاب ہوگا لیکن ایک اور یکساں طور پر بظاہر معقول ممکنہ امکان یہ بھی ہے کہ اس کا نتیجہ، جیسا کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے کہا تھا، ایک ”اسلامی پشتونستان“ کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے جو یا تو کچھ یا پھر سرحد کے دونوں اطراف آباد تمام پشتونوں کو اپنے اندر سمیٹ لے گا۔ یکم مارچ 2007ء کو واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک سیمینار میں سفیر حسین حقانی کے پیشرو میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمود علی درانی، جو ایک پشتون ہیں، نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے امید ہے کہ طالبان اور پشتون قومپرستی مدغم نہیں ہونگے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سمجھیں کہ ہمارا کام تمام ہوا، اور ہم اس کے دہانے پر ہیں۔“
امریکی مفادات اور پالیسیوں کے لحاظ سے ان سب کا کیا مطلب ہے؟ نسلی کشیدگی میں کمی کا براہ راست تعلق اس بات پر منحصر ہے کہ ہم القاعدہ کیساتھ کس طرح سے نمٹتے ہیں اور میں سب سے پہلے اسی پر بحث کروں گا۔
پھر میں اس بات کی جانچ کروں گا کہ پاکستان کا ٹوٹنا پاکستان میں جہادی قوتوں کیخلاف جدوجہد اور جنوبی ایشیاء میں وسیع تر امریکی مفادات پر کس طرح سے اثرانداز ہوگا۔
وزیرستان میں القاعدہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کیلئے ہمیں پشتون قبائل اور پشتون طالبان رہنماوں کا تعاون حاصل کرنا ہو گا جو القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت ہم اسوقت جو کچھ کر رہے ہیں اس سے القاعدہ کیلئے پشتون حمایت کو تقویت مل رہی ہے۔ ہم پنجابی فوجی بھیج رہے ہیں اور ڈرون حملے کررہے ہیں جو پشتون شہری ہلاکتوں کا باعث بنی ہیں، یہ اقدامات پشتونوں کو تیزی سے طالبان اور القاعدہ کی طرف جانے میں کارفرما رہی ہیں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ اس عمل نے فاٹا کے پشتونوں کو تیزی سے سیاست زدہ اور بنیاد پرستانہ بنا دیا ہے۔ یقینا ڈرون حملوں سے کچھ کامیابی ملی ہے لیکن جیساکہ بروس ریڈل نے مشاہدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ، ”یہ شہد کے کسی چھتے میں ایک ایک مکھی کا پیچھا کرنے جیسا ہے۔“ میرے خیال میں فوائد کی نسبت زیادہ بڑی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ میری رپورٹ میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ امریکہ کو ڈرون حملے روکنے چاہئیں، پشتونوں کیخلاف جنگ کیلئے پنجابی فوجی بھیجنے میں پاکستان کی حوصلہ افزائی بند کرنی چاہئے اور طالبان دھڑوں کو القاعدہ سے علیحدہ کرنے کیلئے ڈیزائن کیے گئے کم پروفائل والی خفیہ کارروائیاں کرنے کیلئے ایک سازگار سیاسی ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ کارروائیوں کے لحاظ سے طالبان دھڑوں میں سے زیادہ تر افغانستان اور پاکستان میں مقامی مقاصد کو حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وہ امریکہ کیلئے براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سیکولر پشتون رہنماء سوات میں امن معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش میں صحیح تھے اور یہ واضح نہیں تھا کہ ناکامی پہلے سے ہی اس کا مقدر تھی۔ ان میں سے کچھ کو لگتا ہے کہ اسلام آباد نے اپیلیٹ دائرہ کار اور عدالتی تقرریوں کے کنٹرول پر اصرار کرکے زیادتی کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ان مسائل پر اسلام آباد کا رویہ مزید لچک دار ہوتا تو یہ معاہدہ ناکام نہ ہوتا۔
امریکہ کو پاکستان میں طالبان دھڑوں کیساتھ امن اقدامات کی اسی طرح سے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جس طرح اسوقت ہم افغانستان میں مقامی سطح پر ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ مشرف کے دور میں امن معاہدوں کے خیال کو غیر معتبر ٹھہرایا گیا لیکن وہ معاہدے آئی ایس آئی کیساتھ گفت و شنید کے نتیجے میں ہوئے تھے اور مقامی سطح پر انکی کوئی حیثیت نہیں تھی۔
رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی تھی کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ فاٹا کے پشتونوں کو یہ باور کروائے کہ وہ ان کی سیاسی خواہشات سمجھتا ہے۔ فاٹا کے پشتون نہیں چاہتے کہ پنجابی اکثریتی مرکزی حکومت ان پر حکومت کرے جسکی تجویز اسوقت دی جارہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں پشتون صوبہ سرحد میں ضم کیا جائے جسے 13 مارچ کو ایک انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ انہیں اسی قانونی نظام اور سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کے تحت لے آئے گا جو دیگر پاکستانیوں پر لاگو ہیں۔ امریکہ کو فاٹا کے صوبہ سرحد میں انضمام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور ایک متحدہ پشتون صوبے کی تخلیق کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جس میں سرحد، فاٹا اور بلوچستان اور پنجاب کے پشتون علاقوں کو ایک متحد ہستی میں ضم کیا جائے جسکا نام ”پختونخواہ“ ہو۔ پشتون پنجابیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط پوزیشن چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے امریکی حمایت اس نفسیاتی فضاء کو یکسر تبدیل کردے گی جس میں القاعدہ کیخلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔
جیساکہ میں نے پہلے کہا تھا کہ ایک آزاد پشتونستان کا ظہور امریکی مفادات کیلئے لازمی طور پر کوئی خطرہ نہیں ہوگا اگر یہ سیکولر قیادت میں ہو تو۔ اسی طرح سے ایک آزاد بلوچ سندھی فیڈریشن بھی لازمی طور پر امریکی مفادات سے متصادم نہیں ہوگا کیونکہ بلوچ اور سندھی علاقے سیکولر اقدار اور اعتدال پسند اسلام کے مضبوط گڑھ ہیں۔ اکثر سندھی صوفی ہیں اور کئی بلوچ ذکری ہیں۔ وہ وہابی اور دیوبندی طرز کے اسلام کو مسترد کرتے ہیں جسے پنجاب میں سپاہ صحابہ اور دیگر شیعہ مخالف سنی گروہ زہریلے پن سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسلام پسندوں کا خطرہ پنجاب میں مرکوز ہے جہاں لشکر طیبہ اور دیگر سخت گیر جہادی گروہ تیزی سے مضبوط ہورہے ہیں۔ بہر حال میری رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ بلوچستان اور سندھ کا الگ ہوجانا خواہش انگیز نہیں ہے اور اسکا امکان بھی نہیں ہے اگر 1973ء کے آئین میں دی گئی خود مختاری کے دفعات کا احترام کیا جائے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم ہو تو۔
میں نے مضمحل کن کا لفظ کئی بار استعمال کیا ہے کیونکہ یہ پاکستان پر نسلی کشیدگیوں کے اثرات کی توضیح بہترین طور پر کرتا ہے۔ نسلی کشیدگیاں پاکستان کو بتدریج کمزور کردیں گی حتیٰ کہ اگر یہ غیر یقینی طور پر باہم قائم بھی رہے۔ امریکہ نے گزشتہ پچاس برسوں سے فوجی امداد کی ترسیل کرکے ایک فرینکنسٹائن عفریت کو جنم دیا ہے جس نے نسلی کشیدگیوں کو کم کرنا زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ اب ہمارا سامنا حد سے زیادہ پھولے ہوئے مسلح افواج سے ہے جو کہ ایک مراعات یافتہ اشرافیہ بن چکا ہے اور طاقت پر اپنی گرفت قائم رکھنے میں اسکے مفادات وابستہ ہیں۔ وہ اسلام آباد میں سویلین حکومتوں کا گلا بھونٹتے ہیں اور وفاق کو مستحکم کرنے کیلئے ضروری آئینی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ سویلین قیادت کو مضبوط بنانے اور طاقت کی منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنے میں امریکہ جو کچھ کرسکتا ہے اسے کرنا چاہئے لیکن ہوسکتا ہے اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ صدر زرداری اپنی پوزیشن کو برقرا رکھنے کیلئے وہی کرتے ہیں جو کچھ فوج انہیں کہتی ہے اور صدر زرداری کو گھیرنے کیلئے وزیراعظم گیلانی آئی ایس آئی کیساتھ کام کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سویلین حکومت فوج اور آئی ایس آئی کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اقلیتی صوبوں میں جو کچھ کرنا چاہیں کریں اور زرداری، اپنے وعدوں کے باوجود، 1973ء کے آئین کو نافذ کرنے سے ڈرتے ہیں۔
امریکہ فوجی امداد میں کافی حد تک کٹوتی کرنے سمیت اس نقد سبسڈی، جو اتحادی سپورٹ فنڈز کے طور پر جانا جاتا ہے، کو کم کرنے سے اور آئی ایس آئی کے سویلین کنٹرول سے مشروط کرنے سے نسلی کشیدگیوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایک کتاب، ’پاکستان کی تغیر پذیر جمہوریت میں خفیہ ایجنسیوں کی اصلاح‘، میں امریکی پالیسی کیلئے ایک بہترین تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے جسے فریڈرک گرارے نے لکھا ہے جو میرے مطالعے کی مشاورتی کمیٹی کے رکن تھے اور اسے حال ہی میں کارنیگی کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔
مختصر یہ کہ اسوقت امریکہ کو پاکستان اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک بحران کا سامنا ہے جو ان مسائل پر براہ راست اثرانداز ہورہے ہیں جن پر ہم بحث کرتے آئے ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستانی حکومت نے لشکر طیبہ کیخلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی ہے اور حال ہی میں اس کے دو رہنماوں کو رہا کیا گیا ہے جو نظربند تھے۔ اس کے ملیشیا میں سے کسی کو بھی غیر مسلح نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، امریکی انتظامیہ کانگریس کو 10.5 ارب ڈالر امداد کی منظوری کیلئے کہہ رہی ہے، اور کانگریس کے رہنماء تمام اقسام کی شرائط پر غور کر رہے ہیں ماسوائے سب سے زیادہ اہم شرط کے، جو لشکر طیبہ کیخلاف کریک ڈاون ہے۔ پاکستان کی طرف سے کارروائی کی کمی کے سبب بھارت کی پریشانی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک مغالطہ انگیز سکوت چھایا ہوا ہے۔ لشکر طیبہ کا ایک اور حملہ بلاشبہ بھارتی جوابی کارروائی پر منتج ہوگی بشمول بلوچ اور سندھی باغی قوتوں کی خفیہ یا اعلانیہ حمایت کے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پنجاب میں جہادیوں کا مقابلہ کرنا، پاکستان کو ایک ساتھ رکھنا اور بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور جنگ کی روک تھام لازم و ملزوم ہیں۔

вторник, 15 марта 2016 г.

بہادری و عظمت کا پیکر ....ایک بلوچ عورت , سمی بلوچ

بلوچ قومی تاریخ میں جس طرح بلوچ نوجوانوں نے قومی جنگ میں قربانیاں دی ہیں ، جدوجہد کی ہے اسی طرح بلوچ عورتوں نے بھی اس جنگ میں بڑی کردار ادا کی ہے ۔بلوچ عورتوں کی جرأت اور بہادری کی گواہی تاریخ کے اوراق میں سنہرئے الفاظ میں درج ہیں۔ بلوچ عورتیں جنہوں نے تلوار اٹھائی ہے اور جنگیں فتح کی ہیںیا پھر شہادت نوش کی ہیں، وہ اس جنگ میں مردوں کے مقابلے میں برابرکاشریک ہیں۔جلسے اور احتجاجی مظاہروں میں بھی زیادہ تر عورتیں دکھائی دیتی ہیں۔بلوچستان میں جو ظالمانہ ریاستی آپریشن جاری ہیں ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ 1948سے لے کر تادم تحریر بلوچ نے جتنی بھی ریاستی جبر و بربریت سہی ہیں ،کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے انتہائی ہمت و بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا ہے اور ہمیشہ اپنے بھائیوں کے ساتھ قدم بہ قدم رہیں گی۔ اس جنگ میں بلوچ عورتیں جب اپنے بھائی، بچوں،شوہروں کو شہید ہوتے دیکھتے ہیں تو انتہائی برداشت ،صبرو تہمل اوربہادری کا مظاہرہ کرکے اپنے پیاروں کو گلزمین کے سپرد کرتی ہیں جو ہ بڑی ہمت اور بہادری کاجیتا جاگتا مثال ہے لیکن ان عورتوں میں ایک بہت ہی عظیم جرأت مند اور بہادر عورت نے بھی اپنا نام تاریخ میں قید رقم کیا،جو شاید بلوچ ماؤں کے لئے مثال بن چکی ہے۔ اس عورت کے بارے میں بیان کرنانا ممکن شاید نہ ہو لیکن اسکی عظمت کے حوالے سے میرے پاس جو الفاظ ہیں وہ ناکافی ہیں۔
بلوچستان میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والی عابدہ جسکی تعلیمی قابلیت بس میٹرک تک ہے وہ اپنے ایک چھوٹے سے گھر میں شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہی تھی جس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن زندگی میں اتنی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ بلوچ قومی جنگ میں ہر بلوچ مرد عورت کی طرح یہ بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ شامل تھی ۔ریاست اس گھر کے لوگوں اور چھوٹے بچوں سے خوف محسوس کر رہی تھی۔ فوج نے کئی بار انکے گھر کی قیمتی چیزیں مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے کے بعد خالی گھر جلا کر راکھ کر دیا اس کے بعد عابدہ کے شوہر ماسٹر رحمت جو21 جنوری 2015 کو ایک جنگ میں شہید ہوا۔ گھر کے واحد کفیل کے شہادت کے بعدسب عابدہ کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ عابدہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ کس حالت میں ہوگی کس طرح یہ دکھ سہ لے گی، کس طرح اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کریگی لیکن جب سب لوگوں نے عابدہ کو دیکھا کہ اس کی آنکھیں نم بھی نہیں ہیں دکھ اور تکلیف کی آ گ اسکے سینے میں جل رہی تھی مگر اس نے آگ کی گرمی کو صبر اور استقامت سے برقرار کھی ہوئی تھی۔کچھ دن گزرنے کے بعد اس عورت نے پھر سے اپنے بچوں کی خاطر زندگی کو ترجیح دیا پھر سے جینے کی امید شروع کی ۔عابدہ کے گھر کی روشنی کو بجھا دیا تھا مگر ساتھ میں ان شمعوں کو بھی ختم کیا جو شاید ایک ساتھ ملتے پھر سے نئی روشنی قائم کرتے ۔تین مہینے بعد 19مئی 2015کوگھر میں چھاپہ مار کر اسکے کمسن بیٹے 15سالہ معراج رحمت کے نازک جسم کو مملکت خداد کی فوج نے گولیوں سے چھلنی کیااور بیٹے کی جدائی میں ایک ماں پر کیا گزرتی ہے یہ صرف ایک ماں ہی جان سکتی ہے ۔بیٹے کی شہادت کے بعدعابدہ کی ساری بندشیں ختم ہو گئیں۔ بیٹے کی لاش خون سے لت پت اسطرح جیسے سرخ چادر زمین پر بچھایا ہے لیکن اس ماں کے حوصلے پہاڑوں کی طرح بلند تھے، آنسو کا ایک قطرہ بھی اس عظیم ماں کے آنکھوں میں نہیں تھا جو شایدایک دن اسکی کمزوری کی گواہ بن جائیں بیٹے کی مسکراہٹ کے ساتھ خود مسکرا تی ہے اور شہید بیٹے کے ماتے کو چومتی ہے اور کہتی ہے ایک بیٹے کو اسکی ماں پکار رہی ہے لے جاؤ اسکو اپنے گلزمین کے حوالے کردو۔لیکن اس ماں کے آنکھوں میں آنسو کا قطرہ نہیں آیا۔عابدہ کے چہرے پر ڈر نہیں تھا صرف اسکا سر فخر سے بلند تھا۔عابدہ کہتی تھی مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے کیونکہ میرادوسرا بیٹا تو زندہ اور سلامت ہے لیکن تین مہینے بعد ریاستی فوج کے تین دن کی خون کار آپریشن میں دوسرا بیٹا فرہاد رحمت بھی شہید ہو۔اس آپریشن میں عظیم گوریلا لیڈر داکٹر اللہ نظر کے بھائی شہید سفر خان اور بھتیجاکمانڈر سلیمان عرف شئے حق اپنے بھائی اور کچھ مہمانوں کیساتھ شہید ہوئے ۔دشمن فوج انکی لاشوں کو گاڈی کے پیچھے باندھ کر گھسیٹ کر لے گئے۔ اس ماں نے بیٹے کی لاش بھی نہیں دیکھی جو وہ دل سے تسلی کر لے کہ اسکا دوسرا بیٹا بھی شہید ہوا ہے لیکن جس طرح اس عورت کے دکھ ، درد اور تکلیفیں بڑھتی گئیں اس عورت میں درد کے ساتھ جینے کی ہمت و حوصلے بھی بڑھتی گئیں اور وہ مادریں سرزمین کی ممتا کے آگے سرنگوں رہی ۔شوہر کے ساتھ دونوں بیٹوں اور شوہر کوسرزمین کے حوالے کرکے کہتی رہی کہ اصل ماں تو سرزمین ہے انھیں مجھ سے زیاہ انکی ضرورت ہے ۔ 
ایک بار میں ان سے ملنے گئی دیکھاکہ جو باتیں میں نے لوگوں سے سنی تھیں وہ بالکل ویسی ہی تھی،وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ مشغول تھی ۔جب میں اندر گئی مجھے دیکھ کر انتہائی خوش ہو گئی کہنے لگی کئی دنوں بعد کوئی اپنا ملا ہے۔عابدہ ویسے ہی بہت زیادہ خوش مزاج نیک اور زندہ دل انسان ہیں میں ان کے پاس بیٹھ گئی ۔وہ بڑی دلیری سے اپنے سرتاج اوراپنے فرزندوں کی شہادت کی باتیں کر رہی تھی ۔جب میں اس کی آ نکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی تھی تو میں محسوس کرتی تھی کہ ایک دکھ سے بھری سمندران آنکھوں کے پیچھے چھپی ہے لیکن میں جس عابدہ کو باہر سے دیکھ رہی تھی وہ بہت ہی دلیر اور نڈر تھی اس کے چہرے میں ایک شکن تک دکھائی نہ دی پہلے تو میں یہ ہمت کھو چکی تھی کہ میں اس سے کچھ باتیں کر وں اسکا حال پوچھ سکوں لیکن جب میں نے عابدہ کی بہادری دیکھی مجھ میں بھی طاقت آگئی ۔میں نے اس سے کئی سوالات پوچھے کہ تم کیسے ہو کس طرح تم اپنی چھوٹے بچوں کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہو؟
عابدہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میری زندگی وقت کی سی ہے جو گزرتی جا رہی ہے اور وقت کسی کے لئے نہیں رکھتی ہے میں خوش ہوں اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ.میں اپنے بچوں اوران کے والد کی شہادت سے پہلے ہماری زندگی بہت خوشگوار تھی ہمارے گھروں میں مہمانوں کا آناجانا اور زندگی کے دوسرے مواقعوں میں بہت خوش تھے اس کے علاوہ بلوچستان کے جو حالات تھے ان کے مطابق میں جانتی تھی کہ بلوچستان میں ہر عورت کی طرح میرا گھر جلا دیا جائیگا میرے شوہر اور بچے شہید کیے جائینگے لیکن میں کبھی بھی ان حالات سے دستبردار نہیں ہوئی ۔
ہاں میں معراج کی شہارت کے بعد تھوڑی زحمت تھی کیونکہ میرے شوہر کے شہادت کے چلے جانے کے بعدمیرے گھر کی ذمہ داری معراج ہی نے اس کم عمری میں اٹھا یا تھا اور فرہادجب زندہ تھا اس کے لیے میں پریشان تھی کیونکہ وہ ہمیشہ بیمار رہتا تھا۔
جس دن میرا بڑا بیٹافرہاد دوڈتے ہوئے میرے پاس آیا اور کہنے لگاکہ ’’اماں معراج پوجیانی دست ء شہید کنک بوتگ‘‘ (اماں ریاستی دشمن کے ہاتھوں معراج شہید ہو گیا ہے) تو میں نے کہا ’’ اللہ ءِ باہوٹ انت منا پہر انت کہ پہ ماتیں گلزمین ءَ شہید کنک بوتہ‘‘(اللہ کی امان میں رہے ،مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا اپنے مادر وطن بلوچستان کے لیے شہید ہوا ہے)
مجھے بالکل بھی پریشانی محسوس نہیں ہوئی اورنہ ہی میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک قطرہ باہر نکلا۔
جب تین مہینے بعدمشکے کے ایک بڑے ریاستی آپریشن میں شہید سفر خان ،شہید سلیمان ، شہید ذاکر اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے ان میں میرا کمسن بیٹا فرہاد بھی شامل تھا۔جب سرمچاران شہداء کے والدین کو مبارک باد دینے کے لیے آ ئے اور سب کو مبارک باد دیا کہ انکے سپوتوں نے اس عظیم مقصد کے لئے جام شہادت نوش کیاہے۔ سب کو مبارک باد دینے کے بعد جب میری باری آئی تو اس آدمی کے قدم رک گئے اور کہنے لگاان شہیدوں میں ایک اور ہے جسکا نام سننے کے بعد شاید کسی کو برداشت نہ ہو تو میں مسکرائی اور کہنے لگی کہ ابھی تک مجھ میں بہت صبر اور برداشت ہے مجھے فخر ہے اپنے دوسرے بیٹے پرجس نے اپنے غیرت اور گلزمین کے لئے شہادت نوش کیا ہے۔ میں بھی اپنے آپ کو ہزاروں بلوچ بیویوں اورماؤں کی طرح خوش نصیب سمجھتی ہوں، مجھے یاد ہے میرے شہید شوہر رحمت اکثر کہتے تھے ،موت کا وقت مقرر ہے مگر اس جنگ میں نہیں کہیں بھی اور کسی بھی وقت آ سکتی ہے،پھر مسکراتے ہوئے مزاق بھی کرتے تھے کیا پتہ ہم سب ایک ساتھ قربان ہو جائیں، انکی شہادت کے بعد میری ہمت کم نہ ہوئی یقیناًدکھ تکلیف بڑھ گئے ،مگر بیٹے کی شہادت اور انکی لاش کو آنکھوں کے سامنے ،بلکہ پاکستانی فوج کی گولیوں کو خود انکے سینے میں پیووست ہوتے دیکھ کر پتہ نہیں کیسی طاقت جان میں آئی کہ میں بیٹے کی محبت میں آنسو بہانا چاہتی تھی مگر پھر رحمت یاد آیا انکی باتیں کہ شاید ہم ایک ساتھ قربان ہوں،پھر جب فرہاد کے شہادت کی خبر آئی تو میں نے سجدہ کیا زمین کو اور دیر تک بوسہ دیتے رہی اور زمین سے ایک گرمی میری شریر میں محسوس ہوئی،اور ہلکی سے آنسو کی بوند شاید زمین پہ ٹپھکی ہو،دل میں کہتی رہی اے وطن! ابھی میں اورمیرے دوسرے بچے باقی ہیں خود کواور انہیں تمہارے ممتا کے حوالے کرنے کی ہمت ہے مجھ میں۔جب زمین سے سر اُٹھایا تو ہمت اور حوصلے شاید مزید بلند ہوئے۔میری طرح کتنی مائیں بہنیں ہیں جنہوں نے سب کچھ قربان کیااور کر رہی ہیں،بس دعا کرتی ہوں قربانی کا جذبہ ختم نہ ہو۔
عابدہ اپنے شوہر،بچے اور گھرکی ہستی قربان کرنے کے بعدبھی پیچھے نہیں ہٹے،اس کے پاؤں میں اب بھی کوئی لغزش نہیں،سب کچھ اس گلزمین کی خاطر قربان کر نے کے باجود بڑی دلیری ،ہمت اور جرأت کے ساتھ صبر اور برداشت کا دامن تھامے اپنے زندگی کی باقی ماندہ دن گزار رہی ہیں جو بہادری و عظمت کی علامت بن گئی ہے۔
بلوچستان کی ہر ایک عورت عابدہ ہے ۔ہر ایک عابدہ نے ریاستی دشمن کے ہر ظلم ،جبر و تشدد کو بڑی دلیری و بہادری سے برداشت کیا ہے،ہر موڈ پر دشمن کا مقابلہ کیا ہے۔ اپنے پیاروں کو لوریوں کیساتھ گلزمین کے سپردکئے۔اپنے لخت جگروں کی شہادت پر اپنے سروں کو فخر سے ہمیشہ کے لئے بلند کیا ہے ایسی ماوؤں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائینگی۔ اور جب تک ایسی مائیں بلوچ سرزمین پہ وجود رکھتی ہیں جو اپنی اولاد سمیت پورے خاندان کی قربانی دینے کی ہمت کے ساتھ انکی پروش میں سرزمین کی محبت شامل کر تی ہیں ایسے قوم زیادہ دیر تک غلام نہیں بنائے رکھے جا سکتے۔



вторник, 8 марта 2016 г.

کامریڈ عبدالقیوم بلوچ گوادری 


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی
2016-03-08 09.14.02ستائیس مارچ 1948ء کے جبری الحاق سے لیکر اب تک بلوچ اپنے وسائل کا استحصال کرنے، اپنے سیاسی حقوق ضبط کرنے، جسمانی طور پر ختم اور خوف زدہ کرنے، اور آخر میں غیر بلوچوں کی آمد کیساتھ انہیں ایک اقلیت میں تبدیل کرنے کی پاکستانی ریاست کی کوششوں کیخلاف مزاحمت کرتے آ رہے ہیں۔ بلوچ مزاحمت نے اب تک ان شیطانی منصوبوں کو ناکام بنایا ہے تاہم اس کیلئے بلوچوں کو اپنی زندگیوں کی ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مزاحمت میں کوئی وقفہ یا کمی نہیں آئی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس مزاحمت کی شدت اور اس کے علاقے بدلتے رہے ہیں؛ ابتدائی طور پر یہ مرکزی بلوچستان تک محدود تھی پھر یہ مکران کے ساحلی علاقوں میں اپنے اثرات کیساتھ مری اور مینگل علاقوں میں منتقل ہوئی۔ اسوقت مزاحمت سب سے زیادہ مکران کے ساحلی اور ملحقہ علاقوں میں فعال ہونے کے ساتھ ساتھ پورے بلوچستان میں پھیلی ہوئی ہے۔
مکران کو اس تعلیم نے فائدہ پہنچایا ہے جس کے حصول کیلئے وہاں کے لوگ کوشش کرتے آئے ہیں اور یہ سیاسی شعور اسی تعلیم کی دین ہے۔ مکران اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو بے انتہا مصائب جھیلنے پڑے ہیں جو ان بڑے منصوبوں کے تناظر میں سفاکانہ جبر ا ور ’غلیظ جنگ‘ کی صورت میں ان پر نازل ہوئی ہیں جو حتیٰ کہ ارجنٹینا، برازیل اور چلی میں اسی طرح کے جبر کا ارتکاب کرنے والوں کیلئے بھی باعث شرم ہیں۔ صریح سیاسی اور اقتصادی جبر کا شتر بے مہار جو پاکستان نے بڑے منصوبوں اور ترقی کے نام پر چھوڑا ہوا ہے اس نے انہیں اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑا کیا ہے۔ اغواء اور قتل کیے گئے لوگ جنکی تعداد ہزاروں میں ہے اور ایسا بالکل نہیں لگتا کہ یہ سلسلہ بند ہونے والا ہے لیکن پھر بھی بلوچ جوش و ولولے میں اضافہ کیساتھ اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہاں بہت سارے بہادر اور جوانمرد لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں بلوچستان کیلئے قربان کی ہیں اور وہ تمام لوگ اپنی بے لوث قربانیوں کیلئے بلوچ قوم کے شکریے اور تعریف کے مستحق ہیں۔ میں گوادر سے تعلق رکھنے والے کامریڈ عبدالقیوم بلوچ کے بارے میں بات کروں گا، جنکی پانچویں یوم شہادت دو ہفتے قبل تھی، جو شے نذر کے ہاں 1984ء میں پیدا ہوئے۔ علاقے کے دیگر بچوں کی طرح انہوں نے بھی 1989ء میں گوادر کے جدید اسکول میں داخلہ لیا اور 2002ء میں اپنے میٹرک کا امتحان پاس کرنے تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004ء میں حکومت کے زیر انتظام سید ہاشمی ڈگری کالج گوادر سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد 2008ء میں انہوں نے بی اے پرائیویٹ طور پر کیا۔ وہ ایک اچھے اور محنتی طالبعلم تھے جنہوں نے اچھی طرح سیکھنے کیلئے بہت محنت کی؛ وہ سیاسی ادب میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ جدید سکول میں ایک طالبعلم تھے تو دیگر بہت سے طلباء کی طرح عبد القیوم نے بھی نو سال کی نوعمری میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) میں شمولیت اختیار کی۔ بی ایس او میں شمولیت باعث فخر سمجھی جاتی تھی۔ تاہم ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر جب انہوں نے بی ایس او میں شمولیت اختیار کی تھی تو اس میں شمولیت کرنا ایک عام رواج تھا لیکن جب انہوں نے سیاسی لٹریچر پڑھا اور سینئر ارکان کی تقاریر اور مذاکرے سنے تو وہ سیاسی طور پر بالغ ہوئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ بی ایس او کی سرگرمی محض ایک غیر سنجیدہ تفریح نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے، ہراس بلوچ کیلئے جسے اپنے مادر وطن سے محبت ہے اور جو پاکستان کی نا انصافیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔
سن 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں بی ایس او مختلف دھڑوں اور رہنماوں کی تقلید میں بٹی ہوئی تھی جو بلوچ مسئلے کے حل کیلئے مختلف پالیسیوں اور نقطہ ہائے نظر کی وکالت کیا کرتے تھے۔ اس تقسیم نے نوجوانوں کے ذہنوں میں بہت سارے شکوک و شبہات پیدا کیے کہ آیا بی ایس او اس سے کیا حاصل کرلے گی اور کیا یہ اپنے قومی حق خود ارادیت کی راہ پر رہنے کے قابل رہے گی جو کہ اس کا بنیادی مقصد تھا۔
مشرف اور ان کے میگا پراجیکٹس کی آمد کیساتھ پالیسیوں پر اختلافات میں اضافہ ہوا چونکہ کچھ لوگ ان نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر اللہ نذر نے محسوس کیا کہ یہ منصوبے ان کے مفادات کے برخلاف آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی لانے اور ان سماجی قوتوں، جو بلوچ معاشرے کی تاریخی طور پر سیکولر سماجی اقدار کی مخالفت کریں گی، کو یہاں لانے کی ایک چال سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں ہیں۔ 2002ء میں بحث و تکرار اور ساز باز سے تنگ آکر ڈاکٹر اللہ نذر نے تربت کے پارک ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کی اور نظریاتی بنیادوں پر موجودہ بی ایس او کی تقسیم کا اعلان کیا اور بی ایس او- آجوئی کے قیام کا اعلان کیا۔ بلوچی میں آجوئی کا مطلب آزادی ہے اسی لئے ان کا گروہ بی ایس او- آزاد کے طور پر جانا جانے لگا۔ اس بارے میں خود قیوم، وہ اس کے بانی ارکان میں سے ایک تھے، کا کہنا تھا کہ ان سمیت بی ایس او گوادر زون کے صرف 7 ارکان تھے جنہوں نے شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے بی ایس او- آزاد کو سب سے زیادہ مقبول اور موثر طلباء تنظیم بنانے میں انتھک محنت کی۔ یہ امر صرف یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ زبردست مشکلات کیخلاف اور ناموافق حالات میں جدوجہد سے آشنا تھے اور یہ بات ان کی زندگی اور موت سے اچھی طرح ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان اپنی استحصالی پالیسیوں اور نقصان دہ میگا پراجیکٹس کیخلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت سے حواس باختہ ہو گیا تھا اور اسکی عسکری موجودگی کے اضافے سے بلوچ جدوجہد کو ڈرانے اور ناکام بنانے کیلئے 2008ء میں ’مارو اور پھینک دو‘ کی پالیسی کے تحت بلوچستان میں بلوچ کارکنوں کے جسمانی خاتمے کی ایک منظم پالیسی کا آغاز ہوا۔ بی ایس او- آزاد چونکہ بلوچ عوام کے حقوق کی جدوجہد میں سب سے آگے تھی اور اسی سبب فرنٹیئر کور، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ان کی معاونت سے چلنے والے ’ڈیتھ اسکواڈز‘ کا اہم ہدف بن گئی۔
Comrade Abdul Qayyum Baloch
بلوچ حقوق کی جدوجہد کیلئے ان کی محنت اور لگن کے باعث کامریڈ قیوم بلوچ بی ایس او- آزاد کی مرکزی کمیٹی کے رکن بنے۔ انہوں نے شادی کی اور انکے دو بچے ہوئے، ایک بیٹا حیربیار اور ایک بیٹی شفا۔ اپنے آپ کو بلوچ جدوجہد کیلئے وقف کرنے نے انہیں پاکستان کیلئے ایک ہدف بنادیا جو انہیں خاموش کرنا چاہتا تھا۔ 11 دسمبر 2010ء کو انہیں گوادر میں اپنے چچا کے گھر سے پاکستانی ریاستی ایجنسیوں کی طرف سے اغواء کیا گیا۔ دو ماہ بعد 10 فروری 2011ء کو ان کی بری طرح سے مسخ شدہ لاش ہیرونک ضلع تربت سے ایک اور بلوچ سرگرم کارکن جمیل یعقوب بلوچ، جو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے رکن تھے، کیساتھ پائی گئی۔ بلوچ کی جانب پاکستان کا جبر بلاامتیاز رہا ہے اور یہ جبر محض ان لوگوں تک محدود نہیں جو آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ یہ اسے ان تمام لوگوں کیخلاف بروئے کار لاتا ہے جو بلوچ عوام کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
Qayyum_Grave
ان کی شہادت کے بعد انہیں گوادر میں ذکری فرقے کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ تین بار ان کے قبر کی بے حرمتی کی گئی ہے اور وہاں بلوچستان کی آزادی کے لہراتے پرچم کو جلایا گیا۔ ان کی قبر پر ”کافر، کافر ذکری کافر“ کی تحریر درج تھی۔ بلوچستان میں ذکریوں کیخلاف کوئی تعصب نہیں ہے؛ حکومت کے حمایت یافتہ مذہبی گروہ ذکریوں کے قتل اور اس طرح کے غلیظ جرائم میں ملوث ہیں۔ حمید بلوچ، ثناءسنگت، قمبر چاکر، الیاس نذر، سلیمان عرف شیہک، رضا جہانگیر، ڈاکٹر منان بلوچ اور دیگر سینکڑوں بلوچ نوجوان جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں، کامریڈ عبدالقیوم بلوچ کی طرح مادر وطن اور بلوچستان کی آزادی کیلئے محبت کی علامت ہیں۔ ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائینگی۔
مصنف 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

воскресенье, 6 марта 2016 г.

مہرگڑھ کی تہذیب علی گڑھ کے لونڈوں کی باقیات سے ہضم نہیں ہوتی

جون ایلیا نے بھی کیا خوب کہا تھا کہ ’’پاکستان یہ سب علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی ۔ ‘‘ علی گڑھ کے لونڈوں کے وارث جوکہ اپنی تاریخ و آباؤ اجداد سے اس قدر شرمندہ ہیں کہ وہ اپنی جڑوں کو بُھلا کر اپنی شناخت کبھی عربوں، ایرانیوں، افغانوں اور نجانے کس کس میں ڈھونڈتے نظر آتے ہیں ۔ علی گڑھ کے شرارتی لونڈوں کے پوتے نواسے نومولود غیر فطری ریاست پاکستان کے نام نہاد قلمکار و تاریخ دان بن کر مہر گڑھ کی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب وتمدن کے وارثوں (بلوچوں کوغیر مہذب لکھ کر اپنی احساس کمتری کو چُھپانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔
فرانز فینن ’ نسلی عصیبت اور ثقافت‘ کے موضوع پر خوب لکھتے ہیں کہ ’’ فرد کو منطقی طور پرکمترثابت کئے بغیراُسے غلام بنائے رکھنا ممکن نہیں‘‘
قابض قومیں ہمیشہ محکوم اقوام کو خود سے کمتر ظاہر کرنے کے لئیے مختلف کوششیں کرتی ہیں چاہے تاریخ کو توڑ مروڑ کے مسخ شدہ حالت میں کتابوں میں شائع کیا جائے۔ اخباروں کےذریعے یا پھر ٹی وی کا سہارا لے کر ڈراموں میں محکوم اقوام کو مذاق کا نشانہ بنانا کر اُنہیں غیر مہذب و نیچا دکھایا جاتا ہے اور خود کو مہذب ، اٖفضل و اعلٰی قوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ویسے تو ایسی بے تحاشہ مثالیں موجود ہیں کہ پاکستان کے نام نہاد دانشور بلوچ قوم و بلوچستان کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں مگر اس کی ایک او ر واضح مثال گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا میں گردش کررہی ہے پنجاب بورڈ کی انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کی ’’ سوشیالوجی آف پاکستان کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب میں بلوچ قوم کا تعارف نفرت انگیز طریقے سے مصنف نے کچھ یوں کیا ہے۔
8e276514-5911-4d99-b3b6-eef0470215d3
۔۱غیر مہذب لوگ جو ہمیشہ لڑائی اور مار دھاڑ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
۔۲یہ لوگ صحراؤں میں رہتے ہیں اور قافلوں کو لوٹتے ہیں ۔
قبضہ گير کا بنيادی فلسفہ اور طريقہ کار يہی ہوتا ہے کہ نفسیاتیجنگ ميں شدت لاکر محکوم قوم کے اندر يہ احساس بڑھ جائے کہ وہ جاہل ٬ بے تعليم ٬ بے ہنر٬ غير مہذب ہے جبکہ آقا جس نے قوم کو غلام رکها ہے وہ تہذيب يافتہ ٬ ترقی يافتہ اور زندگی کے ہر شعبے ميں اعلیٰ ہے ۔ یعنی غلام قوم اپنے آپ کو پيدائشی طورپر محروم تصور کرے۔
بلوچوں کی آزاد ریاست کو قبضہ کرنے کے بعد گذشتہ سرسٹھ سالوں سے مار دھاڑ تو پنجابی قابضین کرتے چلے آرہے ہیں ، گھروں پر بمبارڈمنٹ ، دیہاتوں کو صفحہِ ہستی سے مٹانا ، ہزاروں نوجوانوں کو لاپتہ کرنا، ہزاروں کو حراستی قتل کے بعد اُنکی لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنا ۔۔۔۔ریاست کے یہ سارے مکروہ اعمال ،عالمی قوانین و انسانی اقدار سے کوسوں دُور ہیں جو کہ قابض قوم کو کسی بھی طرح مہذب نہیں کہہ سکتی۔
بلوچوں کی سر زمین بلوچستان نہایت وسیع و کشادہ ہے جس میں صحرا بھی ہیں، پہاڑی علاقے ، سمندری علاقے ، چٹیل و سر سبز و شاداب میدان بھی ہیں ، ہمیں اپنی سرزمین کے ہر حصے سے محبت ہے ۔ مصنف اسلام آباد و لاہور کی عالیشان عمارتوں میں بیٹھ کرہمارے بلوچوںبارے میں طنزیہ و حقارت بھرے لفظوں کا چناؤ کرکے فرعون بن کر ہماری زبوں حالی کو نشانہ بناتے ہوئے کہتا ہے کہ بلوچ صحراؤں میں رہتے ہیں۔
54504168-7cba-4702-900b-63db88229fee
مگر موصوف میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ یہ اقرار کرسکے کہ اُن صحراؤں اور پہاڑوں میں رہنے والوں کے قدرتی وسائل کو مصنف کی قوم قابض قومگزشتہ سرسٹھ سالوں سے لوٹتی آرہی ہے تم جس عالیشان عمارت میں بیٹھ کر صحرا والوں کا مذاق اُڑ رہے ہو وہ بھی اُنہی کے وسائل کو بے دریغ لوٹ کر ممکن ہوا ہے۔
تیس لاکھ معصوم بنگالیوں کا قتلِ عام تم نے کیا تھا بلوچوں نے نہیں۔۔۔۔۔۔۔ تو غیر مہذب کون ہوا؟
تین لاکھ مسلمان بنگالی لڑکیوں و عورتوں کی عصمت دری تم نے کی تھی بلوچوں نے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو غیر مہذب کون ہوا؟
افغانستان کی تین نسلیں و امن تم نے برباد کیا ہے بلوچوں نے نہیں ۔۔۔۔۔۔ تو لڑائی اور مار دھاڑ کرنے والا کون ہوا؟
بھارت میں پراکسیز کے ذریعے شرارتیں تم کررہے ہو ، بلوچ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو امن کا دشمن کون ہوا؟
سندھیوں، پشتونوں اور سرائیکیوں کے حق پر ڈاکہ تم نے ڈالا ہے ، بلوچوں نے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دوسروں کے وسائل کو لوٹنے والا کون ہوا؟
بے سہارا لڑکیوں اور عورتوں پر آوارہ کتے پنجاب میں چھوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔ بلوچستان میں نہیں ۔۔۔۔۔ تو غیر مہذب کون ہوا؟
لڑکیوں کے ناک پنجاب میں چوہدری کاٹتے ہیں ۔۔۔۔۔ بلوچستان میں ماؤں ، بہنوں کو عزت و احترام حاصل ہے ۔۔۔۔ تو غیر مہذب و جاہل کون ہوا؟
کمسن لڑکوں کے ساتھ جسمانی زیادتی کا واقعہ پنجاب کے شہر قصور میں ہوا تھا ، بلوچستان کے شہر پنجگور میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ تو انسانی اقدار سے حاری غیر مہذب کون ہوا؟
ہیرا منڈی بھی پنجاب کے سر کا جھومر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ تو واقعی میں بہت مہذب و غیرت مند نکلے
مذہبی انتہا پسندی کے مراکز پنجاب میں ہیں، بلوچستان میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو شدت پسند کون ہوا؟
اپنی شناخت سے تم شرمندہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بلوچ نہیں
غیروں میں اپنا ڈی این اے تم تلاش کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔ بلوچوں کو اپنے قومی شناخت پر فخر ہے۔
تمہاری نصف آبادی عرب، اور بقایا ایرانی، افغان و ترک بننے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ ا ور آپ چلیں ہیں بلوچوں کو تہذیب سکھانے
بیرونی قوتیں جب بھی بلوچ سرزمین پر حملہ آور ہوئے ہیں تو بلوچستان کے بہادر سپوت آخری حد تک اپنی قومی تشخص کے لئیے لڑے ہیں، تُرک ، پُرتگیز، انگریز یا دیگر، بلوچوں نے سبھی سے لڑ کر اپنے وطن کی حفاظت کی ہے تو یہ بات علی گڑھ کے لونڈوں کی باقیات کو بھی سمجھ لینی چائیے کہ ہزاروں سالہ قدیم تہذیب مہرگڑھ کے وارث اپنے سرزمین کی آزادی کے لیےقابض ریاست سے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔

воскресенье, 31 января 2016 г.



بلوچ رہنما ڈاکٹر منان بلوچ کے قتل پر بلوچ تنظیموں کا ردعمل       

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کی چار ساتھیوں ساجد بلوچ، اشرف بلوچ ، حنیف بلوچ اور بابو نوروزبلوچ کی شہادت کے خلاف بلوچستان کے مختلف تنظیموں اور رہنماؤں نے اپنی مزاحمتی بیان میں شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کی ہے اور پاکستانی حکومت کے اس اقدام کی سخت الفاظوں میں مزاحمت کی ہے۔ریاستی فورسز نے ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ہفتہ ۳۰ جنوری کو مستونگ کے علاقے کلی ڈہ میں سفاکانہ قتل کیا ۔


ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت سے تحریک ایک نہایت قابل سیاسی رہنما سے محروم ہوچکی ہے ، بی این ایم کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی بھرپور حمایت کرتے ییں – شیر محمد بگٹی
( ریپبلکن نیوز )بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے مستونگ میں فوجی آپریشن کے دوران بلوچ سیاسی رہنما اور بی این ایم کے مرکزی سیکٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کی چار ساتھیوں ساجد بلوچ، اشرف بلوچ ، حنیف بلوچ اور بابو نوروزبلوچ کی شہادت کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ شہید منان بلوچ اور ان کی ساتھیوں کی شہادت سے بلوچ قومی تحریک ایک نہایت قابل سیاسی رہنما سے محروم ہوچکی ہے جس سے ایک خلاء پیدا ہوگئی ہے جسے شاید کبھی پر نہ کیا جاسکے لیکن ان کی قربانی سے بلوچ قومی جدوجہد مزید مضبوط ہوگی۔ ریاست نے ہمیشہ سے کوشش کی کہ بلوچ قومی رہنماوں کو شہید کرکے بلوچ قومی تحریک کو ناکام بنائے لیکن وقت نے ہمیشہ ثابت کیا اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے واقعات سے ناکامی کا سامنا صرف اور صرف ریاست کو ہی ہوا ہے جبکہ بلوچ تحریک ایک مضبوط اور منظم قوت بن کر ابھری ہے جس کی مثال شہید اعظم نواب اکبر خان بگٹی، شہداء مرگاپ شہید غلام محمد بلوچ، شہید شیر محمد بلوچ، شہید لالا منیر، شہید جلیل ریکی اور شہید ثناہ سنگت جیسے عظیم رہنماؤں کی شہادت کے بعد بلوچ قوم میں شعوری بیداری اور بلوچ قومی تحریک میں جوق در جوق شمولیت نے دشمن کو نفسیاتی شکست سے دوچار کیا۔ بی آر پی شہید ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کی ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ ان کی جدوجہد اور قربانی کو بلوچ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔ بلوچ ری پبلکن پارٹی عالمی برادری اور مہذب ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم و بربریت کا نوٹس لیں اور پاکستان کی تمام بین الاقوامی امداد کو فوری طور پر بند کرکے اسے بین الاقوامی سطح پر بلوچ قوم کی نسل کشی پر جوابدہ کریں۔ بی آر پی بی این ایم کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کال کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔


منان بلوچ کی شہادت بلوچ قوم کے لیے یقینا ایک عظیم سانحہ ہے,مہران بلوچ
جینیوا(سنگر نیوز)جینیوا: اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانے حقوق میں بلوچ قومی نمائندہ مہران بلوچ نے بلوچ سیاسی رہنما ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی قابض ریاستی فورسز کے ہاتھوں شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستانی فوج اور حکومت نے بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے، باالخصوص بلوچ سیاسی رہنماوں و کارکنوں اور دانشوروں کے قتل عام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت بلوچ قوم کے لیے یقینا ایک عظیم سانحہ ہے لیکن ڈاکٹر منان اور ان کے ساتھیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ان کا خون ایک آذاد بلوچ ریاست کی شکل میں ضرور رنگ لائے گاانہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اپنے بنائے گئےدہشتگرد تنظیموں کے ذریعے اپنے ہی نام نہاد تعلیمی اداروں پر حملے کرواتا ہے تاکہ عالمی براردی کو بیوقوف بناکر ان تنظیموں کےلئے عالمی برادری سے مزیر رقم اکٹھا کرکے ان کی فنڈنگ کو جاری رکھ سکے لیکن دوسری طرف بلوچ قوم جن پر ایک جامع منصوبے کے تحت پہلے سے ہی تعلیم کے تمام دروازے بند کئے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بڑی مشکل حالات میں تعلیم حاصل کی انہیں ریاستی مسلح ادارے بڑی بے دردی سے قتل کررہے ہے یہ بلوچ قوم کی نسل کشی اور اکیسویں صدی کی ہولوکاسٹ ہے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے زیر سایہ چلنے والے ریاستی ڈیتھ سکواڈ کے ہاتھوں بلوچوں کا قتل ایک لمبے عرصے سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے لیکن گوادر پورٹ، راہدری منصوبے کو کامیاب بنانے اور چین کو باور کرانے کے لیے کہ سب کچھ ہمارے کنڑول میں ہے اس تسلسل میں تیزی لائی گئ جس میں لوگوں کے گھروں کو جلانا، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں سے سول آبادیوں پر بمباری کرنا، خواتین کا اغوا اور بلوچ سیاسی کارکنوں و رہنماوں کو ہدف بنا کر قتل کرنا شامل ہے، پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ہر اس بلوچ کو قتل یا غائب کردتیے ہیں جو اپنے ملک و قوم کے لیے درد رکھتا ہومہران بلوچ نے کہا کہ پاکستانی فوج وردی میں ملبوس ایک منظم دہشتگرد ادارہ ہے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچوں کے قتل عام میں ملوث ہے ہم اقوام متحدہ، بین الاقوامی براردی اور انسانی حقوق کے تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے ہاتھوں بلوچوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔


ڈاکٹر منان بلوچ اور ساتھیوں کی شہادت بی این ایم کے اجتجاجی شیڈول کی حمایت کرتے ہیں ،بی ایس او آزاد
کوئٹہ (سنگر نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ و ساتھیوں کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے خلاف بی این ایم کے احتجاجی شیڈول کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت بلوچ قومی تحریک کے لئے ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت سے بلوچ سیاست میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا جسے پورا نہیں کیا جا سکتا۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ ریاست بلوچ قومی مستقبل کو نیشنل پارٹی، سردار ثنا ء اللہ و ان جیسے دیگر گماشتوں کے ہاتھوں دینے اور اپنی لوٹ مار جاری رکھنے کی غرض سے بلوچ رہنماؤں کو چھن چھن کر شہید کررہی ہے، ڈاکٹر منان بلوچ و ساتھیوں کی شہادت بلوچ سیاسی کارکنوں کو راستے سے ہٹانے کی ریاستی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ سیاسی لیڈران کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی فورسز کئی سیاسی لیڈران و کارکنان کو اغوا و ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کر چکا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ریاست بلوچ قومی مستقبل پر وار کرنے کی ناکام کو شش کررہا ہے، قابض ریاست و اس کے گماشتوں کو یہ حقیقت جلد یا بدیر تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈاکٹر منان بلوچ و عظیم بلوچ شہدا کی قربانیاں ریاستی عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچ سیاسی کارکنوں کی قتل سے قابض اپنے مزموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتا کیوں کہ عظیم بلوچ شہدا کی قربانیاں عام بلوچ کے لئے آزادی کی تحریک کو مقدس بنا چکے ہیں۔بلوچ شہدا کے لہوکا وارث ہزاروں سالوں سے اپنی زمین کی حفاظت کرنے والے بلوچ عوام ہیں ، قابض ریاست سمیت کوئی بھی طاقت بلوچ عوام سے ان کے آزادی پسندی و سرزمین سے والہانہ وابستگی کے جذبے کو ختم نہیں کر سکتی۔بی ایس او آزاد نے تمام زونوں کو تاکید کی کہ وہ 31جنوری، یکم اور دوئم فروری کو بلوچستان میں شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کے بی این ایم کی کال کو کامیاب بنائیں۔


بلوچ سیاسی رہنماؤں کو شہید کر کے قومی تحریک کو کچلنے کا ریاستی خواب احمقانہ ہے ،بی آر ایس او
کوئٹہ (سنگر نیوز)بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان حمدان بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر منان بلوچ اور انکی ساتھیوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ سیاسی رہنماؤں کو شہید کر کے قومی تحریک کو کچلنے کا ریاستی خواب احمقانہ ہے ۔ہزاروں بلوچ کارکنوں اور رہنماؤں کی شہادت کے باوجود بلوچ قومی تحریک اپنی منزل کی جانب روادوں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہادتوں سے قومی تحاریک کا خاتمہ ممکن نہیں۔ڈاکٹر منان بلوچ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مستونگ کے دورے پر تھے جہاں ریاستی فورسز نے کلی دتوں کے مقام پر ایک گھر میں موجود بی این ایم کے رہنماء ڈاکٹر منان اور انکے ساتھیوں پر حملہ کر دیا جس سے ڈاکٹر منان ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔بی آر ایس او کے ترجمان نے شہید ڈاکٹر منان بلوچ ،اشرف بلوچ،ساجد بلوچ،بابو بلوچ اور حنیف بلوچ کو انکی عظیم قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے بلوچ گلزمین کی خاطر اپنی قیمتی جانیں قربان کر دیں۔حمدان بلوچ نے مزید کہا کہ ریاستی فورسز نے 27-28تاریخ کی درمیانی شب نوشکی میں بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مر کزی رہنماء نظیر جمالدینی کو غواء کر لیا جو تاحال لاپتہ ہے۔ ترجمان نے انسانی حقوق کے بین القوامی اداروں سے پُر زور اپیل کر تے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی اغواء اور شہادتوں کا فوری نوٹس لیں۔

ڈاکٹر منان بلوچ ایک عظیم جہدکار، مدبر سیاست دان، مستقل مزاج اور نہ جھکنے والے سیاسی رہنما تھے،اُستاد واحد قمبر بلوچ
کوئٹہ (سنگر نیوز)ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما واجہ واحد قمبر بلوچ نے اپنے ایک پیغام میں بی این ایم کے رہنما ڈاکٹر منان بلوچ کے ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچ عوام کو متحرک کرنے میں ایک اہم کردار تھے۔ ان کی شہادت بلوچ جد و جہد آزادی کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے مگر یہ جد و جہد بلوچ وطن کی آزادی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منان بلوچ ایک عظیم جہدکار، مدبر سیاست دان، مستقل مزاج اور نہ جھکنے والے سیاسی رہنما تھے۔ جنہوں نے بی این ایم کے پلیٹ فارم سے عظیم قربانیاں دی ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انہیں بلوچ جہد آزادی میں بے لوث خدمات پر خراج تحسین اور ساتھی شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹرمنان نے سیاسی سفر میں اپنے ذاتی مفادات، روزگار اور گھر بار چھوڑ کر بلوچ وطن کی آزادی میں ہمہ تن گوش ہوکر نوجوانوں کیلئے ایک خوبصورت مثال قائم کی ہے۔انہوں نے جس مہارت اور اپنی صلاحیتوں سے بلوچ عوام کو متحرک کرنے میں کردار ادا کیا، اس کی مثال ناپید ہے۔اس سفر میں انہوں نے بلاخوف اور بہادری سے حالات کا سامنا کیا اور کبھی خاموش نہیں رہے، یہ عظمت انہیں دوسروں سے یکتا کرتی ہے۔ بلوچ جد و جہد قربانی اور شہادتوں سے بھری ہے لیکن بلوچ قوم نے قبضہ گیر پاکستان کے سامنے سر نہیں جھکایا ہے۔ جدو جہد و قربانیوں کے تسلسل کو کو بر قرار رکھ کر ہی ہم اپنی منزل پاسکتے ہیں۔ 1948 سے لیکر آج تک ہزاروں جوان، بوڑھے، خواتین و بچے اس راہ میں شہید و بیگواہ ہوچکے ہیں مگر قابض قوتیں بلوچ تحریک کو نہیں روک سکے ہیں۔

بلوچ نیشنل موومنٹ (شہید غلام محمد)ُکے مرکزی ترجمان کے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شہید ڈاکٹر منان بلوچ ایک اعلی تعلیم یافتہ زہین و بہترین رہنما تھے ڈاکٹر صاحب کی جدائ بلوچ سیاسی جہدکاروں کیلئے ایک عظیم صدمے سے کم نہیں اور ڈاکٹر صاحب کی شہادت اس ریاستی جبر کا تسلسل ہے جس میں ہمارے شہید قائد واجہ غلام محمد اوردوسرے انگنت رہنماؤں اور کارکنوں کو بےدردی سے شہید کرکے قومی آزادی کی تحریک کو سنگینوں کے زور پر کاؤنٹر کرنا ہے . ترجمان نے مزید کہا کہ ریاستی ظلم و ستم اب اپنے انتہاؤں کو چھو رہی ہے .بلوچستان کے طول وعرض میں روزانہ کی بنیادو پر یورش و آپریشن بہت تیزی سے جاری ہے اور مختلف حربوں سے تمامتر انسانی حقوق کو پاؤں تلے روندھا جارہا ہے .مظلوم ومحکوم بلوچ قوم کے ان رہنماؤں کی شہادت اس نازک گھڑی میں قومی نقصان کےمترادف ہے .ہم شہید ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے عظیم شہید ساتھیوں کو خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتے ہیں