Powered By Blogger

среда, 5 июля 2017 г.

 بابو نوروز .... بیوروچیف سنگر
بلوچ آزادی پسند قومی رہنما میر عبدالنبی بنگلزئی سے ادارہ ’’سنگر میڈیا گروپ‘‘ نے ایک نامعلوم مقام پر ایک خصوصی انٹرویو لیا تھا۔جس کی آڈیو بھی جلد نشر کی جائے گی،یہ انٹرویو اپنے اندر ایک مکمل و خصوصی حیثیت رکھتی ہے اور میر صاحب کے اب تک کی سب سے اہم اورنایاب ترین انٹرویومیں شمار ہوتا ہے جس میں بلوچ تحریک کے مختلف جہتوں کا تفصیلی و جامع اور حقیقیگوشے شامل ہیں۔ کافی عرصے سے کئی ای میل و دیگر ذرائع سے بلوچ قوم کی خواہش رہی کہ میر صاحب کا انٹرویو کیا جائے جس پر آج ہم کامیاب ہوئے ہیں۔ہم جناب میر عبدالنبی بنگلزئی صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس جنگی حالات میں جوبلوچستان کا ہر حصہ فوجی آپریشن کی زد میں ہے اوربلوچ عسکری قیادت بشمول تنظیمیں جو دشمن سے دو بدو صف آراء ہیں اوراپنی حکمت عملی کے تحت اپنا لوکیشن بھی بدلتے رہتے ہیں اس پر آشوب لمحے میں اپناقیمتی وقت نکال کر انٹرویو دینا یقینایہ سنگر کیلئے باعث شرف ہے۔ادارہ
سنگر :میر صاحب آپ کی جہد کا آغاز کب اور کیسے شروع ہوا؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:یہ میرے طالب علمی کے دور سے جب میں کالج میں داخل ہوا،تومیرا سیاست میں دخل ہوا۔1967 میں میں کالج میں داخل تھا بی ایس او نیا نیا بنا تھا۔بی ایس او کا مستونگ میں زونل سیکریٹری بنا،پھر اسی دوران، پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف ایک تحریک اُٹھی۔صوبائی خود مختاری کے لیے، بی ایس او بھی اس کا حصہ تھا،وہیں سے میری شمولیت اورحصہ داری ہے۔یہ سلسلہ وہیں سے شروع ہے، آخر آ کر اِس وقت تک وہی سلسلہ ہے۔ پھر مختلف مراحل آئے جیسے کہ سب کو معلوم ہے،ون یونٹ توڑ دیا گیا ،صوبے بنے،،انتخابات ہوئے،پاکستان میں ،عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں کامیابی حاصل کی، بلوچستان اور صوبہ سرحد، موجودہ پختون خواہ میں نیشنل عوامی پارٹی نے اکثریت حاصل کی،آخر پاکستان ٹوٹا بنگلہ دیش آزاد ہو گیا،یہاں صوبائی حکومتیں بنیں،صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اورجمعیت علماء اسلام مفتی محمود انکی مخلوط سرکار بنی،یہاں نیشنل عوامی پارٹی کی متحدہ حکومت بنی،جمعیت علما اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی۔73 میں حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا جب سردار عطااللہ وزیر اعلیٰ تھا،لیڈر شپ گرفتار ہوا،صوبہ سرحد کے حکومت نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دیا، اب یہاں پر پاکستانی حکمرانوں نے فوج کشی شروع کی۔ یہاں جنگی حالت پیدا ہوگئے۔ میں لاہور میں انجینئر نگ یونیورسٹی میں طالب علم تھا،ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے،میں بھی اسی جہد میں شامل ہو گیا،مختصرا یہی ہے جو آج تک ہے۔
سنگر :آپ کی سیاست جو بی ایس او سے شروع ہوئی تھی اور وہاں آپ کی صلاحیتوں سے آپ کو بہت بڑا مقام ملا تھا ۔ صرف بی ایس او میں نہیں بلکہ پوری قوم نے آپ کی خدمات اور ایمانداری کو سراہا ۔ وجہ کیا تھی کہ بی ایس او سے فراغت کے بعد اس وقت کے سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونے یا نئی سرفیس پارٹی بنانے کے بجائے مسلح جدو جہد میں شامل ہوگئے؟ آپ کو پاکستان کی غلامی کے سائے میں سرفیس سیاست اور مسلح جدو جہددونوں میں دہائیوں کا تجربہ ہے۔ کون سا راستہ بلوچ کیلئے پاکستان کے خلاف فائدہ مند ہے ؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:مختصر جواب دینا پڑے تو بہتر ہے ....ہم دیکھتے ہیں کہ بلوچستان ایک مقبوضہ علاقہ ہے ،کوئی اپنی خوشی سے غلام نہیں بنتا ،زوراک ، طاقتور کمزوروں کو اپناغلام بناتے ہیں ،اور غلامی سے چھٹکارے کیلئے ظاہر ہے اپنی طاقت برابر......جب تک برابر طاقت نہیں ہوگا تو وہ آزاد نہیں ہوسکتا۔ہم نے یہی سمجھا سرفیس سیاست یا سرفیس پارٹی میں شمولیت ،یہاں اس کا امکان ہم نے سمجھا کہ نہیں ہے،.ویسے اس سے انکار نہیں ،وہ بھی ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ..مگر ہمارے حالات..ہمارا سماج اور جو معروضی حالات یہاں کے ہیں ،یہاں وہ میل نہیں کھاتے ہیں ،ہماری آبادی ،ہمارا علاقہ ،ہمارے لوگ تو یہ سب چیزوں کو دیکھیں ، یہی ایک طریقہ جو ہمارے روایت ہمارے پاس نہ کوئی بڑے شہر ہیں ،ہم دیہاتی لوگ ہیں ،ہمارے لوگ ابھی تک خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہیں ،تو یہاں جلسہ ،جلوس یہ چیزیں .....لوگ بھی ان کو نہیں جانتے یہ طریقہ یہاں کامیاب نہیں ہے، اس لئے ہم نے عہدکیامسلح جدو جہد کیلئے .....اور یہی سمجھے کہ یہی ایک طریقہ ہے .....ظاہر ہے فوجوں کے سامنے ہاتھ باندھنے سے آزادی نہیں ملے گی ،جب تک اسی طرح کا جواب نہ دیا جائے ،اسی لئے مسلح جدوجہد میں میری شمولیت ہے ،وہ عہد کیا میں نے اس کیلئے ،مختصر اً میں یہی کہہ سکتا ہوں ۔
سنگر :مجبوریاں کیا تھیں جوآ پ کو افغانستان میں جلاو طنی اختیار کرنا پڑا، اس ہجرت کے اہم مقاصد کیا حاصل ہوئے ؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:جہاں تک مجبوریوں کی بات ہے ۔مجبوری تو یقیناجو یہاں کے حالات تھے۔اور یہ کہ میں نے کوئی ہجرت کی،میں یہیں پر رہا ہوں۔اور اپنے علاقے میں رہا ہوں ۔افغانستان اگر میں کھبی گیا ہوں تو اپنے دوستوں کے بلاوے پر یا کسی خاص مقصد کیلئے ، کچھ وقت کے لئے ،میں وہاں پر کسی ہجرت کیلئے نہیں گیا ۔اگر ہمارے لوگ گئے ہیں یقیناًیہاں کے جو حالات ہیں انہی کی وجہ سے ۔یہاں پرجو ظلم و جبر تھااس سے بچنے کیلئے کچھ لوگوں نے ہجرت کی ہے اور افغانستان چلے گئے ۔جہاں تک میرا سوال ہے میں نے کوئی ہجرت نہیں کی تھی۔افغانستان میں کبھی گیا ہوں اپنے تنظیم یا دوستوں کے بلاوے پر کام کے حوالے سے گیا ہوں اور واپس آیا ہوں۔یہ کہنا کہ ہم نے کوئی ہجرت کی وہاں گیا ہوں رہائش کیلئے ، نہیں۔
سنگر :افغانستان سے مقبوضہ بلوچستان واپسی کیسے ہوئی؟ کیاقابض سرکار کا نرم گوشہ تھا، حالات نارمل ہوگئے تھے یا کوئی اور حکمت عملی تھی؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:افغانستان سے واپسی ،ان دنوں میں بھی گیا ہوا تھا وہاں پر ،دوستوں کے بلاوے پر ،واپسی ہوئی وہاں کے حالات ،افغانستان میں جو تبدیلی ہوئی ،وہاں کی جو حکومت تھی ،وہ حکومت قریباً ختم ہوگئی۔،ایسے لوگ آئے جو ہمارے ساتھ ان کاکوئی ہمدردی نہیں تھاوہ پاکستان کے دوست تھے ۔اب ہمارے لوگوں کاوہاں رہنا بہت مشکل ہوگیا،تو ظاہر ہے ایسے حالات میں کوئی اور آپشن نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوگ واپس آئیں۔اور نرم گوشہ...... یقیناًیہاں بلوچ کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں تھا اور کھبی انہوں نے یہ ظاہر کیا ہوگا تو اپنی حکمت عملی کے تحت،ورنہ کوئی نرم گوشہ نہیں تھا ۔ہمارے پاس حکمت عملی ،وہ صرف لوگوں کا اپنے آپ کا..... ہم سمجھتے ہیں کہ حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں تھی اور وہ ابھی تک چل رہی ہے وہی چیز ہے ۔
سنگر :پاکستانی فورسز نے آپ کو اور آپ کے ساتھی عالم پرکانی کوکیوں گرفتار کیا؟ دوران تفتیش سوالات کی نوعیت کیا تھی؟ ریاست کے مطالبات کیا تھے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:یقیناًہماری گرفتاری اس کی وجہ جو تھی ہماری مزاحمت، جو یقیناپاکستانی ریاست کادشمن ہے اسی لئے اس کا گرفتار کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔تو اس نے گرفتار کیا ،حالات بھی کچھ ایسے نہیں تھے ،افغانستان سے واپسی پر یہاں پر الیکشن ہوئے ،ایک دو دفعہ الیکشن ہوئے ، انہوں نے،فوج نے مجھے بلایاکہ ہمارے پاس آئیں حاضری کیلئے ،میں نے انکار کیاکہ مجھے آپ سے کوئی کام نہیں ہے۔ان کو یہ چیز پسند نہیں ،کہ میں ان کا سلامی نہیں ہوتا۔ تو انہوں نے کوئی بہانہ بناکر کسی اغوا کا کیس بنا یا کہ افغانستان میں کوئی کمانڈر تھا جو انکا دوست تھا وہ اغوا ہواتھا،تو اس کی کیس میں انہوں نے مجھے پکڑا تو کوئی ایسا مطالبہ ان کا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں ۔مقصد ان کا صرف یہی تھا مطالبہ ان کا.... باقی فروہی...پھر انہوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے قتل کا کیس ڈال دیا،راکٹ فائر ڈال دیا،بم دھماکے ،بہت سارے کیسز انہوں نے ہمارے خلاف بنائے محض ہمیں جیل میں رکھنے کیلئے.....نتیجہ جو نکلا کچھ بھی نہیں تھا ،وہ صرف ہمیں یہ سزا دینا چاہتا تھا کہ تم کیوں ہمارے پاس حاضری نہیں دیتے۔باقی ان کے سوالوں کا یقیناایسے حکمران جو نو آباد کار ،نوآبادیاتی قوتیں جو سوال کرتے ہیں وہ یہی ہے کہ لوگوں کو اپنا مطیع بنائیں ،تو میں اس سے انکاری تھا تو انہوں نے مجھے جیل میں رکھانو آٹھ سال ،.پھر آخر کار انہوں اپنے کچھ کیسز ڈراپ کئے ،پھر جسٹس نوازمری کا کیس تھاوہ انہوں نے ڈراپ کیا...داخل دفتر کیا...پھر ہمیں چھوڑ دیا...کیوں رکھا؟ ...کچھ پتہ نہیں ...جو کچھ اپنے دشمن کے ساتھ کوئی کرتا ہے تو ہمیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے....اس سے زیادہ میں نہیں سمجھتا کوئی اورمقصد تھا....
سنگر :میر صاحب !آپ رہائی کے بعدسب سے پہلے نواب خیر بخش مری سے ملنے گئے،کیا اس ملاقات کے بارے میں قوم کو کچھ بتاناپسند کریں گے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:ملاقات ،نواب خیر بخش مری کی ساتھ میری ملاقات جیل کے بعد ایک رسمی چیز تھی ۔وہ میرا رہنما تھا ،کافی عرصہ میں جیل میں رہا اور ہم نہیں مل سکے ۔صرف جیل میں چند ایک پیشیوں پر ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکے ، ورنہ نہیں دیکھ سکے ۔تو یقیناًہم ایک ہی مقصد کے ساتھی تھے تو میں ان سے ملنے کو اپنا سب سے پہلا فرض سمجھتا تھاکیونکہ ہم ایک ہی مقصد کے راہی تھے ۔باقی ایسی کوئی بات نہیں ،قوم واقف ہے کہ جو کچھ نواب صاحب نے کیا یا جو کچھ ہم سے ہورہا ہے وہ سب کو معلوم ہے ،میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا ۔
سنگر :رہائی کے بعد آپ نے مقبوضہ بلوچستان کے تقریباً اکثر علاقوں کا دورہ کیا،جس میں مکران قابل ذکر تھا،اس دورے کا مقصد؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:مقصد کی بات بڑی بات ہے ،اگر اس کو ہم دورہ کہتے ہیں کہ یہ علاقہ وہ علاقہ ہے تو یہ سب بلوچسان ایک ہی ہے ،گھومتے رہے ۔مکران میں تو میں فاتحہ خوانی کے لئے،ہمارے دوست ، ہمارے شریک کارغلام محمد ،لالا منیر ،شیر محمد کی شہادت ہوئی میں کراچی میں تھااپنے علاج کے سلسلے میں ،مجھے جانا پڑا،اس کا کوئی اور مقصد نہیں تھا، یقیناًہم گئے تو دوستوں سے ضرور ملے ۔میں تربت گیا ، تمپ گیا،فاتحہ خوانی کی وہاں ،پھر میں پنجگور چلا گیا لالا منیر کے گھر فاتحہ خوانی کی ،پھر کئی دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہیں اورکچھ دوست جو ظاہر ہے سب جاننے والے دوست تھے میں مختلف علاقوں میں لوگوں سے ملنے کے لئے گیا ہوں،دوستوں نے بلایا بھی ....تو کوئی مقصد....یقیناًجس مقصد کے لئے آج ہماری جہد ہے اس کے لئے یقینا،تاکہ بلوچستان کی آزادی کیلئے جو مقصد ہم لئے ہوئے ہیں وہاں تک آواز پہنچائیں ۔تو یہی مقصد تھا اور کوئی مقصد نہیں تھا،پہلی مقصد تو یہی تھا کہ فاتحہ خوانی کیلئے وہاں حاضری کے لئے میں گیا تھا،اس کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز میرے خیال میں نہیں تھا۔
سنگر :رہائی کے بعد آپ سرفیس سیاست میں سرگرم کسی سیاسی پارٹی سے کیوں منسلک نہیں ہوئے کیا وجہ ہے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:میں سمجھتا ہوں کہ سر فیس سیاست کی اس ملک میں گنجائش نہیں ہے ، یہ ملک پاکستان خود ایک نوآبادی ہے ،ایک جدید نوآبادی ہے، یہاں تو ظلم وجبر ہے ،یہاں اس کا امکان بہت کم ہے ،یہ کوئی جمہوری ملک نہیں ہے کہ اس میں کوئی سر فیس سیاست ہوسکتی ہے ،تو اس لئے اس میں شامل ہونااپنی صلاحیتوں کو برباد کرنا ،اپنی محنت کو ضائع کرنا ہے ،میں نے یہی سمجھا،ہاں اگرکوئی ایسے امکانات جیسے دنیا میں ہے ،دنیا کے بہت سارے جمہوری ملکوں میں اگر سرفیس سیاست ہے ،لوگ اپنی مطالبات پیش کرسکیں ،یہاں تو بلوچستان کی بات کریں تو دوسرے دن غائب ہیں ،آج یہی دیکھتے ہیں اسی لئے میں سرفیس سیاست میں گیا ہی نہیں ،اور میرا فکر و سوچ اس کو قبول ہی نہیں کرتا۔
سنگر :بی این ایم توڑنے کی کوششیں کی گئیں ،اُس وقت آپ نے عصا ظفر و دیگر سے ملاقاتیں کیں،آپ کوکیا نتائج حاصل ہوئیں ؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:عصا ظفر ، چیئر مین خلیل کراچی میں تھے ،بی این ایم میں جو یہ تضادات تھے حادثاتی صورت میں میں بھی وہیں پر تھا تو میں نے کوشش کی کہ یہ مسئلہ پیدا نہ ہو۔جب ہم نے دیکھا کہ جو یہ اختلافات ہیں وہ کوئی خاص نوعیت کے نہیں ہیں فروئی قسم کے ہیں تو اس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلااور ہم نے اس کو چھوڑ دیا ۔بلوچ خود فیصلہ کرینگے ،ہم یا کوئی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا ،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔تو کوئی خاص نتیجہ حاصل نہیں ہوااس کا۔پھر پتہ نہیں عصا ظفر کہاں پر گیا ،کیا ہوا۔بی این ایم آج تک دیکھتے ہیں کہ وہ ہے .... شاید عصا ظفر نے بھی محسوس کیا ہوگاکہ ہم اس کو خوامخواہ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم یہی کہ یہ اسی طرح قائم رہے کہ اس میں کوئی دراڑ نہ ہو ۔تو یہ ہم نے کوشش کی اس کا کیا نتیجہ نکلا،کتنی کامیابی ہوئی ،وہ شاید وقت بتائے گا۔
سنگر :بی ایل اے سے نکل کر ایک نئی مسلح تنظیم یو بی اے کا قیام لانے کی کونسی ضرورت اور مجبوریاں تھیں ؟ اس بارے میںآپ پر الزام ہے کہ یہ قدم بلاضرورت اُٹھایا گیا ہے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:مجھ پر اگر کوئی الزام ہے تو میں انکار کرتا ہوں ، کیونکہ نہ میں اس کے قیام میں شریک تھا اور نہ مجھے اس کا پتہ ہے ۔ اگر میری وابستگی کی صورت رہی ہے تو وہ نواب خیر بخش کے ساتھ ،وہ میرا آئیڈیل تھا، جب سے میں سیاست میں آیا ہوں اس وقت سے جو لیڈر شپ تھی بلوچوں کے وہ میرے آئیڈیل تھے ،ہم اس وقت نہ کوئی نظریہ جانتے تھے اورنہ کوئی چیز......یہی کہ وہ بلوچوں کی بات کرتے ہیں،بلوچ قوم کی بات کرتے ہیں ،ہم جذباتی صورت میں انہی کو سب کچھ سمجھتے تھے ،ہمارا نظریہ ،ہمارا سوچ سب کچھ وہی تھے ،وہ شاید آخری وقت تک یہی کچھ رہا ،ورنہ مجھے یو بی اے سے کوئی تعلق نہیں تھا، آج تک نواب صاحب کے فکر وسوچ وہی میرا رہنما ہے ،وہی سب کچھ ہے ،ورنہ مجھ پر جو الزام ہے کہ میں نے یو بی اے بنایا ،یا میں نے بی ایل اے کو توڑا.....نہ میں نے بی ایل اے بنایا اور نہ ہی میں نے یوبی اے بنایا،میرے خیال میں یہ باتیں مجھ سے منسوب کرناشاید درست نہ ہوں، یا صحیح نہیں ...... نواب خیر بخش اگر بی ایل اے تھا تو میں بھی تھا، اگر وہ یو بی اے تھا تو میں بھی یوبی اے ،کیونکہ اسی کی وجہ سے ....اب اس کو شخصیت پرستی کہتے ہیں ،کچھ بھی کہتے ہیں اس کو.....ولایتی اس پر اعتماد تھاوہی جو کچھ تھا.... ورنہ نواب صاحب سے میں ملا،اگر یو بی اے بنا تو اس نے کھبی یہ نہیں کہا کہ کوئی یو بی اے ہم بنا رہے ہیں ،یا کچھ ہے ،آج کل تو سنتے ہیں کہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ نواب صاحب نے یو بی اے بنایا،ہاں کچھ ایسی باتیں تھیں جو نواب صاحب نے ہم سے کیں ،ان کے اور بی ایل اے کے درمیان کچھ اختلافات لیڈر شپ کے حوالے سے تھے جن کا نواب صاحب نے نرمی سے اظہار کیا کہ کچھ باتیں ہیں جو ہمارے درمیان تضاد ہیں کوشش کریں گے ہم انہیں روایتی انداز میں طے کرلیں اگرنہیں ہوئے تو ہم بلوچوں کے سامنے وہ باتیں لائیں گے ،پھر وقت نے ساتھ نہیں دیا ،نواب صاحب بھی چلے گئے ،یہی کچھ تھا،مجھ سے نہ اس کی ضرورت تھی ،ہماری ضرورت تو یہ ہے کہ اپنی آزادی حاصل کریں،متحد ہوجائیں ، اتحاد کریں ،توڑنا تو ہمارے مسئلے کا حل نہیں ،مسئلے کا حل تو ہمارے اتحاد میں ہے ،مجھ پر جو الزام ہے میں اس پر انکاری ہوں ،ہاں آج جو کچھ ہے ہمدردیاں سب کے ساتھ ہیں ۔
سنگر :ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ پر بھی آپ لوگوں کا ساتھ دینے اور یو بی اے کے قیام میں کردار ادا کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ اس میں کتنی صداقت ہے ؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:ضروری نہیں کہ ہر الزام درست ہو،مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے ،ڈاکٹرصاحب پر اگر الزامات ہیں تو ڈاکٹر صاحب ماشااللہ خود بالغ انسان ہیں جو جواب دے سکتے ہیں،وہ جانتے ہیں مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یو بی اے بنانے میں کوئی کردا ر ہے ،میں نے کھبی نہیں سنا ،یہ باقی،الزام تو الزام ہیں ،لیکن ضروری نہیں کہ وہ درست ہوں ،میں نے نہیں سنا میں اسکی تصدیق نہیں کرسکتا۔
سنگر :بلوچستان بھر میں عوام سے ملنے کے بعد آپ اچانک روپوش ہو گئے اور مزاحمت کا حصہ بن گئے،کیا نواب خیر بخش مری کی طرح آپ بھی صرف مزاحمتی جہد پر یقین رکھتے ہیں؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:جی ہاں.....کسی حد تک میں بھی اس پر یقین رکھتا ہوں اور اس کا امکان بھی یہی ہے اس کے علاوہ میں نہیں سمجھتا کوئی اور راستہ ہے یہاں پر،اگر امکان ہوتا تو یقیناًدوسرے راستے بھی وائبل Viableہوتے مگر یہاں پر نہیں ہے ،نواب صاحب بھی مزاحمت پر یقین رکھتے تھے،ان کے انٹرویو ز و لیکچرز میں موجود ہے ،میں بھی سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ،میں روپوش ہوگیا میرے لئے رہنامشکل ہوگیا،جیل سے میں نکلااور میں دیکھ رہا تھا کہ یہاں پر مجھے یہ رہنے نہیں دینگے،اور میں نے مختلف طریقے محسوس کئے کہ ابھی یہ نہیں ہے ،میں نے زندگی اس جہد میں گزاری ہے کہ اسی لئے میرے لئے آرام سے بیٹھنا بھی مشکل تھا،اور چاہے جوبھی حالات ہوں اسی مزاحمت کو آگے لے جانا ہے ۔
سنگر :کئی مزاحمتی تنظیموں کے باوجود یو بی اے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:میں اس کا جوابدہ ہوں، یا صرف معلومات کیلئے مجھ سے یہ سوال کیا جارہا ہے ؟میرے خیال میں تو یقیناًاس سے انکار بھی ممکن نہیں ہے ،بہت ساری تنظیمیں ہیں سب کا فکر ایک ہونا،ایک تنظیم ہونا،فوراً۔۔ میرے خیال میں مشکل کام ہے ،گوکہ ہماری ضرورت یہی ہے کہ ہم متحد ہوجائیں اور اس طرح یہ ضرورت کیا تھی ؟کیوں؟مجھے اس کا علم نہیں ہے ،میں نہیں جانتا.....یقیناًاگر اختلافات ہوں کوئی اپنے ،ہر ایک اپنے بساط کے مطابق، ضرورت تھی یا کیاتھی شاید جنہوں نے بنایا وہ محسوس کرتے ہیں مجھے اس کا علم نہیں ہے ....
سنگر :کیا اس وقت گراؤنڈپر موجود اور بیرونی ممالک میں سرگرم سیاسی لیڈران سے آپ کے رابطے ہیں؟ اگر ہیں تو کس نوعیت کے؟ خصوصاََ حیربیارمری سے کیونکہ آپ ایک زمانے میں ایک ہی تنظیم سے وابستہ تھے۔
میرعبدالنبی بنگلزئی:ہاں یہ کہ ہم ایک ہی تنظیم سے وابستہ تھے ویسے رسمی چیز نہیں ہے ،اور میرے رابطے ان سے، کوئی باقاعدگی نہیں ہے ،میں نہیں جانتا کوئی کیا کررہا ہے،جو کچھ آتا ہے دیکھتے ہیں میڈیا میں وہی بس ،ورنہ میرے خصوصی رابطے نہیں ہیں کسی کے ساتھ ،اور ہم ایک ہی تنظیم میں تھے ،میں نے پہلے عرض کیاکہ میری وابستگی تھی تو نواب صاحب کی وجہ سے ہے بی ایل اے سے........بی ایل اے کا نہ میں ذمہ دار ہوں اور نہ وہ میرا ذمہ لیتے ہیں ،وہ صرف نواب صاحب اگر بی ایل اے تھے تو مجھے بھی لوگ بی ایل اے شمار کرتے تھے بی ایل اے میں...... اگر وہ کسی اور تنظیم میں جوہیں غیر رسمی، کھبی تنظیمیں ہیں جن کا کوئی نام بھی نہیں جانتا ہو، تو اس قسم کی چیزیں کہ میرے رابطے ہیں،میں یہی کہوں گا کہ میرا کوئی رابطہ نہیں ہے ، کوئی ان میں باقاعدگی نہیں ہے۔
سنگر :کیا بلوچ مزاحمتی تنظیموں میں آپسی ہم آہنگی موجود ہے ؟ یہ تنظیمیں ایک مشترکہ کونسل بنانے میں کیوں ناکام ہیں؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:سوال میں جواب ہے ،یقیناناکامی تو وجہ ہے اس کا مطلب ہے کہ ہم آہنگی نہیں ہے .....اگر ہم آہنگی ہوتی تو مشترکہ کونسل بھی ہوسکتاتھا،.تو یہ خود سوال میں ہی اس کا جواب ہے ،باقی میں اس کے بارے میں کیا کہوں،.میرے خیال میں بہت مشکل ہے.....
سنگر :کیا آپ بلوچ مزاحمتی تنظیموں کے کردار سے مطمئن ہیں؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:اطمینان مرگ کے علاوہ کوئی نہیں ہے ،زندگی میں تو اطمینان نہیں ہوسکتی ،باقی جو کچھ کر رہے ہیں اس کا اطمینان بھی ہے ،مگر کافی نہیں ہے ،جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہتر ہے۔ لوگ تعریف کرتے ہیں،باقی اطمینان ہونا علیحدہ بات ہے ،شاید اس بارے میں مجھے اطمینان نہیں ہے ،بہر حال قابل ستائش ہے ۔
سنگر :مقبوضہ بلوچستان میں مختلف سرکاری منصوبات، خاص کر سی پیک کے منصوبے پر کام کرنے والے بیرونی افراد کو صرف پیٹ پالنے والے محنت کش کا نام دیکر اُن کی ہلاکت پربہت شور شرابہ کی جاتی ہے ،آپ اس عمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:میرے خیال میں اس پر شور شرابہ کرنا کہ یہ محنت کش ہیں،یہ محنت کش نہیں ہیں یہ ،بلکہ ان حکمرانوں کے آلہ کار ہیں ،ان کو محنت کش کہنا نہیں ہے ،محنت کش تومظلوموں کے ساتھی ہوتے ہیں،یہاں ایک قومی جہد ہے اور یہ قومی جہد کے خلاف کام کرتے ہیں،اب اگر یہ کوئی مرتا ہے تویہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ یہ محنت کش ہیں،یہ محنت کش نہیں ہیں بلکہ یہ بھی اہلکار ہیں حکمرانوں کے،.اس عمل کو یہ کہ مزدوروں کے نام پر آکر کام کرتے ہیں،ان کے آلہ کار بنتے ہیں قابل مذمت ہیں.....اور شاباش ہے ان بلوچوں کوجو ان کو کام کرنے نہیں دیتے وہ قابل تعریف ہیں......
سنگر :بلوچ آزادی پسندوں کی خارجہ پالیسی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ یعنی آپ مطمئن ہیں؟ جو سرگرمیاں سر انجام دی جارہی ہیں ان میں بیرونی ممالک میں احتجاجی جلسے اورمظاہرے وغیرہ بھی شامل ہیں، کیا اس سے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:ہاں یقینا،میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ اطمینان نام کی کوئی چیزتو زندگی میں اس کا امکان تو بہت کم ہے ،بحرحال خارجی طور پر جوکچھ ہورہا ہے وہ قابل احترام ہے اور یقیناًآج نہیں تو کل پاکستان پر اس کا اثر ضرور پڑے گا،یہ تو ہماری مزاحمت پر منحصر ہے کہ اس کی قوت ،طاقت کیا ہے ،اس کے اثرات پڑیں گے دنیا میں اور قریباًہم ...boosting....نہیں کرتے، قریباً امکانات ظاہر ہورہے ہیں،آج جو کچھ سنتے ہیں میڈیا کے ذریعے جو کچھ ہے اس کی حالت بھی درست نہیں ہے ،جو خارجہ پالیسی ہے اگر وہ سو فیصدہم تعریف نہیں کرسکتے برحال اس کوقابل تعریف کہتے ہیں،بہتر ہے ۔
سنگر :اس بات سے انکار نہیں کی جاسکتی کہ گراؤنڈ میں قوت مسلح پارٹیوں کی ہے۔ دنیا بھی ہمیشہ طاقتور سے مزاکرات کرتی ہے ۔ کیا آپ نے کبھی محسوس نہیں کی ہے کہ مزاحمتی تنظیموں کو بھی اپنے نمائندے متعارف کرانے چاہیے ؟
میرعبدالنبی بنگلزئی: یقیناسوال ہے جو طاقت ہے وہ مزاحمتی قوتوں کی ہے ،یہ مزاحمت ابھی تک اس اسٹیج پر نہیں ہے اس سے کوئی مزاکرات کرے ،یا کوئی بات کرے،شاید یہ ہماری حقیقت پسندی ہے کہ ہماری مزاحمت ابھی تک اس اسٹیج پر نہیں آیا، اب نمائندہ کوئی تنظیم اپنا مقرر کرتے ہیں ،شاید کئے ہونگے،ان سے کون مزاکرات کرے گا ابھی تک مجموعی صورت میں کوئی وہ مرحلے طے نہیں کرسکا،ظاہر ہے کسی سے اکیلے اکیلے مزاکرات کرنا تو مشکل ہے ، جب تک وہ ضروریات سب پورے نہ ہوں ،تو اس میں اپنے نمائندے متعارف کروائیں،یقیناًیہ تنظیم کا کام ہے جو بہتر سمجھے وہی کرے گا،اگر اس سے کوئی مزاکرات کرتا ہے کون کرتا ہے ،کوئی ہمدرد ملکوں سے کوئی بات کرے یا کہیں پر ان کو نمائندوں کی ضرورت ہو تو متعارف کرائے ،تو اس میں وہ تنظیمیں خود سمجھتے ہیں میں نہیں کہہ سکتا....
سنگر :بلوچ قوم میں آپ کیلئے ایک نہایت احترام کا مقام ہے، آپ کا درجہ اہم ترین رہنماؤں میں ہے لیکن عملی طور پر کسی تنظیم نے آپ کو قیادت و اختیار نہیں سونپی یا آپ خود قیادت دوسروں کے حوالے کرنے پر راضی تھے؟ اگر اس طرح ہے تو ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم کو آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی انتہائی ضرورت کے باوجود آپ کیوں اس ذمہ داری سے دور رہے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:پھر وہی تعریفی باتیں..... میں کوئی رہنما نہیں ہوں خدمت گار ہوں،میری بھی یہ کوشش ہے کہ جیسے باقی بلوچوں کی کوشش ہے جینے کیلئے ،سب کوششیں کرتے ہیں انسان ہو یا حیوان ہو ،زندہ رہنے کیلئے ،میں بھی اسی طرح زندہ رہنے کیلئے کچھ ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کررہا ہوں باقی یہ کہ میں نے کسی کوخود نہیں آیا یا لیڈر نہیں بنایا ،دوسرے کو میں نے لیڈرنہیں بنایا....لیڈر یا رہنما بنانا یہ تو لوگوں کا کام ہے قوم کس کو اپنالیڈر بناتا ہے ،میں اگر دور رہا اس کی ایک وجہ ہے ،میری تسلی نہیں ہوئی ،جو میرا فکر ہے سوچ ہے ،میں یہی سمجھتا رہا کہ شاید اپنے آپ کو میں نے یہی سمجھا کہ تنظیمیں ہیں بہت ساری چیزیں ہیں،مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا ...بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو میں ان کے بارے میں نہیں کہہ سکتا....کیونکہ مجھے اطمینان نہیں تھا،کسی تنظیم میں جانا تواس کے بارے میں جوابدہ بھی ہونا پڑے گا،ابھی تک تو میرا اطمینان نہیں ہوا ...میں کسی میں باقاعدگی سے شامل ہوجاؤں........مزاحمت ہے ....ہم سفری ہے ...یا کوشش ہے ...سب کیلئے دعا گوئی ہے .....باقی میں کسی تنظیم میں جو میں مکمل طور پر سمجھوں کہ میرے فکر کے مطابق ہے ۔دیکھیں ابھی عمل ہے شاید وہ ہمارا اصلاح کریں،میرا بھی اور بعض تنظیمیں ہیں... .شاید وہ بھی اپنے عمل سے سیکھیں گے کہ کیا کچھ ہے ....... جو کچھ میں دیکھتا رہا ہوں .....سنتا رہا ہوں.... .تسلی نہیں ہوئی ....کیونکہ یہ ایک ایمانداری کی بات ہوگی اگر کسی تنظیم میں جانا توجب تک تسلی نہ ہو بہت مشکل ہوتا ہے گزارا کرنا۔اسی لئے میں نے اپنے آپ کو پابند نہیں بنایا........
سنگر :میر صاحب سنگر میڈیا گروپ کو ٹائم دینے کا شکریہ ،آپ سے ہمارا آخری سوال کہ موجودہ صورتحال میں آپ بلوچ مسلح تنظیموں کو اور بلوچ قوم کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
میرعبدالنبی بنگلزئی:شکریہ میں بھی ادا کرتا ہوں سنگر میڈیا گروپ کا انہوں نے مجھ ناچیز کو اس اہل سمجھا میں کچھ باتیں جو مجھ سے پوچھیں اگر میں جواب دے سکا....میں بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ میرا عرض ہے مزاحمت کاروں سے ،مسلح مزاحمتی تنظیموں سے ،پہلے بھی میں یہ عرض کر چکاہوں اتحاد ،یونٹی،اتفاق ایک واحدذریعہ ہے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ،جو آزادی کی جہد ہے اس کے بغیر اس کا امکان نہیں کیونکہ یہ سرزمین بلوچستان بلوچ قوم کی ہے ۔جمعی چیز کیلئے جمع کا ہونا.....قومی چیز کیلئے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے .....یہ کسی ایک کا نہیں ہے ،اکیلے اکیلے ہم پروازیں کرتے رہیں ،اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ،یہی میرا عرض ہے ،پہلے بھی ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ اس سرزمین کی خاطر،اپنے قوم کی خاطرآپس میں اتحاد کریں ،جو بھی ممکن ،جو امکانات ہیں،دشمن ایک ہے ،مقصد ایک ہے ،واحد ہے،کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم متحدنہ ہوں .....ہم متحد ہوں یہی میرا عرض ہے .....قوم سے بھی میرا عرض یہی ہے کہ اس وقت یہ قومی جہد ہے ،آگے بڑھیں اس مزاحمت کو مضبوط کریں .....اپنی آزادی کیلئے جہد کے ساتھی بنیں ....یہی میرا قوم سے عرض ہے .....ورنہ اگر اس مزاحمت کو کچھ ہوا توکسی کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا.....آج اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی جان بچارہے ہیں مزاحمت سے دور ہیں میرے خیال میں کوئی نہیں چھوڑے گا.....یہی عرض ہے قوم سے کہ مزاحمت میں شریک ہوں،کیونکہ مزاحمت ہم سب کی ہے ،سب متحد ہوجائیں 

вторник, 4 июля 2017 г.


"مجيد سے مجيد تک"
(شہید علی شير کرد)
شہيد کی موت سے جو خوبصورت سوتيں پهوڻتی ہيں وہ قوم کی راہيں روش کرتی ہيں اور يہ روشنی صداکے لئے ہوتی ہيں۔ بلوچ شہداء کی طويل فہرست ہی ہميں اس روشنی کی جانب بڑی تيزی سے بڑهنے پر مجبور کرتی ہے جسے آزادی کہاجاتاہے۔دنيا ميں ايسی بہت سی اقوام ہيں جنہوں نے اپنی آزادی کی خاطر ايک نسل کو قربان کرکے آنے والی نسلوں کو غلامی کے منحوس سايے سے دور رکهنے ميں کامياب رہے۔ان اقوام ميں بنگلہ ديش ٬ويت نام اور کوريا (شمالی) کی مثاليں دی جاسکتی ہيں۔ آج کے دور ميں ہم بہت سے اقوام کو آ زادی کی خاطر برسر پيکار ديکھ رہے ہيں ان ميں عراق ٬ فلسطين
اور بلوچستان سرفہرست ہيں جو اپنی آزادی کے لئے لڑ رہے ہيں اگر آزادی گهر بيڻهے مل جاتی تو تاريخ ميں شايد جنگوں کا کوئی ذکر ہی نہيں ہوتا بلکہ ظلم واستحصال يا حق و باطل کا کوئی تصور ہی نہيں ہوتا۔جنگوں کی تاريخ کو اگر ديکها جائے تو يہ کسی شوق يا عياشيوں کے لئے نہيں لڑی جاتی بلکہ فطرت کی طرف سے ہر انسان ميں مزاحمت کا عنصر موجود ہے بلکہ چهوڻے سے جانور چيونڻی تک کو اگر ذرا بهی تکليف پہنچے تو وہ بهی کاڻنے پر آجاتاہے تو پهر انسان تو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہے جسے باطل ٬ ظلم ٬ استحصال اور ناانصافيوں کے خلاف اس کا ضمير لڑنے ٬ مرنے يا مارنے پر اکساتاہے۔يہ فطرت کی طرف سے عطاکردہ صفات ہوتی ہيں۔
جن لوگوں کو ظلم ٬ ناانصافی و استحصال پر تکليف نہ پہنچے اور وہ اسے ذہنی طورپر قبول کرليں تو انہيں شک کی نظر سے ديکهنا چاہيے کيونکہ وہ انسان ہو ہی نہيں سکتے ۔اگر وہ بظاہر نظر بهی آتے ہوں تو وہ مريض ہوں گے کيونکہ ذہنی طورپر ايک صحت مند انساں نہ تو غلامی برداشت کرسکتاہے اور نہ ہی ظلم ٬ ناانصافی و استحصال ٬ خواہ وہ دنيا کے کسی بهی کونے ميں ہو رہا ہو ٬اگر يہ ظلم ٬ ناانصافی ٬ جبر اور استحصال ہمارے اپنے ساتھ يا ہماری قوم کے ساتھ ہو رہا ہو تو اس کے خلاف مرنے اور مارنے کے لئے مذہب ٬ اخلاقيات اور قومی تاريخ ہميں يہ اجازت ديتی ہے کہ ہم خود کو غلامی سے نجات دينے کی خاطر اپنی قوم کو آزادی سے ہمکنار کرنے کے لئے آگے بڑهيں اور صرف شہيدوں کے
متعين کردہ راستے کا انتخاب کريں جس طرح شہيد مجيد اول بلوچ قومی آزادی کی خاطر آگے بڑهے ٬ وہ پڑهے لکهے اور باشعور نوجوان تهے ايک متوسط گهرانے ميں ابتدائی تربيت لی اپنے آباؤاجداد کی خوبصورت تاريخی سرزمين کے مالک تهے ليکن اسکی آزادی چهين لی گئی تهی آزادی کا حصول جيسے نظريات بلوچ گهرانوں ميں زير بحث رہتے ہيں ٬غلامی کی زندگی اور پهر باہر سے آئے ہوئے دراندازوں کی حکومت جو قدم قدم پر بلوچوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہيں ٬ بلوچ نوجوانوں کو گهسيٹ گهسيٹ کر اذيت خانوں ميں لے جانا ٬ جن کی واپسی کی کوئی اميد نہ ہو ٬ يہ تمام عناصر ايک حساس بلوچ نوجوان کو شعور دينے کے لئے کافی ہيں ٬ان حالات ميں وہ قومی بوجھ کو اپنے کاندهوں پر اڻهانے کی تہی کر ليتاہے جسے اپنے ہونے کا شعور ہوتاہو۔ شہيد مجيد اول جس نے باشعور ہو کر 1973 کے مزاحمت کو وہ عزت بخشی کہ رہتی دنيا تک اس کی قربانی ياد رہے گی۔ تعليم يافتہ نوجوان ٬ پولی ڻيکنيک کالج ميں علم حاصل کرنے والا نوجوان جس نے اپنے قوم کی آزادی کی خاطر اپنے آپ کو قربان کرديا ۔نہ پر آسائش زندگی کی خواہش اور نہ تعليم کے بعد نوکری کے پيچهے بهاگتے رہنا اور نہ ہی مال و زر اور گهر بار کی خواہش شہيد کی راہ ميں رکاوٹ بنے ٬ بلکہ صرف آزادی کی تمنا نے اس نوجوان کو وہ مقام عطا کی جو بلوچ تاريخ ميں ايک روشن باب کی حيثيت رکهتاہے۔
مجيداول نے سب کو ڻهکرا کر بلوچ وطن کو آزاد کرنے کی خاطر موت کو گلے لگايا اور امر ہوگئے۔
1960 ء کے عشرے ميں اسی گهرانے ميں امير بخش بلوچ نے آنکھ کهولی ٬اسی ماحول ميں پرورش پائی ٬ بلوچيت کا درس بچپن ہی سے ملتارہا ٬ غلامی سے نفرت ٬ ظلم ٬ استحصال ٬ ناانصافيوں کے خلاف علم بلند کرنے کی تربيت ٬ آزادی کا درس ٬ شعور و آگہی کا درس اور سب سے خوبصورت اپنی قوم سے جنون کی حد تک محبت کا درس ٬ يہی تو سماجی علم ہے جس سے ہم سب سبق حاصل کرتے ہيں کيونکہ ايک خاندان يا گهرانہ سماج کا اکائی ہوتاہے ٬ اسی سے سيکهنا يہی تو ابتدائی نصاب ہے ٬جس سے ہم صديوں بهرے تاريخ کا علم حاصل کرتے ہيں ٬اپنی تہذيب ٬ ثقافت ٬زبان و ادب کا اور اپنی روايات کا علم ہميں ہمارے ماحول يا پهر سماج سے ملتاہے۔اسے ماہر سماجيات
سماجی شعور کا نام ديتے ہيں ۔ديگر جوتعليمی اداروں سے تعليم حاصل کی جاتی ہے اسے اضافی شعور کا نام ديا جاتاہے کسی ادارے کو چلانے کے لئے يا رياستی معاملات کو يا کسی تنظيم يا پارڻی کو چلانے کے لئے مطلوبہ تربيت يا علم وغيرہ اضافی شعور کہلاتاہے جو کہ ہمارے سياسی نظام ميں فی الوقت ناپيد ہے۔ تربيت ٬ منصوبہ بندی ٬
حکمت عملی بهی انہی علوم کا حصہ ہيں ٬ مگر يہ چيزيں ہميں چهو کر نہيں گزرتے۔حالانکہ يہ ايسی چيزيں ہيں جنکے بغير ايک گهرانے نہيں چل سکتا اور ہم بلوچ مملکت کو چلانے کا سوچ رہے ہيں مگر امير بخش بلوچ جو بلوچ مسلح جدوجہد کے طريقہ کار پر زيادہ زور ديتے تهے تاکہ مدمقابل کو طاقت کے ذريعے زير کيا جاسکے۔مسلح جدوجہد بهی تو سياست کا ايک حصہ تصور کياجاتاہے۔يا ايک سياسی نظام جس ميں تربيت ٬ منصوبہ بندی ٬ حکمتعملی ٬ عوام ميں سرايت کرنے کا طريقہ ٬ عوامی نظريات کو جسے عوام يا قوم فارغ اوقات ميں بيڻھ کر بحث کررہے ھوتے ہيں انہيں اپنے حق ميں جوڑنے کا طريقہ کار اور قوم يا عوام کی رائے کو سياسی و قومی مقاصد کے لئے
قومی حقوق کے حصول کے طريقہ کار کی جانب موڑنے کا ہنر ہی ايک مسلح جدوجہد کرنے والے کو ديگر سياسی پارڻيوں اور تنظيموں کے قيادت يا کارکن کے مقابلے ميں امتيازی حيثيت دلواتاہے ۔امير بخش بلوچ (سگار بلوچ) کی حيثيت اسی وجہ سے اہميت کا حامل تها کہ اس نے اپنی کوششوں سے تاريخ کو ايک نيا موڑ ديا بلوچ قومی آزادی
کی خاطر اپنے شب و روز ايک کرکے وکالت کرنے کے باوجود وہ مسلح جدوجہد پر ہی زور ديتے تهے ۔اعلیٰ تعليم نے ان کے کام ميں مزيد نکهار پيد اکرديا ٬وہ بہتر منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ماہرتهے۔ اسی بناء پر انہوں نے قومی آزادی کے لئے وہ کارنامے انجام ديئے جسے لوگ کئی عشروں تک نہ کر سکے وہ تنظيم ٬ تربيت ٬ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کو بہت خوب انداز ميں سمجهتے تهے۔
ابتدائی دنوں ميں سردارخير بخش مری کے ساتھ نشستوں ميں وہ بغور سنتے اور بہت بہتر انداز ميں سوال کرتے تاکہ سيکهنے سکهانے کا عمل جاری رہے ٬سيکهنے سکهانے کا عمل ہی تو سياست اور عسکريت دونوں کو پروان چڑهاتاہے اگر مثبت سوچ اور فکر کو نظرياتی سانچوں ميں ڈالا جائے تو سياست ہو يا عسکريت آگے کی طرف بڑهتے ہيں اور مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن ہوجاتاہے۔ امير بخش بلوچ (سگار بلوچ) اس تمام عرصے ميں سيکهتے ہی رہے اور سکهاتے بهی ٬ سياسی حالات ہوں يا بدلتے واقعات ان سے بہت کچھ سيکها جاسکتاہے اور اگر اسے کوئی دوسروں تک ايمانداری کے ساتھ منتقل کرتاہے تو نتائج تحريک ٬ معاشرہ اور قوم کے حق ميں نہايت مفيد ثابت ہوسکتے ہيں۔
اگر سيکهنے سکهانے کا عمل رک جائے تو بلوچ قومی آزادی کی تحريک پاکستان کے تعليمی نظام کی طرح ہوجائيگا جس کا تجربہ ہميں گذشتہ 62 سالوں سے ہے کہ ڈگری يافتہ تو ہزاروں مليں گے مگر با علم يا عالم ناپيد ٬ ہم اگر اپنے بلوچ معاشرے پر نظر ڈاليں تو کيا ہمارے سياستدان ٬ معيشت دان ٬ انجينئرز ٬ ڈاکڻرز ٬وکلاء يا سماجيات کے ماہر اپنی ڈگريوں کے معيار پر پورا اترتے ہيں ؟ اس کا جواب يقيناً نفی ميں ہوگا۔ اسی ليے تو تحريک يا انقلاب کو تخليقی عمل کہا گيا ہے کيونکہ قوميں انقلاب کے ذريعے تشکيل پاتی ہيں ٬ ان ميں سيکهنے کا عمل جب تک جاری رہتاہے وہ تخليق کے مراحل بهی بخوبی گزار ليتے ہيں۔اور قديم سے جديد کی طرف سفر کرکے مثبت صورتحال اختيار کرتے ہيں۔ امير بخش بلوچ جيسے استادوں کی کمی ہميشہ محسوس رہے گی کيونکہ ان جيسے
دوستوں کا خلاء پر کرنا شايد ممکن نہيں جنہوں نے اپنے تجربات ٬ اپنا وقت ٬علم اور صلاحيتيں قومی آزادی کی تحريک کے لئے وقف کررکهی تهيں۔ اور يوں ايک تجربہ کار کمانڈر ٬ ايک مخلص کارکن ٬ ايک وطن دوست اور باصلاحيت انسان سے بلوچ قوم 27 جنوری 2010 ء کو محروم ہوگئی۔ مگر ان کی صلاحيتيں تخليق کی صورت ميں ٬تجربات عمل کی صورت ميں ٬ کارنامے ادا کردہ فرائض کی صورت ميں وطن دوستی اور قوم دوستی نظريے کیصورت ميں موجود ہيں اور ہميشہ رہيں گے ۔ہم اگر قومی تحريک آزادی کی طرف ايک قدم بهی بڑهائينگے تو يہ تمام چيزيں ہميں سيهکنے کو مليں گے اور ہم شہداء کے وارث بن کر ان کی امانتوں کے محافظ ہونگے۔
اسی خاندان ميں سب سے کم عمر مجيد ثانی کا نام آتاہے جس نے اپنے خاندان کی روايات کو جاری رکهنے کا عزم کر رکها تها ٬ اور قومی آزادی کے فکر اور نظريے کا درس انہيں بچپن ہی سے ملا ہوتو وہ کيونکر اسے بهول سکتاہے۔ وہ سبق تو اسے بچپن سے ہی ازبر تها ٬ مگر وہ ابهی تک نوخيز تها ٬ نوجوان تها ٬خوبرہ تها ٬ ليکن ان تمام
کے باوجود وہ ايک انقلابی ٬ ايک سرمچار اور مرد مجاہد تها جس نے اپنی خواہشات کو پيروں تلے روند کر فکر مجيد ٬ فکر امير بخش اور ہزاروں بلوچ شہيدوں کے راستے کا چناؤ کيا اور اسی راہ پر چل پڑا ٬ تاکہ بلوچ قوم کو ايک آزاد وطن دلاسکے اور شہداء کے خوابوں کی تعبير بن سکے۔ اسی بناء پر اس نے مسلح جدوجہد کو ترجيح دی کسی اور پليٹ فارم کے بارے ميں سوچا تک نہيں بلکہ ايک ہی خواہش اپنے دل ميں رکهی کہ اسے ايک خوبصورت وطن حاصل ہو جہاں وہ آزاد ہو يا پهر ايک حسين موت کی تمنا ٬ پختہ فيصلوں سے نوجوان اپنی قوموں کی تقدير بدلنے ميں کامياب رہتے ہيں اور صديوں تک تاريخ ان پر نازاں رہتی ہے۔
مارچ کا مہينہ يوں تو بلوچ قوم کے لئے گذشتہ 63 سالوں سے نحوست لے کر آيا ہے مگر اس عشرے ميں يعنی 2000 ء سے لے کر ہنوز قوم کو کبهی بهی کوئی اچهی خبر سننے کو نہيں ملی ٬ مگر جو سب سے اچهی خبر ہے وہ قومی آزادی کی جنگ ہے جو آج بهی زور و شور سے جاری ہے اور پچهلے دس سالوں سے بلوچ مسلسل اور انتهک جدوجہد سے اس مسلح جدوجہد کو جاری رکهے ہوئے ہيں۔ بلوچ مسلح جدوجہد يا بلوچ مزاحمت کی تاريخ ميں ہميں يہ مثال نہيں ملتی کہ بلوچ قوم کی آزادی کی جنگ يوں تسلسل سے جاری رہی ہو ٬ آج پوری قوم کا اس مسلح جنگ ميں شامل ہونا ايک بہت بڑی کاميابی ہے۔ بلوچوں کی يہ جنگ گوريلا جنگوں کے باب ميں ايک روشن اضافہ ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ايک قابل فخر تاريخ ضرور چهوڑے گی جسے بلوچ قوم سے موجودہ نسل نے اپنے خون سے سينچا ہے۔
مجيد ثانی نے سوچ سمجھ کر اور شعوری انداز سے اپنی جان کی قربانی پيش کی اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر وہ تاريخ رقم کی جو اپنی مثال آپ ہے۔ مرد مجاہد ہی تو موت کی جانب بڑهتے ہيں ٬ موت سے منہ نہيں موڑتے بلکہ اپنی مردانگی اور شعور کا ثبوت دينے کے لئے ميدان جنگ ميں مقابلہ کرکے دشمن کو شکست ديتے ہيں ان کی مردانگی اور شعور و سنجيدگی پرفخر کيا جاسکتاہے۔
مجيد ثانی کی قربانی ہمارے ليے روشن راہ ہے اور ان کی شہادت کا دن 17 مارچ 2010 ء بلوچ تاريخ ميں ہميشہ ياد رکها جائے گا اور شہيد کے بدلے کی چنگاری بلوچ قوم کے نوجوانوں کے خون کو گرماتی رہے گی ٬يہ ہماری تاريخ ہے اور اسے ہمارے خون سے کوئی نہيں نکال سکتا۔

пятница, 30 июня 2017 г.


انتہائی غور طلب
ترتیب: سردرو بلوچ
بلوچ جہد آزادی کا مشعل تمام تر مشکلات و کمزوریوں کے باوجود اگر آج تک روشن ہے تو اس کی روشنائی ان دلیر اور مخلص بلوچوں کی قربانیوں کی بدولت ہے جنہوں نے اپنے لہو کو قوم و سرزمین کی آزادی کےلئے پانی کی طرح بہایا۔
جہاں اس سرزمین کے آزادی کے لیئے ہر شہید کی قربانی کے پیچھے ان کے قیمتی کارناموں اور انمول کردار کی ایک اعظیم تاریخ ہے تو وہاں ایسے خاندانوں کی بھی کوئی کمی نہیں جنہوں نے ایک کے بعد ایک اپنے جگر گوشے تحریک پر قربان کئے اور اف تک نہیں کی محمد خان لانگو جس نے مجید اول کے بعد شھید امیر بخش و مجید ثانی کو قربانیوں کا مثال بنایا حاجی رمضان زہری نے جواں سال مجید کے زندگی کے بدلے اپنے اور حئی عرف نثار کی موت کو قبول کرکے تحریک پر اپنی دنیا اور خاندان وار دی اسطرح شھید رفیق شہسوار کے خاندان نے ایک کے بعد ایک قیمتی جوانیاں تحریک پر قربان کرکے یہ پیغام دیا کہ آزادی سے بڑھکر کچھ بھی نہیں واجہ اختر ندیم کا خاندان ہو یا واجہ ڈاکٹر اللہ نذر کا ہر ایک نے وقت آنے پر ثابت کردیا کہ یہ لہو اور سانسیں یہ خوبصورت جوانیاں یہ بز و بالا بالاد وطن اور قوم کی امانت ہیں دشمن کے سامنے لہو بہہ سکتا ہے مگر بک نہیں سکتا آنکھیں نکل سکتی ہیں مگر جھک نہیں سکتے یہ گرم سانسیں اور جسم سر مٹی پر گر کر مٹی میں مل سکتا ہے مگر دشمن کے قدموں پر گرنا ممکن نہیں ۔ بلوچوں کے ایسے خاندانوں کے بیچ ایک ایسا خاندان بھی ہے جس سے شاید قوم کی اکثریت واقف نہیں جو دشمن کے ناروا بربریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا اور اپنے گھر کے چراغ ایک ایک کرکے طوفان کے نذر کرکے تحریک کے راہ کو روشن رکھا ایک کے بعد ایک فرزند قربان کرتے ہوئے انکے قدم کبھی بھی نہیں لڑکھڑائے دس نوجوانوں کو قربان کرنے کے بعد بھی انکار عزم و ہمت حوصلہ دیدنی ہے ۔
اس گم نام خاندان کی قربانیوں کی داستان اتنی اعظیم ہے کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا کم از کم میرے لیے مشکل ہے میں ایک سرسری سا تعارف پڑھنے والوں کےلئے پیش کررہا ہوں تاکہ وہ جان سکیں کہ وطن کے محافظ اور سچے فرزند تاریخ عالم میں دیگر اقوام کے سامنے قومی ناموس و غیرت کو لیکر زندہ و تابندہ ہیں یہ جو بزدلوں اور قوم فروشوں کی تشہیر دشمن جس انداز میں کررہی ہے ان سب وطن فروشوں اور غداروں کے سامنے ایسے ایک خاندان کی عظمت اتنی عظیم جیسے کوہ چلتن کے بلندی و عظمت کے سامنے ایک خنزیر کی اوقات ۔
یہ خاندان مری قبیلے کے شیرانی شاخ سے تعلق رکھتا ہے اور انکے سربراہ کا نام ہے احمد خان ۔اس خاندان کا شمار انگیزی یلغار میں کمبد کی جنگ سے لیکر پاکستان کے پنجابی فوجی قبضہ گریت کے خلاف ہونے والی ہرجنگ میں ہوتا رہا ہے اور ہر جنگ میں انہوں نے اپنا قومی فریضہ نبھایا ہے شہید احمد خان نے خود بھٹو کے دور حکومت میں پنجابی فوجی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ میں حصہ لیا اور اسکا خاندان فوجی بربریت کا شکار رہا اور بحالت مجبوری انکو افغانستان ہجرت کرنا پڑا اور نواب خیربخش مری بابو جنرل شیرومری اور ہزار خان بجارانی کی قیادت میں کئی سال جلا وطنی میں گذارے وطن واپسی پر بیروزگاری اور تنگ دستی کے وجہ سے لسبیلہ اوتھل اور وندر کا رخ کیا لیکن جب دوبارہ سے تحریک نے نواب خیربخش مری اور واجہ حیربیارمری کی قیادت میں سراٹھایا اور تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے لگا تو شہید احمدخان اپنے جوانسال بیٹوں اور خاندان کے ساتھ اپنے ابا و اجداد کی تاریخی کردار کی پاسداری کرتے ہوئے اس تسلسل کو پھر سے جاری و ساری رکھنے کےلئے پوری خاندان سمیت وطن کی پاسبانی کے لئے حاضر ہوا ۔اس کے تمام بیٹے اور بھتیجے کوہ ہستان مری کے ہر مختلف گوریلا کیمپوں میں اپنا فریضہ نبھاتے رہے گھر میں موجود عورتیں بچے بوڑھے حب چوکی وندر اور لسبیلہ میں دوسروں کی زمینوں پر مزدوری کرکے گذر بسرکرتے رہے اس خاندان کے نوجوانوں نے ان علاقوں میں بھی کہیں شہری حملے کر کے دشمن کے مفادات پر ضرب لگاتے رہے۔
2010 کا سال تھا جب پاکستانی خفیہ اداروں نے اپنے زرخرید مخبروں کے ذریعے ان کا سراخ لگایا اور شہید احمد خان کے بیٹے صحبت خان اور ان کے بھتیجے عرضی خان کو حب چوکی کے بازار سے اغواء کیا اور تقریبا 3 مہینے بعد صحبت خان کو شہید کر کے اس کی لاش شہید شادی خان مری کی لاش کے ساتھ کوئٹہ سے کچھ ہی فاصلے پر ڈگاری کراس پر پھینک دیا اور اس کے ایک مہینے بعد 2010 کے آخری مہینوں میں شہید عرضی خان کی لاش اوتھل سے ملی۔
مگر اس خاندان کو چونکہ اس قربانیوں کی اہمیت کا اندازہ بخوبی تھا اس سے ان کے حوصلے پست ہونے کے بجائے اور بڑھ گئے اور انھوں نے اپنے اس قومی فرض کو ایمانداری سے نبانے کی ٹھان لی۔اور کوہستان مری کے کیمپوں اور حب چوکی میں ان کے نوجوانوں نے سرکار پر کئے کامیاب حملے کیئے۔
چونکہ اندر کے بد خواہ اور قریبی مخبروں کے نگاہیں اس خاندان کا پیچھا کررہے تھے اسلئے ان لوگوں نے لسبیلہ سے اندرون سندھ ہجرت کا سوچا اور رات کے اندھیرے میں م حب چوکی سے سندھ کی طرف نکل گئے مگر بدقسمتی سے گھر کا بیدی لنکا ڈھائے نوری آباد کے قریب دشمن نے مزدہ ٹرک والوں کی بھیس میں انکو آگھیرا 2011 کے شروعات میں خفیہ اداروں نے اس ہجرت کے دوران شہید احمد خان ان کے 3 بیٹے اور 4 بھتیجوں کو اغواء کیا یعنی شہید احمد خان سمیت 8 فرزند خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہوئے اور ایک مہینے بعد شہید احمد خان کی مسخ شدہ لاش شہید طارق کی لاش سمیت اوتھل میں پھینکا جب یہ لاشیں کراچی پہنچائے گئے تو پتہ چلا کہ لاشوں پر تیزاب بھی پھینکا گیا ہےاور ایک مہینے بعد شہید وزیر خان جو شہید احمد خان کا بھتیجا تھا اس کی لاش ایک اور شہید نصیب اللہ مری کی لاش سمیت لورالائی سے ملی اور لاشوں کی حالت ناقابل شناخت تھی اور چونکہ ان کے بھائی اس وقت تک خفیہ اداروں کی تحویل میں تھے انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ ایک رات قبل شہید وزیر خان اور پہلے سے تحویل میں لیئے ہوئے شہید نصیب اللہ کو خفیہ اداروں کے اہلکار ہمارے پاس سے لے گئے اسی شہادت کی بنیاد پر ان کے خاندان والوں نے لورالائی سے ملنے والی لاش کو شہید وزیر کی لاش تصور کر لیا اور کویٹہ میں شہید احمد خان کے قبر کے ساتھ ہی شہید وزیر خان کو دفنایا گیا۔
اور تقریبا 1 مہینے بعد شہید احمد خان کے بیٹے شہید شربت خان اور بھتیجے شہید زمان خان کی لاش اوتھل سے ملی اور قابل شناخت تھی انھیں بھی کوئٹہ میں شہدا قبرستان میں دفنایا گیا۔
اور شہید احمد خان سمیت آٹھ فرزندوں میں سے 4 کو شہید کیا گیا اور ان کے دو بیٹے رحمدل اور رسول بخش اور دو بھتیجوں کو چھوڑ دیا گیا۔
ان لاشوں کی بھرمار نے اس خاندان کے نوجوانوں کو تحریک آزادی سے دور کرنے کے بجائے اور زیادہ حوصلہ بخشا اور انھوں نے اپنے نوجوانوں کو کیمپوں اور شہروں میں کاروائیوں کے لئے پہلے سے زیادہ جذبہ سے سرشار بھیجتے رہے۔
2015 میں شہید احمد خان کے دو بھتیجے شہید صورت خان عرف منشی کو اس کے بھائی سمیت حب چوکی سے اغواء کیا 9 مہینے بعد 2016 میں شہید صورت خان عرف منشی جو کہ حب چوکی میں گروپ کمانڈ کر رہا تھا کی لاش کراچی سے ملی اور اسے حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے وہیں کراچی میں دفنایا گیا۔
یہ سلسلہ یہی نہیں رکھا اور اس خاندان کے نوجوانوں نے قربانیوں کی چونکہ تاریخ رقم کرنے کی ٹھان لی تھی۔2016 کے نومبر کے مہینے میں ایک کاروائی کے بعد شہید احمد خان کے بیٹے جس کو پہلے بھی خفیہ اداروں نے اغواء کے بعد چھوڑ دیا تھا اپنے دو چچازاد کے ساتھ حب چوکی کے پہاڑی سلسلے کی طرف جا رہے تھے راستے میں پہلے سے گھات لگائے دشمن نے ان پر حملہ کردیا گرفتاری کی کوشش کی لیکن مزاحمت جنکے خون میں شامل ہو وہ کیا سر جھکائنگے دو بدو شدید جھڑپ کے بعد تینوں فرزند شہید ہو گئے اور دشمن کو بھی شدید نقصان سے دوچار کیا اور اسی حواس باختگی میں قبضہ گیر فوج نے شہید احمد خان کے جوان سال بیٹے شہید رسول بخش اور دو بھتیجے شہید رزاق اور شہید زبیر خان کی لاشوں کو دینے سے انکار کر دیا اور یہ شرط رکھا کہ لاشیں اس وقت ملیں گی جب اس خاندان کے باقی ماندہ لوگ سرینڈر کرینگے۔۔
لیکن پڑھنے والوں کو یہ بتاتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہورہا ہے کہ ان حیرت انگیز قربانیوں کی داستان مجھے قلم بند کرانے والا شھید احمد خان کے جوان سال بیٹے ہیں جنکے پشت پر یتیموں اور بیواہوں کی ایک فوج ہے مگر انکے جذبے اور حوصلے دیکر چلتن اور زرغون شرما جاتے ہیں
اس جواں سال سربراہ کےحوصلوں اور جذبہ حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں تو اس نوجوان کا جواب تھا "ان شہیدوں نے اپنی زندگی میں ایسا نہیں کیا تو میں کون ہوتا ہوں ان کی شہادت کو ضائع کرنے والا اگر میں ان کا حقیقی سپوت ہوں تو میں اور میرا باقی ماندہ خاندان بھی اسی سلسلے کو برقرار رکھیں گے"۔

четверг, 29 июня 2017 г.

A Message by Shaheed Suleman aka Shehak Baloch


On June 30th 2015, Pakistani Army attacked Mehi village in Mashkay, some 400km from Quetta, the hometown of Balochistan Liberation Front (BLF) supreme commander Dr. Allah Nazar Baloch. Army began aerial shelling and spraying bullets with helicopter gunships on the village and nearby mountains and then ground troops moved in breaking into civilian houses. In that carnage totally 11 people were brutally massacred including Dr. Allah Nazar’s elder brother Safar Khan and two of his nephews Suleman aka Shehak and Zakir Baloch.
Suleman was a commander of BLF. The family was gathered there for the funeral of Suleman’s father who passed away on June 29. Among the martyred only four were members of BLF and rest were non combatant civilians.
CJo5IIKUcAAk7O5
Here are two EXCLUSIVE video clips recorded moments before Shaheed Shehak Jan’s martyrdom where he speaks his last word for his friends, family and nation.
WARNING! This Video Contains Gruesomely Graphic Images Viewer Discretion Strongly Advised
Shaheed Shehak Jan’s Message to his Sangats
My Sangats, I have been shot. If I get martyred, fight with the enemy is going on. Freedom for Balochistan is our aim. All the sacrifices that our Sangats have made, they are still sacrificing; for the sake of their sacrifices I urge the leadership and all that don’t do anything that might harm our organization causing the struggle to stop. In order to strengthen the struggle and foil all the tactics of the enemy, every Sangat must struggle. I may not have much strength left to speak… Perhaps I am short of time.
Long Live Balochistan.
Long Live BLF.
Long Live Free Balochistan.
Salaam Alek!
Shaheed Shehak Jan’s Message to His Family
O mother, don’t be sad at all, I am not dying a coward’s death. If I die, I will be dying like aman. My children, be proud of me that I have fought for my nation. (The ones at the hill top are shooting? They are shooting at a higher trajectory). We have fought and luckily I am shot at the front (of my body). My mother, don’t be sad at all. My sisters, don’t be sad at all. I have sacrificed for a good cause. I have not done anything wrong that you would ever be ashamed of among the folks. Salaam Alek!
Right after recording this message Shehak Jan gave all of his belongings and bullets to his Sangats. He said: these bullets are enough. I am already hit and may not last long. I will kill at least two of enemy soldiers and then shoot myself. I will not let them take me alive.
After the Mehi carnage Pakistani Army tied the dead bodies of martyred Baloch to their military trucks and dragged them for miles. Most of them are mutilated beyond recognition.

вторник, 20 июня 2017 г.

شہید نورامینگل برصخیر میں انگریز سامراج کے خلاف بلوچ گوریلون کی لڑائیوں کی بھت سے داستانین ھیں ، ان میں جھالاوان کے بلوچ گوریلے نورا مینگل کی داستان بھی ایک اھم داستان ھے

جھالاوان کے بلوچ گوریلے نورا مینگل کی داستان بھی ایک اھم داستان ھے۔۔8 مارچ1916کو سردار نورالدین مینگل ،شہبازخان گرگناڑی ،نورا مینگل و سردار رسول بخش ساسولی اپنے دیگر کئی ساتھیوں کے ہمراہ زیدی میں پیر کمال شاہ کے مزار پر جمع ہوکر ایک عہدنامہ تحریر کر کے حلف اُٹھا ئے کہ جب تک دم میں دم ہے قبضہ گیرکے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ان کا یہ عہد نامہ آج بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔سردار نورالدین مینگل اور شہباز خان گرگناڑی اسلحہ وغیرہ حاصل کرنے کیلئے ایرانی بلوچستان چلے گئے۔جبکہ غازی رسول بخش ساسولی ، غازی نورا مینگل ،میر خان محمد گرگناڑی ، غازی سلیمان گرگناڑی ، گہرام مینگل ، لالو مینگل اور دیگر ساتھی مزاحمت جاری رکھے۔ لاڑکانہ ، دادو اور شکار پور کے علاقہ میں انگریز فوج کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں کرتے رہے جس کی وجہ سے علاقہ میں بے چینی بڑھتی گئی۔12اپریل1916ء کو نورا مینگل ، خان محمد گرگناڑی ، لالو مینگل اور ان کے ساتھیوں نے لاکھوریان کے قریب ڈاک کو چھین لیا۔
سوراب کے قلعہ پر قبضہ کرنے والے تھے کہ حکومتی اہلکاروں کو تازہ کمک پہنچا کر قلعہ کو قبضہ ہونے سے بچالیا۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے ولی محمد کے بیٹے میر رحیم خان مینگل و میر علم خان مینگل کو خضدار بلوایا، انہیں نورا مینگل اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کاحکم دیامگر انہوں نے نورا مینگل کو گرفتار کرنے سے معذوری ظاہر کی ۔ نورا مینگل دہشت اور خوف کی علامت بن چکے تھے۔ انگریز مجبور ہو کر نورا مینگل اور اس کے ساتھیوں کے خلاف خود جنگ کے لئے میدان میں اتر آیا۔ایک لشکر میر رسول بخش ساسولی کی گرفتاری کیلئے زیدی روانہ ہوا۔نورا مینگل اس وقت اپنے اکیس ساتھیوں کے ہمراہ مشہور پہاڑی سلسلہ کوہ پھب میں موجود تھا۔اچانک اُنہیں معلوم ہوا کہ انگریز لشکر میر رسول بخش ساسولی کی گرفتاری کیلئے زیدی روانہ ہوا ہے تو وہ راتوں رات میر رسول بخش ساسولی کی مدد کیلئے زیدی روانہ ہوئے، ابھی وہ گاج کے علاقے پہنچے تھے کہ اُنہیں معلوم ہوا کہ فوج زیدی نہیں بلکہ وڈھ کا رُخ کیا ہوا ہے۔
 اُ نہوں نے اسے ایک جنگی چال سمجھا ۔ فوراً اُلٹے پائوں واپس خود کو وڈھ پہنچادیئے ۔برسات کا موسم تھا آفتاب غروب ہوچکا تھا، وقفے وقفے سے بارش برس رہی تھی۔مگر یہ شیر جواں 50میل کا فاصلہ دوبارہ طے کرکے صبح صادق کو برستی بارش میں واپس کوہ پھب پہنچ گئے۔کپتان ہینڈرسن رات کے اندھیرے میں گہرام مینگل جو کہ نورا مینگل کے چچا زاد بھائی تھے کے گائوں اور گھر کو گھیرے میں لے چکے تھے۔ گہرام ،لالو اور حسین خان اور ان کے ساتھی اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے۔ صبح ہوئی تو وہ خود کو انگریز فوج کے گھیرے میں پائے۔
انگریز نے لیویز سپاہئیوں کے ذریعے انہیں پیغام بھیجا کہ تلوار پھینک کر سلام کرو اور ہمارے ساتھ لڑائی کرنے سے باز آجائو۔ تو اُنہوں نے جوش شہادت سے سر شار ہوکر تلوار پھینکنے کے بجائے ننگی تلوار لیکر میدان میں نکلے۔گہرام خان مینگل جب تلوار لیکر انگریز فوج کی طرف حملہ آور ہوا تو حسین خان گمشادزئی نے اُسے پیچھے سے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر روکے رکھا اور کہا کہ آج دیکھنا کہ آپ سے پہلے میرے بھائی اور بیٹے کس طرح لڑکر جام شہادت نوش کرتے ہیںاور ہوا بھی اسی طرح حسین خان گمشادزئی کے بھائی اور بیٹے ایک ایک کر کے انگریز سے لڑکر جام شہادت نوش کر گئے۔
آخر میں حسین خان گمشادزئی گہرام مینگل کو پیچھے پھینک کر خود لڑنے کفار پر حملہ آور ہو ا اور شہادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے۔اب گہرام مینگل کی باری تھی۔ گہرام مینگل ننگی تلوار لیکر انگریز کمانڈر پر حملہ آور ہورہا تھا تو انگریز کمانڈر کے ہاتھ میں پستول تھی اس پستول سے وہ گہرام مینگل کو سات گولیاں مار چکا تھاجوکہ اس کے پیٹ میں لگے تھے جس کی وجہ سے اس کی انتڑیاں نکل کر باہر آچکے تھے اور دشمن پر حملہ کرنے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ انہیں اپنے آزار بند کے ساتھ باندھ کر دشمن پر حملہ آور ہوئے اور آٹھویں گولی سے پہلے اپنے مدمقابل کا سر قلم کرکے شہادت جیسے عظیم درجے پر فائز ہوکر ہمیشہ کے لئے امر ہوئے۔اس معرکہ میں گہرام مینگل اور حسین خان گمشادزئی کے علاوہ کل 33جوان جام شہادت نوش کئے ۔
 جب گائوں کے تمام لوگ (مرد) شہید ہوئے تو فوج نے پورے گائوں کو لوٹ کر شہداء کو ایک بھوسے کے گودام (کوم)میں پھینک کر اوپر مٹی ڈال دی۔
 انگریز ی فوج گہرام مینگل اور اس کے ساتھیوں کو شہید کرکے ان کے گائوں اور گھروں کو تخت و تاراج کرنے کے بعد پہاڑوں کے دامن میں واقع گائوں کارُخ کردیا۔اوروہاں پر بھی لوٹ مار کر کے واپس وڈھ کی جانب جا رہے تھے کہ نورا مینگل ان کے راستے میں آکر ان سے اپنے نہتے شہداء کا وہ بدلہ لیا کہ فرنگی انگشت بدنداں ہوئی اور تاریخ میں ایسا بدلہ شاید کسی نے لی ہو ۔ نورا مینگل راستے میں ایک پہاڑی کے دامن میں تاک میں سات(7) ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر فوج کے آنے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ باقی کے چودہ(14)ساتھیوں کو دیگر چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی طرف بھیج دیئے۔ رائفل صرف نورا مینگل اور خان محمد گرگناڑی کے پاس تھے باقی ساتھیوں کے پاس مقامی روائیتی ڈھاڈری بندوق (رُغدار)تھے۔ان میں سے پانچ ساتھیوں کے پاس صرف تلواریں تھیں۔ پلٹن جوں جوں قریب آتا گیا
 نورا مینگل اور خان محمد گرگناڑی نے فوج پر فائرنگ شروع کردی فوجی جوں ہی فائرنگ کی آواز سنے تو فوراًزمین پر لیٹ گئے ۔ وہاں ایک خشک ندی اور ساتھ میں پر پُک کے درخت موجود تھے ان میں وہ چھپ گئے۔نورا مینگل کے پانچ ساتھی جو صرف تلواروں سے لیس تھے جوش میں آکر تلواریں ننگی کر کے ان پر حملہ آور ہوئے اُنہیں دیکھ کر باقی چودہ ساتھی جن کے رُغدار ناکام ہوئے تھے وہ بھی اپنی اپنی تلواریں میان سے نکال کر فرنگیوں پر حملہ آور ہوئے۔ابھی تک وہ دشمن تک نہیں پہنچے تھے کہ دشمن کے گولیوں کا نشانہ بن کر جنت الفردوس سدھار گئے، جو اُن کی آخری خواہش تھی انہی میں سے ایک مجاہد اپنے تلوار کے ساتھ قریب تھا کہ ہینڈرسن کا سر قلم کرتاہنڈرسن یہ دیکھ کر اُٹھ بیٹھا اور پستول نکال کر اُسے بھی شہادت کی راہ دکھائی۔ ا ب صرف نورا مینگل اور خان محمد گرگناڑی رہ گئے تھے۔ اسی دوران ہنڈرسن کا سینہ نورا مینگل کے سامنے تھا کہ موقع پاکر نورا مینگل نے اس کے سینے میں گولی پیوست کر کے جہنم واصل کردیا۔کپتان پار گیڈ گھٹنوں کے بل رینگ کر ہنڈر سن کے لاش تک پہنچ گیا اور پائوں سے پکڑ کر لے جانے والے تھا کہ نورا مینگل کی دوسری گولی نے پارگیڈ کے پیشانی میں پیوست ہو کر اسکا کا تمام کردیا۔
 یہ دیکھ کر لیفٹیننٹ کلینیکل اُٹھا تو نورا مینگل کی تیسری گولی نے اُس کی ٹوپی اُڑادی مگر وہ بد بخت بچ نکلا۔ آفیسران کے مردار ہونے کے بعد باقی فوج میں بھگدڑ مچ گئی ان کی ترتیب ٹوٹ گئی، ہر کوئی جس طرف منہ تھا بھاگنے لگے جس سے نورا مینگل اور خان محمد گرگناڑی کو بہترین موقع ملا اور اُنہوں نے ایسا تابڑ توڑ حملہ کیا کہ ہر گولی سے ایک ایک سپاہی زمین پر گررہا تھا ۔زمین پر خون کی ندیاں بہنے لگیں ، کئی کئی لاشیں زمین پر پڑی ایڑیاں رگڑ رہے تھے ۔ اب پلٹن واپس ہوئی۔ رسالہ حملہ آور ہوا حملہ کے دوران رسالہ کا جمعدار سب سے آگے تھا ۔ خان محمد گرگناڑی کی گولی نے اس کا کام تمام کردیا۔ اس کے پیچھے دوسرا سوار آرہا تھا اس کا کام نورا مینگل کی گولی نے تمام کردیا۔ یہیں سے رسالہ دو حصوں میں تقسیم ہوا اور ان سے گزرتا ہوا دور ہوگیا اور تیزی سے ان سے اوجھل ہوگیا۔اسی دوران کرنل ڈیوڈ (ڈیہو) وہیر میں آچکا تھا لیفٹیننٹ کلینیکل نے اُسے دودکی معرکے کی داستان سنائی کہ اس جنگ میں دو (2)کپتانوں کے علاوہ رسالہ جمعدار اور کئی سپائی مارے گئے ہیں (اندازاً 100 سے زائد سپائی مارے گئے تھے ۔کیونکہ نورا مینگل کے بقول جو بعد میں انہوں نے لوگوں کو بتایاتھا کہ میں نے 90 گولیاں برسائے تھے جن میں سے صرف 2 یا 3 گھوڑوں اور خچروں کو لگے باقی انگریز سپاہیئوں کے جسموں میں پیوست ہوئے) خان محمد گرگناڑی کی گولیاں الگ کامیابیاں سمیٹے تھے۔
لیفٹیننٹ کلینیکل نے یہ بھی کہا کہ نورا مینگل کے 333 ساتھی بھی مارے گئے ہیں، جو سارے کے سارے نہتے تھے جن کے پاس صرف تلواریں تھیں۔اگر یہ سارے نورا مینگل کی طرح پُر سلاح ہوتے تو فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ بچ کر واپس نہیں آسکتا۔کرنل ڈیہو یہ سن کر انتہائی رنجیدہ ہوا اور آگ بگولہ ہو کر سیدھا وڈھ پہنچ گیا ۔یہاں ولی محمد مینگل ، جمعہ خان شاہیزئی اور دیگر معتبرین کو بلوایا اوراُنہیں گرفتار کیا (مگر کچھ عرصہ بعد یقین دہانیوں کے بعد اُنہیں رہا کر دیا گیا) اب کرنل ڈیہو خود نورا مینگل کی گرفتاری کیلئے نکل گیا۔وڈھ ، مولہ، گاج گولاچی، سارونہ، نال ، گریشہ، مشکے ہر جگہ ڈھونڈتا رہا مگر نورا مینگل تھا کہ ہاتھ نہیں آرہاتھا۔ نورا مینگل کی یہ خاصیت تھی کہ وہ دراز قد انتہائی چست ، پیدل جانے میں انتہائی ماہر، الٹے ہاتھ کا انتہائی کامیاب نشانہ باز (ٹِک تیر توپچی) جنگ کے دوران طنز و مزاج اور ہنس مکھ، عام حالت میں انتہائی خاموش طبع انسان تھا۔ روایات سے معلوم ہوا ہے کہ اکثر جنگ کے دوران نظروں سے اوجھل ہوتاتھا
 انگریز سرکار نے اپنی ایڑی چوٹی کا ذور لگایا مگر نورا مینگل کو گرفتار نہ کر سکا۔آخر میں جبب بے سر و سامانی کی حالت ہوئی، ساتھی ایک ایک ہو کر گرفتار ہو گئے پھر بھی نورا مینگل ہتھیارپھینک کر سلام کرنے کو اسلامی روایات اور بلوچی روایات کے بر خلاف سمجھا۔ جب پھب پہاڑ میں تھا تو بے سر و سامانی اور بندوق زیادہ استعمال ہونے سے خراب ہوگیا تو یہ سوچ کر کوئی وفادار ساتھی ملے جو اسے اسکا بندوق (رائفل) ٹھیک کر کے دے۔یہ سوچ کر اس نے خاران کے والی نواب حبیب اللہ نوشیروانی کا انتخاب کیا کیونکہ نواب حبیب اللہ کے والد ان کے بچپن میں مارا گیا اور اس کی حکمرانی چھن گئی تھی ، وہ یتیمی کی حالت میں جھالاوان آیا تھا اور یہاں پناہ حاصل کی تھی ۔یہاں کے بلوچوں نے اُسے نہ صرف پناہ دی تھی بلکہ اس کی مالی مددکرکے اس کی حکمرانی بھی واپس دلا دی تھی ۔نورا مینگل خاران پہنچنے میں کامیاب تو ہو ا مگر نواب حبیب الله نوشروانی نے غداری اور نمک حرامی کا مظاھرہ کرتے ھوئے نورا مینگل کی موجودگی کی خبر کوئٹہ یا نوشکی میں انگریز حکومت کو دے دی اور فوج نے رات کے اندھیرے میں نورا مینگل کو گھیر لیا۔ نورا مینگل نہتے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہو کر کوئٹہ یا کراچی سے کالا پانی biپہنچا دیاگیا اور کئی سالوں کی قید کے دوران ہی شہید ہوئے ان کی جیل ہی میں شہادت کی خبر ان کے ایک رہائی پانے والے ساتھی کی زبانی معلوم ہوئی تھی ۔مگر ان کے مزار سےبلوچ قوم ابھی تک نابلد ہیں
۔

пятница, 30 сентября 2016 г.

’پاکستان مذہبی انتہاپسندی کا مسکن ہے، جب تک یہ قائم رہے گا امن قائم نہیں ہوگا‘ -- بلوچ رہنماء 
ڈاکٹر ﷲ نذر


بلوچ رہنماء ڈاکٹر اﷲ نذر کا ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو

انٹرویو: آرتی ٹیکوسنگھ
ترجمہ: لطیف بلیدی
ڈاکٹر اللہ نذر، جنہوں نے طب میں ڈگری حاصل کی ہے، پاکستان کے صوبے بلوچستان میں شورش کا سرکردہ چہرہ ہیں۔ ڈاکٹر سے عسکریت پسند بنے یہ شخص اس جنگ زدہ خطے میں سرگرم پانچ عسکریت پسند گروہوں میں سب سے بڑے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی سربراہی کررہے ہیں۔ اﷲ نذر، جو کہ روپوش ہیں، پاکستانی افواج کی طرف سے گزشتہ سال ایک جان لیوا حملے میں بال بال بچ گئے۔ یہ اس ای میل انٹرویو سے اقتباس ہے جو انہوں نے بلوچستان میں کسی نامعلوم مقام سے ٹائمز آف انڈیا کے آرتی ٹیکو سنگھ کو دیا تھا:
سوال: بلوچستان میں ایک منتخب صوبائی حکومت ہے لیکن بلوچ عسکریت پسند گروہ پاکستان کے اندر جمہوری نظام کا حصہ بننے سے انکاری ہیں۔ کیوں؟
جس بات کا بیشتر پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کو بھی ادراک نہیں وہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ برطانیہ سے اُن کی آزادی کے حصول میں ریاست کلات کی نمائندگی کرے وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود ایم اے جناح تھا جو کہ وکیل تھا جنہیں خان کلات کی طرف سے بھاڑے پر لیا گیا تھا۔ اپنی خدمات کے عوض مسٹر جناح نے ریاست کلات کے خزانے سے اپنے وزن کے برابر سونا لیا تھا۔
جواب: پاکستان کے قیام سے قبل بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی اور پاکستان نے اپنے قیام کے تقریباً ایک سال بعد بلوچ سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ جس بلوچستان کے بارے میں ہم آج بات کررہے ہیں وہ ریاست کلات اور مری اور بگٹی علاقے جنہیں ’برٹش/ برطانوی بلوچستان کہا جاتا تھا، برطانیہ کی طرف سے بھارت کے اعضاء کاٹ کر مصنوعی طور پر تراشے گئے ملک پاکستان کے بجائے ریاست کلات میں شامل ہونا چاہتی تھیں۔ لہٰذا 4 اگست 1947ء کو بلوچستان ایک آزاد ملک بن گیا اور اس کا اعلان 11 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام سے چند روز قبل کیا گیا تھا۔
جہاں تک پاکستان میں جمہوری عمل کا تعلق ہے تو اس کا کوئی وجود نہیں ہے، کم از کم بلوچستان میں۔ بلوچستان کے عوام نے زیادہ سے زیادہ 3 فیصد کے ٹرن آوٹ کیساتھ 2013ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ آج ان کے چند حلیف جو بلوچستان کی حکومت میں ’منتخب‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، 1,000 سے بھی کم ووٹ انکے حق میں کاسٹ ہونے کے ساتھ منتخب ہوئے تھے۔ کس منطق کی بنیاد پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ حکومت بلوچ عوام کی نمائندگی کرتی ہے؟ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ الیکشن پاکستان کیخلاف ایک ریفرنڈم تھا۔
کشمیر کی جنگ میں جب بھارتی فوج نے پاکستان کو شکست دی تو جناح نے اپنی غنڈہ گرد فوج کو بلوچستان کی طرف بھیج دیا اور اسی ریاست پر حملہ کر دیا جس کی آزادی کیلئے انہوں نے ایک وکیل کے طور پر وکالت کی تھی۔ اس کے بعد سے ہمارے والدین اور انکے اجداد اور آج ہم اس غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ مزید برآں، جب کبھی بھی بلوچستان کے عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے تو انہوں نے بلوچ قوم پرست حکومتیں منتخب کیں جنہیں بعد میں پاکستان آرمی اور ان کے سویلین خادمین کی طرف سے برخاست کیا گیا۔
جواب: شاید میں آرام دہ زندگی گزار کر سکتا ہوں، لیکن یہ ہماری مظلوم بلوچ عوام کی حالت تھی جس نے مجھے ادویات کی پریکٹس کو ترک کرنے اور ایک خود مختار بلوچ ریاست کی خاطر لڑنے کیلئے اپنی زندگی وقف کرنے پر مجبور کیا۔ ہم بلوچوں کی اپنی ثقافت، زبان، خطہ اور عمومی نفسیات ہے اور ہماری تاریخ کئی ہزار سالوں پر محیط ہے۔ برطانیہ میں ’پاکستان‘ کا لفظ گڑھے جانے سے قبل ہم طویل عرصے سے یہیں موجود تھے اور اس کے کئی عرصے بعد بھی یہیں رہیں گے جب یہ برا خواب پاکستان اپنے واٹرلو سے جا ملے گا۔
سن 1970ء کے انتخابات میں جب بلوچوں نے مرحوم خیر بخش مری، سردار عطاءاللہ مینگل اور میر غوث بخش بزنجو جیسے بلوچ رہنماوں کو ووٹ دیکر اقتدار میں لایا۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں پاکستان فوج کی طرف سے کی گئی نسل کشی، جس میں 30 لاکھ بنگلہ دیشیوں کی ہلاکت ہوئی، کے بعد ہمارے بزرگوں نے سوچا کہ شاید پاکستان آرمی نے سبق سیکھا ہوگا اور وہ جمہوریت کا احترام کرے گی۔ تاہم، جب بلوچ قوم پرست حکومت نے 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی شکست کے بعد اپنے عہدے کا حلف لیا تو واپس لوٹے جنگی قیدیوں نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر بلوچستان میں حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سوال: آپ ایک ڈاکٹر ہیں؛ آپ بلوچستان میں ایک آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے۔ آپ پاکستان کیخلاف مسلح جنگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ دسیوں ہزار بلوچوں نے اس سرزمین کیلئے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا ہے؛ میں تو محض بطور ایک ڈاکٹر کے اپنا سکون اور پریکٹس چھوڑ رہا ہوں۔ اسکا ان سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔ ہم آخری آدمی تک لڑیں گے۔
چین کہ جس نے خود اپنی آزادی کی جدوجہد دیکھی ہے صرف بلوچستان کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کی خاطر آج ایک بدمعاش ملک پاکستان کی امداد کررہا ہے حتیٰ کہ وہ بلوچ کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ ان سے گفتگو کی جائے۔
سوال: بلوچ عسکریت پسند گروہوں کو عام بلوچوں کے درمیان کس طرح کی حمایت حاصل ہے؟ جواب: بلوچستان کے عام لوگوں میں ہمیں مقبول حمایت حاصل ہے اور ہمیں قائم و دائم رہنے کیلئے صرف یہی حمایت حاصل ہے۔ بلوچ قوم اور عوام مالی اور اخلاقی طور پر ہماری حمایت کر رہے ہیں کیونکہ ہماری تحریک خالصتاً دیسی اور مقامی ہے۔ ہمیں اپنی طاقت محض بندوق کی نلی سے نہیں بلکہ اس سرزمین کی پوری بلوچ آبادی کی طرف سے ہم پر اعتماد کرنے سے ملی ہے۔ بلوچ آبادی کی ایک نمایاں اکثریت ہماری حمایت کررہی ہے اس ظلم و جبر کے باوجود جو ہر اس بلوچ مرد یا عورت پر ڈھایا جارہا ہے جو ’سرمچاروں‘ (آزادی کے سپاہیوں) کیلئے ہمدردی کا اظہار کرے۔ پاکستان کی پنجابی فوجی اسٹابلشمنٹ اور وہ جو ترقی کے نام پر ہماری ناک تلے ہمارے وسائل لوٹنے کے خواہاں ہیں ہم سب کو اپنے اس مقصد کیلئے متحد کرتا ہے جس میں ہم قبضے سے آزاد ایک ملک کے طور پر بلوچستان کو دیکھنا چاہے ہیں۔
جواب: سرد جنگ کے دوران بین الاقوامی طاقتوں کے اپنے مفادات تھے؛ مغرب اور امریکہ نے اسلام پسندوں اور جہادیوں کی پرورش کی اور پبلک پالیسی کے طور پر جہاد کی ستائش کی تاکہ وہ مسلم رنگروٹوں کو استعمال کریں اور ان کی ایماء پر افغانستان میں سرخ فوج سے لڑیں۔
چین کو پاکستان یا پاکستانی پنجابیوں سے کوئی محبت نہیں ہے۔ انہیں صرف اس چیز سے غرض ہے کہ وہ سی پیک کی سڑک کو اسٹراٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے دہن پر واقع بلوچستان کی گوادر بندرگاہ سے چین کے اندرونی علاقوں تک لے جائے، بلوچ آبادی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جسے بیجنگ جڑ سے اکھاڑدے گا اور اپنے ’کمیونسٹ پارٹی‘ کے ظاہری لبادے کی آڑ میں وہ مزید کھربوں ڈالر کمائے گا۔ ماو اور مارکس اپنی قبروں میں کراہ رہے ہونگے۔ چین کیلئے ہمارا ایک انتباہ ہے۔ آپ بلوچ سرزمین پر اسی طرح سے حملہ کر رہے ہیں جس طرح جاپانیوں نے چین پر حملہ کیا تھا اور نانکنگ کو تباہ کیا تھا۔ چین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بلوچ چینی سامراج کے آگے دستبردار نہیں ہوں گے خواہ یہ اقتصادی ترقی کے برقعے میں کیوں نہ ہو۔ سوال: گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد سے دنیا بھر میں پر تشدد تحریکوں کیخلاف بڑے پیمانے پر نفرت پیدا ہوئی ہے۔ آپ اپنی عسکریت پسند تحریک کا جواز کس طرح سے پیش کرتے ہیں؟ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکیوں نے جہادیوں کو ان کے اپنے حال پر اور پاکستان آرمی اور فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا جنہوں نے طالبان کی تخلیق کی، اور پھر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سمیت دسیوں ہزار عرب جہادی جنگجووں کی پرورش کی۔
جواب: یہ بات قطعاً سچ نہیں ہے۔ میری خواہش ہے کہ بھارت ہماری مدد کرتا، لیکن انہوں نے کبھی نہیں کی۔ نئی دہلی نے تو ابھی حال ہی میں ہماری میتوں اور تشدد کا نشانہ بنے لوگوں کی چیخیں سنی ہے۔
اس وقت مذہبی انتہاپسندوں کا گھونسلا مستقل طور پر پاکستان میں ہے، جہاں اسلام آباد مذہبی جنونیوں کو بھارت کیخلاف اپنے اثاثوں کے طور پر استعمال کرتا ہے، اور امریکہ اور مغرب سے بلیک میلنگ کے ذریعے مادی اور مالی مدد حاصل کرتا ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ ہماری تحریک ایک آزاد بلوچستان کے لئے ہے جہاں ہمارے پاس ایک جمہوری ملک ہوگا، ایک سیکولر معاشرہ جہاں تمام مذاہب کے لوگ ایک ہی ملک کے شہریوں کے طور پر رہیں گے، یہ پاکستان جیسا ملک نہیں ہوگا جہاں جناح کی نفرت پر مبنی، نسل پرست ہندو مخالف دو قومی نظریے کو داعش جیسے بدنفس فاشسٹ جہادی ثقافت کے ساتھ ملا دیا گیا ہو۔ جلد ہی دنیا پر یہ واضح ہوجائے گا کہ ایک آزاد اور خود مختار بلوچستان اسلامی انتہاپسندی کی کسی بھی جھلک سے آزاد، درحقیقت القاعدہ، داعش اور طالبان کی مخالف جو اسلام آباد اور اسکے عالمگیر جہادی انٹرپرائز کی طرف سے دنیا بھر میں پھیلائے گئے اس پاگل پن کے خلاف ایک مانع قوت ثابت ہوگی جو جنوبی فلپائن سے لیکر شمالی امریکہ تک سرگرم ہے جیساکہ ہم نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں دیکھا۔ سوال: پاکستان یہ الزام عائد کرتا رہتا ہے کہ بھارت بلوچ مزاحمت کاروں کو مسلح اور ان کی فنڈنگ کر رہا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ آپ کے گروہ سمیت مختلف بلوچ عسکریت پسند گروہوں کو کون فنڈز، اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا ہے؟
میرا خیال ہے کہ اس سے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر فائدہ ہوگا کیونکہ پاکستان دراندازی کرکے کشمیر میں اپنے پراکسی جنگجو بھیجتا رہے گا۔ اُڑی واقعہ دنیا کی آنکھیں کھول دینے والا ایک اور واقعہ ہے کہ وہ یہ دیکھ سکے کہ پاکستان ایک ایسا ملک نہیں جس کے پاس کوئی فوج ہے بلکہ ایک فوج ہے جسکے پاس ایک ملک ہے۔ جتنی جلدی پاکستان اپنے قومی حصوں میں تحلیل ہوگی، یہ ان لوگوں کیلئے اتنا ہی بہتر ہوگا جو آج پاکستان کے ملا ملٹری مافیا کے ظلم کے تحت رہ رہے ہیں۔
اور یہ کہ نہ صرف بھارت بلکہ ہمیں امید ہے کہ پوری دنیا ہماری مدد کو آئے گی، چونکہ بلوچ جیسے مظلوم اقوام کی حمایت کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہم کسی بھی ذریعہ سے ملنے والی کسی بھی مدد کا خیر مقدم کریں گے۔ سوال: جلاوطن بلوچ رہنماء براہمدغ بگٹی نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ درست سمت میں ایک درست اقدام ہے؟ جواب: بلوچ کو بھارت اور دیگر آزادی پسند ممالک سے ہر قسم کی مدد کی ضرورت ہے۔ براہمدغ کو سیاسی پناہ دینے سے بھارت خطے میں ایک مثال قائم کرے گا کہ کسی بھی شخص کو محض اپنے لوگوں کیلئے آواز اٹھانے پر قتل اور اغواء کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سوال: کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ بلوچستان کی تحریک آزادی کو بھارت کی اخلاقی حمایت سے کشمیر میں اس کے اپنے موقف کو خطرے میں ڈال دے گی۔ آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ جواب: سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم کے طور پر یہ مودی صاحب اور بھارتی ریاست کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں پاکستانی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں۔ ہم بلوچستان پر مودی جی کے موقف کا خیر مقدم اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ سوال: بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک سفارتی محاذ کا آغاز کر دیا ہے۔ ان حالات میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی بھارت سے کس قسم کی توقعات ہیں؟

ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت پاکستان کی بدمعاش ریاست کیخلاف جوابی کارروائی کرے گی جو کسی بھی طرح کی سفارتی زبان نہیں سمجھتا۔ ہم بلوچوں کو اُڑی واقعے پر تشویش ہے کہ اگر اسکا جواب اسی انداز میں نہیں دیا گیا تو یہ کشمیر میں خونریزی کو اشتعال دینے کیلئے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور بیک وقت وہ بلوچستان میں اپنی نسل کشی کی پالیسی بھی جاری رکھے گا۔ ہم بلوچ اس بات کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ پہلے اقدام کے طور بھارت کو پاکستان پر اپنے تئیں پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا چاہئے اور پھر چین کو یہ بتائیں کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان خود مختار علاقے ہیں اور یہ کہ بیجنگ کو یہاں پر کسی بھی طرح کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو بند کرنا اور باز رہنا چاہئے۔
نئی دہلی کا اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جب تک یہاں پاکستان قائم رہے گا بھارت میں امن قائم نہیں ہوگا۔
بشکریہ: ٹائمز آف انڈیا ، منگل، 27 ستمبر، 2016

понедельник, 4 июля 2016 г.

ایک باریک سرخ لکیر


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی
Mir Muhammad Ali Talpur
انقلابی جدوجہد اپنے حامیوں، رہنماوں اور معاونین سے یہ تقاضہ کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروہ عوام کے نام پر اختیارات حاصل کرلے تو اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ عوام کو جوابدہ ہیں اور عوام کی منشاء کو عذر بنا کر ان اختیارات کا استعمال یا غلط استعمال منمانے طور پر نہیں کر سکتے۔
کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ان اختیارات کا استعمال اپنے خبط کی بنیاد پر کرے اور دروغ گوئی سے ان کارروائیوں کو جدوجہد کیلئے ضروری اقدامات کے طور پر منوائے۔ انہیں عوام کو جوابدہ ہونا ہوگا خاص طور پر جب وہ اقدامات لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں یا تباہ کریں؛ ایسے اوقات میں رہنماء یا گروہ ایک نہایت باریک لکیر پر چل رہے ہوتے ہیں کہ جس سے وہ منصفانہ یا تباہ کن اقدامات کو کافی حد تک ناقابل امتیاز بنا دیتے ہیں اور اسے ناگزیر گردانتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کافی غور و خوص اور احتیاط کے بعد عمل میں لائے جاتے ہیں۔

منصفانہ یا عوام مخالف کارروائیوں کے درمیان اس باریک لکیر کو نظر انداز کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ جدوجہد کی اخلاقی بالادستی کیلئے تباہ کن نتائج کا موجب بنی ہوئی ہے اور اس نے حقیقی حامیوں اور خیر خواہوں سے دوری پیدا کی ہے۔ جدوجہد اپنے حامیوں یا اپنی اخلاقی بالادستی کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتی جو اسے دشمن سے ممتاز کرتی ہے۔ لہٰذا، کوئی بھی کارروائی کرنے سے قبل انہیں اپنے اقدامات کے ممکنہ اثرات پر غور کرنا چاہئے۔
کہا جاتا ہے کہ ہوشمندی اور پاگل پن کے درمیان ایک ’باریک سرخ لکیر‘ ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس دعوے میں کافی حد تک سچائی ہے کیونکہ ہوشمندی اور پاگل پن کی وضاحت کرنے کے لئے کوئی معیار مقرر نہیں ہے چونکہ انسانوں کے اعمال ایک دوسرے کو ڈھانک دیتے ہیں اور اس بات کی تمیز کرنا مشکل ہوجاتی ہے کہ کونسا عمل ہوشمندانہ تھا اور کونسا نہ تھا۔ ان اعمال کو ہوشمندانہ یا فاتر العقل قرار دیا جانا بھی ہر ایک کے اپنے ادراک پر منحصر ہے اور کوئی عمل جو کسی ایک کو دانشمندانہ دِکھتی ہو کسی اور کو حتمی حماقت لگ سکتی ہے۔ تاہم، ہم کسی ایسے اقدام کی پاگل پن کے طور وضاحت کرنے کی جسارت کر سکتے ہیں جو زمینی حقیقت کو نظر انداز یا اس سے انکار کرتا ہو۔ ایسے اقدامات جو زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوں ان سے افراد، گروہوں یا اقوام پر زبردست حد تک منفی اثرات پڑتے ہیں ان اقدامات کی قیمت انہیں اور انکی آئندہ نسلوں کو چکانی پڑتی ہے۔
زمینی حقائق کو ماننے سے انکار اس صورتحال کو مزید ابتر اور پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ بظاہر انکار ایک عام انسانی کمزوری ہے اور یہ شاید خود کو اس بات پر قائل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے کہ سب کچھ اچھا اور کنٹرول میں ہے۔ میں نے خون تھوکنے والے بہت سے لوگوں کی مثالیں دیکھی ہے جو اس بات کو قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں کہ وہ تپ دق میں مبتلا ہیں۔ نفسیاتی مسائل کا شکار لوگ بھی اس بات کو قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں کہ انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ انکار کرنے کا یہ میلان کسی صورتحال کیلئے مدد کی فراہمی اور اسکی تلافی کے حصول کو بہت مشکل بنادیتی ہے؛ وہ یہ سمجھنے سے انکاری ہوتے ہیں کہ ان کے ماننے یا نہ ماننے میں حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حقیقت ہماری خواہشات یا آرزووں کے بغیر آزادانہ طور پر زندہ اور قائم رہتی ہے۔
اتفاق سے، انقلاب اور دہشتگردی کے درمیان بھی ایک نہایت ’باریک سرخ لکیر‘ ہوتی ہے اور اسے زیادہ ایمانداری سے قبول کرنا اور سمجھنا چاہئے کیونکہ ہوشمندانہ و پاگل پن کی صورتحال کے برعکس یہ نہ صرف خود پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ کئی لوگوں پر اس کے انتہائی دور رس اثرات ہوتے ہیں اور اس کے پاس تعمیر کے ساتھ ساتھ تباہی کیلئے بھی یکساں قوت ہوتی ہے۔ اس ’باریک سرخ لکیر‘ پر بہت احتیاط سے چلا جائے، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ انقلاب کہیں دہشتگردی نہ بن جائے۔ وہ لوگ جو انقلاب کی رہنمائی کررہے ہوتے ہیں انہیں اس بات کو دوگنا طور پر یقینی بنانا چاہئے کہ یہ باریک لکیر غلطی سے یا جان بوجھ کر عبور نہ کی جائے کیونکہ انقلاب کے معاملات عوام کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس لکیر کو پار کرنے سے عوام کو نقصان پہنچتا ہے اور انہیں الگ تھلگ کردیتا ہے اسی لئے یہ انقلاب کیلئے مہلک ثابت ہوتی ہے۔
انقلاب عوام کے ذریعے پنپتی ہے کیونکہ یہ عوام کیلئے ہوتی ہے اور اسے دہشتگردی سے ممیّز اور مختلف رہنا چاہئے اگر یہ کسی بھی طرح سے کامیاب ہونا چاہتی ہے۔ دہشتگردی کو دھوکہ دہی سے انقلاب کے طور پر نہیں منوایا جا سکتا محض اس لئے کہ وہ لوگ جو دہشتگردی کا ارتکاب کررہے ہیں انہیں لگتا تھا کہ ایسا کرنا ضروری تھا۔
انقلاب کوئی حربہ نہیں، یہ ایک حکمت عملی ہے اور ان کارروائیوں سے اسے اسکا جائز احترام ملنا ہے چاہئے جو اس کے نام پر کیے جاتے ہیں؛ آپ بہت بڑی غلطیاں نہیں کرسکتے اور یہ بہانہ بناکر کہ یہ انقلاب ہے، ان سے بری الذمہ ہونے کی کوشش بھی نہیں کرسکتے۔ انقلاب کے اپنے سخت مجموعہءقوانین و ضوابط اور اقدار ہوتے ہیں جنکی نافرمانی نہیں کی جا سکتی۔ وگرنہ، آپ اسے کوئی انقلاب نہیں کہہ سکتے۔ انقلاب کے علم کو اشد ضرورت اور موزونیت کی مناسبت سے سرنگوں نہیں کیا جا سکتا؛ یہ آپ ہیں کہ جس نے اپنے معیار مقرر کیے ہوئے ہیں اور اگر آپ انکی پاسداری نہیں کرسکتے تو ایک طرف ہٹ جائیں۔ انقلاب طاقت اور دولت کا حصول نہیں ہے بلکہ یہ ان اہداف کے حصول سے متعلق ہے جن سے عوام کو فائدہ پہنچے اور ان کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت کی جاسکے۔
مورخہ 15 مئی 2016ء کو پانچ افراد، ان میں سے تین سرکاری اہلکار اور دو ٹھیکیدار تھے، جو کسی سرکاری معائنے کیلئے گئے تھے، کو ایک گروہ کی طرف سے کیچ کے علاقے دشت سے اغواء کیا گیا۔ ان مغویوں میں سے ایک چاکر زامرانی، شہید کمبر کے والد، تھے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کمبر چاکربلوچ جدوجہد کے ایک آئیکون ہیں؛ وہ بی ایس او آزاد کے رکن تھے اور ہمیشہ بلوچ اور طلباء حقوق کیلئے جدوجہد میں سب سے آگے رہتے تھے۔ انہیں 26 نومبر 2010ء کو شاہی تمپ تربت میں اپنے گھر سے انکے کزن ارشاد بلوچ کے ہمراہ پاکستانی ایجنسیوں کی طرف سے اغواء کیا گیا تھا، اور ان کی تشدد زدہ لاش الیاس نذر کی لاش کے ہمراہ 5 جنوری 2011ء میں تربت کے قریب پیدراک سے ملی۔
دشت کے دیگر مغویوں میں محبوب رند (ٹھیکیدار)، فدا احمد (ایس ڈی او)، ابراہیم بلوچ (انجینئر) اور رحیم جان بلوچ (انجینئر) شامل تھے۔ تقریباً دس دن بعد ان کی لاشیں ساہیجی، دشت میں سے ملیں، اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ان کے اغوا کاروں، جو خود پاکستانی فورسز کے حملے کی زد میں تھے، کی طرف سے وہیں چھوڑ دیے جانے کے بعد وہ پیاس، بھوک اور آب رُبانی کے سبب وفات پاگئے تھے۔ متوفی، جو اس مشکل قطعہ زمین میں سے اپنے واپسی کا راستہ تلاش کرنے کے قابل نہ تھے، ہلاک ہوگئے۔
ڈاکٹر مالک کے نام نہاد مڈل کلاس نیشنل پارٹی ان اموات پر شورو غل مچا کر رونا رو رہی ہے اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ ان کے اقتدار میں آنے کی ہوس کے سبب بلوچ کو بے حد نقصان اٹھانا پڑا ہے جہاں انہوں نے پاکستانی پٹھووں کے طور پر کام کیا اور بلوچوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کا غلیظ کام کیا جہاں انہوں نے اپنے لئے خوب مال بنایا جیسا کہ مشتاق رئیسانی کے معاملے سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس شور شرابے کا مقصد پاکستان اور چین کی طرف سے بلوچستان کے استحصال میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ ساہیجی جیسے واقعات محض بلوچ کے دشمنوں کو انہیں بدنام کرنے اور حقوق کیلئے بلوچ جدوجہد کو کمزور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
اس واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور حتیٰ کہ ان لوگوں کے ذہنوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں جو حقوق کیلئے بلوچ جدوجہد کی دل و جان سے حمایت کرتے ہیں۔ کمبر چاکر کے والد ایک ٹھیکیدار تھے اور یہاں ٹھیکے صرف سرکاری منصوبوں کے ہوتے ہیں تو لہٰذا وہ اپنے خاندان کیلئے ایک قابل احترام زندگی فراہم کرنے کی خاطر اور کیا کر سکتے تھے؛ انہوں نے اپنا بیٹا کمبر، جو دوسری صورت میں اپنے خاندان کیلئے روزی فراہم کر سکتا تھا، بلوچستان کو دیا۔
یہ ہمیں اس سوال کی طرف لاتا ہے جو ہم سے ہمارے ضمیر کو ٹٹولنے کا متقاضی ہے اور اسے بہت احتیاط اور ایمانداری سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ کوئی شخص جسے اپنے خاندان کیلئے ایک قابل احترام زندگی فراہم کرنے یا ضرورت کی بنیاد پر کوئی ایسا کام کرنا پڑے جہاں کسی نہ کسی طرح سے حکومت ملوث ہو تو کیا وہ کوئی غدار اور بلوچ دشمن ہے؟
وہاں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اپنے قول وفعل سے صحیح معنوں میں بلوچ دشمن ہیں چونکہ وہ فعال طور پر، جیسا کہ جسمانی طور پر ڈیتھ اسکواڈ کرتے ہیں اور سیاسی طور پر نام نہاد مڈل کلاس کے سیاستدان اور اشرافیہ جو ظالم اور استحصالی قوتوں کیلئے کام کرتے ہیں، ریاست کے ساتھ مل کر بلوچ حقوق کی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں لیکن کوئی کسی ایسے شخص کو صرف اس وجہ سے ایک بلوچ دشمن ہونے کیلئے سزا نہیں دے سکتا جو کسی سہل ذریعے سے اپنے خاندان کیلئے روزی کماتا ہو۔ کوئی بھی اس بات سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ ہمارے درمیان بھیڑوں کے روپ میں کچھ بھیڑیے ہیں اور وہ پراسرار طریقے سے ہمارے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں لیکن کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس بات پر متفق نہ ہوں کہ، محض زندہ رہنے کی ضرورت کے تحت، وہاں بہت سی بھیڑیں ہیں جو بھیڑیوں کے روپ میں ہیں۔ لوگ، جب وہ حکومت کیلئے خدمات سرانجام دے رہے ہوتے ہیں، بلوچ حقوق کی جدوجہد کے حامی ہوتے ہیں۔ انقلاب اور جدوجہد کیلئے لوگوں کا عزم ایک طرف، انہیں زندہ رہنے اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ وہ اور کیا کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ خواب، جو کچھ وہ چاہتے ہیں، ایک حقیقت نہ بن جائے؛ وہ بھوکے پیٹ اس دن کیلئے محض انتظار نہیں کر سکتے۔
وہ لوگ جو بلوچ حقوق کی جدوجہد کے علمبردار ہیں، انہیں ان معاملات پر اپنے نقطہءنظر میں مزید دانشمندانہ اور منصفانہ ہونا پڑے گا، بدقسمتی سے انکے اقدامات، جو باوجودیکہ پرخلوص انداز میں اٹھائے گئے تھے، انقلاب اور عوام دوست ہونے کے بجائے دہشتگردی کے ضمرے میں آتے ہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ غلاف چڑھے فیصلے کرے کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ہے اور ان چیزوں کیلئے لوگوں کو تکالیف کا شکار بنائے جو ان کے خیال میں صحیح یا غلط ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ سزا یا جزا دینے کی اجارہ داری کے ساتھ خدا کا طرز عمل اپنائے، ان چیزوں کیلئے جو اسے صحیح یا غلط لگتے ہوں، یہ ہوبہو انہی لوگوں کا طرز عمل ہے جو ہمارے حقوق دینے سے انکاری ہیں اور حقوق کیلئے ہماری جدوجہد کی مخالفت کرتے ہیں؛ ہم ان جیسا ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتے اور مگر پھر بھی ہم اپنے عوام سے حمایت کی توقع کرتے ہیں چونکہ انہیں ایک بہتر حقِ انتخاب ضرورت ہے نہ کہ محض آقاوں کی تبدیلی کی۔
میں نے اوپر ذکر کیا ہے زندگی میں حقیقت سے انکار کا ایک رجحان موجود ہے جس کے سبب کوئی ایک حقیقت کو دیکھنے یا ماننے سے انکاری ہوتا ہے، اس جھوٹے اطمینان کے احساس کے تحت، شاید اس امید میں کہ اگر میں اسے دیکھنے یا تسلیم کرنے کی کوشش نہ کروں تو یہ خودبخود غائب ہو جائے گی۔ تاہم، حقیقی زندگی ہمارے خیال یا اس کے اعتراف سے مختلف ہے اور اس بات سے قطع نظر کے کہ ہم کیا سوچتے ہیں اس کے نتائج سنگین ہوں گے اگر ہمارے اعمال نے انہیں مدعو کیا ہو۔ یہ امر ضروری ہے کہ وہ تمام لوگ جنکے پاس اختیار ہے یہ جرات رکھتے ہوں اور جب کبھی بھی غلطیاں سرزد ہوں تو انہیں قبول کریں کیونکہ بلوچ حقوق کی جدوجہد ہماری انا کی تسکین نہیں ہے۔ یہ لوگوں کی خدمت اور ان خواہشات اور آرزووں کے حصول سے متعلق ہے جو وہ اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے چاہتے ہیں۔
اس طرح کے مواقع پر، جہاں ان مضمرات کے سبب جن سے یہ عبورگی عملی لحاظ سے اور جدوجہد کیلئے اس کے نتائج اور جدوجہد کی اخلاقی حیثیت کے حوالے سے، یہ ’باریک سرخ لکیر‘ مزید گہرے معنی اختیار کرلیتی ہے۔ کسی فیصلے کے نقائص اُن اَن کہی اور بے پناہ قربانیوں سے ملے فائدے کا صفایا کر سکتے ہیں جو 27 مارچ 1948ء کے بعد سے بلوچ حقوق کی جدوجہد میں دی گئی ہیں۔ عوام کی قابل قدر حمایت حاصل کرنا بہت مشکل ہے لیکن یہ پلک جھپکتے ہی ختم ہو سکتی ہے جب ایک بار عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان لوگوں، جو دوست ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں، اور دشمنوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
لوگ ہماری ولولہ انگیز بیان بازی پر فیصلے نہیں کرتے۔ وہ ہمارے اعمال اور ہمارے اعمال کے نتائج پر مبنی فیصلے کرتے ہیں۔ ہر فیصلے اور ہر کارروائی کیلئے غور کرنے میں ترجیح عوام کو حاصل ہونی چاہئے کیونکہ عوام کی حمایت کے بغیر سب کچھ برباد ہوجائے گا اور اس میں اب تک دی گئی وہ تمام قربانیاں شامل ہیں جو بہادر شہید کمبر چاکر اوردیگر ہزاروں نے دی ہیں۔