Powered By Blogger

вторник, 22 мая 2018 г.

سوشل میڈیا: دشمن پروپیگنڈے کیلئے کتنا کارگر؟ –  برزکوہی بلوچ 

 برزکوہی بلوچ
گھانا کے انقلابی گوریلا لیڈر نکروما دشمن کے نفسیاتی اور عسکری پروپیگنڈے کے حوالے سے کہتا ہے کہ “دورانِ جدوجہد دشمن ہمیں کمزور کرنے کے لیئے جو حربے استعمال کرتے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیئے کیونکہ جب وہ گوریلوں کی منظم جدوجہد کو نہیں روک سکتے، تو وہ اپنے پرانے آزمائے ہوئے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے ویتنام میں ہوا۔ وہ ویتنامی گوریلوں کو روک نہ سکے تو ان گوریلوں کے خلاف پروپیگنڈا کا محاذ کھول دیا۔”
اسی نفسیاتی اور جنگی پروپیگنڈے کے مقاصد ذیل ہوتے ہیں:
-1 تحریک آزادی کو منظم اور مضبوط ہونے سے روکنا، اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی حربوں اور منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے لڑنے والوں کے جذبات کو ختم کرنا۔
-2 جہاں پر مسلح انقلابی جدوجہد چل رہی ہوتی ہے، اسے آگے بڑھنے سے روکنے کے لیئے کچھ سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات کی جاتی ہیں۔(یعنی لوگوں کو معمولی مراعات سہولت وغیرہ فراہم کی جاتی ہے) تاکہ جدوجہد کا خاتمہ ہوسکے۔ نفسیاتی معاہدے ابلاغ کے ذرائع پر کیئے جاتے ہیں، جس میں نشریاتی ادارے، بی بی سی، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی شامل ہیں۔ مختلف چینلز پر مختلف زبانوں میں لوگوں کی ذہنوں میں قومی آزادی کی تحریک کے خلاف زہر بھرا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسے پروگرام خاص طور پر انگلش میں گھنٹوں تک نشر کیئے جاتے ہیں۔
اس نفسیاتی جنگ میں ’’الفاظ‘‘ سے بھرپور مدد لی جاتی ہے۔ مختلف سرمایہ دار ممالک نام نہاد آزاد پبلشنگ ادارے، انقلابی قوم پرستی کے نام اور کلچر، شہری تعلیم اور سول سوسائٹی کے نام پر ادارے قائم کیئے جاتے ہیں۔ جن میں تحریک آزادی کے خلاف زہر اُگلا جاتا ہے۔
اخبار اور پمفلٹس کے ذریعے بھی مغربی تہذیب اور ثقافت کی تعریف کی جاتی ہے۔ یہ مواد مختلف ذرائع سے ہر شہر او گاؤں میں پہنچایا جاتا ہے۔
جب اپنے پروپیگنڈے کے بعد وہ ماحول سازگار دیکھتے ہیں، تو پھر باقاعدہ فوج کے ذریعے جہدوجہد کو کچل دینے کی خاطر طاقت کا بھر پو استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ جب انقلابی گرفتار ہوتے ہیں، تو کورٹ میں ان کے اوپر مجرم کی حیثیت سے مقدمے چلائے جاتے ہیں۔ انہیں جنگی قیدی کی حیثیت نہیں دی جاتی۔ آخر میں یہ کہہ کر سزا دی جاتی ہے کہ یہ غنڈے اور بدمعاش ہیں۔ پھر انہیں گولیوں سے اڑادیا جاتا ہے یا پھانسی دی جاتی ہے یا پھر طویل مدت کی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ سامراج کے اس چال کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلح انقلابی تحریک کو اہمیت نہ ملے اور انقلابی مایوس ہوں۔
یہاں قابل غور نقطہ یہ ہے کہ دشمن پاکستان بھی ہمیشہ بلوچ انقلابی جہدوجہد اور انقلابیوں اور ان کی بے شمار قربانیوں کوغیر اہم قراد دینے کی بہت کوشش کرتا ہے اور کررہا ہے۔ مخلتف القابات، الزامات اور ناموں کے ذریعے سے تاکہ مظلوم قوم میں اور بلوچ معاشرے میں اچھا خاصہ وقار، قدر، مقام اور اہمیت کم اور دوسری جانب خود کمزور اور نیم پختہ انقلابی بھی دشمن کی نفسیاتی اور فوجی پروپیگنڈوں کی ذد میں آکر مایوس ہو جائیں۔
چی گویرا نے اسی سامراجی حکمت عملی کو یوں پیش کیا کہ: ’’ان کے لیئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ تحریک آزادی کو اس کے ابتدائی مراحل میں ختم کیا جائے، تاکہ وہ اپنے لوگوں سے ملکر یکساں نہ ہوسکیں۔‘‘ سامراج یہ بتاتا رہتا ہے کہ افریقیوں میں انقلابی جنگ کی صلاحیت نہیں، اس کے لئے یہ وہ باتیں گھڑتے ہیں
-1 نسل پرستی۔
-2 ہمارا تاریخی پس منظر۔
-3 کیڈر، نظریاتی اور انقلابی قیادت کی کمی۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کوئی انقلابی، پیدائشی لڑاکو ہوتا ہے یا جنگجو۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ افریقہ انقلابیوں کے لئے مناسب سرزمین ہے یا نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انقلابی جنگ ہی واحد چابی ہے، جس کے ذریعے سے افریقہ کی آزادی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
تو سنجیدگی سے سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پوری پاکستانی ذرائع ابلاغ اخبارات، ٹی وی چینلوں کے علاوہ جو بلوچوں کی دسترس میں نہیں ہیں، اس وقت صرف سوشل میڈیا دشمن کے ساتھ بلوچوں کے بھی کنٹرول میں ہے، تو پھر بلوچ کس حد تک سوشل میڈیا کو بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کے حق اور دشمن کے خلاف بہتر انداز میں استعمال کررہے ہیں؟ کیا اس وقت ایسا نہیں لگتا اور حقیقت بھی یہی نہیں ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنان خاص کر بلوچ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ، سوشل میڈیا دشمن کے خلاف استعمال کرنے سے زیادہ اختلاف رائے، تنقید، سوال اٹھانے، تحریکی کمزوریوں کی نشاندہی، سیاسی بحث و مباحثہ کی آڑ میں دشمن کے نفسیاتی اور فوجی پروپیگنڈے کی ذمہ داری کو بخوبی سرانجام دے رہے ہیں یعنی تحریک اور جہدوجہد کے خلاف منفی پروپیگنڈے، کرادر کشی اور الزامات کی بوچھاڑ بلوچ معاشرے میں تحریک کی اہمیت کو خود کم کرنا، کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ کمزور نیم پختہ انقلابیوں کو تحریک سے بدظن اور مایوس بھی کررہے ہیں اور تمام تر فائدہ صرف دشمن کو پہنچ رہا ہے۔ اگرایسا نہیں تو اس وقت تک کے سوشل میڈیا کے بحث و مباحثے سے بلوچ قومی تحریک کو کس حدتک فائدہ اور کس حد تک نقصان ہوا ہے؟ اس کا اندازہ روز روشن کی طرح عیاں ہے، اس کے باوجود تسلسل کے ساتھ اس تحریک کے نقصاندہ عمل کو جاری و ساری رکھنا ایسا نہیں کہ تحریک کے اندر انقلابی جہد کاروں کے روپ، وہ لوگ موجود ہیں جن کا ذکر انقلابی لیڈر نکروما یوں کرتا ہے کہ “سامراج کا مقصد یہ ہے کہ افریقہ میں بڑھتے ہوئے انقلابی عمل کو روکا جائے، اس لیئے وہ اپنے نو آبادیاتی اور جدید نوآبادیاتی ایجنٹوں کا استعمال کریگا، وہ ہر حال میں وطن پرست اور انقلابیوں کو دل شکستہ کرنے کی کوشش کریگا، اس لیئے ہمیں متحدہ انقلابی افریقہ اور سوشلزم کے لیئے جہدوجہد کے درمیان، اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن کو پہچانا پڑیگا، وہ بظاہر ہمیشہ اپنی ہمدردیاں انتہائی حد تک انقلابی جہدوجہد کے ساتھ رکھیں گے لیکن خفیہ طور پر سامراج اور جدید نوآبادیات کیلئے کام کرینگے، اس لیئے انقلاب کی کامیابی اور سامراج کو شکست دینے کی خاطر اور خفیہ ایجنٹوں کو پہچاننے کی خاطر ہمیں ازسرنو نئی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی، نہیں تو ہم سامراج کی کھلی جارحیت کا شکار ہوکر ختم ہوجائینگے۔
افریقی لیڈر نکروما آپسی اختلافات کے حوالے اور دشمن کے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے کہتا ہے کہ
-1 ہماری مسلح جدوجہد کے اندر ذرا سی بھی معمولی پھوٹ کو وہ اپنے فائدے میں استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کریگا۔
-2 اندورونی اختلاف پر سیاسی طریقے سے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرناچاہیئے۔
-3 پارٹی اور کیڈرز کے درمیان تھوڑی سی اختلافِ رائے کو سامراج بھی بڑھا چڑھا کر پیش کریگا۔
-4 جنگ ذدہ علاقہ جات میں قائم ہونے والی پارٹیوں کو واضح پالیسیاں بنانے میں بلاجواز دیر کرانے اور بیکار ترقی پسند خیالوں میں اُلجھانے اور قومی مسائل کی طرف سے دھیان ہٹانے کی کوشش کی جائیگی، اس کے علاوہ آزاد علاقوں کو جدید نو آبادیات میں تبدیل کرنے کی محلاتی سازشیں کی جائینگی۔
نکروما کے تجربات اور انقلابی جہدوجہد کی کامیابی کے تناظر میں دیکھا جائے اور بحثیت بلوچ سیاسی کارکن ذرا بھی غور کریں، یہ بات سمجھ میں آسانی کے ساتھ آئے گا کہ پہلے سوشل میڈیا شروع سے سیاسی کارکنوں کی توجہ مکمل عملی جہد سے ہٹانے، انہیں الجھنوں میں پھنسانے اور اپنے اصل ذمہ داریوں سے رافراریت کے ساتھ ساتھ دشمن کو بہت زیادہ فائدہ دے رہا ہے، تحریکی راز اور معلومات کے ساتھ ساتھ آپسی رسہ کشی، کردار کشی، الزام تراشیوں کے سبب بلوچ قوم اور جہدکاروں میں جو بدظنی اور مایوسی پھیل رہی ہے، اس کے تمام تر فائدے دشمن اور نقصان تحریک کا ہورہا ہے۔
قطع نظر علمی بحث، آگاہی و شعور اور دشمن کے خلاف پروپیگنڈہ جیسے مثبت اقدامات کے لیکن آپسی اختلافات تحریکی رازوں اور معلومات کو افشاں کرنا، دانستہ اور غیر دانستہ طور پر دشمن کے بیانیئے کو تقویت دینا، تحریک کے ساتھ سراسر دشمنی ہے۔ اب یہ دیکھنا کہ واقعی حقیقتاً جو ہورہا ہے یا یہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ تحریک کے خیر خواہ یا حصہ ہیں یا پھر بقول نکروما یہ صرف ظاہری وطن دوست انقلابی یا پھر خفیہ طور پر دشمن کے تحریک کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس حوالے سے تمام آزادی پسندوں کو سنجیدگی سے سوچنا اور پہچاننا ہوگا اور بہترین حکمت عملی ترتیب دینا ہوگا، نہیں تو تحریک آزادی مزید بڑے نقصان سے دوچار ہوگی۔

четверг, 17 мая 2018 г.

دلجان بلوچ ایک نظریہ ہے – آئشمان بلوچ

دلجان ایک نظریہ ہے
تحریر: آئشمان بلوچ
میرا بلوچستان ایک بہت خوبصورت جنت ہے، اس کے خشک پہاڑ اور خالی پٹ و میدان اگر میری نظروں سے دیکھو، تو ان میں کھو جاؤ گے کیونکہ میرے دل میں وہ احساس پل رہے ہیں، جو میرے دھرتی کے ہر ذرے کو عظیم بناتی ہیں، میں نے احساس پایا ہے، میں محسوس کر سکتا ہوں، اپنی سرزمین کی ہواؤں میں پھیلا شوانوں کا وہ شور جو اپنے بزگل کو ہکل دیتا ہوا چلا جا رہا ہے. میں سب کچھ محسوس کر سکتا ہوں، ہاں! میں محسوس کر سکتا ہوں، اپنی بے بسی، لاچاری اور بزگی کو کیوںکہ مجھ میں احساس پالنے کا سوچ ہے۔ میں کوئی فرشتہ تو نہیں کہ میں یہ سب محسوس کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کے یہ خاصیت مجھ می‍ں کیوں پیدا ہوا. ظاہر ہے انسان پیدا ہوتا ناسمجھی اور نادانی کو گٹی میں لیکر، اسے صرف اپنی ذات اور زندگی کی فکر رہتی ہے، میں بھی ایسے ہی تھا، پر میں بدل گیا، میں بدلتا نہیں بلکہ مجھے بدلا گیا۔ میری سوچ کو احساس اور فکر کی تربیت دیکر اسے شعور بنانے والا میرا مہربان دوست دلجان ہے۔
میں دلجان سے جب ملا، تب سے میں نے زندگی جیا ہے کیوںکہ بنا احساس اور شعور کے انسان نہیں حیوان جیتے ہیں دلجان وہ شخص ہے جو اندھیروں میں بھٹکے انسانوں کے ہاتھ میں مشعل تھما کر ان کے دل میں روشنی کی تلاش کی چاہ ڈال دیتا تھا۔ دلجان ایک بہتا دریا تھا، وہ چل پڑتا تو ہر سمت خشک پڑے کناروں کو سیراب کردیتا۔ دلجان احساسات کو زبان دینے کا استاد تھا. دلجان ایک مکمل انقلاب کا نام ہے، دلجان ہی نے مجھے وہ شعور بخشا جس کے بدولت میں آج اسکے نظریاتی کاروان میں شامل ہوں، دلجان نا ٹہرنے والا سوچ تھا، اسے بس اپنے دل میں لگی آگ سے لوگوں کو مشعل بنا کر دینا آتا تھا، دلجان اپنے منزل کا پیروکار تھا لیکن وہ جانتا تھا میری جنگ صرف سامنے کھڑے دشمن سے نہیں، ہر اس سوچ سے ہے جو میری قوم کو غلام بنائے رکھنے کی وجہ بنتی ہے، دلجان نے جب ہوش سنبھالا اسے غلامی کا احساس ہو چکا تھا، وہ سمجھ چکا تھا کے ہم غلام ہیں لیکن دلجان یہ بھی جان چکا تھا ہم صرف پاکستان کے نہیں بلکہ اپنے درمیان میں بیٹھے ذاتی سوچوں کے بھی غلام ہیں۔
دلجان کا تعلق ایک قبائلی علاقے سے تھا، باپ دادا قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے سرداروں کے پناہ میں انکے سپاہی بن چکے تھے. نا خواندگی اور بے شعوری کی شرح قبائلی علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، وہاں لوگ نسل در نسل قبائلی سردار کے پیروکار بنتے ہیں۔ تعلیم سے دور دو وقت کی روٹی کے لیئے سردار کی جی حضوری کرتے ہیں لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کے دلجان کے والد نے سردار کی پناہ چھوڑ کر اسکی دی ہوئی سرکاری سپاہی گری کی نوکری واپس کرکے شہر کے طرف رخ کیا، اب یہاں سے وہ سوچ پروان چڑھا جو آنے والے وقت میں ان قبائلی سرداروں کے لیئے موت کا سامان بنا، یہاں سے ضیاء دلجان بنتا گیا، جو پارود کے چٹانوں پر شاہین بن کر دوستوں پر برسنے والے آگ کو اپنے بندوق سے موڑ دیتا۔ دلجان کی جنگی ٹیکنیک تو دشمن کی ناکامی کا سبب تھی ہی، ضیاء کی سوچ بھی بلوچ سیاست میں موجود پارلیمنٹ پرستوں کے لیئے ایک بیرئر ثابت ہوچکا تھا۔ وہ جب تک شہری سیاست میں تھا، تو وہ دشمن کے ہر عمل کو سمجھ کر، اس کے خلاف اپنے دوستوں کو تیار کرتا رہا، جب اس نے ایک قدم آگے بڑھا کر گوریلا جنگ میں قدم رکھا بھی تو زندگی میں اپنے لئے مقام پایا، قوم کا ٹک تیر ٹہرا۔
میں ضیاء کو کافی قریب سے جانتا ہوں، بچپن میں وہ عام سا شرارتی اور اپنے دنیا میں مشغول رہنے والا ضیاء ہر وقت اسکول میں فرسٹ آتا، ہر پروگرام میں اول پوزیشن لیکر میڈل اپنے نام کرتا پھر جوانی میں داخل ہوتے ہی اسنے بلوچ سیاست میں قدم رکھا، ضیاء ہر مقام پر کامیاب رہتا، سیاست کے دؤر میں علاقے کے پولیس کے لیئے سب سے بڑا درد سر بننے والا ضیاء کبھی اسکے ہاتھ نہیں لگا. ضیاء ہمیشہ دوست جمع کرکے احتجاج اور ہڑتال کامیاب کرواتا اور پولیس کو ہر ہڑتال اور احتجاج سے پہلے ضیاء کو گرفتار کرکے تنظیم کے ہڑتال ناکام کرنے کا ٹاسک ملتا اور یہ بات ضیاء اور اسکے دوست بہتر جانتے تھے، ایک دن ہڑتال سے پہلے پولیس کو خبر ملی کے ضیاء حب ندی کے پاس اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا کل کے ہڑتال کا پلاننگ کر رہا ہے، جب پولیس وہاں پہنچی تو ضیا کو وہاں سے نکلنا پڑا، جب اگلی صبح مجھے ضیاء ملے تو اسکے پیر زخمی تھے اور ہاتھ چہرے پر زخم کے نشان تھے، بتانے پر پتا چلا کے اسے وہاں کانٹوں کے اندر سے نکلنا پڑا، جس کی وجہ سے اس کا چہرہ زخمی ہوا، لیکن ان سب کے باوجود ضیاء اور اسکے دوست ہڑتال کامیاب بناتے۔
ضیاء آگے بڑھتا گیا، وہ کبھی رکنے اور پیچھے موڑنے والی سوچ نہیں رکھتا تھا، نا کے وہ کچھ ایسا عمل کرتا جو اسکے رستے میں پتھر بنکر اسے واپس موڑ سکے، وہ تو کامیاب انقلابی تھا، ضیاء ہمیشہ اپنے ہر عمل کو تب ترتیب دیتا، جب وہ اس عمل کے مستقبل کے اثرات کا جائزہ نا لیتا۔ ضیاء ہمیشہ آگے کی سوچ رکھتا۔
وہ وقت بھی آگیا کے ضیاء کو شہر چھوڑنا پڑا، شہر چھوڑنے سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ضیاء کسی ایسے عمل کا حصہ ہے، جس کی وجہ سے اسے آگے چل کر شہر سے دور پہاڑوں کو اپنا مسکن بنانا پڑیگا، اسی دؤران میں نے ضیاء کے اکٹوٹیز پر غور کرنے لگا، وہ رات کو جاگے رہتا، جب تک وہ شہر میں تھا اور اسکے دوست دشمن کے ہاتھوں لگ چکے تھے، وہ سب سے الگ ہوکر چلنے لگتا. حکمت عملی تبدیل کرتا، چھپ چھپ کر دوستوں سے ملتا، ایک رات میرے ساتھ ٹہرنے آیا، پوری رات بیٹھے رہا، جب صبح ہونے لگی تو اپنے کمر پر بندھی 9mm پسٹل اتار کر سرہانے کے نیچے رکھا اور سوگیا میں سمجھ چکا تھا ضیاء کی اگلی منزل اب کس طرف ہے۔ ضیاء بغیر کچھ کہے میرے سامنے اپنا پسٹل کمر سے کھول کر سرہانے کے نیچے رکھ کر وہ مجھے کچھ دکھانا نہیں چاہ رہا تھا بلکہ سمجھانا چاہ رہا تھا کہ اب آگے چل کر ضیاء کیا بننے والا ہے. ضیاء کی منزل اب کس طرف ہے، وہ مجھے پختہ بنانا چاہتا تھا کیوںکہ ضیاء خود ایک کتاب تھا، اسے دیکھ کر بندہ پڑھ لیتا تھا کے وہ کیا بتانا چاہتا ہے۔
ضیاء نے جب شہر چھوڑا تو تین سال بعد میں پارود کیمپ اس سے ملنے گیا، پھر اکثر ہم کہیں ملتے تھے، جب وہ زہری آیا تو میں اس سے ملنے چلا گیا، ہماری دس منٹ کی ملاقات ہوئی اور ضیاء کو کسی نئے دوست سے ملنے جانا تھا، ضیاء مجھے ہمیشہ کہتا تھا علاقے کے دوستوں کو نظروں میں رکھو. انہیں دوست بناؤ اور میں بھی ضیاء سے وعدہ کر چکا تھا کہ میں اسے کچھ دوستوں سے ملواؤنگا، پھر میں نے اسے اپنے کچھ دوستوں کے نام دیئے اور ضیاء خود انسے حال حوال میں لگ گیا اور مجھے کچھ اور زمہ داریاں سونپ دیئے. کافی کوششوں کے بعد جب 18 فروری کو میں نے وہ کام پورے کیئے، میں دلجان کو بتانے میسنجر کھولا، تو وہ افلائن تھا رات کافی ہوچکی تھی، سوچا خیر صبح بتا دونگا۔ صبح جب دیر سے آنکھ کھولی تو دلجان کا میسج آیا تھا: “ہاں سنگت اپنی زمہ داری تو یاد ہے تمہیں، جلدی زمہ داریاں پوری کرو اور بھی کام ہے، کمزوری مت دکھاؤ، ہمت کرو۔” ان الفاظوں کے ساتھ 19 فروری دوپہر کے 3. 52 اسکا آخری سین تھا۔ وٹس ایپ پر پھر مجھے خبر ملی کے دلجان پر دشمن نے حملہ کردیا ہے اور زہری تراسانی سے گولیاں چلنے کی آوازیں آرہی ہیں، مسلسل تین گھنٹے کے بعد گولیوں کی آوازیں خاموش ہوگئیں اور فوج واپس چلا گیا۔ پھر ایک گھنٹے بعد زہری ہسپتال میں دلجان اور سنگت بارگ کی میت پہنچائی گئی اور خبر ملی کے دلجان شہید ہوچکا ہے، وہ لمحہ قیامت کا تھا لیکن نجانے آنسو آنکھوں سے آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، ایک دوست نے بتایا کے دلجان اور بارگ نے خود کی خود ہی گولی مار کر شہید ہوئے، تب فخر سے میرے اندر سے ایک شور باہر نکلا، میں نے ایک دیوان میں بیٹھے اپنے دوستوں کو چلا کر بتایا: “سنو! میرا دوست میرا دلجان، زہری میں دشمن سے لڑتے ہوئے آخری گولی خود کو مار کر شہادت نوش کرچکے ہیں. میرا بہادر دوست دلجان شہید ہوگیا، سب حیران و پریشان ہوگئے.”
اس دن پورا بلوچستان ویران تھا، سب کے دلوں میں دلجان دھڑک رہا تھا، سب مائیں دلجان کے جدائی پر اداس تھے، اس دن دلجان ہمیں سکھا کر گیا اپنے فرض پر اس وقت تک ڈٹے رہو، جب تک تم اس مقصد پر قربان ہوکر کامیاب ہوجاؤ، شاید وہ آخری گولی اسی لیئے چلی تھی کہ دلجان کے بندوق کی بیرل سے نکلی آواز ہمیشہ یوں ہی آخری گولی تک چلتی رہے، دلجان وہ کامیاب لیڈر تھا، جو پس پردہ رہ کر قومی تحریک کو منظم کرنے اور نئے دوستوں کو یکجا کرنے اور علاقے میں پھر سے دشمن کے لیئے خوف پیدا کرنے کا ہنر رکھتا تھا. اس نے ان ساری زمہ داریوں کا لاج رکھا. اسنے ہر مقام پر دوستوں کو یکجا کیا اور نئے دوست بنائے.
دلجان کامیاب ہوا دلجان ہر مقام پر کامیاب تھا، دلجان جاتے جاتے بھی کامیاب ہوگیا۔ دلجان نے اپنے بھائی حئی کا قول زندہ رکھتے ہوئے اسکے بندوق کی آواز کو زندہ رکھا اور اپنے دوست امیر جان کے راستے پر چلتے ہوئے دوستوں کو جمع کیا اور دلوش کو امانت سمجھ کر اسکے دوستوں کے پاس پہنچ گیا اور انہیں سنبھالتا گیا اور وہ کامیاب ہوگیا۔ تراسانی کے میدان میں جب وہ ایک عدد بندوق کے ساتھ تین گھنٹے میدانی جگہ پر لڑتے اپنے ہر گولی کا حساب رکھتے ہوئے جیت گیا، دلجان ایک نظریہ اور ایک سوچ بن گیا۔ اب اس کاروان میں شامل دوست دلجان کی دی ہوئی راہ پر نکل پڑے ہیں، اس روشنی کو لانے جس کا وعدہ دلجان نے اپنے ماں سے اسے لکھے آخری خط میں کیا تھا۔

вторник, 15 мая 2018 г.

نواز شریف کی بیان نے بلوچ قومی موقف پر مہر تصدیق ثبت کردی – خلیل بلوچ


بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کے اعترافی بیان نے بلوچ قومی موقف پر مہر تصدیق ثبت کردیا ہے، بلوچ قیادت گزشتہ اٹھارہ سالوں سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایک ناسور ہے جو بلوچستان پر اپنے قبضے کو طول دینے اوردنیا کو بلیک میل کرنے کے لئے مذہبی جنونیوں کو استعمال کر رہا ہے۔ اس کے اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطہ سمیت پوری دنیااس کی لپیٹ میں آجائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ سرحدوں اور اثاثوں کو اسی طرح باقی رہنے دیا تو اس خطہ سمیت پوری دنیامیں امن کا خواب ایک خواب ہی رہے گا۔ ان اثاثوں میں ایٹم بم اورایٹم بم سے زیادہ خطرناک اسلامی شدت پسندی کی ذہنیت، دہشت گردی کے مراکز موجود ہیں جنہیں پاکستان بلوچ قومی تحریک کے خلاف سمیت دنیا اورخطہ میں استعمال کرتا رہتاہے اور پاکستانی فوج میں بھی مذہبی جنونیت پر مبنی سوچ کا غلبہ ہے۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ ہم بہت پہلے اس ناسور کی تشخیص کرچکے تھے مگر عالمی طاقتیں علاج کے بجائے اپنے وقتی مفادات کی خاطر پاکستان کو مالی اور عسکری امداد سے نوازتے رہے اور پاکستان اس امداد کو بلوچ قوم، مظلوم پشتونوں سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف اتحادیوں کے خلاف استعمال کرتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری پاکستانی ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے اور بلوچ قوم کے خلاف اس غلیظ جنگ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ملنے والے جدید عسکری سازوسامان اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہورہا ہے۔ کئی مقامات پر بمباری کے بعد امریکی آلات کے ٹکڑے اور نشانات پائے گئے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والی امداد دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ بلوچ قوم کے خلاف استعمال ہوتا رہاہے اور دوسری طرف پاکستان کے پراکسی جنونی تنظیمیں آزادی سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ طالبان کو ’’ اچھے اور برے‘‘ میں تقسیم کرکے ان کی بھرپور مدد کی گئی اور آج طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان پاکستانی فوج کی جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے بر عکس عالمی مطلوب دہشت گرد اسامہ بن دلادن کو نہ صرف چھ سالوں تک کاکول کے فوجی اکیڈمی میں رکھا گیا بلکہ نشاندہی میں مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کال کوٹھریوں میں رکھا گیا ہے۔
خلیل بلوچ نے کہا کہ اب ہمارے موقف کی تصدیق خود پاکستان کے موجودہ اور سابقہ سیاسی حکمران اور فوجی قیادت کر چکی ہے۔ جنرل مشرف نے کئی دفعہ طالبان، لشکر طیبہ اور خود حافظ سعید کو اپنا دوست اور اثاثہ قرار دیا ہے۔ سرتاج عزیز نے امریکہ میں علی الاعلان کہا کہ ہم طالبان کی مدد کرتے رہے ہیں،انہیں مختلف شہروں میں تحفظ اور علاج معالجہ کی سہولت فراہم کر چکے ہیں۔
اب پاکستان کے انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ میں تین دفعہ وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف نے اعتراف کیا کہ بمبئی حملوں میں ملوث مجرم پاکستان سے وہاں جاکر ڈیڑھ سو سے زائد انسانوں کا قتل کر چکے۔ اس سے پہلے نوے کی دہائی میں نواز شریف نے ایک انگریزی اخبار میں انکشاف کیا تھا کہ فوج اور آئی ایس آئی نے مجاہدین کی تربیت کیلئے مجھ سے رابطہ کیا اور انہیں فنڈنگ کیلئے سرکاری خزانے کے بجائے منشیات کے کارو بار سے رقوم دلانے کا منصوبہ بنایا۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں ہمسایہ ملک افغانستان اور بھارت میں کارروائی کے لئے بھیجنے سمیت پاکستان نے اس دنیا میں منشیات کا زہر پھیلانے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ سب پاکستانی حکمرانوں کی رضامندی میں فوج کے ذریعے کیا گیا جو ہنوذ جاری ہے۔ کوئی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ پاکستان کا وجود ہوتے ہوئے خطہ اور دنیا پر امن ہوگا۔ امریکہ نے سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کئے مگر پاکستان کی مداخلت و دوغلی پالیسی کی وجہ سے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کی اگر امریکہ اور اتحادیوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو افغانستان میں ان کا حشر سوویت یونین سے مختلف نہیں ہوگا۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ سی آئی اے کے سابق سربراہ Michael Hayden نے اپنی نئی کتاب Palying to the Edge میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے بھی اس جرم کا اعتراف کرکے کہا ہے کہ ایجنسیوں کے ریٹایرڈ ممبران ممبئی حملوں میں شریک لوگوں کی ٹریننگ میں ملوث ہیں مگر وہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ سابق سی آئی اے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستانی رہنماؤں نے دوغلی پالیسی اپنائی ہیں اور وہ دہشت گرد گروہوں خصوصاََ القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہیں کرتے۔
چیئر مین خلیل بلوچ نے کہا کہ اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ ٹھٹھہ میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہوئی ہے گوکہ یہ سب چیزیں ان حکمرانوں کو پہلے سے معلوم تھیں لیکن فوج کے ساتھ کشمکش کے بعدمستقبل میں ان کے برسر اقتدار ہونے کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں اور وہ طیش میں آکر یہ راز افشا کر رہے ہیں مگر ہم نہیں سمجھتے کہ دنیا غفلت کا شکار ہے مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ مصلحت کا شکار ہیں۔ انہیں بلوچ قومی طاقت اور آزاد بلوچستان پر یقین کرنا چاہئے اور ان کے خلاف جد و جہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ بلوچ قوم پاکستان کی تربیت یافتہ مذہبی شدت پسندوں کی تن تنہا مقابلہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ساری حقائق کے باوجود اگر پاکستان کے بارے میں عالمی پالیسیاں نہیں بدلی گئیں اور مذہبی دہشت گردوں کو لگام نہیں دیا گیا تو خطہ میں امن ناممکن ہوگی۔ خطہ میں امن کیلئے ضروری ہے کہ بلوچ قومی تحریک کی حمایت کر کے آزاد بلوچستان کی تشکیل میں ہمارا ساتھ دیا جائے۔ آزاد بلوچستان خطے میں بفر اسٹیٹ کا کام کرکے امن کی ضمانت ثابت ہوگی۔

пятница, 11 мая 2018 г.

    شہید طارق کریم بلوچ 
مہراب مہر
11 مئی 2011 کو ایک لاش کوئٹہ سریاب کے علاقے سے ملی لاش ناقابل شناخت حد تک مسخ کی گئی تھی لیکن کوئی بھی لاش جتنی ہی مسخ کیوں نہ ہو ماں بھائی یا باپ اپنے جگر گوشے کو پہچانے میں غلطی نہیں کرتے وہ بچہ جو دنیا میں روتے ہی آپکی آمد کا پیغام دیتا ہے اور ماں اسے پستانوں سے اسکی زندگی میں اپنی ممتا کی محبت اسکے خون میں دوڑاتی ہے اور وہی ماں اسے سینے سے لگا کر اس کے لیے دعاگو ہوتی ہے اور اسے لوری دیتے ہوئے وطن کی حفاظت غیرت عزت و ننگ ناموس کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینا وطن کو سرخرو کرنے کے لیے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہانا تبھی تو میرا بیٹا کہلانے کا لائق ہو گا وہ بچہ ماں کی گود میں تربیت پا کر رفتہ رفتہ بڑھتا گیا ماں باپ نے اسے طارق کا نام دیا ماں پیار سے ٹلو پکارتا رہا باپ محمد کریم اپنے بچے کو بڑھتے ہوئے اپنی پیری کا نگہبان سمجھتا رہا وہ بچہ جو باپ کی خواہش سے کئی گناہ زیادہ قوم کا عصا بن گیا بچپن اس نے بسیمہ میں گزاری تعلیم وہی سے سرکاری اسکول سے حاصل کی پانچویں جماعت کے بعد وہ خضدار بی آر سی اسکول میں داخل کر دیے گئے اسکول میں وہ لگن کے ساتھ پڑھتے رہے اسکول میں اسے ایک خوبصورت ماحول نصیب ہوئی ایک دیہات سے نکل کر شہر میں مختلف علاقوں و مختلف ساتھیوں سے ملے اسکے علم میں اضافہ ہوتا رہا وہ بی آر سی اسکول میں سیاسی ساتھیوں کی سرکل میں رہے اور بی ایس او سے منسلک ہوئے اب پڑھائی کے ساتھ سیاسی میدان میں اسے قوم کے لیے کچھ کرنے کی چاہ بڑھنے لگی اور وہ خلوص و ایمانداری کے ساتھ اپنے جیب خرچ سے پیسے بچا کر کتابیں خریدتے رہے پڑھتے رہے اور کالج میں طلباء کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے وہ کالج سے نکالے گئے پھر داخل کرا لیے گئے لیکن وہ رکے نہیں وہ اپنی تعلیم کے ساتھ دیگر کتابیں پڑھتے رہے وہ بی آرسی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوئٹہ منتقل ہوئے اور 2006 کو بیوٹمز یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا نوجوانی میں قدم رکھتے ہی وہ سیاسی میدان میں اپنی ماں کی دی ہوئی لوری پر مادر وطن کی خاطر اپنے فرائض انجام دینے کے لیے بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے منسلک ہوئے اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہ طلباء کے حقوق و وطن کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتے رہے بیوٹمز یونیورسٹی کے ایڈمنسڑیشن کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر اسے کئی بار خبردار کیا گیا لیکن وہ رکے نہیں وہ اپنے خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی غلامی کو محسوس کرتے رہے اور احتجاج کرتے رہے 2006 کو کوٹہ سسٹم کے خلاف وہ شہید قمبر چاکر و دیگر ساتھیوں کے ساتھ تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہے اور یونیورسٹی انکی اس جہد پر انھیں ریڈ لسٹ کردیتی ہے لیکن وہ اسکی پرواہ کیے بغیر تنظیم کے ساتھ اپنی وابستگی کو برقرار رکھا شہید بالاچ مری کی شہادت کے بعد وہ بڑھ چڑھ کر احتجاجوں میں حصہ لیتے رہے احتجاج کرنے پر اسکے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اسکے ٹھکانے پر چاپہ لگتا ہے لیکن وہ گرفتاری سے بچ جاتے ہے وہ وطن سے محبت کا جذبہ اپنے اندر سمائے ہوئے مٹی پر مر مٹنے کے لیے مزاحمتی راستوں کی تلاش میں لگا رہا وہ بلوچ مزاحمتی تنظیموں کے ساتھیوں کی تلاش میں ادھر ادھر پھرتا رہا وہ کسی دوست کی سرکردگی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ سے منسلک ہوا وہ خواب جو اس نے ماں کی لوریویاں سن کر دیکھ کر رہا تھا وہ پورا ہو چکا تھا وہ مادر وطن پر قربان ہونے کے لیے آگے بڑھتا گیا وہ میدان جنگ میں اپنی مہارت دکھا رہا تھا وہ محنت خلوص ایمانداری کا شعور لیے وقت کی کمی کو بھانپتے ہوئے ہر میدان میں اپنے فرائض انجام دیتا رہا یہ نوجوان جسے گھر میں پیار سے ٹلو جان کہتے تھے ٹلو بھی کیا انسان تھا بہادری و دلیری کا اعلی نمونہ تھا ٹلو جان گھر سے نکل کر بی ایل ایف کے ساتھیوں میں بخو بن گیا بی ایل ایف میں بخو کے کوڈ نام سے اسکی پہچان بن گئی سیاسی سرگرمیوں میں وہ بی ایس او آزاد کا سینٹرل کمیٹی کا ممبر بنا تنظیم کے لیے پالیسی ساز ادارے میں اپنی ذہانت دکھانے لگا وہ بی ایل ایف کے پلیٹ فارم پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا سیاسی محاذ و جنگی محاذ ایک ہو کر رہ گئے تھے وہ سیاسی میدان سے آہستہ آہستہ غائب ہوتا گیا لیکن اسکی جڑت رہی وہ ہاسٹل کے ہر کمرے و ہر ساتھی تک اپنی رسائی رکھی تاکہ نئے ابھرتے نوجوانوں کو تحریک کے لیے تیار کر سکے اور وہ یہ کام صدق دل و ایمانداری کے ساتھ کرتے رہے 
ٹلو جان کے پاس ہمیشہ ایک قلم ڈائری اور ایک کیمرہ ہوتا تھا وہ منظر وہ خیال جو الفاظ کا لبادہ اوڑھ نہیں سکتے وہ کیمرے سے انھیں محفوظ کرلیتا وہ قلم سے اپنے ڈائری میں اپنے خیالات کو آنے والے نسل کے لیے قلمبند کرتا اپنی ڈائری میں کھبی کھبار کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا وہ الفاظ جو اسکے قلم سے نکل کر کاغذ کی سفیدی پر سیاہی بکھیر رہے تھے ان الفاظ و جملوں کی اندر اس احساس کو کوئی ٹلو کی طرح وطن پرست ہی محسوس کر سکتا ہے جو اپنی سرزمین پر اپنے آپکو بیگانہ سمجھتا ہے ٹلو کہتا ہے 
'' کیسے کہوں میں زندہ ہوں؟ وہ زندگی بغیر کسی مقصد بغیر کسی عمل بغیر کسی خواب کے گزاری جائے وہ زندگی تو ماتم سے کم نہیں!
میرے درسگاہوں میں مجھے بولنے کی آزادی نہیں!
جب میری زمیں پر مجھے دسترس نہیں!
اپنے وطن میں اچھوت بن کر جینا زندگی تو نہیں!
اپنے مٹی میں غیر کی حاکمیت تسلیم کرکے چپ سادھنا زندگی تو نہیں!
تو پھر کیسے کہوں کہ میں زندہ ہوں "

اسکے الفاظ اسکی وطن سے محبت کے جذبے کا اظہار ہیں وہ وطن کے عشق میں جنون کی حد تک مبتلا تھا وہ ڈائری میں اپنے احساسات الفاظ کو سادہ زبان میں تاریخ کا حصہ بناتا رہا وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت وطن کی آزادی کے لیے ہر فورم پر اپنی ذمہ داری نبھاتا رہا حالات اپنے تیور بدلتا رہا اور ٹلو جان اپنی زمین کی دفاع کے لیے روپوش ہوا لیکن وہ میدان جنگ میں اپنا دلیرانہ کردار نبھاتا رہا 22 ستمبر2010 کو وہ پہاڑ سے اتر کر بسیمہ ماں باپ سے ملنے کے لیے آتے ہیں وہاں پر دشمن کو اسکی بھنک اسکے قریبی ساتھیوں کے ذریعے سے لگتی ہے دشمن اسکی گرفتاری کے لیے اسکے گھر کا گھبراؤ کرتا ہے وہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور کراچی چلے جاتے ہیں وہ کراچی میں دوستوں کے ساتھ تنظیمی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ 22 ستمبر کی رات جو موت کی گھڑی بن کر اس گھر پر دستک دی تھی اس میں وہ بچ گئے تھے لیکن 21اکتوبر 2010 کو دشمن ایک بار پھر اسکے گھر پر دستک دیکر شہید طارق کریم کو اغواہ کر لیتا ہے ٹلو جان اب دشمن کے ہاتھوں میں اذیتیں سہ رہا تھا اسے ہر طرح سے مفلوج بنانے کی کوشش کی گئی ٹلو جان سمجھ چکے تھے کہ موت تو آنی ہے پر زبان کے بند دروازے ہمیشہ بند رہیں گے وہ قریبا سات مہینے تک پس زندان رہے اور دشمن کی ہر طرح کی اذیتیں برداشت کی دشمن کو شکست فاش ہوئی دشمن کی شکست اس وقت بھی ہوتی ہے جب اسے تمھاری ضرورت ہو لیکن تمھارے پختہ عظم کو دیکھ کر تمھیں اذیتیں دیکر قتل کرے تمھاری موت تمھاری جیت ہے جو اس نے جیت لی تھی اسکی لاش کوئٹہ سریاب سے برآمد ہوئی لاش انتہائی مسخ شدہ تھی اسکے چہرے کو مکمل مسخ کیا گیا تھا دشمن کی اتنی نفرت اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ دشمن اس سے کتنا نفرت کرتا تھا دشمن کی نفرت تمھاری وطن سے محبت کو آشکار کرتی ہے شہید ٹلو جان کی بہادری و جرائت نے دشمن کو اس حد تک پہنچایا تھا کہ وہ شہید طارق کریم کو بے دردی کے ساتھ قتل کرتے ہیں لیکن وہ شہید طارق کی وطن سے محبت کو ختم نہ کرسکے بلکہ بے دردی سے اس پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ دیے اور شہید بھی یہ درد و تکلیف وطن کی آزادی کے لیے برداشت کرتا رہا اور موت کے آغوش میں چلا گیا اور اپنے خیالات و یادوں کا گرانبار پہاڑ یہ کہہ کر '' اپنے ملک میں ظلم کے آگے سر  جھکا کر چلنا زندگی تو نہیں، کیسے کہوں میں زندہ ہوں "چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو کر امر ہو گئے

вторник, 8 мая 2018 г.



اب خاموشی گناہ ہے
تحریر:خدیجہ بلوچ
پھولوں کو دیکھ کر معصومیت کا احساس جاگ اٹھتی ہے پھول وہ شے ہے جسے روئے زمین پر ہر انسان اور حیوان بہت ہی زیادہ پسند کرتا ہے۔ہر کوئی اسے پانے کیلئے اس کی طرف خود سے بے اختیار کھینچا چلا جاتا ہے اسی طرح بچوں کی معصومیت ان کی مسکراہٹ کو پھولوں سے تشبیہ دی گئی ہیں۔ بچے بہت معصوم ہوتے ہیں ان کو کچھ نہیں معلوم ہوتا کس طرح اس دنیا کا لطف اٹھا سکیں ؟ کیسے اس دنیا میں رہیں ؟ جس طرح پھولوں کو کھچلنا، انہیں مسلنا خراب سمجھا جاتا ہے اسی طرح معصوم اور ننے منھے بچوں کو تکلیف دینا، انہیں مارنا اور ہراساں کرنا نہ صرف گناہ بلکہ قانوناً جرم سمجھا جاتا ہے ـ کیونکہ بچے معصوم ہوتے ہیں وہ سیکھنے اور سمجھنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں انھیں اچھے برے کا پہچان والدین اسکول اور معاشرے سے ملتا رہے گا تاکہ وہ بڑے ہو کر اچھی تربیت لیکر زندگی کا ہنر سیکھ سکیں اور دنیا کو پر امن بنا کر نئی راہیں ہموار کر سکیں ـ
عاصم امین بلوچ بھی ایک معصوم پھول ہے جسے پاکستانی آرمی نے زبردستی سے پیڑ سے تھوڑ کر الگ کردیا۔ عاصم امین بلوچ کو قابض پاکستانی آرمی نے ایک مہینہ پہلے بلوچستان کے علاقے تربت سے ایک سرچ آپریشن کے دوران جبراً اغوا کرکے اسے ٹارچر سیلوں میں ڈال دیا ۔ اس کا قصور صرف اتنا سا ہے کہ وہ ان کا تعلق ایک محکوم قوم سے ہے۔ وہ ایک طالبعلم ہے اور ایک بلوچ ہے جس کی ابھی عمر ہی کیا ہے اس نے ابھی تک صحیح طریقے سے دنیا کو سمجھا بھی نہیں ہے کہ اس وسیع الارض میں کیا ہورہا ہے وہ تو ایک طالب علم ہے جس سے ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ اسے کیوں پابند سلاسل رکھا گیا ہے کیوں اسے ٹارچر سیل کی کالی کھوٹریوں میں ڈالا گیا ہے؟ وہ ضرور حیران ہوگا کہ انسانیت کے دعوہ داروں نے اسے کیوں انسان نہیں سمجھا ہے؟ 
میرے چھوٹے اور معصوم بھائی عاصم امین بلوچ کو پاکستانی آرمی کے ہاتھوں جبراً اغوا ہوئے ایک مہینہ گزرگیا ہے وہ کس حال میں ہے اس پر کیا بیت رہی ہوگی کس طرح سے وہ کالی کھوٹریوں میں اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے اس کا ابھی تک کچھ معلومات نہیں ۔ اس وقت ایک بہن، ایک ماں اور ان کے بھائیوں پر کس طرح کی قیامت صغری نازل ہوگی یہ ہم ہی بہتر جانتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ بے گناہ اور معصوم بچہ ہے اس نے کسی کو نقصان یا تکلیف نہیں دی ۔ آخر اس طرح کے ریاستی مظالم کا شکار کیوں ہوا ؟ کیا اس ملک کی نام نہاد عدالتیں صرف چار دیواریاں یا صرف لمبے چھوڑے کمروں پر مشتمل ہیں کیا ان انصاف کے عدالتوں میں معصوم بچوں کی چیخ و پکار نہیں پہنچ پاتی اگر پہنچ پاتی ہے تو انصاف کی دیوی گھونگی، بہری یا اندھی ہوگئی ہے؟ تا کہ وہ کسی بے گناہ کی داد رسی کرے، کسی ظالم سے سوال کرے کہ تم نے کیوں بے گناہ انسانوں پر ظلم کے پہاڑ تھوڑ رہے ہو؟ تم کیوں بلا وجہ معصوم بچوں کو اپنے لخت جگروں سے چھین کر انہیں اندھیری کھوٹیوں میں ڈال کر ان کی زندگی دردناک بناتے ہو؟ ایک بہن اپنی بے گناہ چھوٹے بھائی کے لیئے انصاف کے ہر دروازہ کو کھٹکھٹائے گی کیونکہ یہ مجھے معلوم ہے کہ عاصم کی ماں پر اس وقت کیا بیت رہی ہے ـ
بلا ایک معصوم و نوعمر طالبعلم کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ کسی کو کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ اس نے تو ابھی تک اس دنیا میں اچھی طرح سے آنکھ نہیں کھولی ہے کہ اس معصوم پھول کو اپنے خاندان اپنے گھر والوں اور شہر سے زبردستی دور رکھا گیا ہے ـ
روزانہ بلوچستان سے گرتی ہوئی لاشوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ہر روز دو یا تین بلوچ طالبعلم یا عوام معصوم بلوچ پاکستانی آرمی اور خفیہ اداروں کی مظالم کا شکار ہو رہے ہے ہر والدین ، بھائی، بہن کی آنکھ اشکبار ہے ہر گھر ماتم ہے ہر ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کی آنے کی آس میں روز مرتی ہے روز زند ہوتی ہے اس صورتحال کو دیکھ کر پتھر پگل جاتا یے، سمندر کی روانی رک جاتی ہے، اڑتے ہوئے پنچھیوں کی سریلی آواز میں غم کا راگ ملاپ ہوتا ہے درختوں کے پتے موسم خزاں سے پہلے زرد ہو کر زمین پر گرنے لگ جاتے ہیں آسمان بھی غمگین ہوتا ہے ـ لیکن پھر بھی انسانی حقوق کے عالمی ادارے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے علمبردار اور انصاف و جمہوریت پر لمبی لمبی لکچر دینے والے صحافی، دانشور اور سول سوسائٹی کے لوگ ظالم کی قہر سامانیوں کو دیکھ خاموشی سے اپنا راستہ ناپ کر اگلی گلی سے ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ، دکھ اس بات کا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو جب اس صورتحال پر آگاہ کیا جاتا ہے کہ اس انسانی المیہ پر اپنی آواز بلند کرو اپنی ذمہ داری نبھاو تو وہ پلٹ کر واپس جاتے ہیں بھول سے بھی ہمارے وطن میں ہونے والےمظالم پر ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ـ کہ معصوم انسانوں پر کیا، کیا ستم ہو رہی ہے پھر ہمیں یقین ہے کہ نیک دل اور امن پسند انسانوں کی کمی نہیں ہے اس دنیا میں وہ ضرور ستم رسیدہ لوگوں کی داد رسی کے لیئے اپنی آواز سے سوئے ضمیروں کو ضرور جگائیں گے ـ

суббота, 5 мая 2018 г.


یہ جنگ بلوچ قوم کا فیصلہ کن جنگ ہے اور آزادی ہمارا مقدر ہے، ڈاکٹر اللہ نذربلوچ

   
مقبوضہ بلوچستان: بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذربلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہماری جد و جہد قوم پرستی کی بنیاد پر عالمی اصولوں کے مطابق جاری ہے اور اس کا منطقی انجام بلوچستان کی آزادی ہوگی۔ اس جد و جہد کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دشمن ریاست پاکستان مختلف حیلے اور سازشیں کر رہی ہے مگر بلوچ قوم نے دلیری سے مظالم کا مقابلہ اور سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے بہتر حکمت عملی بھی اپنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دو دہائیوں پر محیط جد و جہد کو انسانیت سوز مظالم کے باوجو دختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ قابض پاکستان کثیرالجہتی حربوں سے تحریک کو کاؤنٹر کرنے کی کوشش کررہاہے آج بلوچ قومی جدوجہد آزادی کے سامنے منحرفین ،وطن کے غدار، جاسوس اور مذہبی لبادھے میں ملبوس دہشت گردپراکسی سمیت کئی عناصر قابض نے کھڑی کی ہیں۔بلوچ قومی آزادی پسند تنظیموں نے ان کے خلاف موثرحکمت عملی تیار کی ہے اور اسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلوچ قومی جد و جہدسمیت دنیاکے کسی بھی شفاف قومی تحریک میں غدار اور جاسوسوں کی گنجائش نہیں۔ مخبر اور جاسوس دشمن کے لئے آنکھ اور کان کا کام کرتے ہیں۔ ان کا تعلق کسی بھی گروہ، طبقہ یا ذات سے ہو، خواہ وہ کتنا ہی با اثر ہو، اُسے جرائم کی سزا ضرور ملے گی۔ کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ بلوچوں کی جاسوسی، غداری کرکے اپنی جھوٹی باتوں اورموقع پرستانہ سیاسی دکانداری سے اپنا دامن صاف پیش کراکے نجات پاتا ہے تو وہ بہت بڑی غلط فہمی کے سراب میں غوطہ لگانے کی احمقانہ کوشش کررہاہے جس کا حقیقت کی دنیاسے کوئی واسطہ نہیں ہے۔یادرکھیں وہ لوگ جن کے ہاتھ بے شمار بلوچوں کے خون سے رنگے ہیں وہ کبھی بھی نہیں بخشے جائیں گے۔ بلوچ قومی تحریک اوربلوچ قومی تاریخ جلدانہیں اپنی احتساب کے شکنجے میں کس لے گا۔وہ اپنی منطقی انجام کا انتظار کریں۔ اس میں ایک سال لگے یا ایک دہائی، بلوچ قوم ان کا احتساب ضرور کرے گی۔ 
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ یہ جنگ بلوچ قوم کا فیصلہ کن جنگ ہے اور آزادی ہمارا مقدر ہے۔ پاکستان کے دعوے کہ یہ دو سرداروں یا مٹھی بھر لوگوں کی تحریک ہے؛ ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ ستر کی دہائی نہیں ہے بلکہ اس میں پوری قوم یکمشت ہے اور عام بلوچ کی شمولیت اور اداروں کے پابند ہونے کی وجہ سے یہ جنگ گزشتہ جنگوں سے یکسر مختلف ہے۔ ہمارے شہدا کے قربانیوں کی بدولت یہ جدوجہد بہت آگے جا چکی ہے اور اسی طرح جاری ہے گی۔ بلوچستان کو آزاد ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ پاکستانی پارلیمانی جماعتیں، سنڈیمن کے پیداوارہرقبضہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے سردار، میر و معتبر جو بلوچ قوم جدوجہدکی مخبری،دلالی میں ملوث ہیں انہیں عبرتناک سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ 
قوم پرست رہنما نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی کیلئے ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے اور ہزاروں تنظیمی بنیادوں پر دشمن کے خلاف بر سرپیکار ہیں اورلاکھوں بلوچ عوام نظریاتی شعورکے ساتھ ان کے حمایت میں ایستادہ ہیں۔ اگر میں صرف چند علاقوں کی مثال دوں تو اس سے مجبور ہوکر پاکستان نے صرف سات اضلاع میں ڈیڑھ لاکھ ریگولر آرمی تعینات کی ہے، ایف سی، پولیس اور لیویز اس کے علاوہ ہیں۔ ہماری طاقت نے ڈیڑھ لاکھ ریگولر کو صرف یہاں مصروف کی ہے۔ ہمیں اپنی قوم پر بھروسہ ہے اور اسی کی بدولت ہم مزید فوجیوں کو بلوچستان میں آنے پر مجبور کر رہے ہیں اور اس طرح ہمارے لئے انہیں نشانہ بنانا بھی آسان ہوتا جا رہا ہے اور بلوچ قوم کی مدد سے ہم اس قابض فوج کو اپنی ملک سے بھاگ نکالیں گے۔ 
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا ہماری جد و جہد ہماری کلاسیک اورجدیدتاریخ کے امتزاج اوراپنی مٹی سے اٹھنے والی تحریک ہے۔ یہ ایک مکمل
indigenous
تحریک ہے۔ یہاں چین سمیت تمام بیرونی ملک اور سرمایہ کاروں کے خلاف ہماری جنگ ہے۔ چین کو معلوم ہونا چاہئے کہ بلوچستان میں ایک زندہ قوم آباد ہے۔ اگر چینی فوج ہمیں کچلنے کرنے کیلئے یہاں نیول بیس بناتی ہے تو انہیں بھی یاد رکھنا ہوگا کہ وہ کس ادوار سے گزرے ہیں۔ جاپان نے چین پر یلغار کیا تو چین نے جو
Tactic
استعمال کئے، آج ہم اکیسویں صدی میں ہیں اور ہم چین کے خلاف مزید سخت شکل میں سامنے آئیں گے۔ آج پاکستانی فوج بھی بلوچ قوم کا سامنا کرتے ہوئے سراسیمگی کا شکار ہے کہ اسے کیسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ چین، پاکستان، پاکستانی پارلیمان پرست، ریاستی دلار، غدار اور جاسوسوں کیلئے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں۔ ریاستی مخبر وں کو کئی دفعہ تنبیہ کے باوجود وہ چند عارضی مراعات کیلئے ریاستی دم چھلے بن کر بلوچ خون بہا حاصل کر رہے ہیں۔ خون بہا حاصل کرنے والوں میں پارلیمان پرست سب سے آگے اور زیادہ گناہ گار ہیں۔ بلوچ قوم نے ان کی سزا مقرر کی ہے۔ جلد یا بدیر یہ اپنی منطقی انجام کو پہنچیں گے اور بلوچ قوم اپنی آزادی حاصل کرکے دنیا کے نقشے میں ایک دفعہ پھر ایک آزاد قوم کے طور پر اپنی حیثیت منوائیں گے۔
انہوں نے بلوچ قوم ، خصوصا بلوچ ڈائسپورا سے اپیل کی کہ وہ بلوچ قومی تحریک کی بھر پور مالی معاونت کریں اور بلوچ ڈائسپورا کو منظم کریں اور سفارتی بنیادوں پر متحرک ہوکر موثر کردار ادا کریں،تاکہ وہ دنیا اور عالمی اداروں سے خصوصی تعلقات استوار کرکے بلوچ قومی تحریک کی آبیاری میں ایک توانا کردار ادا کر سکیں
۔

пятница, 4 мая 2018 г.

شہید عاطف کے جنازے پر حملہ انسانی اقدار پر حملہ ہے۔ بی ایس او آزاد


مقبوضہ بلوچستان: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان کے علاقے مند سورو میں ریاست کے پرورش کردہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے عاطف یوسف کی جنازے پر فائرنگ سے خلیل بلوچ کی شہادت اور متعدد بلوچ فرزندوں کے زخمی ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان کے اس طرح کے غیر انسانی فعل نہ صرف بد ترین دہشت گردی ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور بین الاقوامی قوانین کو پاوں تلے کچل رہا ہے ایسے غیر قانونی فعل انسانی اقدار پر حملہ اور بد ترین دہشت گردی کی اعلی مثال ہے۔
ایسے رونما ہونے والے واقعات اس بات کا مظہر ہے کہ ریاست بلوچ قومی تحریک کے سامنے خوف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اسی خوف کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے نہتے شہریوں کو اپنی درندگی کا شکار بنا رہا ہے تاکہ عام عوام خوفزدہ ہو کر قومی تحریک سے دست بردار ہوجائیں۔ واضح رہے کہ اس قبل متعدد دفعہ پاکستانی فوج اور اس کے تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ نے بلوچ فرزندوں کے جنازوں ، بلوچ سیاسی پارٹیوں کی عوامی پروگراموں اور دیگر عوامی اجتماعت پر حملے کیے ہیں ۔ پاکستان فوج کی یہ روایات آج تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جنازوں پر حملہ نہ صرف عالمی قوانین بلکہ بلوچ روایات کے بھی منافی اقدام ہے اس طرح کے دہشتگردانہ واقعات سفاکی اور درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن میڈیا کی اپنے فرائض سے غفلت اور عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی سے شہ پاکر پاکستان بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ ، منشیات فروش گروہوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو مضبوط بنا رہی ہیں تاکہ ان کو استعمال میں لاتے ہوئے بلوچستان میں فرقہ واریت کومضبوط شکل دیکر بلوچ قومی تحریک کو کاونٹر کرسکیں۔
ریاست نے گزشتہ کئی سالوں میں بلوچستان میں درندگی کی وہ اعلی مثالیں قائم کیں ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی آئے روز کے فوجی آپریشنز ، نہتے عوام اور سیاسی کارکنوں کی غیر آئینی و غیر قانونی گرفتاری اور خواتین و بچوں کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے کیمپوں میں منتقل کررہی ہیں آواران اور مشکے کے پہاڑی علاقوں سے عام عوام کو نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے جبکہ جھاؤ میں لوگوں کو معاشی طور پر بد حال کرنے کے لئے اپنے روزمرہ کاموں کی انجام دہی کے لئے فوجی اجازت طلب کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔
ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ایسے غلیظ اور دہشتگردانہ اقدامات سے بلوچ عوام مرعوب نہیں ہوگی بلکہ ریاست کے غیر انسانی افعال بلوچ عوام کو مزید متحرک اور تحریک کو مزید تقویت پہنچائیگی۔

четверг, 3 мая 2018 г.


جنازہ پر حملہ نام نہاد قوم پرستوں کے منہ پر طمانچہ ہے ,ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

  
مقبوضہ بلوچستان: بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے شہید عاطف بلوچ کے جنازہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ جنازے پر حملہ ریاستی دہشت گردی کی بد ترین مثال ہے۔ بلوچستان میں عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں اور اقوام متحدہ سمیت تمام ادارے خاموشی پر اکتفا کرکے پاکستانی فورسز، مذہبی شدت پسندوں اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کو اپنی کالی کرتوتیں سر انجام دینے میں کھلی چھوٹ فراہم کر چکے ہیں۔
ایسے میں وہ نام نہاد قوم پرست جو بلوچی روایات اور اقدار کی بات کرتے ہیں اور وہ عالم دین جو اسلام کے نام پر فتویٰ جاری کرتے ہیں آج لالچ اور حوس نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ یہ نام نہاد قوم پرستوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ایسے واقعات پر نام نہاد قوم پرستوں کی خاموشی آنے والی انتخابات کی تیاری ہے۔ نیشنل پارٹی، بی این پی سمیت تمام جماعتیں قوم پرستی کی تعریف سے نا بلد ہیں اور قوم پرستی کی صفات سے کوسوں دور ہیں۔ اسلام کے ٹھیکیدار بھی پاکستانی کی گندی سیاست میں اسلام کی روح اور اصل تعلیمات کو مسخ کر چکے ہیں۔
بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ قابض ریاست کے پارلیمانی حصہ دار اور ان کے حواریوں نے آج شہید عاطف کے جنازے میں جس طرح بلوچ روایات کی پامالی کی ہے انہیں بلوچ قوم اور ظالم تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس شرمناک عمل کا نہ بلوچی روایات اور نہ اسلامی تعلیمات میں اجازت ہے۔ آج بلوچستان میں نام نہاد قوم پرستوں اور عالم دین نے تمام روایات کو جی ایچ کیو کی امانت بنادی ہے۔ یہ قوتیں اپنی کرسی کو محفوظ رکھنے اور بلوچ قوم کو دائمی غلامی میں جھکڑنے کے لیے ریاستی فورسز کے ساتھ مل کر چند عارضی ذاتی مفادات کی خاطر بلوچ تاریخ، روایات، شناخت اور تشخص کوپاؤں تلے روند رہے ہیں ۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے شہید عاطف بلوچ کو سرخ سلام و مند میں جنازے پر فائرنگ سے شہید ہونے والے عاطف بلوچ کے ماموں خلیل بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی کیلئے بلوچ قوم کی قربانیوں کا تسلسل ہے اور اس سے خائف پاکستانی فورسز نے بلوچ قوم کی جنازوں پر حملہ کرنا شروع کی ہے۔ ہمیں یہ پیغام دیا جا رہاہے کہ ہمیں ہماری میتوں کو دفنانے کی اجازت نہیں لیکن قابض ریاست یہ سمجھ لے کہ اس طرح کی حرکات کا ہمیں اول دن ہی سے علم تھا کیونکہ ہمارا واسطہ ایک انتہائی غیر مہذب دشمن سے ہے۔ ریاست کی ایسی غلیظ حرکات سے بلوچ قومی تحریک کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگی
۔ 

جنازے پر حملہ پاکستانی ریاست کی شکست ہے  خلیل بلوچ


بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے شہید عاطف بلوچ کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہیدکے جنازے پردہشت گردی اورشہید کے ماموں شہیدخلیل بلوچ کے شہادت کو پاکستان کا بدترین دہشت گردی قرار دیاہے ۔ایسے واقعات پاکستانی ریاست کی شکست اوربلوچ تحریک کے سامنے بے بسی کا مظہرہیں ۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین غلام محمداوراس کے خاندان کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ شہید چیئرمین کے بھائی اورہمارے بزرگ واجہ یوسف نے اپنے دوجوان بیٹوں کو قومی آزادی کے لئے قربانی پیش کی ہے مگر اس پیر مردکے کمر میں خم نہیں آئی اوروہ جوان مردی اور بہادری کے ساتھ پہلے اپنے عظیم بھائی اورجوان سال بیٹے شہید آصف جان اوراب اپنے نوخیزبیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کرکے قوم کو مبارک پیش کرتاہے۔ یہ سب کیلئے ہمت، حوصلہ اور فلسفہ قربانی ہے، ان سے بلوچ قوم میں بدلہ کی آگ اور جذبہ مزید توانا ہو کر پاکستان کے خلاف جد و جہد میں نئی راہیں کھولیں گے۔ پاکستان نے ظلم و جبر میں شدت لانے سمیت اجتماعی سزا کی پالیسی جاری رکھ کر شہید عاطف کے جنازے پر فائرنگ کرکے ان کے ماموں خلیل بلوچ کو شہید اور انور بلوچ کو شدید زخمی کیا۔ اس طرح کی بربریت کی مثالیں شاید داعش اور بوکوحرام کے دہشت گردوں کی مظالم کے صفحات میں بھی نہ ملیں۔ اجتماعی سزا جیسے اقدام صرف پاکستان جیسا غیر فطری اور غیر مہذب ملک ہی اُٹھا سکتے ہیں۔ جنازہ اور فاتحہ پر ریاستی فوج اور اس کے ڈیتھ اسکواڈ کا حملہ پاکستان کو اسلامی ملک کہلانے والوں کیلئے ایک سبق ہونا چاہئے اور اسلامی تعلیمات سے ناواقف نام نہاد عالموں، سیاست دانوں اور سیاسی ورکروں کو اپنی علم میں اضافہ کرکے پاکستان کے خلاف جد و جہد میں آزادی پسندوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ان عالموں اور سیاست دانوں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا تو بنگالیوں کے قتل عام میں ملوث افراد کو بنگلہ دیش میں سزا دینا کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ آزاد بلوچستان میں اس سے بھی زیادہ خوفناک مگر عالمی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ ہم پاکستان اور اس کے حواریوں کو عالمی اداروں میں بلوچ نسل کشی کی سزا دلائیں گے۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہاہے کہ پاکستان انسانی اقدار سے عاری ایک ایسی دہشت گرد ریاست ہے جس کے لئے بین الاقوامی اور عالمی اقدار کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔ پاکستان کی جارحیت اور غیر انسانی افعال واضح کررہے ہیں کہ پاکستان کی بزدل فوج میدان جنگ میں شکست سے دوچارہے اس لئے نہتے لوگوں کو انتقام اور دہشت گردی کا نشانہ بنارہاہے ۔
ٍ             انہوں نے کہاکہ ہم نے دشمن سے نہ رحم کی اپیل کی ہے اور نہ آئندہ کریں گے بلکہ ہم اول دن سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور بین الاقوامی اقدارکے پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ہم نے ہمیشہ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے کہاہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے جس کا ایک طرف فوج براہ راست بلوچ نسل کشی سمیت تمام انسانی اقدار کو پائمال کررہاہے تو دوسری طرف ریاست کے قائم کردہ دہشت گردی کے مختلف مراکز بلوچ قوم پر ظلم و تشدد اور لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں ۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہاکہ شہداء کے میتیں ورثاء کے حوالے نہ کرنا اور شہداء کے جنازوں پر دہشت گردانہ واقعات پاکستان کے ایسے غلیظ کارنامے ہیں جن کی مثال پوری دنیا میں بمشکل ہی ملتی ہے ۔ پاکستان ایک وحشی کی طرح بلوچستان میں درندگی کا انتہاء کررہا ہے۔ گذشتہ روز بلوچستان کے علاقے مند میں شہید ہونے والے بلوچ فرزند عاطف بلوچ جسد خاکی کوقابض ریاست نے فوری طور پر لواحقین کے حوالے نہ کرنا اور شہید کے جنازے پرحملے کے لئے پورے علاقے کی فوجی محاصرہ اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے شہید عاطف کے ماموںؓ خلیل بلوچ کو شہید کرنا انسانی حقوق کے قوانین بدترین پامالی اور قابض ریاست کی حواس باختگی ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف پاکستان بلوچ قوم کو اپنے قومی آزادی کے تحریک سے دست بردار کرنے کے لئے دہشت گردی کی انتہا کرچکاہے تو دوسری طرف پارلیمانی کاسہ لیس متوقع نام نہاد انتخابات کے لئے انحراف ،غداری اور بے ضمیری کے نئے ریکارڈ قائم کررہے ہیں۔ نیشنل پارٹی سمیت تما م پارلیمانی کاسہ لیس بلوچ وطن کے طول وعرض میں بکھرے آبادیوں کو قابض ریاست کے آرمی کیمپوں کے قریب منتقل ہونے پر مجبورکررہے تاکہ بندوق کے زور پر نام نہاد انتخابی عمل میں شریک کیاجائے ۔نیشنل پارٹی پانچ سال سے صوبائی حکومت میں ہے اور ان کی وزارت اعلیٰ کے دوران توتک خضدار کی اجتماعی قبروں سے 169 لاشیں برامد ہوئیں۔ اس کے علاوہ آپریشن میں تیزی، ڈاکٹر مالک کی جانب سے سوات طرز آپریشن اور اپنے کارکنوں کو مخبری کا کام سونپنے جیسے اقدام نے بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی۔ پاکستانی قبضہ کے دوران سب سے زیادہ شہادت ، اغوا اور لاپتہ ان کی دور حکومت میں ہوئیں۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ بلوچ قومی نسل کشی سمیت ہمہ قسم کے جرائم میں پاکستانی فوج تنہا نہیں بلکہ نیشنل پارٹی سمیت مختلف گروہ براہ راست شریک جرم ہیں ،ہم ان پر واضح کرتے ہیں کہ بلوچ قوم پاکستان کے ساتھ جنگی جرائم میں برابر کے شریک غداروں کا عبرتناک محاسبہ کرے گا ۔
انہوں نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی بربریت پر لوکل میڈیا فوج کی ترجمان اور انٹرنیشنل میڈیا نے چپ سادھ اختیار کرلی ہے ۔ بلوچستان میں لوگوں کو شہید کرنے کے بعد ان کے جنازوں پر دہشت گردی انہیں نظرنہیں آتی ہے ۔ اس طرح کے انسانیت سوز واقعہ بھی میڈیا کے آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں جو بنیادی صحافتی اصولوں کی روح منافی ہے ۔ بلوچستان کی صورتحال مشرقی وسطی کے صورتحال مختلف نہیں ہے لیکن انٹرنیشنل میڈیا کے مقامی نمائندے بھی بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے ریاستی بیانیہ کی تشہیرمیں مصروف ہیں۔

среда, 2 мая 2018 г.


شہید فدا احمد  بلوچ کی صدائے اتحاد!

تحریر: ظریف رند
نوآبادیاتی دنیا میں سامراجی تسلط و جارحیت کے خلاف انقلابی جدوجہد اور مزاحمت زندہ معاشروں کی عکاس ہے جو بغاوت کی شکل میں علم و ادب سے سیاست و معیشت تک سماج کے ہر حصے میں اپنا اظہار کر رہی ہوتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جدید نوآبادیاتی اور سامراجی دور کے اندر دنیا کے تقریبا تمام براعظموں میں اٹھتی قومی و طبقاتی مزاحمتی تحریکوں کے ابھار کے ساتھ بلوچ معاشرہ بھی اس سربلندی سے بہرہ آور ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اپنی دھرتی پہ جبراً وارد ہوئے سامراج اور اس کے استبدادی عزائم کے خلاف انقلابی جہد کے حرکیات میں شامل ہو گیا۔ قبائلی و نیم جاگیرداری ڈھانچوں کی وجہ سے مجموعی طور پر بلوچ سماج سیاسی طور پر ترقی یافتہ اقوام کی نسبت کافی پیچھے رہ گیا تھا مگر اس میں ترقی کی پر پیچ راہوں کو عبور کرنے کے عظیم مناظر بھی تاریخ کا حصہ ہیں اور آج تک کی نسل کیلئے اس عہد کے عظیم رہبروں کی قربانیاں و اسباق قابل فخر و مشعل راہ ہیں۔ لیکن اس میں سماجی پسماندگی کے سبب ایک ملک گیر قومی یکجہتی کا فقدان بہرحال موجود رہا جسے آگے چل کر نء نسل نے 1960 کی دہاء میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھ کر ایک انقلابی جست کے طور پر عبور کیا۔

بی ایس او، اپنی تشکیل کے آغاز سے ہی بغاوت و مزاحمت کا طرہ امتیاز اپنے سر سجا گیا اور بلوچ سماج کے ہر پرت کو متاثر کیئے اپنے ساتھ جوڑا اور اس خطے کے عظیم انقلابی تنظیموں میں شمار ہونے لگا جوکہ اس ادارے کی سامراج مخالف سوشلسٹ نظریات اور انقلابی آدرشوں کے پیروکار بلوچ سپوتوں کی لازوال قربانیوں کی ثمر ہے۔ بی ایس او کی سنہری ماضی پر آج بھی سینہ چوڑا کرنے والے حضرات کی اس غرور کے پیچھے اس دور کے بے شمار نوجوانوں کی قابل فخر قربانیاں شامل ہیں جس میں وہ بلوچ سماج کو تاریکیوں سے نکال کر جدید عہد کے برابر لاکھڑا کرنے اور دنیا بھر سے اونچ نیچ کے ریتی رواجوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی عزم کے ساتھ دیدہ دلیری سے قربان ہو کر تاریخ کے سنہرے باب کا حصہ بنے اور امر ہو گئے۔
شہید وطن کامریڈ فدا احمد بلوچ کا شمار بلوچ دھرتی کے ان سورماؤں میں ہوتا ہے جو اپنی ذات پر اجتماع کو ترجیح دیتے ہوئے نجی ملکیت کی زنجیروں کو توڑ کر اشتراکی سماج کی تخلیق کے سپاہی بنے۔ فدا احمد بلوچستان کی تپتی دھوپ کے شہر تربت کوشک میں غلام محمد رند کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتداء تعلیم تربت سے ہی حاصل کی اور گریجویشن عطاء شاد ڈگری کالج سے کی۔ معاشرے کی مزاحمتی حرکیات سے متاثر ہوکر انہوں نے میٹرک کے دنوں میں ہی بی ایس او (عوامی) کے پلیٹ فارم سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور کالج تک پہنچتے انہوں نے تربت ذون کے سیکٹری کے طور پر اہم ذمہ داریوں کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔ گریجوئیشن کے بعد کوئٹہ چلے گئے اور ایم اے معاشیات اور بلوچی کی ڈگری حاصل کی اور ساتھ ہی کوئٹہ ذون کے جنرل سیکٹری کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ 1978 میں اردو کالج کراچی میں بی ایس او کا مرکزی کنوشن منعقد ہوا جس میں وہ اپنی پختہ سیاسی بصیرت سے اس مختصر عرصے میں مرکزی سیکٹری جنرل منتخب ہو گئے اور عظیم مارکسی مزاحمتی لیڈر شیر محمد مری سے حلف لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ فدا احمد بلوچ اپنی انتھک کوششوں سے بی ایس او کو مارکسی نظریات کے خطوط پر استوار کرنے اور بی ایس او کی بکھری قوت کو متحد کرنے پر جدوجہد کرتے رہے۔ بلوچ سماج کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ان کا ماننا درست تھا کہ یہاں کے سردار و زردار بلوچ قوم کے درد مند نہیں ہیں بلکہ یہ نواب و سردار اپنی ذاتی دولت و منصب کی خاطر عام عوام کی خون چوسنے والے درندے ہیں۔ یہ بلوچ دھرتی سے زیادہ سامراج کے وفادار ہیں لہذا سامراج کے خلاف لڑتے ہوئے بلوچی نقاب میں ان سامراج کے مقام دلالوں کے خلاف بی ایس او کا طبقاتی بنیادوں پر منظم ہونا ناگزیر ہے اور اس کے لئے دھڑے بندی سے نکل کر اتحاد کو وہ اولین شرط مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
بٹے رہو گے تو یونہی بہتا رہیگا لہو
ہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو
یکجہتی اور طبقاتی جہد کے انہی افکار کی بنیاد پر ان کی انتھک کوششوں سے بالآخر 1983 میں بی ایس او (عوامی) اور بی ایس او کا مشترکہ کونسل سیشن فدا احمد کی ہی زیر صدارت بولان میں منعقد ہوا اور بی ایس او کا باقائدہ انضمام ہو گیا۔ یہ تاریخی فریضہ بیش بہا قربانیوں کے عوض ممکن ہو سکا اور سامراج سمیت مقامی سامراجی گماشتوں کے تن من میں آگ بھڑک اٹھی کیونکہ بی ایس او اب مقداری لحاظ سے بہت بڑا ادارہ بن چکا تھا اس لئے مقتدر قوتوں کی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا اور اس ادارے کو بکھیرنے کیلئے پہلے سے زیادہ سرگرم عمل ہوئے اور مقامی پیداگیروں کے ذریعے بی ایس او پر داخلی حملوں کا آغاز کیا گیا۔ بدقسمتی سے یہ بی ایس او کی داخلی نظریاتی کمزوری ہی تھی جو حملہ آوروں کو شکست سے دوچار کرنے کے بجائے شومئی قسمت سے خود ہی ایک بار پھر دو لخت ہو گء۔ اس داخلی انتشار نے بی ایس او کا رجحان عالمی سامراج و مقامی گماشتوں سے ہٹا کر ایک دوسرے کے خلاف دست و گریباں ہونے پر آن پہنچا دیا جو بالآخر 2 میء 1988 کو شہید فدا احمد کی موت پر منتج ہوا۔
متحد ہو کر جدوجہد کرنے اور فتح کی منزل تک پہنچنے کی ترغیب دینے والا عظیم استاد کا لہو اپنے ہی قوم دشمن ہاتھوں پر آ لگا اور بد بخت قوم ایک عظیم رہبر سے محروم ہو کر رہ گیا اور ان کی اتحاد کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر ہونے کا متقاضی ہے جبکہ بلوچ قوم ماضی سے کئی زیادہ ٹکڑوں میں تقسیم و منتشر ہے۔ شہید وطن فدا احمد بلوچ کی میت پر سیاست کرنے والے پیداگیروں اور ان کے قاتل ایک ہی صف میں کھڑے درماندہ بلوچ عوام کو اپنی خونی ہاتھوں سے نوچ رہے ہیں اور ان کے منہ سے آخری نوالہ بھی چین کر انہیں نان شبینہ کا محتاج کیئے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر بدلتے حالات و واقعات کا درست ادراک رکھنے والی کوء بھی نظریاتی تنظیم یا پارٹی سے بلوچ قوم بے بہرہ ہو چکی ہے اور سب کے سب سامراج کی گماشتگی میں اپنا اپنا حصہ بٹور رہیں جبکہ مجموعی طور پر بلوچ عوام استحصال و جبر کی چکی میں پس کر تاریکی میں بٹک رہی ہے۔ موجودہ عہد میں شہید فدا احمد کی پکار ماضی سے بڑھ کر اپنی ضرورت پیش کر رہی ہے کہ اس کی کارواں کے حقیقی سپاہی نوجوان ان کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے خود کو جدید سائنسی نظریات سے آراستہ کریں اور متحد ہو کر فتح کی جانب کوچ کریں۔ شہید فدا احمد کی شہادت کے بعد ان کا سفر ایک قدم بھی بہ مشکل آگے بڑھا ہے بلکہ وہ سفر وہیں کا وہیں منتظر ہے کہ بلوچ معاشرے کے زندہ انسان اٹھ کر انہی نظریات کا دامن تھامیں جو فتح کی ضامن نظریات ہیں اور جو دھرتی باسیوں کو اس تاریکی سے نکال کر آزادی و خوشحالی کے روشن مینار تک پہنچا دیں گی۔
بی ایس او، عظیم استاد شہید وطن کامریڈ فدا احمد بلوچ کو انکی تیسویں برسی پر سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ہم بلوچ سپوتوں کو یہ صدا لگاتے ہیں کہ آو، شہید فدا کی انقلابی آدرشوں کا پالن کرتے ہوئے اتحاد کے ساتھ سائنسی جہد کا حصہ بنیں اور مل کر فتح کی منزل کی طرف آگے بڑھیں۔
اتحاد، جدوجہد آخری فتح تک! https://dailysangar.com/home/page/10843.html