Powered By Blogger

вторник, 27 ноября 2018 г.

مجید بریگیڈ اور ” ٹیٹ اوفینسِو” – برزکوہی

لارنس سیلن امریکن آرمی کا ریزرو ریٹائرڈ آرمی کرنل ہے جس نے اسپیشل فورسز، انفنٹری ‘کیمیکل،اور میڈیکل سروسز میںbranch qualifications اور مختلف assignments کی ہے. اس نے افغانستان اور عراق میں فوجی خدمات سرانجام دی ہیں۔ اسکے علاوہ مغربی افریقہ میں انسانی حقوق کے مختلف missions میں بھی حصہ لیا ہے. سیلن نے امریکن آرمی وار کالج سے تزویراتی مطالعے میں ماسٹرز کی ہے اور defense language institute سے عربی فرینچ اور کردش میں تربیت لی ہے.اسکے علاوہ سیلن نے نیشنل سیکیورٹی پہ متعدد آرٹیکلز بھی لکھی ہیں۔
امریکن سابقہ کرنل لارنس بی ایل اے مجید بریگیڈ کے کراچی میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے پر اپنی آراء پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “ایک تو حملہ چھوٹے پیمانے پہ کیا گیا، یہ حملہ ویتنام کے Tet offensiveجیسا ہے. اسکے گہرے تزویراتی اور نفسیاتی اثرات ہونگے، دوسرا وہ اپنے ایک اور تجزیاتی تحریر میں یہ لکھتا ہے کہ یہ حملہ بلوچ قوم نے بطور گیم جینجنگ کارڈ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
Tet Offensive وہ حملے جو ویتنامیوں نے امریکہ کے خلاف ایک ہی دن میں 100 سے زائد مقامات پر بڑے حملے کرکے کئیے جس نے ویتنام جنگ اور ویتنامیوں کی تاریخ بدل دی۔
فرانسیوں کا dien bien phu مقام پر شکست ہو یا امریکیوں کے خلاف tet offensive ہو ویتنامی جنرل گیاپ کی عالمی شہرت اور عظمت کا مقدر بن گئے۔
اٹلی کے شہر فلورنس میں جنم لینے والی خاتون صحافی اور ناولسٹ اوریانا فلاشی جنرل گیاپ کے حوالے سے لکھتے ہیں “یہ وہ شخص تھا جس کا نام ویت نام کی جنگ کے دوران سب سے زیادہ سنائی دیتا تھا اور وہ اس لیئے نہیں کہ یہ شخص ہنوئی میں وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھا یا چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر تعنیات تھا یا پھر وزیراعظم کا نائب ہو بلکہ وہ اس واسطے اتنا مشہور تھا کیونکہ اس آدمی نے dien bien phu کے مقام پر فرانسیسیوں کو شکست دی تھی، امریکی ہمیشہ dien bien phu نامی ہولناک خواب کے خوف میں رہتے تھے اور جونہی حالات اس سے بھی بدتر ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ گیاپ ہی ہے، جو ایک نیا dien bien phu تخلیق کرنے والا ہے اور اگر اس سے بھی سادہ الفاظ میں کہا جائے تو گیاپ خود اپنے اندر ہی ایک dien bien phu ہے انہوں نے گیاپ سے فروری 1968 میں بات کی تھی، جب ویت کنگ نے tet offensive کی خوفناک شروعات کی تھی، وہ گیاپ کے بارے میں بات کررہے تھے۔ مارچ اور اپریل میں جب شمالی ویت نامیوں نے hue کو فتح کیا گیا تھا اور khe san کا محاصرہ کرلیا تھا، انہوں نے گیاپ کا ذکر مئی اور جون میں کیا، جب ویت کنگ نے saigon اور دوسرے اونچے علاقوں پر دوسرا حملہ کیا تھا۔ وہ سالوں سے گیاپ کا ذکر کرتے چلے آرہے تھے، ایک نام بہت چھوٹا اور خشک گال پر پڑے طمانچے کی طرح، یہ نام سب کے لیئے ایک ہو، ایک ڈراونا خیال بن چکا تھا، بالکل آپ امریکیوں کو ڈراتے ہیں کہ ڈوگی (کتا) آجائے گا بالکل اسی طرح امریکیوں کوڈراتے ہیں کہ گیاپ آرہا ہے۔”
اور مزید اوریانا فلاشی اپنے ایک انٹریو میں جنرل گیاپ سے سوال کرتا ہے کہ “جنرل امریکی یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ تقریباً پانچ لاکھ آدمی گنوا چکے ہیں؟”
گیاب بلکل درست تعداد ۔۔اوریانافلاشی بلکل درست؟
جنرل گیاپ، ہاں بلکل! لیکن تم اس بات پر آو جو میں کہہ رہا تھا، اس کے بعد 1968 شروع ہوتا ہے جس سال میں امریکیوں کو جنگ کی جیت کا مکمل یقین تھا پھر آناً فاناً tet offensive اور لبریشن فرنٹ نے انھیں احساس دلایا کہ وہ ان پر جب چاہیں اور جہاں چاہے حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ بشمول saigon اور ایسے دوسرے شہروں کے جو ان کی کڑی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔
آج چین قونصل خانے پر حملہ نفسیاتی حوالے سے ایک ایسا حملہ ہے، چین و پاکستان سمیت دیگر ان کی ہمنوا تمام قوتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ بلوچ بھی جہاں چاہیں وہاں حملہ آور ہوسکتے ہیں۔
اوریانا فلاشی مزید گیاپ سے سوال کرتے ہوئے، جنرل ہر کوئی اتفاق کرتا ہے کہ tet ofensive ایک عظیم نفسیاتی جیت تھی لیکن ایک فوجی نقطہ نظر سے آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ وہ ناکامی تھی؟ جنرل گیاپ ۔ناکامی؟ اوریانا ۔میں تو ایسا کہوں گی۔ جنرل گیاپ ۔آپ نے مجھے حیران کردیا حالانکہ پوری دنیا عسکری و سیاسی نقطہ نظر سے اس کا اعتراف کرتا ہے۔
میں tet ofensive کے بارے میں بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ مجھ پر انحصار نہیں کرتے وہ ہم پر انحصار کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہtet ofensive کے بعد امریکیوں نے حملہ کرنے کی حالت کو چھوڑ کر مدافعت کو اختیار کرلیا تھا اور مدافعت ہمیشہ ہار کی پہلی نشانی ہوتی ہے، میں نے کہا ہار کی شروعات ہوتی ہے درحقیقت ہماری حتمی فتح ابھی ظہور میں آنے والی ہے۔
بی ایل اے مجید بریگیڈ کی طرف سے چینی قونصل خانے پر حملہ اس لیے تزویراتی اور نفسیاتی طور پر کامیابی ہے کہ کسی بھی ریاست کے قونصل خانے اور سفارت خانے پر حملہ کرنا تو پورے اس ملک پر حملہ تصور ہوگا۔ دوسری بات اب چین کو یہ بات سمجھنا ہوگا کہ جب کراچی جیسے ہائی الرٹ شہر اور کلفنٹن جیسے سیکورٹی زون میں قونصل خانہ جب محفوظ نہیں ہوسکتا، بلوچ حملہ کرسکتے ہیں پھر گوادر، سیندک یا سینکڑوں کلومیٹر پر مشتمل سی پیک روٹ کیسے اور کس طرح محفوظ ہوگا؟ فوجی و تجارتی رسد و حرکت کس طرح ممکن ہوگا؟ اس نوعیت کے حملے کے بعد نفسیاتی حوالے سے چین پاکستان اور ان کے ہمنواء قوتوں کے ساتھ بلوچ قومی غداروں یعنی صادق و جعفروں کو مکمل اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ بلوچ قومی آزادی کے لیئے برسرپیکار بلوچ سرباز اب جدھر بھی، جہاں بھی، جس وقت اور جس کو چاہیں آسانی کے ساتھ ہدف بناسکتے ہیں۔ یہ سوچ، یہ پیغام خود اب دشمنوں کے لیے نفسیاتی شکست اور بلوچ قوم کے لیئے نفسیاتی طور پر جیت ہے۔ یہ نفسیاتی جیت اب بلوچ قوم میں مزید ہمت، حوصلہ اور شعور کو اجاگر کریگی اور بے شمار فدائین وطن پیدا ہونگے۔
اسی بنیاد اور منطق پر امریکی ریٹائرڈ کرنل لارنس کے خیالات سے اتفاق رکھنا ہوگا، جو اپنے جنگی تجربات و مہارت کی بنیادوں پر جنگی نفسیات کی تمام پہلووں کو مدنظر رکھ کر رائے قائم کرچکا ہے۔
اب اس حقیقت سے کوئی جنگی اور نفسیاتی تجربہ کار انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اس حملے کے بعد بلوچ قوم اپنی قومی جنگ، نفسیاتی حوالے سے جیت چکا ہے، مزید اگر قومی تحریک اس نفسیاتی جیت کی موقع سے جنگی، سیاسی حکمت عملی اور ہنر کے ساتھ آگے بڑھ کر اس طرح فائدے اٹھاتا رہے، تو مستقبل قریب کامیابی بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کی اور شکست دشمن کی ہوگی

Комментариев нет:

Отправить комментарий